Sunan At-Tirmidhi 756

روزوں کے متعلق ابواب

756Sunan At-Tirmidhi

ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں روزہ رکھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَرَوَى الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ . وَرَوَى أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَائِشَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ الْأَسْوَدِ، وَقَدِ اخْتَلَفُوا عَلَى مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ وَأَوْصَلُ إِسْنَادًا، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا، يَقُولُ: الْأَعْمَشُ أَحْفَظُ لِإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزے رکھتے کبھی نہیں دیکھا ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) said, “1 never saw the Prophet ﷺ keep fast during the first ten days (of the month of Dhul Hajjah’. [Abu Dawud 2439, Ibn e Majah 1729, Muslim 1176]

صحيح، ابن ماجة (1729)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 756
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اسی طرح کئی دوسرے لوگوں نے بھی بطریق «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے، ٢- اور ثوری وغیرہ نے یہ حدیث بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی» یوں روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا گیا، ٣- اور ابوالا ٔحوص نے بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی عن عائشہ» روایت کی اس میں انہوں نے اسود کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ٤- اور لوگوں نے اس حدیث میں منصور پر اختلاف کیا ہے۔ اور اعمش کی روایت زیادہ صحیح ہے اور سند کے اعتبار سے سب سے زیادہ متصل ہے، ٥- اعمش ابراہیم نخعی کی سند کے منصور سے زیادہ یاد رکھنے والے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر اس حدیث سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں روزہ رکھنا مکروہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، ان دنوں میں روزہ رکھنا مستحب ہے، خاص کر یوم عرفہ کے روزہ کی بڑی فضیلت وارد ہے، ویسے بھی ان دنوں کے نیک اعمال اللہ کو بہت پسند ہیں اس لیے اس حدیث کی تاویل کی جاتی کہ نبی اکرم ﷺ کا ان دنوں روزہ نہ رکھنا ممکن ہے بیماری یا سفر وغیرہ کسی عارض کی وجہ سے رہا ہو، نیز عائشہ ؓ کے نہ دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ فی الواقع روزہ نہ رکھتے رہے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الاعتکاف ٤ (١١٧٦)، سنن ابی داود/ الصیام ٦٢ (٢٤٣٩)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٩)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩٤٩) (صحیح)