Sunan At-Tirmidhi 757

روزوں کے متعلق ابواب

757Sunan At-Tirmidhi

ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں اعمال صالحہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ هُوَ الْبَطِينُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ذی الحجہ کے دس دنوں کے مقابلے میں دوسرے کوئی ایام ایسے نہیں جن میں نیک عمل اللہ کو ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جو اپنی جان اور مال دونوں لے کر اللہ کی راہ میں نکلا پھر کسی چیز کے ساتھ واپس نہیں آیا ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘None of the days when good deeds are done are dearer to Allah than during these ten days”. They asked, O Messenger of Allah! ﷺ Not even jihad in Allah’s cause?” So, he said, “Not even jihad in Allah’s cause except that a man goes out with his body and wealth and does not return with anyting”. [Ahmed1968, Bukhari 795, Abu Dawud 2438, Ibn e Majah 1727]

صحيح، ابن ماجة (1727)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 757
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ١١ (٩٦٩)، سنن ابی داود/ الصیام ٦١ (٢٤٣٧)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٩ (١٧٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٥٦١٤)، مسند احمد (١/٢٢٤)، سنن الدارمی/الصوم ٥٢ (١٨١٤) (صحیح)