Sunan At-Tirmidhi 737

روزوں کے متعلق ابواب

737Sunan At-Tirmidhi

شعبان اور رمضان کے روزے ملا کر رکھنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ قَالَ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: هُوَ جَائِزٌ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ إِذَا صَامَ أَكْثَرَ الشَّهْرِ أَنْ يُقَالَ صَامَ الشَّهْرَ كُلَّهُ، وَيُقَالُ: قَامَ فُلَانٌ لَيْلَهُ أَجْمَعَ وَلَعَلَّهُ تَعَشَّى وَاشْتَغَلَ بِبَعْضِ أَمْرِهِ، كَأَنَّ ابْنَ الْمُبَارَكِ قَدْ رَأَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ مُتَّفِقَيْنِ، يَقُولُ: إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ كَانَ يَصُومُ أَكْثَرَ الشَّهْرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.

اس سند سے بھی اسے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔

We learnt this hadith from Hannad, from Abduh, from Muhammad ibn Amr from Abu Salamah (RA) from Sayyidah Ayshah (RA) from the Prophet ﷺ -‘ [Ahmed26112, Bukhari 1969, Muslim 1156, Abu Dawud 2434, Nisai 2347]

حسن صحيح، ابن ماجة (1648)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 737
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مبارک اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ کلام عرب میں یہ جائز ہے کہ جب کوئی مہینے کے اکثر ایام روزہ رکھے تو کہا جائے کہ اس نے پورے مہینے کے روزے رکھے، اور کہا جائے کہ اس نے پوری رات نماز پڑھی حالانکہ اس نے شام کا کھانا بھی کھایا اور بعض دوسرے کاموں میں بھی مشغول رہا۔ گویا ابن مبارک دونوں حدیثوں کو ایک دوسرے کے موافق سمجھتے ہیں۔ اس طرح اس حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ آپ اس مہینے کے اکثر ایام میں روزہ رکھتے تھے، ٢- سالم ابوالنضر اور دوسرے کئی لوگوں نے بھی بطریق ابوسلمہ عن عائشہ محمد بن عمرو کی طرح روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٧٥٦) (حسن صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٥٢ (١٩٦٩)، وصحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٦)، وسنن النسائی/الصیام ٣٤ (٢١٧٩، ٢١٨٠)، و ٣٥ (٢١٨١-٢١٨٧)، وسنن ابن ماجہ/الصیام ٣٠ (١٧١٠)، وط/الصیام ٢٢ (٥٦)، و مسند احمد (٦/٣٩، ٥٨، ٨٤، ١٠٧، ١٢٨، ١٤٣، ١٠٣، ١٦٥، ٢٣٣، ٢٤٢، ٢٤٩، ٢٦٨)، من غیر ہذا الطریق ویتصرف یسیر فی السیاق