Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 21 of 199

431Sunan At-Tirmidhi

مغرب کے بعد دو رکعت اور قرات

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ بِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَاصِمٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں شمار نہیں کرسکتا کہ میں نے کتنی بار رسول اللہ ﷺ کو مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے سنا ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) said, “I am unable to count how many times I have heard Allah’s Messenger ﷺ recite in the two raka’at after maghrib and the two before the salah of fajr (the surah) al-Kafirun and al-lkhlas.”

حسن صحيح، ابن ماجة (1166)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 431
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- ابن مسعود ؓ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «عبدالله بن معدان عن عاصم» ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کی دونوں سنتوں میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٢ (١١٦٦) (تحفة الأشراف: ٩٢٧٨) (حسن صحیح)
432Sunan At-Tirmidhi

مغرب کی سنتیں گھر پر پڑھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے مغرب کے بعد دونوں رکعتیں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کے گھر میں پڑھیں۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “May Allah show mercy to him who prays four raka’at before asr.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1158)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 432
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں رافع بن خدیج اور کعب بن عجرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٤٢٥ (صحیح)
433Sunan At-Tirmidhi

مغرب کی سنتیں گھر پر پڑھنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ كَانَ يُصَلِّيهَا بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ . قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْفَجْرِ رَكْعَتَيْنِ. هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے دس رکعتیں یاد ہیں جنہیں آپ رات اور دن میں پڑھا کرتے تھے: دو رکعتیں ظہر سے پہلے ١ ؎، دو اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، اور دو رکعتیں عشاء کے بعد، اور مجھ سے حفصہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ آپ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said “I offered the two raka’at after maghrib at home with the Prophet ﷺ ”

صحيح، الإرواء (440)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 433
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی ظہر کے فرضوں سے پہلے چار رکعت پڑھنا ثابت ہے، مگر یہاں دو کا ذکر ہے، حافظ ابن حجر نے دونوں میں تطبیق یوں دی ہے کہ آپ کبھی ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لیا کرتے تھے اور کبھی چار۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٣٤ (١١٨٠)، ( تحفة الأشراف: ٧٥٣٤) (صحیح)
434Sunan At-Tirmidhi

مغرب کی سنتیں گھر پر پڑھنا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے اسی کے مثل روایت ہے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) said, “I have learnt ten raka’at from Allah’s Messenger ﷺ that he prayed during night and day: two raka’at before zuhr and two after, two rakaat after maghrib, two raka’at after isha the last. And, Hafsah told me that he offered two raka’at before fajr.”A hadith like it is narrated by Hasan ibn Ali from Abdur Razzaq, from Mumar from Zuhri from Saalim from Ibn Umar (RA) who from the Prophet ﷺ

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ٦٩٥٩) (صحیح)
435Sunan At-Tirmidhi

مغرب کے بعد چھ رکعت نفل کے ثواب کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ وَضَعَّفَهُ جِدًّا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوگا ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone prays six raka’at after maghrib, not speaking an evil word in-between, there is a reward for him thereagainst of worship of twelve years”

ضعيف جدا، ابن ماجة (1167) // ضعيف سنن ابن ماجة (244)، الضعيفة (469)، الروض النضير (719)، التعليق الرغيب (1 / 204)، ضعيف الجامع الصغير (5661) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 435
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ سے مروی ہے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ، ٢- ابوہریرہ ؓ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٣ (١١٦٧) (تحفة الأشراف: ١٥٤١٢) (ضعیف جداً ) (سند میں عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم نہایت ضعیف راوی ہے)
436Sunan At-Tirmidhi

عشاء کے بعد دو رکعت پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ ثِنْتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْفَجْرِ ثِنْتَيْنِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ آپ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں، عشاء کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

Abdullah ibn Shaqiq said that he asked Sayyidah Aisha (RA) about the Prophet’s salah. She said: He used to pray before zuhr two raka’at and after zuhr two raka’t, after maghrib two raka’at, after isha two raka’at and before fajr two.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 436
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- عبداللہ بن شقیق کی حدیث جسے وہ عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں، حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ المسافرین ١٦ (٧٣٠)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٩٠ (١٢٥١)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٤٧، ١٦٤٨)، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٠٧)، مسند احمد (٦/٣٠) (صحیح)
437Sunan At-Tirmidhi

رات کی نماز دو دو رکعت ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَهُوَ قَوْلُ: سفيان الثوري، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاقَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے، جب تمہیں نماز فجر کا وقت ہوجانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا لو، اور اپنی آخری نماز وتر رکھو ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “The salah in the night is in two’s. When you apprehend approach of dawn then pray an odd raka’at and make the last of your salah a witr.”

صحيح، ابن ماجة (1319 و 1320)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 437
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمرو بن عبسہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رات کی نماز کا دو رکعت ہونا اس کے منافی نہیں کہ دن کی نفل نماز بھی دو دو رکعت ہو، جبکہ ایک حدیث میں رات اور دن کی نماز دو دو رکعت بھی آیا ہے، دراصل سوال کے جواب میں کہ رات کی نماز کتنی کتنی پڑھی جائے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے نیز یہ بھی مروی ہے کہ آپ خود رات میں کبھی پانچ رکعتیں ایک سلام سے پڑھتے تھے، اصل بات یہ ہے کہ نفل نماز عام طور سے دو دو رکعت پڑھنی افضل ہے خاص طور پر رات کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٨٤ (٤٧٢، ٤٧٣)، والوتر ١ (٩٩٠، ٩٩١، ٩٩٣)، والتہجد ١٠ (١١٣٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٤ (١٣٢٦)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٦ (١٦٦٨-١٦٧٥)، و ٣٥ (١٦٩٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣٢٠)، ( تحفة الأشراف: ٨٢٨٨)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٣)، مسند احمد (٢/٥، ٩، ١٠، ٤٩، ٥٤، ٦٦) (صحیح)
438Sunan At-Tirmidhi

رات کی نماز کی فضلیت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَبِلَالٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو بِشْرٍ اسْمُهُ: جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ وَاسْمُ أَبِي وَحْشِيَّةَ: إِيَاسٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The most excellent fast after the month of Ramadan is (the fast) in the month of Allah, Muhurram. And the most excellent prayer after the obligatory prayers is the salah in the night.”

صحيح، ابن ماجة (1742)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 438
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٨ (١١٦٣)، سنن ابی داود/ الصوم ٥٥ (٢٤٢٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ٦ (١٦١٤)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٤٣ (١٧٤٢)، ( تحفة الأشراف: ١٢٢٩٢)، مسند احمد (٣٤٢، ٣٤٤، ٥٣٥)، (ویأتي عند المؤلف في الصوم ٤٠ برقم ٧٤٠) (صحیح)
439Sunan At-Tirmidhi

نبی ﷺ کی رات کی نماز کی کیفیت

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَأَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوسلمہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد کیسی ہوتی تھی؟ کہا: رسول اللہ ﷺ تہجد رمضان میں اور غیر رمضان گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ١ ؎، آپ (دو دو کر کے) چار رکعتیں اس حسن خوبی سے ادا فرماتے کہ ان کے حسن اور طوالت کو نہ پوچھو، پھر مزید چار رکعتیں (دو، دو کر کے) پڑھتے، ان کے حسن اور طوالت کو بھی نہ پوچھو ٢ ؎، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، دل نہیں سوتا ۔

Abu Salamah asked Sayyidah Aisha (RA) about the salah of Allah’s Messenger ﷺ (in the night) in Ramadan. She said, “Allah’s Messenger ﷺ did not exceed eleven raka’at in Ramadan or otherwise. He prayed four, but do not ask about their beauty and length. Then he.prayed four, and do not ask about their beauty and length. Then he prayed three, and I said, “O Messenger of Allah! ﷺ Do you sleep before offering the witr?” He said, “My eyes sleep but the heart keeps awake.”

صحيح صلاة التراويح، صحيح أبي داود (1212)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 439
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ نماز تراویح گیارہ رکعت ہے، اور تہجد اور تراویح دونوں ایک ہی چیز ہے۔ ٢ ؎: یہاں «نہی» ممانعت مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود نماز کی تعریف کرنا ہے۔ ٣ ؎: دل نہیں سوتا کا مطلب ہے کہ آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا تھا، کیونکہ دل بیدار رہتا تھا، یہ نبی اکرم ﷺ کے خصائص میں سے ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو رات کے آخری حصہ میں اپنے اٹھ جانے کا یقین ہو اسے چاہیئے کہ وتر عشاء کے ساتھ نہ پڑھے، تہجد کے آخر میں پڑھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التھجد ١٦ (١١٤٧)، والتراویح ١ (٢٠١٣)، والمناقب ٢٤ (٣٥٦٩)، صحیح مسلم/المسافر ١٧ (٧٣٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٦ (١٣٤١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٩ (٤٣٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٦ (١٦٩٨)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٢ (٩)، مسند احمد (٦/٣٦، ٧٣، ١٠٤) (صحیح)
442Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ: نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔

Qutaybah nthrated from Malik from Ibn Shihab the like of it. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1205)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 442
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابوحمزہ ضبعی کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پیچھے حدیث رقم ٤٣٩ میں گزرا کہ آپ رمضان یا غیر رمضان میں تہجد گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، اور اس حدیث میں تیرہ پڑھنے کا تذکرہ ہے، تو کسی نے ان تیرہ میں عشاء کی دو سنتوں کو شمار کیا ہے کہ کبھی تاخیر کر کے ان کو تہجد کے ساتھ ملا کر پڑھتے تھے، اور کسی نے یہ کہا ہے کہ اس میں فجر کی دو سنتیں شامل ہیں، کسی کسی روایت میں ایسا تذکرہ بھی ہے، یا ممکن ہے کہ کبھی گیارہ پڑھتے ہوں اور کبھی تیرہ بھی، جس نے جیسا دیکھا بیان کردیا، لیکن تیرہ سے زیادہ کی کوئی روایت صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ١٠ (١١٣٨)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٤)، ( تحفة الأشراف: ٦٥٢٥) (صحیح)
443Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ،وَرَوَاهُ سفيان الثوري، عَنْ الْأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا،

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to pray in the night thirteen rak’at. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، صحيح أبي داود (1213)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 443 سفیان ثوری نے بھی یہ حدیث اسی طرح اعمش سے روایت کی ہے،
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور فضل بن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا کبھی کبھی کرتے تھے، یہ سب نشاط اور چستی پر منحصر تھا، اس بابت یہ نہیں کہہ سکتے کہ حدیثوں میں تعارض ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨١ (١٣٦٠)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩٥١)، مسند احمد (٦/٣٠، ١٠٠) (صحیح)
444Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَكْثَرُ مَا رُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مَعَ الْوِتْرِ، وَأَقَلُّ مَا وُصِفَ مِنْ صَلَاتِهِ بِاللَّيْلِ تِسْعُ رَكَعَاتٍ .

ہم سے اسے محمود بن غیلان نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا اور انہوں نے سفیان سے اور سفیان نے اعمش سے روایت کی۔

Sayyidina Aisha (RA) narrated that if the Prophet ﷺ did not pray at night being prevented from from that by sleep or drowsiness of the eyes then he prayed twelve raka’at during the day.

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
رات کی نماز کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے زیادہ سے زیادہ وتر کے ساتھ تیرہ رکعتیں مروی ہیں، اور کم سے کم نو رکعتیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح)
445Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب رات میں تہجد نہیں پڑھ پاتے تھے اور نیند اس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیند کا غلبہ ہوجاتا تو دن میں (اس کے بدلہ میں) بارہ رکعتیں پڑھتے ١ ؎۔

Sayyidina Aisha (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ offered nine raka’at at night

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢-
446Sunan At-Tirmidhi

اللہ تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَنْزِلُ اللَّهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ فَيَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الْفَجْرُ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَرِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ وَهُوَ أَصَحُّ الرِّوَايَاتِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر رات کو جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر جاتا ہے ١ ؎ آسمان دنیا پر اترتا ہے ٢ ؎ اور کہتا ہے: میں بادشاہ ہوں، کون ہے جو مجھے پکارے تاکہ میں اس کی پکار سنوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے معاف کر دوں۔ وہ برابر اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ فجر روشن ہوجاتی ہیں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “Allah, the Blessed and Exalted, comes down every night to the heaven of the earth when e first third of the night has passed away. He says: I am the King. Who is it that will pray to Me that I may answer him? Who is it that will seek from Me that I may grant him? Who is it that will ask for My forgiveness that I may forgive him? This ceases not till the brightness of dawn.”

صحيح، ابن ماجة (1366)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 446
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی بن ابی طالب، ابوسعید، رفاعہ جہنی، جبیر بن مطعم، ابن مسعود، ابو درداء اور عثمان بن ابی العاص ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٣- ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث کئی سندوں سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے، ٤- نیز آپ سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب وقت رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اترتا ہے ، اور یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آگے مولف بیان کر رہے ہیں: صحیح بات یہ ہے کہ ایک تہائی رات گزرنے پر نہیں، بلکہ ایک تہائی رات باقی رہ جانے پر اللہ نزول فرماتے ہیں۔ ( مؤلف کے سوا دیگر کے نزدیک «الآخر» ہی ہے ) ٢ ؎: اس سے اللہ عزوجل کا جیسے اس کی ذات اقدس کو لائق ہے آسمان دنیا پر ہر رات کو نزول فرمانا ثابت ہوتا ہے، اور حقیقی اہل السنہ والجماعہ، سلف صالحین اللہ تبارک وتعالیٰ کی صفات میں تاویل نہیں کیا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ١٤ (١١٤٥)، والدعوات ١٤ (٦٣٢١)، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٤)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٤ (٧٥٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١١ (١٣١٥)، والسنة ٢١ (٤٧٣٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٢ (١٣٦٦)، ( تحفة الأشراف: ١٢٦٧)، موطا امام مالک/القرآن ١٨ (٣٠)، مسند احمد (٢/٢٦٤، ٢٦٧، ٢٨٢، ٤١٩، ٤٨٧) (عند الأکثر ” الآخیر “ ) (صحیح)
447Sunan At-Tirmidhi

رات کو قرآن پڑھنا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق هُوَ السَّالَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ فَقَالَ: إِنِّي أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ، قَالَ: ارْفَعْ قَلِيلًا ، وَقَالَ لِعُمَرَ: مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ قَالَ: إِنِّي أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ، قَالَ: اخْفِضْ قَلِيلًا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ هَانِئٍ، وَأَنَسٍ، وأُمِّ سَلَمَةَ، وابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَأَكْثَرُ النَّاسِ إِنَّمَا رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ مُرْسَلًا.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا: میں (تہجد کے وقت) تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز کچھ دھیمی تھی؟ کہا: میں تو صرف اسے سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا۔ (یعنی اللہ کو) آپ نے فرمایا: اپنی آواز کچھ بلند کرلیا کرو ، اور عمر ؓ سے فرمایا: میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی؟ ، کہا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کرلیا کرو ۔

Sayyidina Abu Qatadah (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Sayyidina Abu Bakr (RA) , “I passed by you and you were reciting (the Qur’an) and you had lowered your voice.” He said, “I let Him hear Whom I supplicated.” But, he said, “Raise (your voice) a little.” And, he said to Sayyidina Umar i “I passed by you while you were reciting (the Qur’an), and you had raised your voice.” He said, “I wasawakening the sleeping ones and chasing away the devil.” But he said, “Lower (your voice) a little.”

صحيح، صحيح أبي داود (1200)، المشکاة (1204)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 447
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ام ہانی، انس، ام سلمہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن سلمہ سے مسند کیا ہے اور زیادہ تر لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبداللہ بن رباح سے مرسلاً روایت کی ہے۔ (یعنی: ابوقتادہ ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٥ (١٣٢٩)، ( تحفة الأشراف: ١٢٠٨٨)، مسند احمد (١/١٠٩) (صحیح)
448Sunan At-Tirmidhi(449)

رات کو قرآن پڑھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، أَكَانَ يُسِرُّ بِالْقِرَاءَةِ أَمْ يَجْهَرُ ؟ فَقَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا أَسَرَّ بِالْقِرَاءَةِ وَرُبَّمَا جَهَرَ فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رات میں نبی اکرم ﷺ کی قرأت کیسی ہوتی تھی کیا آپ قرآن دھیرے سے پڑھتے تھے یا زور سے؟ کہا: آپ ہر طرح سے پڑھتے تھے، کبھی سری پڑھتے تھے اور کبھی جہری، تو میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے دین کے معاملے میں کشادگی رکھی ہے۔

Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ stood one whole night with (reciting) a (single) verse of the Qur’an.

صحيح، صحيح أبي داود (1291)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 449
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٣ (١٤٣٧)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٣ (١٦٦٣)، (التحفہ: ١٦٢٩٧)، مسند احمد (٦/١٤٩)، ویاتي عند المؤلف في ثواب القرآن ٢٣ (برقم: ٢٩٢٤) (صحیح)
449Sunan At-Tirmidhi(448)

رات کو قرآن پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ لَيْلَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات قرآن کی صرف ایک ہی آیت کھڑے پڑھتے رہے ١ ؎۔

Abdullah ibn Abu Qays reported having asked Sayyidah Aisha (RA) “Describe the Prophet’s ﷺ recital at night.” She said, “It was varied. Sometimes he made a soft recital in low tones and sometimes he let his voice be audible.” He (Abdullah) said, “All praise belongs to Allah who let there be ease in affairs.”

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 448
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: تہجد کی ساری رکعتوں میں صرف یہی ایک آیت دھرا دھرا کر پڑھتے رہے۔ اور وہ آیت کریمہ یہ تھی: «إن تعذبهم فإنهم عبادک وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحکيم» (سورة المائدة: ) ، ( رواہ النسائی وابن ماجہ ) ، اے رب کریم! اگر تو ان ( میری امت کے اہل ایمان، مسلمانوں ) کو عذاب دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں، ( سزا دیتے وقت بھی ان پر رحم فرما دینا ) اور اگر تو ان کو بخش دے گا تو بلاشبہ تو نہایت غلبے والا اور دانائی والا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٨٠٢) (صحیح الإسناد)
450Sunan At-Tirmidhi

نفل گھر میں پڑھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفْضَلُ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ، فَرَوَى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَرْفُوعًا وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَأَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ وَالْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ أَصَحُّ.

زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہاری نماز میں سب سے افضل نماز وہ ہے جسے تم اپنے گھر میں پڑھتے ہو، سوائے فرض کے ۔

صحيح، صحيح أبي داود (1301)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 450
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- زید بن ثابت ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عمر بن خطاب، جابر بن عبداللہ، ابوسعید، ابوہریرہ، ابن عمر، عائشہ، عبداللہ بن سعد، اور زید بن خالد جہنی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم میں اس حدیث کی روایت میں اختلاف ہے، موسیٰ بن عقبہ اور ابراہیم بن ابی نضر دونوں نے اسے ابونضر سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ نیز اسے مالک بن انس نے بھی ابونضر سے روایت کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور بعض اہل علم نے اسے موقوف قرار دیا ہے جب کہ حدیث مرفوع زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨١ (٧٣١)، والأدب ٧٥ (٦١١٣)، والاعتصام ٣ (٧٢٩٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٩ (٧٨١)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٥ (١٠٤٤)، و ٣٤٦ (١٤٤٧)، سنن النسائی/قیام اللیل ١ (١٦٠٠)، ( تحفة الأشراف: ٣٦٩٨)، موطا امام مالک/الجماعة ١ (٤)، مسند احمد (٥/١٨٢، ١٨٤، ١٨٦، ١٨٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٦ (١٤٠٦) (صحیح)
451Sunan At-Tirmidhi

نفل گھر میں پڑھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو ١ ؎ اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ٢ ؎۔

صحيح، صحيح أبي داود (958 و 1302)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 451
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد نوافل اور سنن ہیں۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام ہوتا ہے وہ قبرستان کی طرح نہیں ہیں، اور جن گھروں میں نوافل وغیرہ کا اہتمام نہیں کیا جاتا وہ قبرستان کے مثل ہیں، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں ایسے گھر بھی عمل و عبادت سے محروم قبرستان کے ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٥٢ (٤٣٢)، والتہجد ٣٧ (١١٨٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٩ (٧٧٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٥ (١٠٤٣)، و ٣٤٦ (٤٨ ١٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ١ (١٥٩٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٦ (١٣٧٧)، ( تحفة الأشراف: ٨٠١٠)، وکذا (٨١٤٢)، مسند احمد (٢/٦، ١٦، ١٢٣) (صحیح)
452Sunan At-Tirmidhi

وتر کی فضلیت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ، جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، وَبُرَيْدَةَ وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَقَدْ وَهِمَ بَعْضُ الْمُحَدِّثِينَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزُّرَقِيِّ وَهُوَ وَهَمٌ فِي هَذَا، وَأَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ اسْمُهُ حُمَيْلُ بْنُ بَصْرَةَ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: جَمِيلُ بْنُ بَصْرَةَ وَلَا يَصِحُّ، وَأَبُو بَصْرَةَ الْغِفَارِيُّ رَجُلٌ آخَرُ يَرْوِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ: ابْنُ أَخِي أَبِي ذَرٍّ.

خارجہ بن حذافہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (حجرے سے نکل کر) ہمارے پاس آئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایک ایسی نماز کا اضافہ کیا ہے ١ ؎، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، وہ وتر ہے، اللہ نے اس کا وقت تمہارے لیے نماز عشاء سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک رکھا ہے ۔

Sayyidina Kharijah ibn Huzafah reported that Allah’s Messenger ﷺ came their way. He said, ‘Surely, Allah has helped you with a salah that is better for you than red camels: the witr! Allah has assigned it for you between the salah of isha and the rise of dawn.”

صحيح دون قوله: هى خير لکم من حمر النعم، ابن ماجة (1168)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 452
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- خارجہ بن حذافہ کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف یزید بن ابی حبیب ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- بعض محدثین کو اس حدیث میں وہم ہوا ہے، انہوں نے عبداللہ بن راشد زرقی کہا ہے، یہ وہم ہے (صحیح «زوفی» ہے) ٣- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو، بریدہ، اور ابو بصرہ غفاری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- ابو بصرہ غفاری کا نام حمیل بن بصرہ ہے، اور بعض لوگوں نے جمیل بن بصرہ کہا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، اور ابو بصرہ غفاری ایک دوسرے شخص ہیں جو ابوذر ؓ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابوذر کے بھتیجے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک روایت میں «زادکم» کا لفظ بھی آیا ہے، حنفیہ نے اس لفظ سے وتر کے واجب ہونے پر دلیل پکڑی ہے، کیونکہ زیادہ کی ہوئی چیز بھی اصل چیز کی جنس ہی سے ہوتی ہے، تو جب پانچ وقتوں کی نماز واجب ہے تو وتر بھی واجب ہوئی، علماء نے اس کا رد کئی طریقے سے کیا ہے، ان میں سے ایک یہ کہ فجر کی سنت کے بارے میں بھی یہ لفظ وارد ہوا ہے جب کہ کوئی بھی اس کو واجب نہیں مانتا، اسی طرح بدوی کی وہ حدیث جس میں وارد ہے کہ ان پانچ کے علاوہ بھی اللہ نے مجھ پر کوئی نماز فرض کی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ نہیں، نیز مزید کا مزید فیہ کے جنس سے ہونا ضروری نہیں ہے، ( مزید تفصیل کے لیے دیکھئیے: تحفۃ الأحوذی )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٣٦ (١٤١٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٤ (١١٦٨)، ( تحفة الأشراف: ٣٤٥٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٧) (صحیح) ” ہی خیر من حمر النعم “ ) کا فقرہ ثابت نہیں ہے (اس کے راوی ” عبداللہ بن راشد “ مجہول ہیں، لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح متابعات وشواہد موجود ہیں، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی ٤٦٦)