Sunan At-Tirmidhi 447

نماز کا بیان

447Sunan At-Tirmidhi

رات کو قرآن پڑھنا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق هُوَ السَّالَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ فَقَالَ: إِنِّي أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ، قَالَ: ارْفَعْ قَلِيلًا ، وَقَالَ لِعُمَرَ: مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ قَالَ: إِنِّي أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ، قَالَ: اخْفِضْ قَلِيلًا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ هَانِئٍ، وَأَنَسٍ، وأُمِّ سَلَمَةَ، وابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَأَكْثَرُ النَّاسِ إِنَّمَا رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ مُرْسَلًا.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا: میں (تہجد کے وقت) تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز کچھ دھیمی تھی؟ کہا: میں تو صرف اسے سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا۔ (یعنی اللہ کو) آپ نے فرمایا: اپنی آواز کچھ بلند کرلیا کرو ، اور عمر ؓ سے فرمایا: میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی؟ ، کہا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کرلیا کرو ۔

Sayyidina Abu Qatadah (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Sayyidina Abu Bakr (RA) , “I passed by you and you were reciting (the Qur’an) and you had lowered your voice.” He said, “I let Him hear Whom I supplicated.” But, he said, “Raise (your voice) a little.” And, he said to Sayyidina Umar i “I passed by you while you were reciting (the Qur’an), and you had raised your voice.” He said, “I wasawakening the sleeping ones and chasing away the devil.” But he said, “Lower (your voice) a little.”

صحيح، صحيح أبي داود (1200)، المشکاة (1204)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 447
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ام ہانی، انس، ام سلمہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن سلمہ سے مسند کیا ہے اور زیادہ تر لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبداللہ بن رباح سے مرسلاً روایت کی ہے۔ (یعنی: ابوقتادہ ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٥ (١٣٢٩)، ( تحفة الأشراف: ١٢٠٨٨)، مسند احمد (١/١٠٩) (صحیح)