Sunan At-Tirmidhi

All 3,977 hadiths in order · Page 20 of 199

410Sunan At-Tirmidhi

نماز کے بعد تسبیح

حَدَّثَنَا وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْخُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يُعْتِقُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ، قَالَ: فَإِذَا صَلَّيْتُمْ فَقُولُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً، وَاللَّهُ أَكْبَرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَشْرَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ وَلَا يَسْبِقُكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَاب أَيْضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَالْمُغِيرَةِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: خَصْلَتَانِ لَا يُحْصِيهِمَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ: يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُهُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُهُ عَشْرًا، وَيُسَبِّحُ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ فقیر و محتاج لوگ آئے اور کہا: اللہ کے رسول! مالدار نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں وہ روزہ رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں۔ ان کے پاس مال بھی ہے، اس سے وہ غلام آزاد کرتے اور صدقہ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللہ ، تینتیس مرتبہ الحمد لله اور تینتیس مرتبہ الله أكبر اور دس مرتبہ لا إله إلا الله کہہ لیا کرو، تو تم ان لوگوں کو پالو گے جو تم پر سبقت لے گئے ہیں، اور جو تم سے پیچھے ہیں وہ تم پر سبقت نہ لے جاسکیں گے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that some poor people came to Allah’s Messenger ﷺ and said, “O Messenger ﷺ of Allah! The rich pray as we do. They fast as we fast. And they have wealth with which they set slaves free and give charity.’ He said, “When you have prayed, say subban Allah thirty three times and al-Hamdulillah thirty-three times, and AllahuAkbar thirty-four times, and Lailahaill Allah ten times. You will attain the ranks of those who have overtaken you and no one will overtake you after that.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسناد، والتهليل عشرا فيه منكر، التعليق الرغيب (2 / 260)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 410
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں کعب بن عجرہ، انس، عبداللہ بن عمرو، زید بن ثابت، ابو الدرداء، ابن عمر اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، نیز اس باب میں ابوہریرہ اور مغیرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: دو عادتیں ہیں جنہیں جو بھی مسلمان آدمی بجا لائے گا جنت میں داخل ہوگا۔ ایک یہ کہ وہ ہر نماز کے بعد دس بار سبحان الله ، دس بار الحمد لله ، دس بار الله أكبر کہے، دوسرے یہ کہ وہ اپنے سوتے وقت تینتیس مرتبہ سبحان الله ، تینتیس مرتبہ الحمد لله اور چونتیس مرتبہ الله أكبر کہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٩٥ (١٣٥٤)، ( تحفة الأشراف: ٦٠٦٨ و ٦٣٩٣) (ضعیف منکر) (دس بار ” لا إله إلا اللہ “ کا ذکر منکر ہے، منکر ہونے کا سبب خصیف ہیں جو حافظے کے کمزور اور مختلط راوی ہیں، آخر میں ایک بار ” لا إله إلا اللہ “ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کی روایت سے صحیح بخاری میں مروی ہے)
411Sunan At-Tirmidhi

کیچڑ اور بارش میں سواری پر نماز پڑھنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الرَّمَّاحِ الْبَلْخِيُّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، فَانْتَهَوْا إِلَى مَضِيقٍ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَمُطِرُوا السَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَالْبِلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ فَأَذَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَقَامَ أَوْ أَقَامَ فَتَقَدَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى بِهِمْ يُومِئُ إِيمَاءً يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، تَفَرَّدَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الرَّمَّاحِ الْبَلْخِيُّ، لَا يُعْرَفُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ صَلَّى فِي مَاءٍ وَطِينٍ عَلَى دَابَّتِهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ: أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

یعلیٰ بن مرہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ لوگ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، وہ ایک تنگ جگہ پہنچے تھے کہ نماز کا وقت آگیا، اوپر سے بارش ہونے لگی، اور نیچے کیچڑ ہوگئی، رسول اللہ ﷺ نے اپنی سواری ہی پر اذان دی اور اقامت کہی اور سواری ہی پر آگے بڑھے اور انہیں نماز پڑھائی، آپ اشارہ سے نماز پڑھتے تھے، سجدہ میں رکوع سے قدرے زیادہ جھکتے تھے۔

Amr ibn Uthman ibn Ya’la ibn Murrah reported from his father who from his grandfather that they were with the Prophet ﷺ in a journey. They came to a very narrow pass when it was time for salah. The heaven poured down rain from above and there was damp mud below them. So Allah’s Messenger called the adhan while he was on his riding beast and then called the iqamah. Then he pulled his riding beast shead. Then he lead them in prayer, in gestures. He bowed down more in sajdah than in ruku’

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 411
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، عمر بن رماح بلخی اس کے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ یہ صرف انہیں کی سند سے جانی جاتی ہے۔ اور ان سے یہ حدیث اہل علم میں سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے، ٢- انس بن مالک سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے پانی اور کیچڑ میں اپنی سواری پر نماز پڑھی، ٣- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جب ایسی صورت حال پیش آ جائے اور دوسری جگہ وقت کے اندر ملنے کا امکان نہ ہو تو نماز کا قضاء کرنے سے بہتر اس طرح سے نماز ادا کرلینا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١١٨٥١) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” عمروبن عثمان “ مجہول الحال اور عثمان بن یعلی “ مجہول العین ہیں)
412Sunan At-Tirmidhi

نماز میں بہت کوشش اور تکلیف اٹھانا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ آپ کے پیر سوج گئے تو آپ سے عرض کیا گیا: کیا آپ ایسی زحمت کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ ٢ ؎۔

Sayyidina Mughira ibn Shu’bah narrated that Allah’s Messenger ﷺ stood in prayer one day till his feet swelled. So, he was told, ‘You take pains like this while forgiven to you are your sins, past and future.” I-fe said, “Shall I not be a grateful slave?”

صحيح، ابن ماجة (1419 - 1420)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 412
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مغیرہ بن شعبہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی زیادہ دیر تک نفل نماز پڑھنے کا بیان۔ ٢ ؎: تو جب بخشے بخشائے نبی اکرم ﷺ بطور شکرانے کے زیادہ دیر تک نفل نماز پڑھا کرتے تھے یعنی عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت لگاتے تھے تو ہم گنہگار امتیوں کو تو اپنے کو بخشوانے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی طرف مسنون اعمال کے ذریعے اور زیادہ دھیان دینا چاہیئے۔ البتہ بدعات سے اجتناب کرتے ہوئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٦، وتفسیر الفتح ٢ (٤٨٣٦)، والرقاق ٢٠ (٦٤٧١)، صحیح مسلم/المنافقین ١٨ (٢٨٢٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٧ (١٦٤٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠٠ (١٤١٩، ١٤٢٠)، ( تحفة الأشراف: ١١٤٩٨)، مسند احمد (٤/٢٥١، ٢٥٥) (صحیح)
413Sunan At-Tirmidhi

قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْحُرَيْثِ بْنِ قَبِيصَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا، قَالَ: فَجَلَسْتُ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ: إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي جَلِيسًا صَالِحًا فَحَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَاتُهُ فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ، فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلَ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهِ عَلَى ذَلِكَ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ الْحَسَنِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَالْمَشْهُورُ هُوَ قَبِيصَةُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَرُوِي عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.

حریث بن قبیصہ کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا: میں نے کہا: اے اللہ مجھے نیک اور صالح ساتھی نصیب فرما، چناچہ ابوہریرہ ؓ کے پاس بیٹھنا میسر ہوگیا، میں نے ان سے کہا: میں نے اللہ سے دعا مانگی تھی کہ مجھے نیک ساتھی عطا فرما، تو آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، شاید اللہ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے اس کی نماز کا محاسبہ ہوگا، اگر وہ ٹھیک رہی تو کامیاب ہوگیا، اور اگر وہ خراب نکلی تو وہ ناکام اور نامراد رہا، اور اگر اس کی فرض نمازوں میں کوئی کمی ١ ؎ ہوگی تو رب تعالیٰ (فرشتوں سے) فرمائے گا: دیکھو، میرے اس بندے کے پاس کوئی نفل نماز ہے؟ چناچہ فرض نماز کی کمی کی تلافی اس نفل سے کردی جائے گی، پھر اسی انداز سے سارے اعمال کا محاسبہ ہوگا ۔

Sayyidina Hurayth ibn Qabisah narrated: When I came to Madinah, I prayed, “O Allah! let me have a righteous companion.” So, I sat down with Abu Hurayrah (RA) and said to him “I requested Allah to let me have a righteous companion. So, narrate to me a Hadith that you may have heard from Allah’s Messenger that Allah may benefit me with it.” So, he said, “I heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The first thing a slave will be called to account from his deeds on the Day of Resurrection will be his salah. So, if it is correct then he wil succeed and earn deliverance, but if it is corrupted then he will fail and lose. If there is some shortcoming in his fard, the Lord Blessed and Elevated will say, ‘Examine and see! HasMy slave any optional deeds that the shortcomings in the fard might be offset.’ Then all his deeds will be (recompensed) in that way

صحيح، ابن ماجة (1425 - 1426)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 413
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہے، ٣- حسن کے بعض تلامذہ نے حسن سے اور انہوں نے قبیصہ بن حریث سے اس حدیث کے علاوہ دوسری اور حدیثیں بھی روایت کی ہیں اور مشہور قبیصہ بن حریث ہی ہے ٢ ؎، یہ حدیث بطریق: «أنس بن حكيم عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» بھی روایت کی گئی ہے، ٤- اس باب میں تمیم داری ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کمی خشوع خضوع اور اعتدال کی کمی بھی ہوسکتی ہے، اور تعداد کی کمی بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ آپ نے فرمایا ہے دیگر سارے اعمال کا معاملہ بھی یہی ہوگا تو زکاۃ میں کہاں خشوع خضوع کا معاملہ ہے؟ وہاں تعداد ہی میں کمی ہوسکتی ہے، اللہ کا فضل بڑا وسیع ہے، عام طور پر نماز پڑھتے رہنے والے سے اگر کوئی نماز رہ گئی تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ معاملہ فرما دے گا، ان شاء اللہ۔ ٢ ؎: یعنی: ان کے نام میں اختلاف ہے، قبیصہ بن حریث بھی کہا گیا ہے، اور حریث بن قبیصہ بھی کہا گیا ہے، تو زیادہ مشہور قبیصہ بن حریث ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصلاة ٩ (٤٦٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠٢ (١٤٢٥)، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٩٣)، مسند احمد (٢/٤٢٥) (صحیح)
414Sunan At-Tirmidhi

جو شخص دن اور رات میں دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ ثَابَرَ عَلَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى 12: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بارہ رکعت سنت ١ ؎ پر مداومت کرے گا اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے ٢ ؎، دو رکعتیں اس کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے ۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who is regu tar at offering) twelve raka’at of the sunnah, Allah will build for him a house in Paradise: four raka’at before zuhr, two after zuhr, two raka’at after maghrib, two raka’at after isha and two raka’at before fajr.”

صحيح، ابن ماجة (1140)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 414
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- سند میں مغیرہ بن زیاد پر بعض اہل علم نے ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے، ٣- اس باب میں ام حبیبہ، ابوہریرہ، ابوموسیٰ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: فرض نمازوں کے علاوہ ہر نماز کے ساتھ اس سے پہلے یا بعد میں جو سنت پڑھی جاتی ہے اس کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جس پر رسول اللہ ﷺ نے مداومت فرمائی ہے، انہیں سنت موکدہ یا سنن رواتب کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے جس پر آپ نے مداومت نہیں فرمائی ہے انہیں سنن غیر موکدہ کہا جاتا ہے، سنن موکدہ کل ١٢ رکعتیں ہیں، جس کی تفصیل اس روایت میں ہے، ان سنتوں کو گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ لیکن اگر گھر میں پڑھنا مشکل ہوجائے، جیسے گھر کے لیے اٹھا رکھنے میں سرے سے بھول جانے کا خطرہ ہو تو مسجد ہی ادا کر لینی چاہیئے۔ ٢ ؎: اس حدیث میں ظہر کے فرض سے پہلے چار رکعت کا ذکر ہے اور عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت میں دو رکعت کا ذکر ہے، تطبیق اس طرح دی جاسکتی ہے کہ دونوں طرح سے جائز ہے، رسول اللہ ﷺ کا عمل دونوں طرح سے تھا کبھی ایسا کرتے اور کبھی ویسا، یا یہ بھی ممکن ہے کہ گھر میں دو رکعتیں پڑھ کر نکلتے اور مسجد میں پھر دو پڑھتے، یا یہ بھی ہوتا ہوگا کہ گھر میں چار پڑھتے اور مسجد جا کر تحیۃ المسجد کے طور پر دو پڑھتے تو ابن عمر نے اس کو سنت مؤکدہ والی دو سمجھا، ایک تطبیق یہ بھی ہے کہ ابن عمر ؓ کا بیان کردہ واقعہ آپ ﷺ کا اپنا فعل ہے ( جو کبھی چار کا بھی ہوتا تھا ) مگر عائشہ ؓ اور ام حبیبہ ؓ کی یہ حدیث قولی ہے جو امت کے لیے ہے، اور بہرحال چار میں ثواب زیادہ ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٦٦ (١٧٩٥، ١٧٩٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٠ (١١٤٠)، ( تحفة الأشراف: ١٧٣٩٣) (صحیح) (تراجع الألبانی ٦٢١)
415Sunan At-Tirmidhi

جو شخص دن اور رات میں دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھنے کی فضلیت

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ عَنْبَسَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَنْبَسَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رات اور دن میں بارہ رکعت سنت پڑھے گا، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، دو رکعتیں اس کے بعد، دو مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد اور دو فجر سے پہلے ۔

Sayyidah Umm Habibah (RA) reported that Allah’s Mesenger ﷺ said, “He who prays in a day and night twelve raka’at, a house is built for him in paradise: four raka’at before zuhr, two raka’at after it, two raka’at after maghrib, two raka’at after isha and two raka’at before fajr on the morrow.”

صحيح، ابن ماجة (1141)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 415
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عنبسہ کی حدیث جو ام حبیبہ ؓ سے مروی ہے اس باب میں حسن صحیح ہے۔ اور وہ عنبسہ سے دیگر اور سندوں سے بھی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٩٠ (١٢٥٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ٦٦ (١٧٩٧، ١٧٩٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٠ (١١٤١)، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٦٢)، مسند احمد (٦/٣٢٦، ٣٢٧، ٤٢٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٤ (١٤٧٨) (صحیح)
416Sunan At-Tirmidhi

فجر کی دو سنتوں کی فضلیت

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيِّ حَدِيثَ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فجر کی دونوں رکعتیں دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے ان سب سے بہتر ہیں ۔

Sayyidah Aisha (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The two (sunnah) raka’at of fajr are better than the world and whatever it contains.”

صحيح، الإرواء (437)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 416
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابن عمر، اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ جنہیں رسول اللہ ﷺ ان میں پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٥)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥٦ (١٧٦٠، ٢٦٥)، ( تحفة الأشراف: ١٦١٠٦)، مسند احمد (٦/١٤٩) (صحیح)
417Sunan At-Tirmidhi

فجر کی سنتوں میں تخفیف کرنا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَفْصَةَ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ، وَالْمَعْرُوفُ عِنْدَ النَّاسِ حَدِيثُ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، وَقَدْ رَوَى عَنْ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا، وَأَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ثِقَةٌ. حَافِظٌ، قَالَ: سَمِعْت بُنْدَارًا، يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ حِفْظًا مِنْ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ، وَأَبُو أَحْمَدَ اسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ الْأَسَدِيُّ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کو ایک مہینے تک دیکھتا رہا، فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں آپ «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that he observed the Prophet ﷺ for a month. He recited in the two raka’at before (fard in) fajr the surah at-Kafirun and al-Ikhlas.

صحيح، ابن ماجة (1149)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 417
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اور ہم ثوری کی روایت کو جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے صرف ابواحمد زبیری ہی کے طریق سے جانتے ہیں، (جب کہ) لوگوں (محدثین) کے نزدیک معروف «عن إسرائيل عن أبي إسحاق» ہے بجائے «سفیان ابی اسحاق» کے، ٣- اور ابواحمد زبیری کے واسطہ سے بھی اسرائیل سے روایت کی گئی ہے، ٤- ابواحمد زبیری ثقہ اور حافظ ہیں، میں نے بندار کو کہتے سنا ہے کہ میں نے ابواحمد زبیری سے زیادہ اچھے حافظے والا نہیں دیکھا، ابواحمد کا نام محمد بن عبداللہ بن زبیر کوفی اسدی ہے، ٥- اس باب میں ابن مسعود، انس، ابوہریرہ، ابن عباس، حفصہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٦٨ (٩٩٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٢ (١١٤٩)، ( تحفة الأشراف: ٧٣٨٨)، مسند احمد (٢/٩٤، ٩٥، ٩٩) (صحیح)
418Sunan At-Tirmidhi

فجر کی سنتوں کے بعد گفتگو کرنا

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، قَال: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَيَّ حَاجَةٌ كَلَّمَنِي وَإِلَّا خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمُ الْكَلَامَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ أَوْ مِمَّا لَا بُدَّ مِنْهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور اگر آپ کو مجھ سے کوئی کام ہوتا تو (اس بارے میں) مجھ سے گفتگو فرما لیتے، ورنہ نماز کے لیے نکل جاتے۔

Sayyidah Aisha (RA) said that after the Prophet ﷺ prayed the two raka’at of fajr, he talked to her if he had some work otherwise, he went away for the salah.

صحيح، صحيح أبي داود (1147 و 1148)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 418
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے فجر کے طلوع ہونے بعد سے لے کر فجر پڑھنے تک گفتگو کرنا مکروہ قرار دیا ہے، سوائے اس کے کہ وہ گفتگو ذکر الٰہی سے متعلق ہو یا بہت ضروری ہو، اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ کے فعل کے بعد اب کسی کے قول اور رائے کی کیا ضرورت؟ ہاں ابن مسعود ؓ نے جو لوگوں کو بات کرتے دیکھ کر منع کیا تھا؟ تو یہ لایعنی گفتگو کا معاملہ ہوگا، بہرحال اجتماعی طور پر لایعنی بات چیت ایسے وقت خاص طور پر، نیز کسی بھی وقت مناسب نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التہجد ٢٤ (١١٦١)، و ٢٥ (١١٦٢)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٧٣)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٩٣ (١٢٦٢، ١٢٦٣)، (کلہم بذکر الاضطجاع علی الشق الأیمن)، ( تحفة الأشراف: ١٧٧١١) (صحیح)
419Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ طلوع فجر کے بعد دو سنتوں کے علاوہ کوئی نماز نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْفَجْرِ إِلَّا سَجْدَتَيْنِ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ إِنَّمَا يَقُولُ: لَا صَلَاةَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ، وَحَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ قُدَامَةَ بْنِ مُوسَى، وَرَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَهُوَ مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ أَهْلُ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: طلوع فجر کے بعد سوائے دو رکعت (سنت فجر) کے کوئی نماز نہیں ۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ طلوع فجر کے بعد (فرض سے پہلے) سوائے دو رکعت سنت کے اور کوئی نماز نہیں۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that Allah’s Messegner is.i said, “There is no salah after dawn except the two prostrations (two sunnah).”

صحيح، الإرواء (478)، صحيح أبي داود (1159)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 419
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف قدامہ بن موسیٰ ہی کے طریق سے جانتے ہیں اور ان سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور حفصہ ؓ سے احادیث آئی ہیں، ٣- اور یہی قول ہے جس پر اہل علم کا اجماع ہے: انہوں نے طلوع فجر کے بعد (فرض سے پہلے) سوائے فجر کی دونوں سنتوں کے کوئی اور نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: مستقل طور پر کوئی سنت نفل اس درمیان ثابت نہیں، ہاں اگر کوئی گھر سے فجر کی سنتیں پڑھ کر مسجد آتا ہے، اور جماعت میں ابھی وقت باقی ہے تو دو رکعت بطور تحیۃ المسجد کے پڑھ سکتا ہے، بلکہ پڑھنا ہی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٩٩ (١٢٧٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٨ (٢٣٤)، ( تحفة الأشراف: ٨٥٧٠)، مسند احمد (٢/٢٣، ٥٧) (صحیح)
420Sunan At-Tirmidhi

فجر کی دو سنتوں کے بعد لیٹنے کے بارے میں۔

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فِي بَيْتِهِ اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُفْعَلَ هَذَا اسْتِحْبَابًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فجر کی دو رکعت (سنت) پڑھے تو دائیں کروٹ پر لیٹے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When one of you has offered the two raka’at of fajr, let him lie down on his right side.”

صحيح، المشکاة (1206)، صحيح أبي داود (1146)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 420
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- عائشہ ؓ سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دونوں رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تو اپنی دائیں کروٹ لیٹتے، ٤- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ ایسا استحباباً کیا جائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے فجر کی سنت کے بعد تھوڑی دیر دائیں پہلو پر لیٹنا مسنون ہے، بعض لوگوں نے اسے مکروہ کہا ہے، لیکن یہ رائے صحیح نہیں، قولی اور فعلی دونوں قسم کی حدیثوں سے اس کی مشروعیت ثابت ہے، بعض لوگوں نے اس روایت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اعمش مدلس راوی ہیں انہوں نے ابوصالح سے عن کے ذریعہ روایت کی ہے اور مدلس کا عنعنہ مقبول نہیں ہوتا، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ابوصالح سے اعمش کا عنعنہ اتصال پر محمول ہوتا ہے، حافظ ذہبی میزان میں لکھتے ہیں «ھو مدلس ربما دلّس عن ضعیف ولا یدری بہ فمتی قال نا فلان فلا کلام، ومتی قال عن تطرق إلیہ احتمال التدلیس إلافی شیوخ لہ أکثر عنہم کا براہیم وأبي وائل وابی صالح السمّان، فإن روایتہ عن ہذا الصنف محمولۃ علی الاتصال» ہاں، یہ لیٹنا محض خانہ پری کے لیے نہ ہو، جیسا کہ بعض علاقوں میں دیکھنے میں آتا ہے کہ صرف پہلو زمین سے لگا کر فوراً اٹھ بیٹھتے ہیں، نبی اکرم ﷺ اس وقت تک لیٹے رہتے تھے جب تک کہ بلال ؓ آ کر اقامت کے وقت کی خبر نہیں دیتے تھے۔ مگر خیال ہے کہ اس دوران اگر نیند آنے لگے تو اٹھ جانا چاہیئے، اور واقعتاً نیند آ جانے کی صورت میں جا کر وضو کرنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٩٣ (١٢٦١)، ( تحفة الأشراف: ١٢٤٣٥)، مسند احمد (٢/٤١٥) (صحیح) (بعض اہل علم کی تحقیق میں نبی اکرم ﷺ سے لیٹنے کی بات صحیح ہے، اور قول نبوی والی حدیث معلول ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: إعلام أہل العصر بأحکام رکعتی الفجر: تالیف: محدث شمس الحق عظیم آبادی، شیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ، تالیف: عبدالرحمن بن عبدالجبار الفریوائی)
421Sunan At-Tirmidhi

جب نماز کھڑی ہوجائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَال: سَمِعْتُعَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهَكَذَا رَوَى أَيُّوبُ، وَوَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، وَزِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَلَمْ يَرْفَعَاهُ، وَالْحَدِيثُ الْمَرْفُوعُ أَصَحُّ عِنْدَنَا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ الرَّجُلُ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، وَبِهِ يَقُولُ: سفيان الثوري، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، رَوَاهُ عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ الْمِصْرِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب جماعت کھڑی ہوجائے ١ ؎ تو فرض نماز ٢ ؎ کے سوا کوئی نماز (جائز) نہیں ٣ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “When the salah (in congregation) stands up, there is no salah excpet the fard.”

صحيح، ابن ماجة (1151)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 421
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اسی طرح ایک دوسری سند سے بھی ابوہریرہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابن بحینہ، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن سرجس، ابن عباس اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اور حماد بن زید اور سفیان بن عیینہ نے بھی عمرو بن دینار سے روایت کی ہے لیکن ان دونوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور مرفوع حدیث ہی ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ٥- سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ٦- اس کے علاوہ اور (ایک تیسری) سند سے بھی یہ حدیث بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے۔ اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے - (جیسے) عیاش بن عباس قتبانی مصری ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اقامت شروع ہوجائے۔ ٢ ؎: یعنی جس کے لیے اقامت کہی گئی ہے۔ ٣ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض نماز کے لیے تکبیر ہوجائے تو نفل پڑھنا جائز نہیں، خواہ وہ رواتب ہی کیوں نہ ہوں، بعض لوگوں نے فجر کی سنت کو اس سے مستثنیٰ کیا ہے، لیکن یہ استثناء صحیح نہیں، اس لیے کہ مسلم بن خالد کی روایت میں کہ جسے انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کی ہے مزید وارد ہے، «قيل يا رسول اللہ ولا رکعتي الفجر قال ولا رکعتي الفجر» اس کی تخریج ابن عدی نے کامل میں یحییٰ بن نصر بن حاجب کے ترجمہ میں کی ہے، اور اس کی سند کو حسن کہا ہے، اور ابوہریرہ کی روایت جس کی تخریج بیہقی نے کی ہے اور جس میں «إلا رکعتي الصبح» کا اضافہ ہے: کا جواب یہ ہے کہ اس زیادتی کے متعلق بیہقی خود فرماتے ہیں «هذه الزيادة لا أصل لها» یعنی یہ اضافہ بےبنیاد ہے اس کی سند میں حجاج بن نصر اور عباد بن کثیر ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں، اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧٢٠)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٩٤ (١٢٦٦)، سنن النسائی/الإمامة ٦٠ (٨٦٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٣ (١١٥١)، ( تحفة الأشراف: ١٤٢٢٨)، مسند احمد (٢/٣٥٢، ٤٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٩ (١١٨٨) (صحیح)
422Sunan At-Tirmidhi

جس کی فجر کی سنتیں چھوٹ جائیں وہ فجر کے بعد انہیں پڑھ لے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الصُّبْحَ، ثُمَّ انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَنِي أُصَلِّي، فَقَالَ: مَهْلًا يَا قَيْسُ أَصَلَاتَانِ مَعًا ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَكُنْ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، قَالَ: فَلَا إِذًا قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: سَمِعَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، مِنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلًا، وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ: لَمْ يَرَوْا بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُ وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: وَقَيْسٌ هُوَ جَدُّ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَيُقَالُ: هُوَ قَيْسُ بْنُ عَمْرٍ، وَيُقَالُ: هوَ قَيْسُ بْنُ قَهْدٍ، وَإِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ قَيْسٍ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَرَأَى قَيْسًا، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ.

قیس (قیس بن عمرو بن سہل) ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور جماعت کے لیے اقامت کہہ دی گئی، تو میں نے آپ کے ساتھ فجر پڑھی، پھر نبی اکرم ﷺ پلٹے تو مجھے دیکھا کہ میں نماز پڑھنے جا رہا ہوں، تو آپ نے فرمایا: قیس ذرا ٹھہرو، کیا دو نمازیں ایک ساتھ ١ ؎ (پڑھنے جا رہے ہو؟ ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے فجر کی دونوں سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔ آپ نے فرمایا: تب کوئی حرج نہیں ٢ ؎۔

Muhammad ibn Ibrahim reported from his grandfather, Sayyidina Qays that as Allah’s Meessenger ﷺ came out, the iqamah of the (fajr) salah was called. So, he offered the prayer with him. Then, the Prophet ﷺ turned back and saw him offer salah. He said, O Qays! Wait! will you pray two salah together? He said, “O Messenger of Allah! ﷺ I had not offered the two rakaat (sunnah) of fajr.’ The Prophet ﷺ said, ‘Then there is no harm.”

صحيح، ابن ماجة (1151)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 422
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ہم محمد بن ابراہیم کی حدیث کو اس کے مثل صرف سعد بن سعید ہی کے طریق سے جانتے ہیں، ٢- سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ عطاء بن ابی رباح نے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے سنی ہے، ٣- یہ حدیث مرسلاً بھی روایت کی جاتی ہے، ٤- اہل مکہ میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کے مطابق کہا ہے کہ آدمی کے فجر کی فرض نماز پڑھنے کے بعد سورج نکلنے سے پہلے دونوں سنتیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، ٥- سعد بن سعید یحییٰ بن سعید انصاری کے بھائی ہیں، اور قیس یحییٰ بن سعید انصاری کے دادا ہیں۔ انہیں قیس بن عمرو بھی کہا جاتا ہے اور قیس بن قہد بھی، ٦- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ محمد بن ابراہیم تیمی نے قیس سے نہیں سنا ہے، بعض لوگوں نے یہ حدیث سعد بن سعید سے اور سعد نے محمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نکلے تو قیس کو دیکھا ، اور یہ عبدالعزیز کی حدیث سے جسے انہوں نے سعد بن سعید سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ: فجر کی فرض کے بعد کوئی سنت نفل تو ہے نہیں، تو یہی سمجھا جائے گا کہ تم فجر کے فرض کے بعد کوئی فرض ہی پڑھنے جا رہے ہو۔ ٢ ؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے، اور امام ترمذی نے جو اس روایت کو مرسل اور منقطع کہا ہے وہ صحیح نہیں، کیونکہ یحییٰ بن سعید کے طریق سے یہ روایت متصلاً بھی مروی ہے، جس کی تخریج ابن خزیمہ نے کی ہے اور ابن خزیمہ کے واسطے سے ابن حبان نے بھی کی ہے، نیز انہوں نے اس کے علاوہ طریق سے بھی کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٩٥ (١٢٦٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٤ (١١٥٤)، ( تحفة الأشراف: ١١١٠٢)، مسند احمد (٥/٤٤٧) (صحیح)
423Sunan At-Tirmidhi

کہ فجر کی سنتین اگر چھوٹ جائیں تو طلوع آفتاب کے بعد پڑھے

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيُصَلِّهِمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَعَلَهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ: سفيان الثوري، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَ: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ هَمَّامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ هَذَا إِلَّا عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ الْكِلَابِيَّ، وَالْمَعْرُوفُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو فجر کی دونوں سنتیں نہ پڑھ سکے تو انہیں سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reproted that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who has not offered the two raka’at of fajr may offer them after sunrise.”

صحيح، الصحيحة (2361)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 423
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- ابن عمر سے یہ بھی روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہے، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ٤- ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے ھمام سے یہ حدیث اس سند سے اس طرح روایت کی ہو سوائے عمرو بن عاصم کلابی کے۔ اور بطریق: «قتادة عن النضر بن أنس عن بشير بن نهيك عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مشہور یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے فجر کی ایک رکعت بھی سورج طلوع ہونے سے پہلے پالی تو اس نے فجر پالی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کی سند میں ایک راوی قتادہ ہیں جو مدلس ہیں، انہوں نے نصر بن انس سے عنعنہ کے ساتھ روایت کیا ہے، نیز یہ حدیث اس لفظ کے ساتھ غیر محفوظ ہے، عمرو بن عاصم جو ہمام سے روایت کر رہے ہیں، ان الفاظ کے ساتھ منفرد ہیں، ہمام کے دیگر تلامذہ نے ان کی مخالفت کی ہے اور اسے ان لفاظ کے علاوہ دوسرے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے اور وہ الفاظ یہ ہیں «من أدرک ركعة من صلاة الصبح قبل أن تطلع الشمس فقد أدرک الصبحَ» جس آدمی نے سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت پالی اس نے صبح کی نماز پا لی ( یعنی صبح کے وقت اور اس کے ثواب کو ) نیز یہ حدیث اس بات پر بصراحت دلالت نہیں کرتی ہے کہ جو اسے صبح کی نماز سے پہلے نہ پڑھ سکا ہو وہ سورج نکلنے کے بعد ہی لازماً پڑھے، کیونکہ اس میں صرف یہ ہے کہ جو اسے نہ پڑھ سکا ہو وہ سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو اسے وقت ادا میں نہ پڑھ سکا ہو یعنی سورج نکلنے سے پہلے نہ پڑھ سکا ہو تو وہ اسے وقت قضاء میں یعنی سورج نکلنے کے بعد پڑھ لے، اس میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے صبح کی نماز کے بعد ان دو رکعت کو پڑھنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اس کی تائید دارقطنی، حاکم اور بیہقی کی اس روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں «من لم يصل رکعتي الفجرحتی تطلع الشمس فليصلهما» جو آدمی سورج طلوع ہونے تک فجر کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکے وہ ان کو ( سورج نکلنے کے بعد ) پڑھ لے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٢١٧) (صحیح)
424Sunan At-Tirmidhi

ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: كُنَّا نَعْرِفُ فَضْلَ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَلَى حَدِيثِ الْحَارِثِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَهُوَ قَوْلُ سفيان الثوري، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَإِسْحَاق وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَرَوْنَ الْفَصْلَ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَبِهِ يَقُولُ: الشافعي، وَأَحْمَدُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔

Sayyidina Ali (RA) reported that the Prophet ﷺ prayed before zuhr four raka’at and after it two raka’at. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1161)، ومن تمامه الحديث الآتی برقم (430)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 424
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ اور ام حبیبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- ہم سے ابوبکر عطار نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے سفیان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم جانتے تھے کہ عاصم بن ضمرہ کی حدیث حارث (اعور) کی حدیث سے افضل ہے، ٤- صحابہ کرام اور بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل کا عمل اسی پر ہے۔ وہ پسند کرتے ہیں کہ آدمی ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق بن راہویہ اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ دن اور رات (دونوں) کی نمازیں دو دو رکعتیں ہیں، وہ ہر دو رکعت کے بعد فصل کرنے کے قائل ہیں شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث اور اس قول میں کوئی فرق نہیں، مطلب یہ ہے کہ چار رکعتیں بھی دو دو سلاموں سے پڑھے، اور یہی زیادہ بہتر ہے، ایک سلام سے بھی جائز ہے۔ مگر دو سلاموں کے ساتھ سنت پر عمل، درود اور دعاؤں کی مزید فضیلت حاصل ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وأخرجہ في الشمائل (٤٢) أیضا، وانظر ما یأتي برقم: ٤٢٩ و ٥٩٨ (تحفة الأشراف: ١٠١٣٩) (صحیح)
425Sunan At-Tirmidhi

ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں ١ ؎ اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔

Sayyiidina Ibn Umar (RA) said, “I prayed with the Prophet ﷺ two raka’at before and two after the zuhr.”

صحيح، صحيح أبي داود (1138)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 425
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی ؓ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلے والی روایت میں ظہر سے پہلے چار رکعتوں کا ذکر ہے اور اس میں دو ہی رکعت کا ذکر ہے دونوں صحیح ہیں، حالات و ظروف کے لحاظ سے ان دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ دونوں پر عمل زیادہ افضل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ویأتي برقم: ٤٣٢ (تحفة الأشراف: ٧٥٩١) (صحیح)
426Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا لَمْ يُصَلِّ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ صَلَّاهُنَّ بَعْدَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ نَحْوَ هَذَا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ، عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب ظہر سے پہلے چار رکعتیں نہ پڑھ پاتے تو انہیں آپ اس کے بعد پڑھتے ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) reported that if Allah’s Messenger ﷺ did not offer four raka’at before zuhr, he offered them after it.

حسن، ابن ماجة (1158)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 426
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے ابن مبارک کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اسے قیس بن ربیع نے شعبہ سے اور شعبہ نے خالد الحذاء سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ہم قیس بن ربیع کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے شعبہ سے روایت کی ہو، ٣- بطریق: «عبدالرحمٰن بن أبي ليلى عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» بھی اسی طرح (مرسلاً ) مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے نبی اکرم ﷺ کا ان سنتوں کے اہتمام کا پتہ چلتا ہے، اس لیے ہمیں بھی ان سنتوں کے ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے، اگر ہم پہلے ادا نہ کرسکیں تو فرض نماز کے بعد انہیں ادا کرلیا کریں، لیکن یہ قضاء فرض نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٦ (١١٥٨)، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٠٨) (صحیح)
427Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اللہ اسے جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا ١ ؎۔

Sayyidina Umm Habibah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As for him who prays four (raka’at) before zuhr and four after it, Allah forbids fire to touch him.”

صحيح، ابن ماجة (1160)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 427
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس قسم کی احادیث کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کی موت اسلام پر آئے گی اور وہ کافروں کی طرح جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، یعنی اللہ تعالیٰ اس پر جہنم میں ہمیشہ رہنے کو حرام فرما دے گا، اسی طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہمیشگی کی آگ نہیں چھوئے گی، مسلمان اگر گناہ گار اور سزا کا مستحق ہو تو بقدر جرم جہنم میں اس کا جانا ان احادیث کے منافی نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٩٦ (١٢٦٩)، سنن النسائی/قیام اللیل (١٨١٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٠٨ (١١٦٠)، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٥٨)، مسند احمد (٦/٣٢٦) (صحیح)
428Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ الشَّأْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ هُوَ: ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَال: سَمِعْتُ أُخْتِي أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْقَاسِمُ هُوَ: ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ شَأْمِيٌّ، وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ.

عنبسہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور اس کے بعد کی چار رکعتوں پر محافظت کی تو اللہ اس کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔

Sayyidina Anbasah ibn Abu Sufyan (RA) reported having heard from his sister Sayyidah Umm Habibah .iii the wife of the Prophet ﷺ that she heard Allah’s Messenger ﷺ say, “He who is regular at four raka’at before zuhr and four after it, Allah forbids the Fire to touch him.”

صحيح، ابن ماجة (1160)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 428
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- قاسم دراصل عبدالرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ ان کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے، وہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے مولیٰ اور ثقہ ہیں، شام کے رہنے والے اور ابوامامہ کے شاگرد ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٥٨٦١) (صحیح)
429Sunan At-Tirmidhi

عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھنا

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ هُوَ: الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَاخْتَارَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْ لَا يُفْصَلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وقَالَ إِسْحَاق: وَمَعْنَى قَوْلِهِ أَنَّهُ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ يَعْنِي التَّشَهُّدَ، وَرَأَى الشافعي، وَأَحْمَدُ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَخْتَارَانِ الْفَصْلَ فِي الْأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان: مقرب فرشتوں اور ان مسلمانوں اور مومنوں پر کہ جنہوں نے ان کی تابعداری کی ان پر سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ali reported that the Prophet ﷺ used to pray four rakaat before asr, separating them with greetings to the angels who are near to Allah and to those who followed them of the Muslims and the belieners. (that is, he prayed in two’s).

حسن، ابن ماجة (1161)، وهو من تمام الحديث المتقدم (425)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 429
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن ہے۔ ٢- اس باب میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) نے عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں فصل نہ کرنے کو ترجیح دی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اسحاق کہتے ہیں: ان کے (علی کے) قول سلام کے ذریعے ان کے درمیان فصل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے، اور شافعی اور احمد کی رائے ہے کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے اور وہ دونوں عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرنے کو پسند کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سلام کے ذریعہ فصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ چاروں رکعتیں دو دو رکعت کر کے ادا کرتے تھے، اہل ایمان کو ملائکہ مقربین کا تابعدار اس لیے کہا گیا ہے کہ اہل ایمان بھی فرشتوں کی طرح اللہ کی توحید اور اس کی عظمت پر ایمان رکھتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وانظر ما تقدم برقم ٤٢٤، وما یأتی برقم ٥٩٨ (تحفة الأشراف: ١٠١٤٢) (حسن) (سند میں ابواسحاق سبیعی مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے)