عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رات کی نفلی نماز دو دو رکعت ہے، جب تمہیں نماز فجر کا وقت ہوجانے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا لو، اور اپنی آخری نماز وتر رکھو ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “The salah in the night is in two’s. When you apprehend approach of dawn then pray an odd raka’at and make the last of your salah a witr.”
صحيح، ابن ماجة (1319 و 1320)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 437
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمرو بن عبسہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رات کی نماز کا دو رکعت ہونا اس کے منافی نہیں کہ دن کی نفل نماز بھی دو دو رکعت ہو، جبکہ ایک حدیث میں رات اور دن کی نماز دو دو رکعت بھی آیا ہے، دراصل سوال کے جواب میں کہ رات کی نماز کتنی کتنی پڑھی جائے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے نیز یہ بھی مروی ہے کہ آپ خود رات میں کبھی پانچ رکعتیں ایک سلام سے پڑھتے تھے، اصل بات یہ ہے کہ نفل نماز عام طور سے دو دو رکعت پڑھنی افضل ہے خاص طور پر رات کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٨٤ (٤٧٢، ٤٧٣)، والوتر ١ (٩٩٠، ٩٩١، ٩٩٣)، والتہجد ١٠ (١١٣٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٤ (١٣٢٦)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٦ (١٦٦٨-١٦٧٥)، و ٣٥ (١٦٩٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧١ (١٣٢٠)، ( تحفة الأشراف: ٨٢٨٨)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٣)، مسند احمد (٢/٥، ٩، ١٠، ٤٩، ٥٤، ٦٦) (صحیح)