عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تو جلدی جلدی زبان چلانے (دہرانے) لگتے تاکہ اسے یاد و محفوظ کرلیں، اس پر اللہ نے آیت «لا تحرک به لسانک لتعجل به» اے نبی ! ) آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں (القیامۃ : ١٦) ، نازل ہوئی۔ (راوی) اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، (ان کے شاگرد) سفیان نے بھی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھائے۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ moved his tongue when the Qu’ran was revealed to him intending thereby to preserve it. So, Allah, the Blessed and the Exalted, revealed: "Move not thy tongue concerning the (Quran) to make haste therewith." (75: 16) The narrator moved his lips to show that. And Sufyan also moved his lips (to show how Allah’s Messenger ﷺ moved them). [Bukhari 5, Muslim 448, Nisai 931, Ahmed 3191]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3329
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ سفیان ثوری موسیٰ بن ابی عائشہ کو اچھا سمجھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الوحی ٤ (٥) ، وتفسیر سورة القیامة ١ (٤٩٢٧) ، و ٢ (٤٩٢٨) ، و ٣ (٤٩٢٩) ، وفضائل القرآن ٢٨ (٥٠٤٤) ، والتوحید ٤٣ (٧٥٢٤) ، صحیح مسلم/الصلاة ٣٢ (٤٤٨) ، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٣٦) (تحفة الأشراف : ٥٦٣٧) ، و مسند احمد (١/٣٤٣) (صحیح)
ثویر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنتیوں میں کمتر درجے کا جنتی وہ ہوگا جو جنت میں اپنے باغوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنے خدمت گزاروں کو، اور اپنے (سجے سجائے) تختوں (مسہریوں) کو ایک ہزار سال کی مسافت کی دوری سے دیکھے گا، اور ان میں اللہ عزوجل کے یہاں بڑے عزت و کرامت والا شخص وہ ہوگا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا، پھر آپ نے آیت «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامۃ : ٢٣) ، پڑھی۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The lowest in station of the people of Paradise will be one who looks at his gardens, his wives, his servants and his couches stretching (to the distance) of a thousand years Journey. And the most honourable one given this honour by Allah, the Glorious, the Majestic will be one who looks at His countenance (every) morning and evening. Then Allah’s Messenger ﷺ recited: "Some faces, that Day, will beam (in brightness and beauty). Looking towards their Lord;" (75 : 23) [Ahmed 5317]
ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) //
ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3330
اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے ثویر سے، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے، اور ان کے قول سے روایت کی ہے اور اسے انہوں نے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے، اور میں ثوری کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند میں مجاہد کا نام لیا ہو، ٤- اسے ہم سے بیان کیا ابوکریب نے، وہ کہتے ہیں : ہم سے بیان کیا عبیداللہ اشجعی نے اور عبیداللہ اشجعی نے روایت کی سفیان سے، ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3330
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے اور کئی راویوں نے یہ حدیث اسی طرح اسرائیل سے مرفوعاً (ہی) روایت کی ہے، ٢- عبدالملک بن ابجر نے ثویر سے، ثویر نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے، اور اسے ابن عمر (رض) کے قول سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ «عبس وتولی» والی سورة (عبداللہ) ابن ام مکتوم نابینا کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آ کر کہنے لگے : اللہ کے رسول ! مجھے وعظ و نصیحت فرمائیے، اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس مشرکین کے اکابرین میں سے کوئی بڑا شخص موجود تھا، تو رسول اللہ ﷺ ان سے اعراض کرنے لگے اور دوسرے (مشرک) کی طرف توجہ فرماتے رہے اور اس سے کہتے رہے میں جو تمہیں کہہ رہا ہوں اس میں تم کچھ حرج اور نقصان پا رہے ہو ؟ وہ کہتا نہیں، اسی سلسلے میں یہ آیتیں نازل کی گئیں۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated : The surah Abasa was revealed concerning Ibn Umm Maktum, the blind sahabi. He came to Allah’s Messenger ﷺ of and kept saying, “O Messenger Allah, guide me. While he had a man from among the elite polytheists." Allah’s Messenger turned away from him (or, neglected him) and paid attention to the other (the polytheist), saying, “Is there anything wrong in what I say?” And, he said, “No.” So it was about this that the surah was revealed.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3331
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- بعض نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں «عبس وتولی» ابن ام مکتوم کے حق میں اتری ہے اور اس کی سند میں عائشہ (رض) کا ذکر نہیں کیا۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ (قیامت کے دن) جمع کیے جاؤ گے ننگے پیر، ننگے جسم، بیختنہ کے، ایک عورت (ام المؤمنین عائشہ (رض)) نے کہا : کیا ہم میں سے بعض بعض کی شرمگاہ دیکھے گا ؟ آپ نے فرمایا : «لكل امرئ منهم يومئذ شأن يغنيه» اے فلانی ! اس دن ہر ایک کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسرے کی فکر سے غافل و بےنیاز کر دے گی (سورۃ عبس : ٤٢) ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “You will be resurrected naked and uncircumcised.” A woman asked, “Will we be observed, or some of us see the private parts of others?” He said, ‘O so-and-so: "Each one of them, that Day, will have enough concern (of his own) to make him indifferent to the others." (80: 37)
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3332
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ مختلف سندوں سے ابن عباس (رض) سے مروی ہے اور اسے سعید بن جبیر نے بھی روایت کیا ہے، ٢- اس باب میں عائشہ (رض) سے بھی روایت ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جسے اچھا لگے کہ وہ قیامت کا دن دیکھے اور اس طرح دیکھے، اس نے آنکھوں سے دیکھا ہے تو اسے چاہیئے کہ «إذا الشمس کورت» اور «إذا السماء انفطرت» ، «وإذا السماء انشقت» ١ ؎ پڑھے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone likes to see the Day of Resurrection as though his eyes look at it then let him recite "iza ash-shamsu kuwwirat"(surah 81) and "iza as-samaa-un fatarat" (surah 82) and "iza as-samaa-un shaqqat.(surah 84)" [Ahmed 8406]
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ہشام بن یوسف وغیرہ نے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی ہے (اس میں ہے) آپ نے فرمایا : جسے خوشی ہو کہ وہ قیامت کا دن دیکھے، آنکھ سے دیکھنے کی طرح اسے چاہیئے کہ سورة «إذا الشمس کورت» پڑھے، ان لوگوں نے اپنی روایتوں میں «إذا السماء انفطرت» اور «وإذا السماء انشقت» کا ذکر نہیں کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ یہ تینوں سورتیں قیامت کا واضح نقشہ پیش کرتی ہیں۔
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے، پھر جب وہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے اور استغفار اور توبہ کرتا ہے تو اس کے دل کی صفائی ہوجاتی ہے (سیاہ دھبہ مٹ جاتا ہے) اور اگر وہ گناہ دوبارہ کرتا ہے تو سیاہ نکتہ مزید پھیل جاتا ہے یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتا ہے، اور یہی وہ «ران» ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت «كلا بل ران علی قلوبهم ما کانوا يکسبون» یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے (المطففین : ١٤) ، میں کیا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said; "When someone commits a sin, a black dot is marked on his heart. When he abandons it and seeks forgiveness and repents, his heart is cleaned (and spotless), but if he persists and returns (to the sin), then the dots are added till blackness covers his heart as Allah has said: "By no means! but on their hearts is the stain of the (ill) which they do! (83; 14) [Ahmed 7957, Muslim 4244, Nisai 418]
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے، وہ آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے (المطففین : ٦) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ لوگ آدھے کانوں تک پسینے میں شرابور ہوں گے۔ حماد کہتے ہیں : یہ حدیث ہمارے نزدیک مرفوع ہے۔
Sayyidina lbn Umar (RA) explained Allahs words: "A Day when (all) mankind will stand before the Lord of the Worlds?" (83; 6) He said, "They will stand immersed in their sweat up to half of their ears. [Ahmed 6093, Bukhari 4938, Muslim 2862, Ibn e Majah 4278]
صحيح وهو مکرر الحديث (2550)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3335
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت «يوم يقوم الناس لرب العالمين» کی تفسیر میں فرمایا کہ اس دن ہر ایک آدھے کانوں تک پسینے میں کھڑا ہوگا۔
Hannad reported from Eesa ibn Yunus, from lbn Awn, from Nafi, from lbn Umar , from the Prophet ﷺ (the expalnation of) : "A Day when (all) mankind will stand before the Lord of the Worlds?" (83; 6) He said, "Each one of them shall stand in perpiration immersed up to half of his ears." [Ahmed 4613, Muslim 2862)
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3336
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس سے حساب کی جانچ پڑتال کرلی گئی وہ ہلاک (برباد) ہوگیا ، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تو فرماتا ہے «فأما من أوتي کتابه بيمينه» سے «يسيرا» جس کو کتاب دائیں ہاتھ میں ملی اس کا حساب آسانی سے ہوگا (الانشقاق : ٧- ٨) ، تک آپ نے فرمایا : وہ حساب و کتاب نہیں ہے، وہ تو صرف نیکیوں کو پیش کردینا ہے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, "He whose account is taken (on the Day of Resurrection) will be ruined." She asked, "O Messenger of Allah, does not Allah say: "Then he who is given his Record in his right hand. Soon will his account be taken by an easy reckoning." (84: 7-8) He said, "That is merely presentation of his pious deeds (or account). [Ahmed 24255, Bukhari 103, Muslim 2876, Abu Dawud 3093]
صحيح وقد مضی برقم (2556)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3337
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ہم سے بیان کیا سوید بن نصر نے وہ کہتے ہیں : ہمیں خبر دی عبداللہ بن مبارک نے، اور وہ روایت کرتے ہیں عثمان بن اسود سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح، ٣- ہم سے بیان کیا محمد بن ابان اور کچھ دیگر لوگوں نے انہوں نے کہا کہ ہم سے بیان کیا عبدالوہاب ثقفی نے اور انہوں نے ایوب سے، ایوب نے ابن ابوملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے عائشہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «اليوم الموعود» سے مراد قیامت کا دن ہے، اور «واليوم المشهود» سے مراد عرفہ کا دن اور («شاہد» ) سے مراد جمعہ کا دن ہے، اور جمعہ کے دن سے افضل کوئی دن نہیں ہے جس پر سوج کا طلوع و غروب ہوا ہو، اس دن میں ایک ایسی گھڑی (ایک ایسا وقت) ہے کہ اس میں جو کوئی بندہ اپنے رب سے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اللہ اس کی دعا قبول کرلیتا ہے، اور اس گھڑی میں جو کوئی مومن بندہ کسی چیز سے پناہ چاہتا ہے تو اللہ اسے اس سے بچا لیتا اور پناہ دے دیتا ہے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, the Promised Day is the Day of Resurrection while the witnessed day is, the day of Arafah, and the witness is( the day of) the day of Friday. The sun has neither risen nor set on a day more excellent than it (Friday). There is a moment on it on which if a Believing slave (of Allah) supplicates Allah for some thing good then Allah answers him with approval and if he seeks refuge from anything then Allah grants him refuge from it."
١- ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا : وہ کہتے ہیں : ہم سے قران بن تمام اسدی نے بیان کیا، اور قران نے موسیٰ بن عبیدہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، ٢- موسیٰ بن عبیدہ ربذی کی کنیت ابوعبدالعزیز ہے، ان کے بارے میں ان کے حافظہ کے سلسلے میں یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے کلام کیا ہے، شعبہ، ثوری اور کئی اور ائمہ نے ان سے روایت کی ہے، ٣- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٤- ہم اسے صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ موسیٰ بن عبیدہ حدیث بیان کرنے میں ضعیف مانے جاتے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید وغیرہ نے ضعیف ٹھہرایا ہے۔
صہیب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب عصر پڑھتے تھے، تو «همس» (سرگوشی) کرتے، «همس» بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہونٹوں کو اس طرح حرکت دینا (ہلانا) ہے تو ان وہ باتیں کر رہا ہے (آخر کار) آپ سے پوچھ ہی لیا گیا، اللہ کے رسول ! جب آپ عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو آپ دھیرے دھیرے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں (کیا پڑھتے ہیں ؟ ) آپ نے نبیوں میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کیا، وہ نبی اپنی امت کی کثرت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، اور کہا : ان کے مقابلے میں کون کھڑا ہوسکتا ہے ؟ اللہ نے اس نبی کو وحی کیا کہ تم اپنی قوم کے لیے دو باتوں میں سے کوئی ایک بات پسند کرلو، یا تو میں ان سے انتقام لوں یا میں ان پر ان کے دشمن کو مسلط کر دوں، تو انہوں نے «نقمہ» (سزا و بدلہ) کو پسند کیا، نتیجۃً اللہ نے ان پر موت مسلط کردی، چناچہ ایک دن میں ستر ہزار لوگ مرگئے ١ ؎۔ صہیب (راوی) کہتے ہیں کہ جب آپ نے یہ حدیث بیان کی تو اس کے ساتھ آپ نے ایک اور حدیث بھی بیان فرمائی، آپ نے فرمایا : ایک بادشاہ تھا اس بادشاہ کا ایک کاہن تھا، وہ اپنے بادشاہ کو خبریں بتاتا تھا، اس کاہن نے بادشاہ سے کہا : میرے لیے ایک ہوشیار لڑکا ڈھونڈھ دو ، راوی کو یہاں شبہہ ہوگیا کہ «غلاما فهما» کہا یا «فطنا لقنا» کہا (معنی تقریباً دونوں الفاظ کا ایک ہی ہے) میں اسے اپنا یہ علم سکھا دوں، کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں مرگیا تو تمہارے پاس سے یہ علم ختم ہوجائے گا اور تم میں کوئی نہ رہ جائے گا جو اس علم سے واقف ہو، آپ فرماتے ہیں : اس نے جن صفات و خصوصیات کا حامل لڑکا بتایا تھا لوگوں نے اس کے لیے ویسا ہی لڑکا ڈھونڈ دیا، لوگوں نے اس لڑکے سے کہا کہ وہ اس کاہن کے پاس حاضر ہوا کر اور اس کے پاس باربار آتا جاتا ہے وہ لڑکا اس کاہن کے پاس آنے جانے لگا، اس لڑکے کے راستے میں ایک عبادت خانہ کے اندر ایک راہب رہا کرتا تھا (اس حدیث کے ایک راوی) معمر کہتے ہیں : میں سمجھتا ہوں عبادت خانہ کے لوگ اس وقت کے مسلمان تھے، وہ لڑکا جب بھی اس راہب کے پاس سے گزرتا دین کی کچھ نہ کچھ باتیں اس سے پوچھا کرتا، یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ اس لڑکے نے راہب کو اپنے متعلق خبر دی، کہا : میں اللہ کی عبادت کرنے لگا ہوں وہ لڑکا راہب کے پاس زیادہ سے زیادہ دیر تک بیٹھنے اور رکنے لگا اور کاہن کے پاس آنا جانا کم کردیا، کاہن نے لڑکے والوں کے یہاں کہلا بھیجا کہ لگتا ہے لڑکا اب میرے پاس نہ آیا جایا کرے گا، لڑکے نے راہب کو بھی یہ بات بتادی، راہب نے لڑکے سے کہا کہ جب کاہن تم سے پوچھے کہاں تھے ؟ تو کہہ دیا کرو گھر والوں کے پاس تھا، اور جب تیرے گھر والے کہیں کہ تو کہاں تھا ؟ تو ان کو بتایا کہ تم کاہن کے پاس تھے، راوی کہتے ہیں : غلام کے دن ایسے ہی کٹ رہے تھے کہ ایک دن لڑکے کا گزر لوگوں کی ایک ایسی بڑی جماعت پر ہوا جنہیں ایک جانور نے روک رکھا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ وہ چوپایہ شیر تھا، لڑکے نے یہ کیا کہ ایک پتھر اٹھایا اور کہا : اے اللہ ! راہب جو کہتا ہے اگر وہ سچ ہے تو میں تجھ سے اسے قتل کردینے کی توفیق چاہتا ہوں، یہ کہہ کر اس نے اسے پتھر مارا اور جانور کو ہلاک کردیا، لوگوں نے پوچھا : اسے کس نے مارا ؟ جنہوں نے دیکھا تھا، انہوں نے کہا : فلاں لڑکے نے، یہ سن کر لوگ اچنبھے میں پڑگئے، لوگوں نے کہا : اس لڑکے نے ایسا علم سیکھا ہے جسے کوئی دوسرا نہیں جانتا، یہ بات ایک اندھے نے سنی تو اس نے لڑکے سے کہا : اگر تو میری بینائی واپس لا دے تو میں تجھے یہ دوں گا، لڑکے نے کہا : میں تجھ سے یہ سب چیزیں نہیں مانگتا تو یہ بتا اگر تیری بینائی تجھے واپس مل گئی تو کیا تو اپنی بینائی عطا کرنے والے پر ایمان لے آئے گا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ (بالکل ایمان لے آؤں گا) ۔ راوی کہتے ہیں : لڑکے نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی، یہ دیکھ کر اندھا ایمان لے آیا، ان کا معاملہ بادشاہ تک پہنچ گیا، اس نے انہیں بلا بھیجا تو انہیں لا کر حاضر کیا گیا، اس نے ان سے کہا : میں تم سب کو الگ الگ طریقوں سے قتل کر ڈالوں گا، پھر اس نے راہب کو اور اس شخص کو جو پہلے اندھا تھا قتل کر ڈالنے کا حکم دیا، ان میں سے ایک کے سر کے بیچوں بیچ (مانگ) پر آرا رکھ کر چیر دیا گیا اور دوسرے کو دوسرے طریقے سے قتل کردیا گیا، پھر لڑکے کے بارے میں حکم دیا کہ اسے ایسے پہاڑ پر لے جاؤ جو ایسا ایسا ہو اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر سے نیچے پھینک دو چناچہ لوگ اسے اس خاص پہاڑ پر لے گئے اور جب اس آخری جگہ پر پہنچ گئے جہاں سے وہ لوگ اسے پھینک دینا چاہتے تھے، تو وہ خود ہی اس پہاڑ سے لڑھک لڑھک کر گرنے لگے، یہاں تک کہ صرف لڑکا باقی بچا، پھر جب وہ واپس آیا تو بادشاہ نے اس کے متعلق پھر حکم دیا کہ اسے سمندر میں لے جاؤ، اور اسے اس میں ڈبو کر آ جاؤ، اسے سمندر پر لے جایا گیا تو اللہ نے ان سب کو جو اس لڑکے کے ساتھ گئے ہوئے تھے ڈبو دیا، اور خود لڑکے کو بچا لیا، (لڑکا بچ کر پھر بادشاہ کے پاس آیا) اور اس سے کہا : تم مجھے اس طرح سے مار نہ سکو گے إلا یہ کہ تم مجھے سولی پر لٹکا دو اور مجھے تیر مارو، اور تیر مارتے وقت کہو اس اللہ کے نام سے میں تیر چلا رہا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے، بادشاہ نے اس لڑکے کے ساتھ ایسا ہی کرنے کا حکم دیا، لڑکا سولی پر لٹکا دیا گیا پھر بادشاہ نے اس پر تیر مارا، اور تیر مارتے ہوئے کہا : «بسم اللہ رب هذا الغلام» بادشاہ نے تیر چلایا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ اپنی کنپٹی پر رکھ لیا پھر مرگیا (شہید) ہوگیا، لوگ بول اٹھے اس لڑکے کو ایسا علم حاصل تھا جو کسی اور کو معلوم نہیں، ہم تو اس لڑکے کے رب پر ایمان لاتے ہیں ، آپ نے فرمایا : بادشاہ سے کہا گیا کہ آپ تو تین ہی آدمیوں سے گھبرا گئے جنہوں نے آپ کی مخالفت کی، اب تو یہ سارے کے سارے لوگ ہی آپ کے خلاف ہوگئے ہیں (اب کیا کریں گے ؟ ) آپ نے فرمایا : اس نے کئی ایک کھائیاں (گڈھے) کھودوائے اور اس میں لکڑیاں ڈلوا دیں اور آگ بھڑکا دی، لوگوں کو اکٹھا کر کے کہا : جو اپنے (نئے) دین سے پھر جائے گا اسے ہم چھوڑ دیں گے اور جو اپنے دین سے نہ پلٹے گا ہم اسے اس آگ میں جھونک دیں گے، پھر وہ انہیں ان گڈھوں میں ڈالنے لگا ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کے متعلق فرماتا ہے (پھر آپ نے آیت «قتل أصحاب الأخدود النار ذات الوقود» سے لے کر « العزيز الحميد» تک پڑھی ٢ ؎۔ راوی کہتے ہیں : لڑکا (سولی پر لٹکا کر قتل کر دئیے جانے کے بعد) دفن کردیا گیا تھا، کہا جاتا ہے کہ وہ لڑکا عمر بن خطاب (رض) کے زمانہ میں زمین سے نکالا گیا، اس کی انگلیاں اس کی کنپٹی پر اسی طرح رکھی ہوئی تھیں جس طرح اس نے اپنے قتل ہوتے وقت رکھا تھا۔
Sayyidina Suhayb reported that after he had offered the salah of asr, Allah’s Messenger used to susurrus which according to some is to move the lips as though something will be said). Someone said, O Messenger of Allah, when you offer asr, you susurrus.’ He said, “A Prophet ﷺ among the Prophets was pleased with the large number of his followers (ummah) and he thought, Who can match them? So, Allah revealed to him that heshould give them choice to choose between self-destruction and subjugution under an enemy. They chose self-destruction. So Allah put death over them and just in a day seventy thousand of them died.” When Allah’s Messenger narrated this Hadith, he also narrated : There was king among the kings.This king had a soothsayer who said to him that he should get him an intelligent boy to whom he might teach his knowledge. He said, “Let it not be that when I die, this knowledge should be lost to you. And there be no one to teach it you.” So, they seasched out a boy as described by the soothsayer. They ordered him to go to that soothsayer every day) and maintain contact with him. So, he went to him regularly. Now, on the path of the boy was a monk in his cathedral. Mamar said that he thought that the worshippers in the cathederal useti to be Muslims in those days. This boy used to make enquiries from the monk whenever he passed by him. He was not dettered till the monk disclosed to him that he worshipped Allah. The boy began to tarry with the monk a little longer, and gave lesser time to the soothsayer. The soothersayer sent message to the boy’s family that he thought that the boy might not come to him anymore. The boy informed the monk about it. He said to him, “When the soothsayer asks you where you were, say that you were with your family and whem your people ask you where you were, tell them that you were with the soothsayer.” While the boy was at it, one day he passed by a group of people whom an animal prevented from advancing forward. Some said that it was a lion. The boy picked up a stone and said. “O Allah! If what the monk says is true then I ask You to kill it,” and he threw the stone. He killed the animal. The people asked, “Who killed it?” Others said, “The boy!” The people were surprised and commented that the boy had acquired knowledeg that no one else had learnt. A blind man heard of it. He said, “If you return to me my sight then for you is this and that. The boy said, “I do not wish for that from you, but wish of you that if your sight is restored to you then you believe in Him Who restores it to you.” He said, “Yes” So he prayed to Allah and He restored to him his eye-sight. The blind man then believed. Their affair was conveyed to the king and he sent for them and they were presented to him. He said, “I will slay each one of you in different ways.” He had the monk and the man who had been blind killed-one of them sawed through and the other in some other way. Then he ordered that the boy should be taken to the top of a particular mountain and thrown down from the top. When they took him there and were at the place from where he was to be thrown down, (the montain shook and) they began to fall down and all of them, except the boy, died. The boy returned to the king who commanded that he should be thrown into the sea. They took him there, but Allah drowned all of them and saved the boy. The boy came to the king and said, “You cannot slay me till you bind me and shoot an arrow and while shooting it, you say: (In the name of Allah, the Lord of this boy). So, the king ordered that he should be tied up (somewhere). Then they shot the arrow, saying the while tj (In the name of Allah, Lord of this boy). The boy placed his hand on his temple while the arrow was shot. He died. The people said, “This boy learnt knowledge that no one else learnt. So, we believe in the Lord of this boy.” Then it was said to the king, “You were worried at the opposition of three men. Now, this whole world opposes you!” The king had trenches dug up. Firewood was thrown into it and it was put on fire. Then, people were brought together and he said, “He who reverts to his (original) religion, we will leave him alone, but he who does not revert to his religion, we shall hurl him in this fire.” So, they began hurling them in the fire, The Prophet ﷺ said that Allah, the Blessed and Exalted said about it. Persh the compainions of the pit! of the fuel-fed fire, when they sat around it, and they were witnesses to what they did with the believers, and they avenged them not except for this that they believed in Allah, the Mighty, the Praised. (85:4-8) As for the boy, he was buried. It is said that his corpse was dug out in the times of Umar ibn Khattab and his finger was placed on his temple just as he had placed it on the day he was slain. [Muslim 3005, Ahmed 18955]
(حديث : إن نبيا من الأنبياء .... ) صحيح، (حديث : کان ملک من الملوک وکان لذلک الملک کا هن ) صحيح (حديث : إن نبيا من الأنبياء .. ) تخريج الکلم الطيب (125 / 83)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3340
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد آپ نے فرمایا ( جیسا کہ مسند احمد کی مطول روایت میں ہے ) : میں اپنی اس «ہمس» (خاموش سرگوشی ) میں تمہاری اس بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کو خوش تو ہوتا ہوں لیکن اللہ کے اس طرح کے «نقمہ» (عذاب و سزا سے ) پناہ مانگتا ہوں اور میں اللہ سے یہ دعا کرتا ہوں «اللهم بك أقاتل وبک أحاول ولا حول ولا قوة إلا بالله»۔ ٢ ؎ : خندقوں والے ہلاک کئے گئے وہ ایک آگ تھی ایندھن والی ، جب کہ وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے ، یہ لوگ ان مسلمانوں سے ( کسی اور گناہ کا ) بدلہ نہیں لے رہے تھے سوائے اس کے کہ وہ اللہ غالب لائق حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے ( البروج : ٤-٨) یہ واقعہ رسول اللہ کی ولادت سے پچاس سال پہلے ملک یمن میں پیش آیا تھا ، اس ظالم بادشاہ کا نام ذونواس یوسف تھا ، یہ یہودی المذہب تھا ، ( تفصیل کے لیے دیکھئیے الرحیم المختوم / صفی الرحمن مبارکپوری ) ۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں (جنگ جاری رکھو) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کرلیں گے، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا، اور ان کا (حقیقی) حساب تو اللہ ہی لے گا، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذکر لست عليهم بمصيطر» آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں (الغاشیہ : ٢٢) ، پڑھی ١ ؎۔
Sayyidina Jabir b reported that Allaha Messegner said, “I am commanded to fight people till they say La illa ha illa allah(there is no God but Allah). And when they say that, they have saved from me their lives and their properties, except for the rights over them, and their account is with Allah.” Then he recited:So, admonish (them). You are but an admonisher. You are not a warder over them. (88 : 21-22) [Muslim 21, Abu Dawud 2640, Nisai 3983, Ibn e Majah 9227]
صحيح متواتر، ابن ماجة (71)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3341
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : بظاہر اس باب کی حدیث اور اس آیت میں تضاد نظر آ رہا ہے ، امام نووی فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے وقت قتال کا حکم نہیں تھا ، بعد میں ہوا۔
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» (جفت) اور «الوتر» (طاق) سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» (جفت) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» (طاق) ہیں ۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that someone asked the Prophet ﷺ about: By the even and the odd. (89:3) He said, “It is the salah some of which are even and some odd.’ [Ahmed 19993]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3342
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٨٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں ایک مبہم راوی ہے)
عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک دن اس اونٹنی کا (مراد صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی) اور جس شخص نے اس اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے یہ آیت «إذ انبعث أشقاها» تلاوت کی، اس کام کے لیے ایک «شرِّ» سخت دل طاقتور، قبیلے کا قوی و مضبوط شخص اٹھا، مضبوط و قوی ایسا جیسے زمعہ کے باپ ہیں، پھر میں نے آپ کو عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا : آخر کیوں کوئی اپنی بیوی کو غلام کو کوڑے مارنے کی طرح کوڑے مارتا ہے اور جب کہ اسے توقع ہوتی ہے کہ وہ اس دن کے آخری حصہ میں (یعنی رات میں) اس کے پہلو میں سوئے بھی ، انہوں نے کہا : پھر آپ نے کسی کے ہوا خارج ہوجانے پر ان کے ہنسنے پر انہیں نصیحت کی، آپ نے فرمایا : آخر تم میں کا کوئی کیوں ہنستا (و مذاق اڑاتا) ہے جب کہ وہ خود بھی وہی کام کرتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Zam’ah reported that one day he heard the Prophet ﷺ mention the she-camel (of Sayyidina Salih) and the one who hamstrung it. He recited: hen the basest of them uprose. (91 : 12)He said, “When the most wicked man of them, evil and toughest of them, like Abu Zam’ah got up to kill it.” Then he heard the Prophet ﷺ mention women, saying, “Why does one of you lash his wife like a slave Then, at the end of the day he might sleep with her?” Then, he admonished them saying, “Do not laugh when somebody breaks wind. At what does one of you laugh at that which he himself does [Ahmed 16222, Bukhari 3377, Muslim 2855, Ibn e Majah 1983]
صحيح، ابن ماجة (1983)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3343
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کی کوچیں کاٹنے والے بدبخت کے ذکر کے ساتھ اسلام کی دو اہم ترین اخلاقی تعلیمات کا ذکر ہے ، ١- اپنی شریک زندگی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ٢- مجلس میں کسی کی ریاح زور سے خارج ہوجانے پر نہ ہنسنے کا مشورہ ، کس حکیمانہ پیرائے میں آپ ﷺ نے دونوں باتوں کی تلقین کی ہے ! قابل غور ہے ، «فداہ أبی وأمی»۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ ہم (قبرستان) بقیع میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے، نبی اکرم ﷺ بھی تشریف لے آئے، آپ بیٹھ گئے، ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کریدنے لگے، پھر آپ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا : ہر متنفس کا ٹھکانہ (جنت یا جہنم) پہلے سے لکھ دیا گیا ہے ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیوں نہ ہم اپنے نوشتہ (تقدیر) پر اعتماد و بھروسہ کر کے بیٹھ رہیں ؟ جو اہل سعادہ نیک بختوں میں سے ہوگا وہ نیک بختی ہی کے کام کرے گا، اور جو بدبختوں میں سے ہوگا وہ بدبختی ہی کے کام کرے گا، آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ عمل کرو، کیونکہ ہر ایک کو توفیق ملے گی، جو نیک بختوں میں سے ہوگا، اس کے لیے نیک بختی کے کام آسان ہوں گے اور جو بدبختوں میں سے ہوگا اس کے لیے بدبختی کے کام آسان ہوں گے ، پھر آپ نے (سورۃ واللیل کی) آیت «فأما من أعطی واتقی وصدق بالحسنی فسنيسره لليسری وأما من بخل واستغنی وکذب بالحسنی فسنيسره للعسری» جس نے اللہ کی راہ میں دیا اور ڈرا (اپنے رب سے) اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی اور بےپرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی تو ہم بھی اس کی تنگی اور مشکل کے سامان میسر کردیں گے (اللیل : ٥- ١٠) ۔
Sayyidina Ali narrated: We had accompanied a funeral to the Baqi. The Prophet ﷺ came and sat down. We sat down with him. He had a stick with which he scratched the ground. He raised his head towards the sky and said, There is not a soul but his place is recorded for him.” The people asked, “O Messenger of Allah, shall we rely on that which is recorded for us? The fortunate will do deeds of the pious and the ill-fated shall do deeds of the wicked.’ He said, “Rather perform deeds. For everyone it is made easy. As for one of the fortunate, for him righteous deed are made easy. And, as for one who is ill-fated, wicked deeds are made easy for him.” Then he recited: As for him who gives in charity and is God- fearing, and truthfully believes in goodness, We shall smooth for him the way to perfect ease. But, as for him who is niggardly and thinks himself self-sufficient, and who belies goodness, We shall smooth for him the way to distress. (92:5-10) [Ahmed 621, Bukhari 1392, Muslim 2647, Ibn e Majah 78]
صحيح ومضی باختصار برقم (2234)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3344
جندب بجلی (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھا، آپ کی انگلی سے (کسی سبب سے) خون نکل آیا، اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو صرف ایک انگلی ہے جس سے خون نکل آیا ہے اور یہ سب کچھ جو تجھے پیش آیا ہے اللہ کی راہ میں پیش آیا ہے ، راوی کہتے ہیں : آپ کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) کے آنے میں دیر ہوئی تو مشرکین نے کہا : (پروپگینڈہ کیا) کہ محمد ( ﷺ ) چھوڑ دئیے گئے، تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ والضحیٰ کی) آیت «ما ودعک ربک وما قلی» نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ بیزار ہوا ہے (الضحیٰ : ٣) ، نازل فرمائی۔ ١ ؎
Sayyidina Jundub Bajali narrated: I was with the Prophet ﷺ in a cave when one of his fingers bled. So, the Prophet ﷺ remarked:Are you but a finger that bleeds in the path of Allah against what you met (The narrator reported that) Jibril did not come to him for some time. So the polytheists exclaimed, “Muhammad is forsaken.” But, Allah, the Blessed, the Exalted revealed: Your Lord has not forsaken you, nor is He displeased. (93:3)
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3345
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے شعبہ اور ثوری نے بھی اسود بن قیس سے روایت کیا ہے۔
انس بن مالک (رض) اپنی قوم کے ایک شخص مالک بن صعصہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بیت اللہ کے پاس نیم خوابی کے عالم میں تھا (کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھا) اچانک میں نے ایک بولنے والے کی آواز سنی، وہ کہہ رہا تھا تین آدمیوں میں سے ایک (محمد ہیں) ١ ؎، پھر میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، اس میں زمزم کا پانی تھا، اس نے میرے سینے کو چاک کیا یہاں سے یہاں تک ، قتادہ کہتے ہیں : میں نے انس (رض) سے کہا : کہاں تک ؟ انہوں نے کہا : آپ نے فرمایا : پیٹ کے نیچے تک ، پھر آپ نے فرمایا : اس نے میرا دل نکالا، پھر اس نے میرے دل کو زمزم سے دھویا، پھر دل کو اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا اور ایمان و حکمت سے اسے بھر دیا گیا ٢ ؎ اس حدیث میں ایک لمبا قصہ ہے ٣ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported from Maalik ibn Sa’sa’ah a man of his own tribe, that the Prophet ﷺ said, “I was in the House (of Allah), between sleep and awakening, when I heard a speaker-one of the three-say (something). They had brought a dish of gold containing zamzam water. He opended my heart from here to there .“ Qatadah reported that he asked Anas what he meant and he said, “Till low down the belly.” (The Prophet’s words:) “Then they took out my heart, washed it with the water of zamzam and then replaced it where it belonged and then filled it with faith and wisdom.” There is a lengthy account in the Hadith. [Ahmed 17850, Bukhari 3207, Muslim 164, Nisai 447]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3346
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- اسے ہشام دستوائی اور ہمام نے قتادہ سے روایت کیا ہے، ٣- اس باب میں ابوذر (رض) سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : ان تین میں ایک جعفر ، ایک حمزہ اور ایک نبی ﷺ تھے ٢ ؎ : شق صدر کا واقعہ کئی بار ہوا ہے ، انہی میں سے ایک یہ واقعہ ہے۔ ٣ ؎ : یہ قصہ اسراء اور معراج کا ہے جو بہت معروف ہے۔
اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک بدوی اعرابی کو کہتے ہوئے سنا، میں نے ابوہریرہ (رض) کو اسے روایت کرتے ہوئے سنا ہے، وہ کہتے تھے جو شخص (سورۃ) «والتين والزيتون» پڑھے اور پڑھتے ہوئے «أليس اللہ بأحكم الحاکمين» تک پہنچے تو کہے : «بلی وأنا علی ذلک من الشاهدين»۔
Sayyidina Abu Hurayrah said that if anyone recites the surah At Tin and comes to the verse:Is not Allah the Justest of judges (95:8)then let him say, “Certainly, and I am to that a witness!” [Abu Dawud 387]
ضعيف، ضعيف أبي داود (156) // عندنا (188 / 887) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3347
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی اعرابی سے ابوہریرہ (رض) کے واسطے سے مروی ہے اور اس اعرابی کا نام نہیں لیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٤ (٨٨٧) (تحفة الأشراف : ١٥٥٠٠) (ضعیف) (اس کا ایک راوی مبہم شخص ہے)
عبداللہ بن عباس (رض) آیت «سندع الزبانية» ہم بھی جہنم کے پیادوں کو بلا لیں گے (العلق : ١٨) ، کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں : ابوجہل نے کہا : اگر میں نے محمد ( ﷺ ) کو نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اس کی گردن کو لاتوں سے روندوں گا، یہ بات آپ نے سنی تو فرمایا : اگر وہ ایسا کرتا تو فرشتے اسے دیکھتے ہی دبوچ لیتے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) explained the verse: “We shall call the guards of Hell .”He said : Abu Jahi said, “If I see Muhanmiad offering salah, I will surely trample his neck.” The Prophet ﷺ said, “If he does that, the angels will seize him instantly.” [Ahmed 3483, Bukhari 4985]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3348
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل آگیا، اس نے کہا : میں نے تمہیں اس (نماز) سے منع نہیں کیا تھا ؟ کیا میں نے تجھے اس (نماز) سے منع نہیں کیا تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے نماز سے سلام پھیرا اور اسے ڈانٹا، ابوجہل نے کہا : تجھے خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ کسی کے ہم نشیں نہیں ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «فليدع ناديه سندع الزبانية» اپنے ہم نشینوں کو بلا کر دیکھ لے، ہم جہنم کے فرشتوں کو بلا لیتے ہیں (العلق : ١ ٧- ١٨) ، ابن عباس (رض) کہتے ہیں : قسم اللہ کی ! اگر وہ اپنے ہم نشینوں کو بلا لیتا تو عذاب پر متعین اللہ کے فرشتے اسے دھر دبوچتے۔
Sayyidina lbn Abbas ” reported that while the Prophet ﷺ was offering salah, Abu Jahl came there and said, “Did I not forbid you this? Did I not forbid you this” When the Prophet ﷺ finished his salah, he scolded him. Abu Jahi said, Surely you know that there is none who has more sympathisers than ” Allah, the Blessed, the Exalted revealed:Then let him call on his henchmen; We shall call the guards of Hell. (90: 17-18) [Ahmed 2321]
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3349
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔