سورہ غاشیہ کی تفسیر
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ قَرَأَ: إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ 21 لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ 22 سورة الغاشية آية 21-22 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں (جنگ جاری رکھو) جب تک کہ لوگ «لا إلہ إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں، جب لوگ اس کلمے کو کہنے لگ جائیں تو وہ اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کرلیں گے، سوائے اس صورت کے جب کہ جان و مال دینا حق بن جائے تو پھر دینا ہی پڑے گا، اور ان کا (حقیقی) حساب تو اللہ ہی لے گا، پھر آپ نے آیت «إنما أنت مذکر لست عليهم بمصيطر» آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ کچھ ان پر داروغہ نہیں ہیں (الغاشیہ: ٢٢) ، پڑھی ١ ؎۔
Sayyidina Jabir b reported that Allaha Messegner said, “I am commanded to fight people till they say La illa ha illa allah(there is no God but Allah). And when they say that, they have saved from me their lives and their properties, except for the rights over them, and their account is with Allah.” Then he recited:So, admonish (them). You are but an admonisher. You are not a warder over them. (88 : 21-22) [Muslim 21, Abu Dawud 2640, Nisai 3983, Ibn e Majah 9227]