Sunan At-Tirmidhi 3329

قرآن کی تفسیر کا بیان

3329Sunan At-Tirmidhi

سورہ قیامہ کی تفسیر

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ يُرِيدُ أَنْ يَحْفَظَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: فَكَانَ يُحَرِّكُ بِهِ شَفَتَيْهِ ، وَحَرَّكَ سُفْيَانُ شَفَتَيْهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يُحْسِنُ الثَّنَاءَ عَلَى مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ خَيْرًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تو جلدی جلدی زبان چلانے (دہرانے) لگتے تاکہ اسے یاد و محفوظ کرلیں، اس پر اللہ نے آیت «لا تحرک به لسانک لتعجل به» اے نبی! ) آپ قرآن کو جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں (القیامۃ: ١٦) ، نازل ہوئی۔ (راوی) اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، (ان کے شاگرد) سفیان نے بھی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھائے۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ moved his tongue when the Qu’ran was revealed to him intending thereby to preserve it. So, Allah, the Blessed and the Exalted, revealed: "Move not thy tongue concerning the (Quran) to make haste therewith." (75: 16) The narrator moved his lips to show that. And Sufyan also moved his lips (to show how Allah’s Messenger ﷺ moved them). [Bukhari 5, Muslim 448, Nisai 931, Ahmed 3191]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3329
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید القطان نے کہا کہ سفیان ثوری موسیٰ بن ابی عائشہ کو اچھا سمجھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الوحی ٤ (٥)، وتفسیر سورة القیامة ١ (٤٩٢٧)، و ٢ (٤٩٢٨)، و ٣ (٤٩٢٩)، وفضائل القرآن ٢٨ (٥٠٤٤)، والتوحید ٤٣ (٧٥٢٤)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٢ (٤٤٨)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٧ (٩٣٦) (تحفة الأشراف: ٥٦٣٧)، و مسند احمد (١/٣٤٣) (صحیح)