Sunan At-Tirmidhi 3330

قرآن کی تفسیر کا بیان

3330Sunan At-Tirmidhi

سورہ قیامہ کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ، وَأَكْرَمُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ 22 إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ 23 سورة القيامة آية 22-23 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ مِثْلَ هَذَا مَرْفُوعًا، وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.وَرَوَى الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ عَنْ مُجَاهِد عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا ذَكَرَ فِيهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ غَيْرَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، وَثُوَيْرٌ يكنى أبا جهم، وأبو فاختة اسمه سعيد بن علاقة.

ثویر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنتیوں میں کمتر درجے کا جنتی وہ ہوگا جو جنت میں اپنے باغوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنے خدمت گزاروں کو، اور اپنے (سجے سجائے) تختوں (مسہریوں) کو ایک ہزار سال کی مسافت کی دوری سے دیکھے گا، اور ان میں اللہ عزوجل کے یہاں بڑے عزت و کرامت والا شخص وہ ہوگا جو صبح و شام اللہ کا دیدار کرے گا، پھر آپ نے آیت «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے (القیامۃ: ٢٣) ، پڑھی۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The lowest in station of the people of Paradise will be one who looks at his gardens, his wives, his servants and his couches stretching (to the distance) of a thousand years Journey. And the most honourable one given this honour by Allah, the Glorious, the Majestic will be one who looks at His countenance (every) morning and evening. Then Allah’s Messenger ﷺ recited: "Some faces, that Day, will beam (in brightness and beauty). Looking towards their Lord;" (75 : 23) [Ahmed 5317] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) // ضعيف، الضعيفة (1985) // ضعيف الجامع الصغير (1382) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3330 اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے ثویر سے، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے، اور ان کے قول سے روایت کی ہے اور اسے انہوں نے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے، اور میں ثوری کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند میں مجاہد کا نام لیا ہو، ٤- اسے ہم سے بیان کیا ابوکریب نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا عبیداللہ اشجعی نے اور عبیداللہ اشجعی نے روایت کی سفیان سے، ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3330
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے اور کئی راویوں نے یہ حدیث اسی طرح اسرائیل سے مرفوعاً (ہی) روایت کی ہے، ٢- عبدالملک بن ابجر نے ثویر سے، ثویر نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے، اور اسے ابن عمر ؓ کے قول سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٦٦٦) (ضعیف) (سند میں ثویر ضعیف اور رافضی ہے) تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (ضعیف)