Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 149 of 199

3026Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: صَنَعَ لَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ طَعَامًا، فَدَعَانَا وَسَقَانَا مِنَ الْخَمْرِ، فَأَخَذَتِ الْخَمْرُ مِنَّا، وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَدَّمُونِي، فَقَرَأْتُ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ، وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن عوف (رض) نے ہمارے لیے کھانا تیار کیا، پھر ہمیں بلا کر کھلایا اور شراب پلائی۔ شراب نے ہماری عقلیں ماؤف کردیں، اور اسی دوران نماز کا وقت آگیا، تو لوگوں نے مجھے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا، میں نے پڑھا «قل يا أيها الکافرون لا أعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» اے نبی ! کہہ دیجئیے : کافرو ! جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، اور ہم اسی کو پوجتے ہیں جنہیں تم پوجتے ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکاری حتی تعلموا ما تقولون» اے ایمان والو ! جب تم نشے میں مست ہو، تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو (النساء : ٤٣ ) ١ ؎۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: Abdur Rhaman ibn Awf prepared a meal for us and invited us to it, and also seved us wine. The wine intoxicated us. and they put me forward (to lead the congregation). I recited : So, Allah revealed: "O you who believe! Draw not near salah while you are intoxicated, until you know what you arsaying. (4:43) [Abu Dawud 3671]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3026
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : پھر بعد میں یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا ، یعنی شراب بالکل حرام کردی گئی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأشربة ١ (٣٦٧١) (تحفة الأشراف : ١٠١٧٥) (صحیح )
3027Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِحَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، وَأَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ، اسْقِ وَاحْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: قَدْ رَوَى ابْنُ وَهْبٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْالزُّبَيْرِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ.

عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے (ان کے والد) زبیر بن العوام (رض) سے، حرہ ١ ؎ کی نالی کے معاملہ میں، جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، جھگڑا کیا، انصاری نے زبیر (رض) سے کہا کہ پانی کو بہنے دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے ٢ ؎، زبیر نے انکار کیا، پھر وہ لوگ اس جھگڑے کو لے کر آپ ﷺ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے زبیر سے کہا : زبیر ! تم (اپنا کھیت) سینچ کر پانی پڑوسی کے کھیت میں جانے دو ، (یہ سن کر) انصاری غصہ ہوگیا، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ وہ (زبیر) آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں ؟ (یہ سن کر) آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا آپ نے کہا : زبیر ! اپنا کھیت سینچ لو، اور پانی اتنا بھر لو کہ منڈیروں تک پہنچ جائے ۔ زبیر کہتے ہیں : قسم اللہ کی میں گمان کرتا ہوں کہ آیت : «فلا وربک لا يؤمنون حتی يحكموک فيما شجر بينهم» سو قسم ہے تیرے رب کی ! یہ مومن نہیں ہوسکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں (النساء : ٦٥ ) ۔ اسی مقدمہ کے سلسلے میں نازل ہوئی ہے۔

Urwah ibn Zubayr reported that Abdullah ibn Zubayr narrated to him that a man of the Ansar disputed with Zubayr about a streamlet that watered the palm-trees. He said, “Let the water flow”, but Zubayr (RA) disagreed. So they brought the dispute to Allah’s Messenger ﷺ . He said to Zubayr (RA) “Water your field O Zubayr, then let the water run to your neighbour.” The ansar was angered and exclaimed. “O Messenger of Allah ﷺ it is because he is your cousin.” The colour of the face of Allah’s Messenger ﷺ changed and he said “O Zubayr, water your field, then keep it back so that it returns to the walls.” Zubayr said, “By Allah, I think that this verse is revealed conerrning that: "But no, by your Lord, they will not believe until they make your the judge of what is in disputebetween them." (4:65) [Ahmed 1419,Bukhari 2359,Muslim 2357,Abu Dawud 363]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3027
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابن وہب نے بطریق : «الليث بن سعد ويونس عن الزهري عن عروة عن عبد اللہ بن الزبير» اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٢ - اور شعیب بن ابی حمزہ نے بطریق : «الزهري عن عروة عن الزبير» روایت کی ہے اور انہوں نے اپنی روایت میں عبداللہ بن زبیر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مدینہ میں ایک معروف جگہ ہے ٢ ؎ : زبیر (رض) کا کھیت انصاری کے کھیت سے پہلے اونچائی پر پڑتا تھا ، پہلے تو آپ ﷺ نے زبیر کو حکم دیا کہ ضرورت کے مطابق پانی لے کر پانی چھوڑ دو ، مگر جب انصاری نے الزام تراشی کردی تو آپ نے زبیر (رض) سے فرمایا کہ تم خوب خوب اپنا کھیت سیراب کر کے ہی پانی چھوڑ و جو تمہارا شرعی اور قانونی حق ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٣٦٣ (صحیح )
3028Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَيُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: فَمَا لَكُمْ ينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، قَالَ: رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فَرِيقَيْنِ: فَرِيقٌ يَقُولُ اقْتُلْهُمْ، وَفَرِيقٌ يَقُولُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ سورة النساء آية 88، وَقَالَ: إِنَّهَا طِيبَةُ، وَقَالَ: إِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيَدَ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ الْخَطْمِيُّ وَلَهُ صُحْبَةٌ.

عبداللہ بن یزید (رض) سے روایت ہے کہ زید بن ثابت (رض) آیت : «فما لکم في المنافقين فئتين» کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ ﷺ کے کچھ (ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے) لوٹ آئے ١ ؎ تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا : انہیں قتل کر دو ، اور دوسرے فریق نے کہا : نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لکم في المنافقين فئتين» ١ ؎ نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا : مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو (إن شاء اللہ) ایسے دور کر دے گا جیسے آگ لوہے کی ناپاکی (میل و زنگ) کو دور کردیتی ہے۔ (یہ منافق یہاں رہ نہ سکیں گے) ۔

It is reported from Sayyaidina Zayd ibn Thabit (RA) about this verse:"What is the matter with you (O Believers), that there are two parties (among you) concerning the hypocrites ?" (4 : 88) He explained : The companions of the Prophet ﷺ returned from the Battle of Uhud and there were two opinions among them about the hypocrites. One of them said, “They should be killed”, while another group said, “No!” So the verse (4 : 88) was revealed: Allah’s Messenger ﷺ said, “Madinah is pure and it removes impurity just as fire removes erosion from steel.” [Bukhari 1884,Muslim 1384,Ahmed 21655]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3028
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبداللہ بن یزید انصاری خطمی ہیں اور انہیں نبی اکرم ﷺ کی صحبت حاصل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : جہاد میں شریک نہ ہوئے۔ ٢ ؎ : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو (النساء : ٨٨ ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل المدینة ١٠ (١٨٨٤) ، والمغازي ١٧ (٤٠٥٠) ، وتفسیر النساء ١٥ (٤٥٨٩) ، صحیح مسلم/المناسک ٨٨ (١٣٨٤) ، والمنافقین ٦ (٢٧٧٦) (تحفة الأشراف : ٣٧٢٧) (صحیح )
3029Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا، يَقُولُ: يَا رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ ، قَالَ: فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، قَالَ: مَا نُسِخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا بُدِّلَتْ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنَ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا، کہے گا : اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا تھا، (یہ کہتا ہوا) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے ابن عباس (رض) سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ١ ؎ تلاوت کی، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہوگی ؟ ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said that on the Day of Resurrection, the murdered would drag the murderer by his forelocks and head, blood flowing from the neck of the murderer. The slain person would say, “O Lord! He had killed me”, and he will take him up to the throne. The narrator went on to say that people asked Sayyidina Ibn Abbas (RA) “Will his repentance not be accepted?” He recited the verse: "And whosoever slays a believer wilfully, his recompence is Hell ." (4: 93) He added, “This verse is neither abrogated nor changed. How then may his repentance be accepted?” [Ahmed 1941]

صحيح، المشکاة (3465 / التحقيق الثاني) ، التعليق الرغيب (3 / 203) ، الصحيحة (2697)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3029
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے ، اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا (النساء : ٩٣ ) ۔ ٢ ؎ : کسی مومن کو عمداً اور ناحق قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں ؟ اس بابت صحابہ میں اختلاف ہے ، ابن عباس (رض) کی رائے ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی ، ان کی دلیل یہی آیت ہے جوان کے بقول بالکل آخری آیت ہے ، جس کو منسوخ کرنے والی کوئی آیت نہیں اتری ، مگر جمہور صحابہ و سلف کی رائے ہے کہ قرآن کی دیگر آیات کا مفاد ہے کہ تمام گناہوں سے توبہ ہے ، جب مشرک سے توبہ کرنے والی کی توبہ قبول ہوگی تو قاتل عمد کی توبہ کیوں قبول نہیں ہوگی۔ البتہ یہ ہے کہ اللہ مقتول کو راضی کردیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المحاربة (تعظیم الدم) ٢ (٤٠١٠) (تحفة الأشراف : ٦٣٠٣) (وانظر أیضا : سنن النسائی/المحاربة ٢ (٤٠٠ ¤ ٤- ٤٠٠٩) ، و ٤٨ (٤٨٧٠) ، وسنن ابن ماجہ/الدیات ٢ (٢٦٢١) ، و مسند احمد (١/٢٤٠، ٢٩٤، ٣٦٤) (صحیح )
3030Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غَنَمٌ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، قَالُوا: مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ ؟ فَقَامُوا: فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا سورة النساء آية 94 ، قَالَ أَبُو عِيسَى 12: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک آدمی صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں بھی تھیں، اس نے ان لوگوں کو سلام کیا، ان لوگوں نے کہا : اس نے تم لوگوں کی پناہ لینے کے لیے تمہیں سلام کیا ہے، پھر ان لوگوں نے بڑھ کر اسے قتل کردیا، اس کی بکریاں اپنے قبضہ میں لے لیں۔ اور انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل اللہ فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقی إليكم السلام لست مؤمنا» اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کرلیا کرو اور جو تم سے سلام کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں (النساء : ٩٤ ) نازل فرمائی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a man of Banu Sulaym passed by some of sahabah (RA) . He had his sheep with him and he offered salaam to them, but they said to each other that he had not offered salaam but only to earn protection from them. So, they stood up and killed him, and took away his sheep. They went to Allah’s Messenger ﷺ with the sheep. Allah, the Exalted revealed this verse appropriate to the occasion: "O those who believe, when you go out in the way of Allah, be careful, and do not say, to the one who offers you the salaam, You are not a believer. (4 : 94) [Ahmed 2023,Muslim 4591,Muslim 3,Abu Dawud 3974]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3030
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں اسامہ بن زید سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦١١٩) (حسن صحیح )
3031Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ سورة النساء آية 95، جَاءَ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ: غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَيُقَالُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَائِدَةَ، وَأُمُّ مَكْتُومٍ أُمُّهُ.

براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں (النساء : ٩٥ ) نازل ہوئی تو عمرو بن ام مکتوم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، وہ نابینا تھے، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں، میں تو اندھا ہوں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت : «غير أولي الضرر» نازل فرمائی، یعنی مریض اور معذور لوگوں کو چھوڑ کر، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ (یا یہ کہا) تختی اور دوات لے آؤ کہ میں لکھا کر دے دوں کہ تم معذور لوگوں میں سے ہو ۔

Sayyidina Bara ibn Aazib o reported concerning the verse:"Those among the believers who sit back at home - unless thcy have an injury are not the equals of those who struggle hard in the way of Allah." (4:95) Amr ibn Umm Maktum came to the Propjet (when it was revealed). He had lost his eyesight. He said, ‘0OMessenger of Allah ﷺ , what do you command me (to do)? I am blind.” So Allah revealed the words: "Unless they are handicapped." (4: 95) So, the Prophet ﷺ said, “Get me a shoulder-scapulabone and an inkpot or a tablet and an inkpot.” [Bukhari 4594,Muslim 1898,Nisai 3098]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3031
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس روایت میں عمرو بن ام مکتوم (رض) کہا گیا ہے، انہیں عبداللہ بن ام مکتوم بھی کہا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن زائدہ ہیں، اور ام مکتوم ان کی ماں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں (النساء : ٩٥ ) ، اس کے بعد والے ٹکڑے نے بیٹھے رہ جانے والوں میں سے معذروں کو مستثنیٰ کردیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٣١ (٢٨٣١) ، وتفسیر النساء ١٨ (٤٥٩٣، ٤٥٩٤) ، وفضائل القرآن ٤ (٤٩٩٠) ، صحیح مسلم/الإمارة ٤٠ (١٨٩٨) (تحفة الأشراف : ١٨٥٤) (صحیح )
3032Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ، سَمِعَ مِقْسَمًامَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 عَنْ بَدْرٍ، وَالْخَارِجُونَ إِلَى بَدْرٍ لَمَّا نَزَلَتْ غَزْوَةُ بَدْرٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشِ، وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ: إِنَّا أَعْمَيَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلْ لَنَا رُخْصَةٌ ؟ فَنَزَلَتْ لا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً، فَهَؤُلَاءِ الْقَاعِدُونَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا 95 دَرَجَاتٍ مِنْهُ سورة النساء آية 94-95 عَلَى الْقَاعِدِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرِ أُولِي الضَّرَرِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمِقْسَمٌ يُقَالُ: هُوَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَيُقَالُ: هُوَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَكُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ.

عبداللہ بن عباس (رض) آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» کی تفسیر میں کہتے ہیں : جب جنگ بدر کا موقع آیا تو اس موقع پر یہ آیت جنگ بدر میں شریک ہونے والے اور نہ شریک ہونے والے مسلمانوں کے متعلق نازل ہوئی۔ تو عبداللہ بن جحش اور ابن ام مکتوم (رض) دونوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم دونوں اندھے ہیں کیا ہمارے لیے رخصت ہے کہ ہم جہاد میں نہ جائیں ؟ تو آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» نازل ہوئی، اور اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر ایک درجہ فضیلت دی ہے۔ ان بیٹھ رہنے والوں سے مراد اس آیت میں غیر معذور لوگ ہیں، باقی رہے معذور لوگ تو وہ مجاہدین کے برابر ہیں۔ اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم کے ذریعہ فضیلت دی ہے۔ اور بیٹھ رہنے والے مومنین پر اپنی جانب سے ان کے درجے بڑھا کر فضیلت دی ہے۔ اور یہ بیٹھ رہنے والے مومنین وہ ہیں جو بیمار و معذور نہیں ہیں۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) said about the verse (4:95) i that it refers to the people of Badr and those who did not participate in it. When the Battle of Badr took place, Abdullah ibn Jahsh . and Ibn Umm Maktum (RA) said. “We are blind, O Messenger of Allah ﷺ . So, are we excused? So this verses was revealed:"Such of the believers who sit back at home - unless they have an injury." (4:95)Allah has preferred in rank those who struggle hard with their riches and lives over those who sit back at home, and yet to each Alaah has promised a fair reward. And Allah has preferred those who struggle hard over those who sit back at home.These sitters at home are those who have no excuse."Allah has preferred those who struggle hard over those who sit back at home with a might reward." (4 : 95) Ibn Abbas (RA) said that they are not those who have an excuse or are handi-capped.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3032
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے ابن عباس (رض) کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - مقسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عبداللہ بن حارث کے آزاد کردہ غلام ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ابن عباس کے آزاد کردہ غلام ہیں اور مقسم کی کنیت ابوالقاسم ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥ (٣٩٥٤) ، وتفسیر النساء ١٩ (٤٥٩٥) (تحفة الأشراف : ٦٤٩٢) (صحیح )
3033Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَأَخْبَرَنَا، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْلَى عَلَيْهِ، لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ: فَجَاءَهُ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ يُمْلِيهَا عَلَيَّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَسْتَطِيعُ الْجِهَادَ لَجَاهَدْتُ وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِي فَثَقُلَتْ حَتَّى هَمَّتْ تَرُضُّ فَخِذِي ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ سورة النساء آية 95 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ هَذَا، وَرَوَى مَعْمَرٌ، عَنِالزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رِوَايَةُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ التَّابِعِين، رَوَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَمَرْوَانُ لم يسمع من النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مِنَ التَّابِعِين.

سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے مروان بن حکم کو مسجد میں بیٹھا ہوا دیکھا تو میں بھی آگے بڑھ کر ان کے پہلو میں جا بیٹھا انہوں نے ہمیں بتایا کہ زید بن ثابت (رض) نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں املا کرایا « (لا يستوي القاعدون من المؤمنين» «والمجاهدون في سبيل الله» گھروں میں بیٹھ رہنے والے مسلمان، اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دونوں برابر نہیں ہوسکتے اسی دوران ابن ام مکتوم آپ ﷺ کے پاس آ پہنچے اور آپ اس آیت کا ہمیں املا کرا رہے تھے، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! قسم اللہ کی، اگر میں جہاد کی طاقت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا، وہ نابینا شخص تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت «غير أولي الضرر» نازل فرمائی اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ کی ران (قریب بیٹھے ہونے کی وجہ سے) میری ران پر تھی، وہ (نزول وحی کے دباؤ سے) بوجھل ہوگئی، لگتا تھا کہ میری ران پس جائے گی۔ پھر (جب نزول وحی کی کیفیت ختم ہوگئی) تو آپ کی پریشانی دور ہوگئی۔

Sahlibn Sad Sa’idi narrated: Isaw Marwan ibn Hakam sitting in the mosque, so I joined him and sat doown beside him. He informed us that Zayd ibn Thabit had informed him that the Prophet ﷺ had dictated to him the verse. (4 : 95) "Not equal are those of the Believers who sit at home and who struggle hard in Allahs way. Ibn Umm Maktum (RA) came to him while the Prophet ﷺ was thus dictating to Zayd He said, “O Messenger of Allah ﷺ , if I could. I would have waged jihad.” And, he was a blind man. So, Allah revealed to His Messenger ﷺ while his thigh was on Zayds thigh and it became so heavy (because of the revelation) that Zayd was apprehensive it might cause a fracture on his thigh. Then that condition passed over the Prophet ﷺ and Allah (had) revealed: "Unless they have an injury." (4:95) [Bukhari 4592, Muslim 3096]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3033
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح کئی راویوں نے زہری سے اور زہری نے سہل بن سعد (رض) سے روایت کی ہے، ٣ - معمر نے زہری سے یہ حدیث قبیصہ بن ذویب کے واسطہ سے، قبیصہ نے زید بن ثابت سے روایت کی ہے، اور اس حدیث میں ایک روایت رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی کی ایک تابعی سے ہے، روایت کیا ہے سہل بن سعد انصاری (صحابی) نے مروان بن حکم (تابعی) سے۔ اور مروان نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا ہے، وہ تابعی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٣١ (٢٨٣٢) ، وتفسیر النساء ١٩ (٤٥٩٢) (تحفة الأشراف : ٣٧٣٩) (صحیح )
3034Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍيُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ: أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) سے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم» تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں پریشان کریں گے (النساء : ١٠١ ) ، اور اب تو لوگ امن و امان میں ہیں (پھر قصر کیوں کر جائز ہوگی ؟ ) عمر (رض) نے کہا : جو بات تمہیں کھٹکی وہ مجھے بھی کھٹک چکی ہے، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ کی جانب سے تمہارے لیے ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، پس تم اس کے صدقے کو قبول کرلو ۔

Yala ibn Umayyah narrated : I said to Umar (RA) that Allah has said:Shorten the salah if you fear. (4 : 101) “But people experience peace now.’ (How is allowed to shorten prayers now)? Umar (RA) said, “I too had wondered as you wonder now, so I mentioned that to Allah’s Messenger ﷺ . He said to me : This is charity that Allah has bestowed on you, so accept His charity.” [Ahmed 175,Muslim 686,Abu Dawud 1199, Ibn e Majah 1065]

صحيح، ابن ماجة (1065)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3034
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٠ (١١٩٩) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٣ (١٠٦٥) (تحفة الأشراف : ١٠٦٥٩) ، و مسند احمد (١/٢٥، ٣٦) ، وسنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٦) (صحیح )
3035Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجْنَانَ وَعُسْفَانَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لِهَؤُلَاءِ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ، فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً، وَأَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِهِمْ وَتَقُومُ طَائِفَةٌ أُخْرَى وَرَاءَهُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي الْآخَرُونَ وَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَكْعَةً وَاحِدَةً ثُمَّ يَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ، فَتَكُونُ لَهُمْ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَحُذَيْفَةَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَأَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ اسْمُهُ زَيْدُ بْنُ صَامِتٍ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ضجنان اور عسفان (نامی مقامات) کے درمیان قیام فرما ہوئے، مشرکین نے کہا : ان کے یہاں ایک نماز ہوتی ہے جو انہیں اپنے باپ بیٹوں سے زیادہ محبوب ہوتی ہے، اور وہ نماز عصر ہے، تو تم پوری طرح تیاری کرلو پھر ان پر یک بارگی ٹوٹ پڑو۔ (اس پر) جبرائیل (علیہ السلام) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو حکم دیا کہ اپنے صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کردیں (ان میں سے) ایک گروہ کے ساتھ آپ نماز پڑھیں اور دوسرا گروہ ان کے پیچھے اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار لے کر کھڑا رہے۔ پھر دوسرے گروہ کے لوگ آئیں اور آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں پھر یہ (پہلے گروہ والے لوگ) اپنی ڈھالیں اور ہتھیار لے کر ان کے پیچھے کھڑے رہیں ١ ؎ اس طرح ان سب کی ایک ایک رکعت ہوگی اور رسول اللہ ﷺ کی دو رکعتیں ہوں گی۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ encamped between Dujnan and Usfan. So, the idolators said to each other. “To these people, there is a salah dearer to them than their fathers and their sons. It is the salah of asr. So gather together and launch on them a single concentrated attack.” But, Jibril came to the Prophet ﷺ and ordered him to divide his sahabah into two divisions. He should lead one of them in salah while the other should stand behind them guarding them and carrying the weapons. Then these others should come and offer salah with him one raka’ah and then these should take up their position and weapons. That would be a raka’ah for them but two raka’at for Allah’s Messenger ﷺ . [Ahmed 10769,Nisai 1540]

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3035
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس سند سے عبداللہ بن شقیق کی روایت سے جسے وہ ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، ابن عباس، جابر، ابوعیاش زرقی، ابن عمر، حذیفہ، ابوبکرہ اور سہل بن ابوحشمہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اور ابوعیاش کا نام زید بن صامت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ اشارہ ہے اس آیت کی طرف «وإذا کنت فيهم فأقمت لهم الصلاة فلتقم طآئفة منهم معک وليأخذوا أسلحتهم» (النساء : ١٠٢ ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ١٣٥٦٦) (صحیح الإسناد )
3036Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ أَبُو مُسْلِمٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنَّا يُقَالُ لَهُمْ بَنُو أُبَيْرِقٍ بِشْرٌ، وَبُشَيْرٌ، وَمُبَشِّرٌ، وَكَانَ بُشَيْرٌ رَجُلًا مُنَافِقًا يَقُولُ: الشِّعْرَ يَهْجُو بِهِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَنْحَلُهُ بَعْضَ الْعَرَبِ، ثُمَّ يَقُولُ: قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا، قَالَ فُلَانٌ كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا سَمِعَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الشِّعْرَ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ إِلَّا هَذَا الْخَبِيثُ أَوْ كَمَا قَالَ الرَّجُلُ، وَقَالُوا: ابْنُ الْأُبَيْرِقِ قَالَهَا، قَالَ: وَكَانُوا أَهْلَ بَيْتِ حَاجَةٍ وَفَاقَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ، وَكَانَ النَّاسُ إِنَّمَا طَعَامُهُمْ بِالْمَدِينَةِ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ لَهُ يَسَارٌ فَقَدِمَتْ ضَافِطَةٌ مِنَ الشَّامِ، مِنَ الدَّرْمَكِ، ابْتَاعَ الرَّجُلُ مِنْهَا فَخَصَّ بِهَا نَفْسَهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِنَّمَا طَعَامُهُمُ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ، فَقَدِمَتْ ضَافِطَةٌ مِنَ الشَّامِ فَابْتَاعَ عَمِّي رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ حِمْلًا مِنَ الدَّرْمَكِ، فَجَعَلَهُ فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ، وَفِي الْمَشْرَبَةِ سِلَاحٌ وَدِرْعٌ وَسَيْفٌ، فَعُدِيَ عَلَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْبَيْتِ فَنُقِبَتِ الْمَشْرَبَةُ وَأُخِذَ الطَّعَامُ وَالسِّلَاحُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، إِنَّهُ قَدْ عُدِيَ عَلَيْنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ فَنُقِبَتْ مَشْرَبَتُنَا فَذُهِبَ بِطَعَامِنَا وَسِلَاحِنَا، قَالَ: فَتَحَسَّسْنَا فِي الدَّارِ وَسَأَلْنَا، فَقِيلَ لَنَا: قَدْ رَأَيْنَا بَنِي أُبَيْرِقٍ اسْتَوْقَدُوا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَلَا نَرَى فِيمَا نَرَى إِلَّا عَلَى بَعْضِ طَعَامِكُمْ، قَالَ: وَكَانَ بَنُو أُبَيْرِقٍ، قَالُوا: وَنَحْنُ نَسْأَلُ فِي الدَّارِ وَاللَّهِ مَا نُرَى صَاحِبَكُمْ إِلَّا لَبِيدَ بْنَ سَهْلٍ رَجُلٌ مِنَّا لَهُ صَلَاحٌ وَإِسْلَامٌ، فَلَمَّا سَمِعَ لَبِيدٌ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ، وَقَالَ: أَنَا أَسْرِقُ ! فَوَاللَّهِ لَيُخَالِطَنَّكُمْ هَذَا السَّيْفُ أَوْ لَتُبَيِّنُنَّ هَذِهِ السَّرِقَةَ، قَالُوا: إِلَيْكَ عَنْهَا أَيُّهَا الرَّجُلُ فَمَا أَنْتَ بِصَاحِبِهَا، فَسَأَلْنَا فِي الدَّارِ حَتَّى لَمْ نَشُكَّ أَنَّهُمْ أَصْحَابُهَا، فَقَالَ لِي عَمِّي: يَا ابْنَ أَخِي، لَوْ أَتَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ قَتَادَةُ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلَ جَفَاءٍ عَمَدُوا إِلَى عَمِّي رِفَاعَةَ بْنِ زَيْدٍ فَنَقَبُوا مَشْرَبَةً لَهُ وَأَخَذُوا سِلَاحَهُ وَطَعَامَهُ فَلْيَرُدُّوا عَلَيْنَا سِلَاحَنَا فَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَآمُرُ فِي ذَلِكَ، فَلَمَّا سَمِعَ بَنُو أُبَيْرِقٍ أَتَوْا رَجُلًا مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: أَسَيْرُ بْنُ عُرْوَةَ فَكَلَّمُوهُ فِي ذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ فِي ذَلِكَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ وَعَمَّهُ عَمَدَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلِ إِسْلَامٍ وَصَلَاحٍ يَرْمُونَهُمْ بِالسَّرِقَةِ مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ وَلَا ثَبَتٍ، قَالَ قَتَادَةُ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمْتُهُ، فَقَالَ: عَمَدْتَ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ ذُكِرَ مِنْهُمْ إِسْلَامٌ وَصَلَاحٌ تَرْمِهِمْ بِالسَّرِقَةِ عَلَى غَيْرِ ثَبَتٍ وَلَا بَيِّنَةٍ، قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ بَعْضِ مَالِي وَلَمْ أُكَلِّمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَأَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا صَنَعْتَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ نَزَلَ الْقُرْآنُ إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا سورة النساء آية 105 بَنِي أُبَيْرِقٍ وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ سورة النساء آية 106 أَيْ مِمَّا قُلْتَ لِقَتَادَةَ: إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا 106 وَلا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا 107 يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورًا رَحِيمًا سورة النساء آية 106 ـ 110 أَيْ لَوِ اسْتَغْفَرُوا اللَّهَ لَغَفَرَ لَهُمْ وَمَنْ يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ إِلَى قَوْلِهِ وَإِثْمًا مُبِينًا سورة النساء آية 111 قَوْلَهُ لِلَبِيدٍ وَلَوْلا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ إِلَى قَوْلِهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 113 ـ 114، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّلَاحِ فَرَدَّهُ إِلَى رِفَاعَةَ، فَقَالَ قَتَادَةُ: لَمَّا أَتَيْتُ عَمِّي بِالسِّلَاحِ وَكَانَ شَيْخًا قَدْ عَشَا أَوْ عَسَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ أُرَى إِسْلَامُهُ مَدْخُولًا، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ بِالسِّلَاحِ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، هُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَعَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ صَحِيحًا، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ لَحِقَ بُشَيْرٌ بِالْمُشْرِكِينَ فَنَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ بِنْتِ سَعْدِ ابْنِ سُمَيَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا 115 إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا بَعِيدًا 116 سورة النساء آية 115-116 فَلَمَّا نَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ رَمَاهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ بِأَبْيَاتٍ مِنْ شِعْرِهِ، فَأَخَذَتْ رَحْلَهُ فَوَضَعَتْهُ عَلَى رَأْسِهَا، ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ فَرَمَتْ بِهِ فِي الْأَبْطَحِ ثُمَّ قَالَتْ: أَهْدَيْتَ لِي شِعْرَ حَسَّانَ مَا كُنْتَ تَأْتِينِي بِخَيْرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيِّ، وَرَوَى يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ مُرْسَلٌ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَقَتَادَةُ بْنُ النُّعْمَانِ هُوَ أَخُو أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لِأُمِّهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ.

قتادہ بن نعمان (رض) کہتے ہیں کہ (انصار) میں سے ایک خاندان ایسا تھا، جنہیں بنو ابیرق کہا جاتا تھا۔ اور وہ تین بھائی تھے، بشر، بشیر اور مبشر، بشیر منافق تھا، شعر کہتا تھا اور صحابہ کی ہجو کرتا تھا، پھر ان کو بعض عرب کی طرف منسوب کر کے کہتا تھا : فلان نے ایسا ایسا کہا، اور فلاں نے ایسا ایسا کہا ہے۔ صحابہ نے یہ شعر سنا تو کہا : اللہ کی قسم ! یہ کسی اور کے نہیں بلکہ اسی خبیث کے کہے ہوئے ہیں - یا جیسا کہ راوی نے «خبیث» کی جگہ «الرجل» کہا - انہوں (یعنی صحابہ) نے کہا : یہ اشعار ابن ابیرق کے کہے ہوئے ہیں، وہ لوگ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں ہی میں محتاج اور فاقہ زدہ لوگ تھے، مدینہ میں لوگوں کا کھانا کھجور اور جو ہی تھا، جب کسی شخص کے یہاں مالداری و کشادگی ہوجاتی اور کوئی غلوں کا تاجر شام سے سفید آٹا (میدہ) لے کر آتا تو وہ مالدار شخص اس میں سے کچھ خرید لیتا اور اسے اپنے کھانے کے لیے مخصوص کرلیتا، اور بال بچے کھجور اور جو ہی کھاتے رہتے۔ (ایک بار ایسا ہوا) ایک مال بردار شتربان شام سے آیا تو میرے چچا رفاعہ بن زید نے میدے کی ایک بوری خرید لی اور اسے اپنے اسٹاک روم میں رکھ دی، اور اس اسٹور روم میں ہتھیار، زرہ اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی۔ ان پر ظلم و زیادتی یہ ہوئی کہ گھر کے نیچے سے اس اسٹاک روم میں نقب لگائی گئی اور راشن اور ہتھیار سب کا سب چرا لیا گیا، صبح کے وقت میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہا : میرے بھتیجے آج کی رات تو مجھ پر بڑی زیادتی کی گئی۔ میرے اسٹور روم میں نقب لگائی گئی ہے اور ہمارا راشن اور ہمارا ہتھیار سب کچھ چرا لیا گیا ہے۔ ہم نے محلے میں پتہ لگانے کی کوشش کی اور لوگوں سے پوچھ تاچھ کی تو ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنی ابیرق کو آج رات دیکھا ہے، انہوں نے آگ جلا رکھی تھی، اور ہمارا خیال ہے کہ تمہارے ہی کھانے پر (جشن) منا رہے ہوں گے۔ (یعنی چوری کا مال پکا رہے ہوں گے) جب ہم محلے میں پوچھ تاچھ کر رہے تھے تو ابوابیرق نے کہا : قسم اللہ کی ! ہمیں تو تمہارا چور لبید بن سہل ہی لگتا ہے، لبید ہم میں ایک صالح مرد اور مسلمان شخص تھے، جب لبید نے سنا کہ بنو ابیرق اس پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی، اور کہا میں چور ہوں ؟ قسم اللہ کی ! میری یہ تلوار تمہارے بیچ رہے گی یا پھر تم اس چوری کا پتہ لگا کر دو ۔ لوگوں نے کہا : جناب ! آپ اپنی تلوار ہم سے دور ہی رکھیں، آپ چور نہیں ہوسکتے، ہم نے محلے میں مزید پوچھ تاچھ کی، تو ہمیں اس میں شک نہیں رہ گیا کہ بنو ابیرق ہی چور ہیں۔ میرے چچا نے کہا : بھتیجے ! اگر تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتے اور آپ سے اس (حادثے) کا ذکر کرتے (تو ہوسکتا ہے میرا مال مجھے مل جاتا) قتادہ بن نعمان (رض) کہتے ہیں : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا : ہمارے ہی لوگوں میں سے ایک گھر والے نے ظلم و زیادتی کی ہے۔ انہوں نے ہمارے چچا رفاعہ بن زید (کے گھر) کا رخ کیا ہے اور ان کے اسٹور روم میں نقب لگا کر ان کا ہتھیار اور ان کا راشن (کھانا) چرا لے گئے ہیں، تو ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ہتھیار ہمیں واپس دے دیں۔ راشن (غلے) کی واپسی کا ہم مطالبہ نہیں کرتے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اس بارے میں مشورہ (اور پوچھ تاچھ) کے بعد ہی کوئی فیصلہ دوں گا ۔ جب یہ بات بنو ابیرق نے سنی تو وہ اپنی قوم کے ایک شخص کے پاس آئے، اس شخص کو اسیر بن عروہ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے اس سے اس معاملے میں بات چیت کی اور محلے کے کچھ لوگ بھی اس معاملے میں ان کے ساتھ ایک رائے ہوگئے۔ اور ان سب نے (رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ کر) کہا : اللہ کے رسول ! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا دونوں ہم ہی لوگوں میں سے ایک گھر والوں پر جو مسلمان ہیں اور بھلے لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی ثبوت کے چوری کا الزام لگاتے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «ومن يكسب إثما فإنما يكسبه علی نفسه» إلی قولہ «إثما مبينا» ٣ ؎ اس سے اشارہ نبی ابیرق کی اس بات کی طرف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ چوری لبید بن سہل نے کی ہے۔ اور آگے اللہ نے فرمایا : «ولولا فضل اللہ عليك ورحمته» سے «فسوف نؤتيه أجرا عظيما» ٤ ؎ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو وہ (بنی ابیرق) ہتھیار رسول اللہ کے پاس لے آئے۔ اور آپ نے رفاعہ کو لوٹا دیئے، قتادہ کہتے ہیں : میرے چچا بوڑھے تھے اور اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت ہی میں ان کی نگاہیں کمزور ہوچکی تھیں، اور میں سمجھتا تھا کہ ان کے ایمان میں کچھ خلل ہے لیکن جب میں ہتھیار لے کر اپنے چچا کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : اے میرے بھتیجے ! اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ میں دیتا ہوں، اس وقت میں نے جان لیا (اور یقین کرلیا) کہ چچا کا اسلام پختہ اور درست تھا (اور ہے) جب قرآن کی آیتیں نازل ہوئی تو بشیر مشرکوں میں جا شامل ہوا۔ اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے پاس جا ٹھہرا، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولی ونصله جهنم وساءت مصيرا إن اللہ لا يغفر أن يشرک به ويغفر ما دون ذلک لمن يشاء ومن يشرک بالله فقد ضل ضلالا بعيدا» نازل فرمائی ٥ ؎ جب وہ سلافہ کے پاس جا کر ٹھہرا تو حسان بن ثابت (رض) نے اپنے چند اشعار کے ذریعہ اس کی ہجو کی، (یہ سن کر) اس نے سدافہ بنت سعد کا سامان اپنے سر پر رکھ کر گھر سے نکلی اور میدان میں پھینک آئی۔ پھر (اس سے) کہا : تم نے ہمیں حسان کے شعر کا تحفہ دیا ہے ؟ تم سے مجھے کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔

Qatadah ibn Numan narrated: There was among us (Ansar) a family called Banu UbayriqBishr, Bushayr and Muhashshir. Bushayr was a hypocrite who read poetry whereby he defamed the sahahah hut he attributed his poetry to earlier Arab poets saying such and such had composed it. The sahahah (RA) on hearing him, said, “By Allah, that poet had not read this poetry. It is only this very evil man who has spoken it” - or as the narrator thought that they said “Ibn Uubayriq has spoken it.’ The people were needy and poor during the jahiliyat and during Islam. The staple food of the people in Madinah was dates and barley. If a man had some means and a Syrian pedlar made the rounds, he would buy from him fine flour exclusively for himself while the family’s meal continued to be dates and barley. Accordingly, when a Syrian pedlar came, my uncle Rifaah ibn Zayd bought from him a bag of fine flour. He placed it in a storeroom where weapons, armour and swords were also kept. Someone made an underground passage and stole his fine flour and weapons, etc. In the morning, my uncle Rifa’ah came and told me about it. I made enquires and learnt that they had seen the sons of Ubayriq with lamps in the night and that they might have done it. Qatadah said that when they made enquries in the house, the children of Ubayriq said, “By Allah, your thief is our pious Muslim Labid ibn Sahi.” When Lahid heard it, he drew his sword and asked, “Am I the thief? By Allah, either my sword pierces you or you disclose the thief.’ The Banu Ubayriq said, Keep your sword to yourself. You have not stolen anything. We then made more enquiries till we were sure that Banu Ubayriq were the thieves. My uncle said, “If you go to the Prophet ﷺ and mention it (perhaps we would get our things).” So, I went to him and recounted my uncle’s plight, saying. ‘We are more concerned about the weapons. He said, “I will decide about it soon.” When Banu Ubayriq heard of it, they went to one of their man, Usayr ibn Urwah and spoke to him about it. Then many people of the neighbourhood gathered for them and pleaded, “O Messenger of Allah ﷺ , Qatadah ibn Nu’man and his uncle have accused our people of theft without argument or evidence though they are pious and Muslim s.” Qatadah said that he went to the Prophet ﷺ and spoke about it and he asked, “Have you accused a Muslim and pious people of theft without proof or evidence?” I wished that I had lost something and not spoken to the Prophet ﷺ about it. Suddenly, my uncle came and asked me what I had done and I told him what Allah’s Messenger ﷺ had said, He submitted. “Allah is our Help.” Not much time had passed when something of the Qur’an was revealed, Allah said: "Surely, we have revealed the Book to you with truth, so that you may judge between people by means of what Allah has shown you. So be not an advocate of the traitors." (4:105) (That is) Banu Ubayriq: “And seek forgiveness of Allah” (that is) about what you said to Qatadah (RA) : "Surely Allah is ever Forgiving, Merciful." "And contend not on behalf of those who betray themselves. Surely Allah loves not one who is treacherous, sinful. They seek to conceal (their evil deeds) from people, but they cannot conceal from Allah, for He is with them…(till Allah’s words) "He shall find Allah Forfgiving, Merciful. (that is) If they seek Allah’s forgiveness, He will forgive them. And whosoever earns a sin, earns it against his own soul only.” (till Allahs words, "And whoever earns fault or a sin and then casts it upon the innocent, he indeed has burdened himself with calumny and manifest sin." (that is) their accusation of Labid. "And were it not for the bounty of Allah upon you (O Prophet) and His mercy." (till Allah’s words) Allah’s bounty upon you is ever great. (4 : 105 - 144) When these words of the Qur’an were revealed they brought to the Prophet ﷺ the weapons and he returned them to Rifa’ah. Qatadah said, “When I came to my uncle with the weapons” - Abu Eesa is doubtful what word was used or - “he was an old man whose eyesight had become weak during the jahiliyah and I had imagined a weakness in his faith, but when I took the weapons, etc. to him-he said, ‘I have give them in Allah’s path. So, I was convinced of his strong faith. When the Qur’an was revealed, Bushayr joined the idolators and lodged with Sulafah daughter of Sad ibri Sumayyah. Allah revealed the verse: And whosoever opposes the Messenger ﷺ after the guidance has become clear to him, and follows a way other then that of the believers, we shall turn him to that to which he has turned, and we shall cast him in Hell; and it is an evil destination. Surely Allah shall not forgive that anything be associated with Him, and He shall forgive all besides that to whom He will. And whosoever associates anything with Allah, he indeed has gone far astray. (4 : 115 - 116) When he lodged with Sulafah, Hassan composed satirical poetry in answer to him. So, Sulafah carried his luggage on her head and cast them out on an open land, saying. “Have you brought Hassan’s poetry as a gift to me? I can never hope for good from you.”

حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3036
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اور ہم محمد بن سلمہ حرانی کے سوا کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو، ٢ - یونس بن بکیر اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو محمد بن اسحاق سے اور محمد بن اسحاق نے عاصم بن عمر بن قتادہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے، ٣ - قتادہ بن نعمان، ابو سعید خدری (رض) کے اخیافی بھائی ہیں، ٤ - ابو سعید خدری سعد بن مالک بن سنان ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یقیناً ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ آپ لوگوں میں اس بصیرت کے مطابق فیصلہ کریں جس سے اللہ نے آپ کو نوازا ہے ، اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو (النساء : ١٠٥ ) ۔ ٢ ؎ : اور ان کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو خود اپنی ہی خیانت کرتے ہیں ، یقیناً دغا باز ، گنہگار اللہ تعالیٰ کو اچھا نہیں لگتا ، وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپ سکتے ، وہ راتوں کے وقت جب کہ اللہ کے ناپسندیدہ باتوں کے خفیہ مشورے کرتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے ، ان کے تمام اعمال کو وہ گھیرے ہوئے ہے ، ہاں ، تو یہ تم لوگ ہو کہ جنہوں نے ان لوگوں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں جھگڑا کرلیا (ان کی حمایت کردی) لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن ان کی حمایت کون کرے گا ؟ اور وہ کون ہے جو ان کے وکیل بن کر کھڑا ہو سکے گا ، جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا اور مہربانی کر والا پائے گا (النساء : ١٠٧ تا ١١٠ ) ۔ ٣ ؎ : اور جو گناہ کرتا ہے اس کا بوجھ اسی پر ہے اور اللہ بخوبی جاننے والا اور پوری حکمت والا ہے ، اور جو شخص کوئی گناہ یا خطا کر کے کسی بےگناہ کے ذمہ تھوپ دے ، اس نے بہت بڑا بہتان اٹھایا اور کھلا گناہ کیا (النساء : ١١١ -١١٢) ۔ ٤ ؎ : اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تجھ پر نہ ہوتا تو ان کی ایک جماعت نے تو تجھے بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھا ، دراصل یہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں ، یہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، اللہ تعالیٰ نے تجھ پر کتاب و حکمت اتاری ہے اور تجھے وہ سکھایا ہے جسے تو نہیں جانتا تھا ، اور اللہ تعالیٰ کا تجھ پر بڑا بھاری فضل ہے ، ان کے اکثر مصلحتیٰ مشورے خیر سے عاری ہیں ، ہاں ، بھلائی اس کے مشورے میں ہے جو خیرات کا یا نیک بات کا یا لوگوں میں صلح کرانے کا حکم کرے اور جو شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے ارادے سے یہ کام کرے اسے ہم یقیناً بہت بڑا ثواب دیں گے۔ ٥ ؎ : ہدایت کے واضح ہونے کے بعد جو شخص رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کرے گا اور مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلے گا تو جدھر کا وہ رخ کرے گا ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے ، اور ہم اسے جہنم میں داخل کریں گے۔ اور جہنم بری جگہ ہے ، اللہ اسے معاف نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے ، اور شرک کے سوا جو چیز بھی اللہ جس کے لیے چاہے گا معاف کر دے گا۔ اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا وہ بہت بڑی گمراہی میں جا پڑے گا (النساء : ١١٥ ، ١١٦ ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٠٧٥) (حسن )
3037Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: مَا فِي الْقُرْآنِ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ سورة النساء آية 48 ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ، وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ كُوفِيٌّ مِنَ التَّابِعِينَ، وَقَدْ سَمِعَ مِنَ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ يَغْمِزُهُ قَلِيلًا.

علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ قرآن میں کوئی آیت مجھے اس آیت : «إن اللہ لا يغفر أن يشرک به ويغفر ما دون ذلک لمن يشاء» اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے، ہاں اس کے سوا جس کسی بھی چیز کو چاہے گا معاف کر دے گا (النساء : ١١٦ ) ، سے زیادہ محبوب و پسندیدہ نہیں ہے۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) said, ‘Of the verses of the Quran, the dearest to me is this verse: "Surely Allah shall not forgive that anything should be associated with Him, and He shall forgive all besides that to whom He will. (4:48 116)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3037
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے، ٣ - ثویر کی کنیت ابوجہم ہے اور وہ کوفہ کے رہنے والے ہیں تابعی ہیں اور ابن عمر اور ابن زبیر سے ان کا سماع ہے، ابن مہدی ان پر کچھ طعن کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠١١١) (ضعیف الإسناد) (سند میں ثویر شیعی اور ضعیف راوی ہے )
3038Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْصِنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَفِي كُلِّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ كَفَّارَةٌ حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا أَوِ النَّكْبَةَ يُنْكَبُهَا ، ابْنُ مُحَيْصِنٍ هُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «من يعمل سوءا يجز به» جو کوئی برائی کرے گا ضرور اس کا بدلہ پائے گا (النساء : ١٢٣ ) ، نازل ہوئی تو یہ بات مسلمانوں پر بڑی گراں گزری، اس کی شکایت انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے کی، تو آپ نے فرمایا : حق کے قریب ہوجاؤ، اور سیدھے رہو، مومن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اس میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کو کوئی کانٹا چبھ جائے یا اسے کوئی مصیبت پہنچ جائے (تو اس کے سبب سے بھی اس کے گناہ جھڑ جاتے ہیں) ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) said about the verse: "He who does evil shall be recompensed for it." (4: 123) He said that when it was revealed, it seemed hard upon the Muslim s, They complained to the Prophet ﷺ about it. He said, “Do not go to the extremes. Keep to the straight path. And everything that afflicts a believer is an expiabion, even a thorn that pricks him, or a difficulty he encounters.’

صحيح تخريج الطحاوية (390) ، الضعيفة تحت الحديث (2924)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3038
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ١٤ (٢٥٧٤) (تحفة الأشراف : ١٤٥٩٨) (صحیح )
3039Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلا نَصِيرًا سورة النساء آية 123، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا أُقْرِئُكَ آيَةً أُنْزِلَتْ عَلَيَّ ؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَأَقْرَأَنِيهَا فَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنِّي قَدْ كُنْتُ وَجَدْتُ انْقِصَامًا فِي ظَهْرِي فَتَمَطَّأْتُ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَأَيُّنَا لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَإِنَّا لَمُجْزَوْنَ بِمَا عَمِلْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ وَالْمُؤْمِنُونَ فَتُجْزَوْنَ بِذَلِكَ فِي الدُّنْيَا، حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَلَيْسَ لَكُمْ ذُنُوبٌ، وَأَمَّا الْآخَرُونَ فَيُجْمَعُ ذَلِكَ لَهُمْ حَتَّى يُجْزَوْا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ مَجْهُولٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ أَيْضًا، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ.

ابوبکر صدیق (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اس وقت آپ پر یہ آیت : «من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون اللہ وليا ولا نصيرا» نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ابوبکر ! کیا میں تمہیں ایک آیت جو (ابھی) مجھ پر اتری ہے نہ پڑھا دوں ؟ میں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیوں نہیں ؟ ابوبکر (رض) کہتے ہیں : تو آپ نے مجھے (مذکورہ آیت) پڑھائی۔ میں نہیں جانتا کیا بات تھی، مگر میں نے اتنا پایا کہ کمر ٹوٹ رہی ہے تو میں نے اس کی وجہ سے انگڑائی لی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابوبکر کیا حال ہے ! میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بھلا ہم میں کون ہے ایسا جس سے کوئی برائی سرزد نہ ہوتی ہو ؟ اور حال یہ ہے کہ ہم سے جو بھی عمل صادر ہوگا ہمیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (گھبراؤ نہیں) ابوبکر تم اور سارے مومن لوگ یہ (چھوٹی موٹی) سزائیں تمہیں اسی دنیا ہی میں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب تم اللہ سے ملو گے تو تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہوگا، البتہ دوسروں کا حال یہ ہوگا کہ ان کی برائیاں جمع اور اکٹھی ہوتی رہیں گی جن کا بدلہ انہیں قیامت کے دن دیا جائے گا۔

Sayyidina Abu Bakr (RA) as-Siddiq narrated: I was with the Prophet ﷺ when this verse was revealed to him:"He who does evil shall be recompensed for it, and shall not find besides Allah, a protector or a helper." (4: 123) Allah’s Messenger ﷺ said, “O Abu Bakr, shall I not get you to recite a verse revealed to me?” I said, “Of course, O Messenger of Allah ﷺ .” He made me recite it and I do not recall anything but my back broke down and I stretched my limbs. I-Ic asked me, “What is the matter. O Abu Bakr?” I said, “O Messenger of Allah ﷺ may my parents be ransomed to you which of us does riot do evil? Shall we be recompensed with what we do?” Allah’s Messenger ﷺ said, “O Abu Bakr, as for you and the believers, you will be recompensed for it in the world itself so that when you meet your Lord, you do not have a sin against you. And as for the others, their evil will be gathered for them so that they get their recompense on the Day of Resurrection.”

ضعيف الإسناد // ضعيف الجامع الصغير (1237) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3039
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند میں کلام ہے، ٢ - موسیٰ بن عبیدہ حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور احمد بن حنبل نے ضعیف کہا ہے۔ اور مولی بن سباع مجہول ہیں، ٣ - اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ سند سے ابوبکر سے مروی ہے، لیکن اس کی کوئی سند بھی صحیح نہیں ہے، ٤ - اس باب میں ام المؤمنین عائشہ (رض) سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٦٠٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہے، اور مولی بن سباع مجہول )
3040Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَشِيَتْ سَوْدَةُ أَنْ يُطَلِّقَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَاجْعَلْ يَوْمِي لِعَائِشَةَ، فَفَعَلَ فَنَزَلَتْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ سورة النساء آية 128 ، فَمَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ كَأَنَّهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ام المؤمنین سودہ (رض) کو ڈر ہوا کہ نبی اکرم ﷺ انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا : آپ ہمیں طلاق نہ دیں، اور مجھے اپنی بیویوں میں شامل رہنے دیں اور میری باری کا دن عائشہ (رض) کو دے دیں، تو آپ نے ایسا ہی کیا، اس پر آیت «فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير» کوئی حرج نہیں کہ دونوں (میاں بیوی) صلح کرلیں اور صلح بہتر ہے (النساء : ١٢٨ ) ، تو جس بات پر بھی انہوں نے صلح کرلی، وہ جائز ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ابن عباس (رض) کا قول ہے۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that Sayyidah Sawdah (RA) became apprehensive that the Prophet ﷺ might divorce her. She pleaded with him, ‘Do not, divorce me. but retain me and assign my day to Avshah. He did that and the verse was revealed:"There is no blame on the couple if they effect between them a reconciliation; and recomciliation is better (than discord). "(4: 128) Hence, that on which they reconciled is allowed. The quotes are as if the saying of lbn Abbas.

صحيح، الإرواء (2020)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3040
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦١٢٢) (صحیح )
3041Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: آخِرُ آيَةٍ أُنْزِلَتْ أَوْ آخِرُ شَيْءٍ نَزَلَ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ أَحْمَدَ الثَّوْرِيُّ، وَيُقَالُ ابْنُ يُحْمِدَ.

براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی یا آخری چیز جو نازل کی گئی ہے وہ یہ آیت ہے «يستفتونک قل اللہ يفتيكم في الکلالة» ١ ؎۔

Sayvidina Bara (RA) said: The last verse revealed or the last thing revealed was: "They ask you for a pronouncement. Say Allah pronounces to you concerning (the inheritance of) a kalalah (who has no parents and no child)." (4: 176)

صحيح، صحيح أبي داود (2570)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3041
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : آپ سے فتوی پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے اس آدمی کے بارے میں جس کی کوئی اولاد نہ ہو ، نہ ہی ماں باپ ، اللہ حکم دیتا ہے کہ ایسے آدمی کی اگر ایک بہن ہو تو اس کو جائیداد کا آدھا حصہ مل جائے گا ، اگر دو بہن ہوں تو ان دونوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور اگر بھائی بہن مل کر ہوں تو ایک بھائی دو بہن کے برابر حصے ملے گا۔ (النساء : ١٧٦ )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٦٦ (٤٣٦٤) ، وتفسیر النساء ٢٧ (٤٦٠٥) ، والفرائض ١٤ (٦٧٤٤) ، صحیح مسلم/الفرائض ٣ (١٦١٨) ، سنن ابی داود/ الفرائض ٣ (٢٨٨٨) (تحفة الأشراف : ١٧٦٥) (صحیح )
3042Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176، فَقَال لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُجْزِئُكَ آيَةُ الصَّيْفِ .

براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! «يستفتونک قل اللہ يفتيكم في الکلالة» کی تفسیر کیا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے سلسلہ میں تو تمہارے لیے آیت صیف ١ ؎ کافی ہوگی ۔

Sayyidina Bara (RA) reported that a man came and submitted. ‘O Messenger of Allah ﷺ , explain to me the verse. (4: 176) He said: For you that verse is enough which was revealed during summar.’

صحيح، صحيح أبي داود (2571)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3042
Notes · وضاحت
١ ؎ : آیت «صیف» گرمی کے موسم میں حجۃ الواداع کے راستہ میں نازل ہوئی۔ اور «آیت صیف» کے نام سے مشہور ہوئی۔ پوری آیت یوں ہے : «يستفتونک قل اللہ يفتيكم في الکلالة إن امرأ هلک ليس له ولد ــ إلى ــ فللذکر مثل حظ الأنثيين» تک (لوگ تجھ سے فتویٰ پوچھتے ہیں کہہ دو اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں بتاتا ہے) ۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٩٠٦) (صحیح )
3043Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت مائدہ

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ عَلَيْنَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: أَنِّي أَعْلَمُ أَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ أُنْزِلَتْ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

طارق بن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے عمر بن خطاب (رض) سے کہا : امیر المؤمنین ! اگر یہ آیت «اليوم أکملت لکم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لکم الإسلام دينا» آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنا انعام بھرپور کردیا اور تمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پر رضامند ہوگیا (المائدہ : ٣ ) ، ہمارے اوپر (ہماری توریت میں) نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے جس دن وہ نازل ہوئی تھی، عمر بن خطاب (رض) نے اس سے کہا : مجھے خوب معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن نازل ہوئی تھی۔ یہ آیت یوم عرفہ (نویں ذی الحجہ) کو جمعہ کے دن نازل ہوئی تھی ١ ؎۔

Tariq ibn Shihab reported that a Jew spoke to Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) this verse:"This day have I perfected your religoin for you and completed My blessing on you, and approved Al-Islam as a din (code of life) for you." (5: 3) The Jew said, ‘O Ameer ul-Muminin, if it was revealed to us, we would have adopted it a day of Eid (festival).” So, Umar (RA) said, “Indeed, I know the day on which it was It was revealed on the day of Arafah, a Friday.” (It is to say that it was revealed on eed to say of adopting it as one). [Bukhari 45, Muslim 3017, Nisai 5027]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3043
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس سے اچھا اور خوشی کا دن اور کون سا ہوگا ، یہ دونوں دن تو ہمارے لیے عید اور خوشی کے دن ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٣٣ (٤٥) ، والمغازي ٧٧ (٤٤٠٧) ، وتفسیر المائدة ٢ (٤٦٠٦) ، والإعتصام ١ (٧٢٦٨) ، صحیح مسلم/التفسیر (٣٠١٧) ، سنن النسائی/الحج ١٩٤ (٣٠٠٦) ، والإیمان ١٨ (٥٠١٥) (تحفة الأشراف : ١٠٤٦٨) ، و مسند احمد (١/٢٨، ٣٩) (صحیح )
3044Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت مائدہ

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 وَعِنْدَهُ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: لَوْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ عَلَيْنَا لَاتَّخَذْنَا يَوْمَهَا عِيدًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمْعَةٍ وَيَوْمِ عَرَفَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ صَحِيحٌ.

عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) نے آیت «اليوم أکملت لکم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لکم الإسلام دينا» پڑھی، ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا : اگر یہ آیت ہم (یہودیوں) پر نازل ہوئی ہوتی تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے اس دن کو ہم عید (تہوار) کا دن بنا لیتے یہ سن کر ابن عباس (رض) نے کہا : یہ آیت عید ہی کے دن نازل ہوئی ہے۔ اس دن جمعہ اور عرفہ کا دن تھا۔ (اور یہ دونوں دن مسلمانوں کی عید کے دن ہیں) ۔

Ammar ibn Abu Ammar reported that when Sayyidina lbn Abbas (RA) recited the verse."This day have I perfected your religion for you, completed My favour upon you, and have chosen for you Islam as your religion."(5:3) A Jew was sitting in his assembly. He remarked, ‘if it had been revealed to us then have taken that day as eed day.” So, Ibn Abbas (RA) said, “Indeed, it was revealed on the d eeds on a Friday that was also the day of Arafah (on which Hajj is performed).

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3044
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٢٩٦) (صحیح الإسناد )
3045Sunan At-Tirmidhiصحیح

تفسیر سورت مائدہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَمِينُ الرَّحْمَنِ مَلْأَى سَحَّاءُ لَا يُغِيضُهَا اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، قَالَ: أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا فِي يَمِينِهِ، وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَرْفَعُ وَيَخْفِضُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَذَا الْحَدِيثُ فِي تَفْسِيرُ هَذِهِ الْآيَةِ وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ سورة المائدة آية 64 وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَتْهُ الْأَئِمَّةُ نُؤْمِنُ بِهِ كَمَا جَاءَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُفَسَّرَ أَوْ يُتَوَهَّمَ، هَكَذَا قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ مِنْهِمُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ تُرْوَى هَذِهِ الْأَشْيَاءُ وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلَا يُقَالُ كَيْفَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوتا ہے، (کبھی خالی نہیں ہوتا) بخشش و عطا کرتا رہتا ہے، رات و دن لٹانے اور اس کے دیتے رہنے سے بھی کمی نہیں ہوتی، آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے دیکھا (سوچا ؟ ) جب سے اللہ نے آسمان پیدا کیے ہیں کتنا خرچ کرچکا ہے ؟ اتنا کچھ خرچ کر چکنے کے باوجود اللہ کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس میں کچھ بھی کمی نہیں ہوئی۔ اس کا عرش پانی پر ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے وہ اسے بلند کرتا اور جھکاتا ہے (جسے چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم) ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ I said, “The right Hand of the Compossionate is full (of treasures) showering bounties day and night. There never is any loss at any time. Do you realise how much He has spent since He has created the heavns. It has not diminished what is in His Right Hand in the least. His Throne is on water. In His other Hand are the scales that He lowers and raises.” [Ahmed 10505,Bukhari 4684,Muslim 993]

صحيح، ابن ماجة (197)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3045
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ حدیث اس آیت «وقالت اليهود يد اللہ مغلولة غلت أيديهم ولعنوا بما قالوا بل يداه مبسوطتان ينفق كيف يشاء» ١ ؎ کی تفسیر ہے، اس حدیث کے بارے میں ائمہ دین کی روایت یہ ہے کہ ان پر ویسے ہی ایمان لائیں گے جیسے کہ ان کا ذکر آیا ہے، ان کی نہ کوئی تفسیر کی جائے گی اور نہ ہی کسی طرح کا وہم و قیاس لڑایا جائے گا۔ ایسا ہی بہت سے ائمہ کرام : سفیان ثوری، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، ابن مبارک وغیرہم نے کہا ہے۔ یہ چیزیں ایسی ہی بیان کی جائیں گی جیسی بیان کی گئی ہیں اور ان پر ایمان رکھا جائے گا لیکن ان کی کیفیت کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، انہی کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں اور ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے (المائدہ : ٦٤ ) ۔ ٢ ؎ : یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے جن چیزوں کا ذکر کیا ہے اس کی نہ تو تاویل کی جائے گی اور نہ ہی کوئی تفسیر ، یعنی یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس کا ہاتھ ایسا ایسا ہے بلکہ جیسی اس کی ذات ہے ایسے ہی اس کا ہاتھ بھی ہے ، اس کی کیفیت بیان کئے بغیر اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر ھود ٢ (٤٦٨٤) ، والتوحید ١٩ (٧٤١١) ، و ٢٢ (٧٤١٩) ، صحیح مسلم/الزکاة ١١ (٩٩٣) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٩٧) (تحفة الأشراف : ١٣٨٦٣) ، و مسند احمد (٢/٣١٣، ٥٠٠) (صحیح )