ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی حفاظت و نگرانی کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمک من الناس» اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا (المائدہ : ٦٧ ) ، نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا : تم (اپنے گھروں کو) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ used to be guarded and protected till this verse was revealed"And Allah will protect you from (evil-minded) men." (5: 67) So, Allah’s Messenger ﷺ took his head out of his tent and said to them, ‘O you people! Go! Indeed, Allah will protect me.
حسن
حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3046
اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3046
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔ بعض نے یہ حدیث جریری کے واسطہ سے، عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی حفاظت و نگہبانی کی جاتی تھی، اور انہوں نے اس روایت میں عائشہ (رض) کا ذکر نہیں کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اللہ کا یہ وعدہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ خاص تھا ، مسلمانوں کے دوسرے ذمہ دار اپنی حفاظت کے لیے پہرہ داری کا نظام اپنا سکتے ہیں۔
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب بنی اسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو انہیں ان کے علماء نے روکا مگر وہ لوگ باز نہ آئے، اس کے باوجود وہ (علماء) ان کی مجلسوں میں ان کے ساتھ بیٹھے، ان کے ساتھ مل کر مل کر کھائے پئے تو اللہ نے بعض کے دل بعض سے ملا دیئے ١ ؎ اور ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت بھیجی، اور ایسا اس وجہ سے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور مقررہ حدود سے آگے بڑھ جاتے تھے ، پھر رسول اللہ ﷺ سنبھل کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا : نہیں، قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ! تم اس وقت تک نجات نہ پاؤ گے جب تک کہ تم ان بدکاروں کو برائی سے روک نہ دو ۔ ان کو بھلائی کی طرف موڑ نہ دو ۔
Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger said, “When the Banu Israil plunged into sin, their ulama disuaded them. But they did not cease. The ulama attended their company, sat with them, ate and drank with them. So Allah reconciled their hearts with each other and He cursed them with the tongue of Dawud (AS) and and of Eesa ibn Maryam (AS) because they disbelieved and transgressed the limits.” The narrator went on to say that Allah’s Messenger ﷺ who was sitting in a reclined manner, sat up straight and said, No, by Him Who has my soul in His hand, not until you stop the oppressor from committing oppression on others.” [Abu Dawud 4336, Ibn e Majah 4006, Ahmed 37131
ضعيف، ابن ماجة (4006)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3047
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں : یزید نے کہا کہ سفیان ثوری اس روایت میں عبداللہ بن مسعود کا نام نہیں لیتے ہیں، ٣ - یہ حدیث محمد بن مسلم بن ابی الوضاح سے بھی روایت کی گئی ہے، وہ علی بن بذیمہ سے، علی بن بذیمہ ابوعبیدہ سے اور ابوعبیدہ عبداللہ بن مسعود (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں، ٤ - بعض راوی اسے ابوعبیدہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی ان میں کوئی اچھا اور کوئی برا نہ رہا ، سب ایک جیسے مستحق عذاب ہوگئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الملاحم ١٧ (٤٣٣٦) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠٠٦) (تحفة الأشراف : ٩٦١٤) (ضعیف) (سند میں ابو عبیدہ کا اپنے باپ عبد اللہ بن مسعود (رض) سے سماع نہیں ہے )
ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو جو کچھ اس نے اسے کرتے دیکھا تھا وہ چیز اسے اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن نازل ہوا، آپ نے «لعن الذين کفروا من بني إسرائيل علی لسان داود وعيسى ابن مريم ذلک بما عصوا وکانوا يعتدون» سے لے کر «ولو کانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولکن كثيرا منهم فاسقون» ١ ؎ تک پڑھا۔ یہ باتیں کرتے وقت نبی اکرم ﷺ ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لیکن جب گفتگو اس مقام پر پہنچی تو آپ سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا : نہیں، تم نجات نہ پاؤ گے، تم عذاب الٰہی سے بچ نہ سکو گے جب تک کہ تم ظالم کا ہاتھ پکڑ نہ لو، اور اسے پوری طرح حق کی طرف موڑ نہ دو ۔
Sayyidina Abu Ubaydah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, “When the Banu Isra’il deteriorated, a person who found his brother commit a sin would reprimand him; but if he found him again the next day, he did not stop him. The mAnas (RA) commission of sin did not even prevent him from eating and drinking and associating with him. So Allah made their hearts compatible with each other and he revealed about them in the Quran: "Cursed were those who disblieved from among the children of Israil by the tongue of Dawud, and of Eesa, son of Maryam. That was because they disobeyed and used to transgress the limits." He recited it up to: "And had they believed in Allah and the Prophet ﷺ and that which is revealed to him, they would not have taken the disbelievers as friends; but many of them are transgresors."(5: 78-81) Allahs Messenger ﷺ sat up straight though he had been reclining hitherto. He said, “No! Not until you hold the hand of the oppressar, and incline him firrnI to the Truth.’ [Ibn e Majah 4006]
ضعيف انظر ما قبله (3047)
ضعيف انظر ما قبله (3047 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3048
اس سند سے محمد بن مسلم نے علی بن بذیمہ سے علی بن بذیمہ نے ابوعبیدہ سے، اور ابوعبیدہ نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ٢ ؎۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3048
Notes · وضاحت
١ ؎ : بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تھا ، ان پر داود اور مسیح ابن مریم (علیہم السلام) کی زبانی لعنت بھیجی گئی تھی۔ کیونکہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے آگے بڑھ جاتے۔ جو بھی منکر ، قوم کرتی ، اور سے وہ لوگوں کو روکتے نہ تھے۔ وہ بہت ہی برا کرتے تھے۔ تم ان میں سے بہتوں کو دیکھ رہے ہو کافروں سے دوستی کرتے ہیں ، انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا وطیرہ اختیار کیا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ ان سے سخت ناراض ہے ، وہ آخرت میں ہمیشہ ہمیش عذاب میں رہنے والے ہیں۔ اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور اس نبی پر اور جو چیز اس نبی پر اتری ہے اس پر ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے ، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق و بدکار ہیں (المائدہ : ٧٨ ) ۔
٢ ؎ : جو بھی ہو بہرحال یہ سند ضعیف ہے ، اگر سند میں عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہے تو ان سے ان کے بیٹے ابوعبیدہ کا سماع نہیں ہے ، اور اگر ان کا ذکر نہیں ہے تب تو یہ سند معضل ہوگئی (یعنی دو راوی سند سے ساقط ہوگئے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٩٥٩٠) (ضعیف) (یہ مرسل ہے، ابو عبیدہ تابعی ہیں)
انظر حدیث رقم ٣٠٤٧ (ضعیف )
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! جب میں گوشت کھا لیتا ہوں تو عورت کے لیے بےچین ہوجاتا ہوں، مجھ پر شہوت چھا جاتی ہے۔ چناچہ میں نے اپنے آپ پر گوشت کھانا حرام کرلیا ہے۔ (اس پر) اللہ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل اللہ لکم ولا تعتدوا إن اللہ لا يحب المعتدين وکلوا مما رزقکم اللہ حلالا طيبا» مسلمانو ! اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام مت کرو اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور جو کچھ اللہ عزوجل نے تمہیں عطا کر رکھا ہے اس میں پاکیزہ حلال کھاؤ (المائدہ : ٨٧ ) ، نازل فرمائی۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3054
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض محدثین نے اسے عثمان بن سعد سے مرسلاً روایت کیا ہے، اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں ہے، ٣ - خالد حذاء نے بھی اس حدیث کو عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے دعا کی اے اللہ شراب کے بارے میں ہمارے لیے تسلی بخش صاف صاف حکم بیان فرما، تو سورة البقرہ کی پوری آیت «يسألونک عن الخمر والميسر» ١ ؎ نازل ہوئی۔ (جب یہ آیت نازل ہوچکی) تو عمر (رض) بلائے گئے اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی۔ (یہ آیت سن کر) عمر (رض) نے پھر کہا : اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کا واضح حکم بیان فرمایا : تو سورة نساء کی آیت «يا أيها الذين آمنوا لا تقربوا الصلاة وأنتم سکاری» ٢ ؎ نازل ہوئی، عمر (رض) پھر بلائے گئے اور انہیں یہ آیت بھی پڑھ کر سنائی گئی، انہوں نے پھر کہا : اے اللہ ! ہمارے لیے شراب کا حکم صاف صاف بیان فرما دے۔ تو سورة المائدہ کی آیت «إنما يريد الشيطان أن يوقع بينكم العداوة والبغضاء في الخمر والميسر» سے «فهل أنتم منتهون» ٣ ؎ تک نازل ہوئی، عمر (رض) پھر بلائے گئے اور آیت پڑھ کر انہیں سنائی گئی، تو انہوں نے کہا : ہم باز رہے ہم باز رہے۔
It is reported from Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab that he prayed, “O Allah, make clear to us the case of wine, an unambiguous statement. So, the verse that is in al-Baqarah as revealed: - "They ask thee concerning wine and gambling. Say: "In them is great sin, and some profit, for men; but the sin is greater than the profit." (2 :218) Umar (RA) was summoned and the verse was read out to him. But he prayed again, “O Allah, make clear to us the case of wine, in clear words.” So, the verse of an-Nisa was revealed: "O you who believe! Draw not near salah while you are intoxicated." (4:43) Umar (RA) was summoned and this verse was read out to him. But, he again prayed, “O Allah, make the case of wine clear to us absolutely clear.” So, the verse in al-Maidah was revealed: "Satan only desires to percipitate enimity and hatred between you by means of wine and gambling, and would bar you from the remembrance of Allah, and from the salah, Will you then desist! " (5: 91)Umar (RA) was summoned and it was read out to him. He said, “We desist. We desist !" [Ibn e Majah 2884]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3049
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اسرائیل سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : تم سے شراب اور جوئے کا مسئلہ پوچھتے ہیں تو کہہ دیجئیے ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔ اور لوگوں کے لیے نفع بھی ہیں ، لیکن ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا (اور زیادہ) ہے (البقرہ : ٢١٩ ) ۔ ٢ ؎ : اے ایمان والو ! نشہ و مستی کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ (النساء : ٤٣ ) ۔ ٣ ؎ : شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب خوری اور قمار بازی کی وجہ سے تم میں عداوت اور بغض ڈال دے ، اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے ، تو کیا تم باز نہ آؤ گے ؟ (المائدہ : ٩١ ) ۔
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے نبی اکرم ﷺ کے کچھ صحابہ انتقال فرما گئے۔ پھر جب شراب حرام ہوگئی تو کچھ لوگوں نے کہا : ہمارے ان ساتھیوں کا کیا ہوگا جو شراب پیتے تھے اور انتقال کر گئے، تو آیت نازل ہوئی «ليس علی الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے (قبل حرمت) وہ جو کچھ کھا پی چکے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے جب کہ وہ (قبل حرمت کھاتے وقت) متقی رہے، ایمان پر رہے اور نیک عمل کرتے رہے (المائدہ : ٩٣ ) ۔
Sayyidina Bara (RA) reported that some of the sahabah (RA) of the Prophet ﷺ died before prohibition of wine. So, when wine was prohibitted, a man wondered, “How will it be with our friends who died while they used to drink wine?” So, this verse was revealed: "On those who believe and do righteous deeds there is no blame for what they may have eaten (in the past) provided they abstain (from the forbidden), and believe (firmly), and do righteous deeds." (5: 93)
صحيح بما بعده (3051)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3050
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعبہ نے بھی ابواسحاق کے واسطہ سے براء سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٨٢١) (صحیح) (آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
اس سند سے ابواسحاق نے براء بن عازب (رض) سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ انتقال کر گئے، وہ لوگ شراب پیتے تھے، پھر شراب کی حرمت آ گئی تو نبی اکرم ﷺ کے کچھ صحابہ نے کہا : ہمارے ان ساتھیوں کا کیا حال ہوگا ؟ جو شراب پیتے تھے اور وہ مرچکے ہیں ؟ تو (اس وقت) آیت «ليس علی الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا» نازل ہوئی۔
Muhammad ibn Bashshar reported this hadith from Muhammad ibn Ja’far, from Shubah, from Abu Ishaq that Bara ibn Aazib narrated, Many of the sahabah (RA) died while they were accustomed to consume wine. So people thought what would become of them.’ So, this verse "On those who believe and do righteous deeds there is no blame for what they may have eaten (in the past) provided they abstain (from the forbidden), and believe (firmly), and do righteous deeds." (5 : 93) was revealed.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3051
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٨٨٣) (صحیح الإسناد )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو لوگ شراب پیتے تھے اور مرگئے ان کا کیا ہوگا ؟ اس وقت آیت «ليس علی الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے (حرمت سے پہلے) کھائے پئے جب کہ انہوں نے پرہیزگاری اختیار کرلی، ایمان لائے اور اچھے عمل کیے (المائدہ : ٩٣ ) ، نازل ہوئی۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when wine was prohibitted, the sahabah said, “O Messenger of Allah ﷺ , how will it be with those who have died though they were used to drink wine.” So this verse "On those who believe and do righteous deeds there is no blame for what they may have eaten (in the past) provided they abstain (from the forbidden), and believe (firmly), and do righteous deeds."(5 : 93) was revealed.
صحيح بما قبله (3051)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3052
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦١١٨) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «ليس علی الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا إذا ما اتقوا وآمنوا وعملوا الصالحات» نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم انہی میں سے ہو ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah (RA) narrated: When this verse; "On those who believe and do righteous deeds there is no blame for what they may have eaten (in the past) provided they abstain (from the forbidden), and believe (firmly), and do righteous deeds."(5 : 93) was revealed, Allah’s Messenger ﷺ said to me, “You are among them.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3053
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ ابن مسعود (رض) بھی ان لوگوں میں ہیں جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کیے ، یہ مطلب نہیں ہے کہ شراب کی حرمت سے پہلے انتقال کر جانے والوں میں ابن مسعود بھی ہیں ، کیونکہ وہ تو زندہ تھے اور انہی سے آپ ﷺ فرما رہے تھے۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «ولله علی الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» جو لوگ خانہ کعبہ تک پہنچ سکتے ہوں ان پر اللہ کے حکم سے حج کرنا فرض ہے (آل عمران : ٩٧ ) ، تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال ؟ آپ خاموش رہے، لوگوں نے پھر کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہر سال فرض ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو حج ہر سال کے لیے فرض ہوجاتا ، پھر اللہ نے یہ آیت اتاری : «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم» اے ایمان والو ! بہت سی ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار معلوم ہو (المائدہ : ١٠١ ) ۔
Sayyidina Ali (RA) narrated: When this verse;"And pilgrimage to the House is a duty of mankind towards Allah for him who is able to make his way to it." (3:97) was revealed, the sahabah asked, ‘O Messenger of Allah ﷺ , is that every year?” He kept quiet. They repeated (their question), “O Messenger of Allah ﷺ is that every year?” He said, “No, and if I had said ‘yes’ then that would have become obligatory.” Allah the Glorious, the Majestic revealed: "O you who believe! Question not about things which, if they were disclosed to you, would annoy you."(5 :101) [Ibn e Majah 2884]
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا باپ کون ہے ١ ؎ آپ نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے، راوی کہتے ہیں : پھر یہ آیت نازل ہوئی : «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم» اے ایمان والو ! ایسی چیزیں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ بیان کردی جائیں تو تم کو برا لگے ۔
Sayyidina Anas (RA) narrated: A man asked, “O Messenger of Allah ﷺ , who is my father?” He said, “Your father si so-and-so.” Then the verse. "O you who believe! Question not about things which, if they were disclosed to you, would annoy you." (5 :101) was revealed. [Bukhari 4621,Muslim 2359,Ahmed 13146]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3056
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ عبداللہ بن حذافہ سہمی ہیں ، سوال اس لیے کرنا پڑا کہ لوگ انہیں غیر باپ کی طرف منسوب کر رہے تھے۔
ابوبکر صدیق (رض) سے روایت ہے، انہوں نے کہا : اے لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسکم لا يضرکم من ضل إذا اهتديتم» ١ ؎ اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا بھی ہے کہ جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتے ہوئے) دیکھیں پھر بھی اس کے ہاتھ پکڑ نہ لیں (اسے ظلم کرنے سے روک نہ دیں) تو قریب ہے کہ ان پر اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آ جائے (اور وہ ان سب کو اپنی گرفت میں لے لے) ۔
Sayyidina Abu Bakr (RA) as-Siddiq (RA) said, “O people, you do read this verse:"O you who believe! Guard your own souls. He who has gone astray cannot harm you, if you are rightly guided." (5 : 105) I had heard Allah’s Messeneger ﷺ say: When people observe a wrongdoer and do not hold his hand away from that then it is near that Allah may enclose them in His punishment.
صحيح مضی برقم (2257)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3057
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - کئی ایک نے یہ حدیث اسماعیل بن خالد سے مرفوعاً اسی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٣ - بعض لوگوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے بلکہ ابوبکر (رض) کے قول کے طور پر اسماعیل سے، اسماعیل نے قیس سے اور قیس نے ابوبکر سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مسلمانو ! تمہارے ذمہ ہے اپنے آپ کو بچانا اور سنبھالنا ، جب تم سیدھی راہ پر رہو گے تو تمہیں گمراہ شخص نقصان نہ پہنچا سکے گا (المائدہ : ١٠٥ ) ۔ ٢ ؎: یعنی اپنے آپ کو بچانے اور سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ ظالم کو ظلم سے روک دیا جائے ایسا نہ کرنے سے اللہ کی طرف سے عمومی عذاب آنے کا خطرہ ہے پھر وہ سب کو اپنی گرفت میں لے لے گا۔
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی (رض) کے پاس آ کر پوچھا : اس آیت کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے کہا : کون سی آیت ؟ میں نے کہا : آیت یہ ہے : «يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسکم لا يضرکم من ضل إذا اهتديتم» انہوں نے کہا : آگاہ رہو ! قسم اللہ کی تم نے اس کے متعلق ایک واقف کار سے پوچھا ہے، میں نے خود اس آیت کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا، آپ نے فرمایا : بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم کرتے رہو اور بری باتوں سے روکتے رہو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ لوگ بخالت کے راستے پر چل پڑے ہیں، خواہشات نفس کے پیرو ہوگئے ہیں، دنیا کو آخرت پر حاصل دی جا رہی ہے اور ہر عقل و رائے والا بس اپنی ہی عقل و رائے پر مست اور مگن ہے تو تم خود اپنی فکر میں لگ جاؤ، اپنے آپ کو سنبھالو، بچاؤ اور عوام کو چھوڑ دو ، کیونکہ تمہارے پیچھے ایسے دن آنے والے ہیں کہ اس وقت صبر کرنا (کسی بات پر جمے رہنا) ایسا مشکل کام ہوگا جتنا کہ انگارے کو مٹھی میں پکڑے رہنا، اس زمانہ میں کتاب و سنت پر عمل کرنے والے کو تم جیسے پچاس کام کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا۔ (اس حدیث کے راوی) عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں : عتبہ کے سوا اور کئی راویوں نے مجھ سے اور زیادہ بیان کیا ہے۔ کہا گیا : اللہ کے رسول ! (ابھی آپ نے جو بتایا ہے کہ پچاس عمل صالح کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا تو) یہ پچاس عمل صالح کرنے والے ہم میں سے مراد ہیں یا اس زمانہ کے لوگوں میں سے مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ اس زمانہ کے، تم میں سے ۔
Abu Umayyah Sha’bani narrated: I went to Abu Tha’labah Khushani and asked him what he said about this verse. He asked, “Which verse?” said: "O you who believe! Guard your own souls. He who has gone astray cannot harm you, if you are rightly guided." (5 : 105) He said, ‘Know that I had asked the well- knowing, I had asked Allah’s Messenger ﷺ about it. He said, ‘Enjoin righteousness and forbid evil till you see that a miser is being obeyed, base desires are pursued, the world is preferred to the Hereafter and everybody goes by his own opinion. Then, it is incumbent on you to think of yourself and leave others alone, for, days await you when patience would be like handling burning coal. In such times, one who abides by the sunnah will be given reward like fifty men’s (today)’.” Abdullah Ibn Mubarak said that narrators other than Utbah added this portion: Someone asked, “O Messenger of Allah ﷺ , is the reward of fifty men like us or like them?” He said, “No, rather reward of fifty men of you.” [Abu Dawud 4341, Ibn e Majah 4014]
ضعيف، لکن بعضه صحيح فانظر الحديث المتقدم (2361) نقد الکتاني (27 / 27) ، المشکاة (5144) ، //، صحيح أبي داود - باختصار السند (1844 - 2375) //، الصحيحة (594) // ضعيف الجامع الصغير (2344) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3058
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الملاحم ١٧ (٤٣٤١) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢١ (٤٠١٤) (تحفة الأشراف : ١١٨٨١) (ضعیف) (سند میں عمرو بن جاریہ اور ابو امیہ شعبانی لین الحدیث راوی ہیں، مگر اس کے بعض ٹکڑے صحیح ہیں، دیکھیے سابقہ حدیث )
تمیم داری (رض) سے روایت ہے، وہ اس آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدکم الموت» ١ ؎ کے سلسلے میں کہتے ہیں : میرے اور عدی بن بداء کے سواء سبھی لوگ اس آیت کی زد میں آنے سے محفوظ ہیں، ہم دونوں نصرانی تھے، اسلام سے پہلے شام آتے جاتے تھے تو ہم دونوں اپنی تجارت کی غرض سے شام گئے، ہمارے پاس بنی ہاشم کا ایک غلام بھی پہنچا، اسے بدیل بن ابی مریم کہا جاتا تھا، وہ بھی تجارت کی غرض سے آیا تھا، اس کے پاس چاندی کا ایک پیالہ تھا جسے وہ بادشاہ کے ہاتھ بیچ کر اچھے پیسے حاصل کرنا چاہتا تھا، یہی اس کی تجارت کے سامان میں سب سے بڑی چیز تھی۔ (اتفاق ایسا ہوا کہ) وہ بیمار پڑگیا، تو اس نے ہم دونوں کو وصیت کی اور ہم سے عرض کیا کہ وہ جو کچھ چھوڑ کر مرے وہ اسے اس کے گھر والوں کو پہنچا دیں۔ جب وہ مرگیا تو ہم نے یہ پیالہ لے لیا اور ہزار درہم میں اسے بیچ دیا، پھر ہم نے اور عدی بن بداء نے اسے آپس میں تقسیم کرلیا، پھر ہم اس کے بیوی بچوں کے پاس آئے اور جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ ہم نے انہیں واپس دے دیا، جب انہیں چاندی کا جام نہ ملا تو انہوں نے ہم سے اس کے متعلق پوچھا، ہم نے کہا کہ جو ہم نے آپ کو لا کردیا اس کے سوا اس نے ہمارے پاس کچھ نہ چھوڑا تھا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کے مدینہ جانے کے بعد میں نے اسلام قبول کرلیا، تو میں اس گناہ سے ڈر گیا، چناچہ میں اس کے گھر والوں کے پاس آیا اور پیالہ کی صحیح خبر انہیں دے دی، اور اپنے حصہ کے پانچ سو درہم انہیں ادا کر دئیے، اور انہیں یہ بھی بتایا کہ میری طرح (عدی بن بداء) کے پاس بھی پیالہ کی قیمت کے پانچ سو درہم ہیں پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس پکڑ کر لائے، آپ نے ان سے ثبوت مانگا تو وہ لوگ کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے۔ پھر آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس سے اس چیز کی قسم لیں جسے اس کے اہل دین اہم اور عظیم تر سمجھتے ہوں تو اس نے قسم کھالی۔ اس پر آیت «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدکم الموت» سے لے کر «أو يخافوا أن ترد أيمان بعد أيمانهم» ٢ ؎ تک نازل ہوئی۔ تو عمرو بن العاص (رض) اور (بدیل کے وارثوں میں سے) ایک اور شخص کھڑے ہوئے اور انہوں نے قسم کھائی کہ عدی جھوٹا ہے، پھر اس سے پانچ سو درہم چھین لیے گئے۔
Sayyidina Tamim Dari (RA) referred to this verse: "O ye who believe! When death approaches any of you, (take) witnesses among yourselves when making bequests,- two just men of your own (brotherhood) or others from outside if ye are journeying through the earth, and the chance of death befalls you (thus). If ye doubt (their truth), detain them both after prayer, and let them both swear by Allah: "We wish not in this for any worldly gain, even though the (beneficiary) be our near relation: we shall hide not the evidence before Allah: if we do, then behold! the sin be upon us!"(5:106) He said, Apart from me and Adi ibn Baddah everyone was absioved.’ They had been both ChistiAnas (RA) travelling to and from Syrian before embracing Islam. Once while they went to Syria on a trade journey, the freedom of Banu Sahm Budayl ibn Abu Maryam came to them. He had a silver drinking glass with him which he intended to present to the king this being a precious merchandise. But, he fell ill and instructed the two men to deliver hie legacy to his family. Tamim said, “When he died, we sold the drinking glass for a thousand dirham and divided the proceeds between the two of us, myself and Adi ibn Badda. When we came to his family, we gave them what we had, and they missed the drinking glass. Theyaske4 us about it and we said that he had not left behind anything besides that (which we gave them) and he had not given us anything else. When I embraced Islam after the Prophet’s ﷺ arrival at Madinah, I was overwhelmed with this sin. So, I went to his family and disclosed to them the facts and paid them five hundred dinars telling them that my friend had as much. They took him to Allah’s Messenger ﷺ and he asked to produce witness which they did not have. So he commanded them to ask Adi to swear on the most valuable of his religion. He did take the oath.” Allah revealed the verse: "O ye who believe! When death approaches any of you, (take) witnesses among yourselves when making bequests,- two just men of your own (brotherhood) or others from outside if ye are journeying through the earth, and the chance of death befalls you (thus). If ye doubt (their truth), detain them both after prayer, and let them both swear by Allah: "We wish not in this for any worldly gain, even though the (beneficiary) be our near relation: we shall hide not the evidence before Allah: if we do, then behold! the sin be upon us!" (5:106) But if it be discovered that both of them merited the sin (of perjury), then two others shall stand up in their place, from among the nearest of those whose rights were sinned against so they should both swear by Allah (saying), “Certainly our testimony is truer than the testimony of these two, and we shall not have transgressed, for then we would certainly be among the evildoers.” Thus it is more likely that they will bear testimony in its exact form, or else they will fear that after their oaths, other oaths will be admitted in rebuttal of (their) oaths. (5: 106) So Amr ibn al-Aas stood up as did another man and they each took the oath. The five hundred dinars were taken away from Adi ibn Baddah.
١ - یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند صحیح نہیں ہے، ٢ - ابوالنضر جن سے محمد بن اسحاق نے یہ حدیث روایت کی ہے، وہ میرے نزدیک محمد بن سائب کلبی ہیں، ابوالنضر ان کی کنیت ہے، محدثین نے ان سے روایت کرنی چھوڑ دی ہے، وہ صاحب تفسیر ہیں (یعنی مفسرین میں جو کلبی مشہور ہیں وہ یہی شخص ہیں) میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : محمد بن سائب کلبی کی کنیت ابوالنضر ہے، ٣ - اور ہم سالم ابوالنضر مدینی کی کوئی روایت ام ہانی کے آزاد کردہ غلام صالح سے نہیں جانتے۔ اس حدیث کا کچھ حصہ مختصراً کسی اور سند سے ابن عباس (رض) سے مروی ہے (جو آگے آ رہا ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مسلمانو ! جب تم میں سے کسی کے مرنے کا وقت آن پہنچے تو وصیت کرنے کے وقت تم مسلمانوں میں سے دو عادل گواہ موجود ہونے چاہیں۔ (مائدہ : ١٠٧ ) ٢ ؎ : اے ایمان والو ! تمہارے آپس میں کے (مسلمانوں یا عزیزوں میں سے) معتبر شخصوں کا گواہ ہونا مناسب ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو وہ دو شخص ایسے ہوں کہ دیندار ہوں خواہ تم میں سے ہوں یا اور مذہب کے لوگوں میں سے دو شخص ہوں ، اگر تم کہیں سفر میں گئے ہو اور موت آ جائے اگر تم کو شبہ ہو تو ان دونوں کو بعد نماز (عصر) کے بعد کھڑا کرلو پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی نفع نہیں لینا چاہیئے اگرچہ کوئی رشتہ دار بھی ہو اور نہ ہی ہم اللہ تعالیٰ کی گواہی کو ہم پوشیدہ رکھیں گے ، اگر ہم ایسا کریں ، تو ہم اس حالت میں سخت گنہگار ہوں گے ، (یوں قسم کھا کر وہ گواہی دیں) پھر اگر اس کی اطلاع ہو کہ وہ دونوں گواہ کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان لوگوں میں سے کہ جن کے مقابلے میں گناہ کا ارتکاب ہوا تھا اور دو شخص جو سب میں قریب تر ہیں جہاں وہ دونوں کھڑے ہوئے تھے یہ دونوں کھڑے ہوں پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ بالیقین ہماری قسم ان دونوں کی اس قسم سے زیادہ راست ہے اور ہم نے ذرا تجاوز نہیں کیا اگر ہم بھی ایسا کریں تو ہم اس حالت میں سخت ظالم ہوں گے ، یہ قریب ذریعہ ہے اس امر کا کہ وہ لوگ واقعہ کو ٹھیک طور پر ظاہر کریں یا اس بات سے ڈر جائیں کہ ان سے قسمیں لینے کے بعد قسمیں الٹی پڑجائیں گی ، اور اللہ سے ، ڈرتے رہو اور اس کا حکم کان لگا کر سنو ! اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو (یعنی فاسقوں اور مجرموں کو) ہدایت کے راستے میں نہیں لگایا کرتا (المائدہ : ، ١٠٦ ١٠٨) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : لم یذکرہ في مظانہ) (ضعیف الإسناد جداً ) (سند میں باذان مولی ام ہانی سخت ضعیف راوی ہے )
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ بنی سہم کا ایک شخص، تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ (سفر پر) نکلا اور یہ سہمی (جو تمیم داری اور عدی کا ہم سفر تھا) ایک ایسی سر زمین میں انتقال کر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب اس کے دونوں ساتھی اس کا ترکہ لے کر آئے تو اس کے گھر والے (ورثاء) کو اس کے متروکہ سامان میں چاندی کا وہ پیالہ نہ ملا جس پر سونے کا جڑاؤ تھا، چناچہ (جب مقدمہ پیش ہوا) رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے قسم کھلائی۔ (اور انہوں نے قسم کھالی کہ ہمیں پیالہ نہیں ملا تھا) لیکن وہ پیالہ سہمی کے گھر والوں کو مکہ میں کسی اور کے پاس مل گیا، انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے۔ تب سہمی کے وارثین میں سے دو شخص کھڑے ہوئے۔ اور انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ ہماری شہادت ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔ اور پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : انہیں لوگوں کے بارے میں «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم» والی آیت نازل ہوئی ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a man of Banu Sahm travelled with Tamim Dan and Adi ibn Badda. He died at a place where there was no Muslim . When they came with his property, a drinking cup of silver, gold plated, was missing. So, Allah’s Messenger ﷺ made them swear. Later the dirnking cup was found in Makkah and (the buyer) said that it was bought from Tamim Dan and Adi. So, two men to the heirs of Sahm stood up and swore by Allah testifying that their testimony was truer than the testimony of the other two, and that the drinking cup belonged to their man. It was about them that the verse. O ye who believe! When death approaches any of you, (take) witnesses among yourselves when making bequests,- two just men of your own (brotherhood) or others from outside if ye are journeying through the earth, and the chance of death befalls you (thus). If ye doubt (their truth), detain them both after prayer, and let them both swear by Allah: "We wish not in this for any worldly gain, even though the (beneficiary) be our near relation: we shall hide not the evidence before Allah: if we do, then behold! the sin be upon us!" (5: 106) was revealed. [Bukhari 2780,Abu Dawud 3606]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3060
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، یہ ابن ابی زائدہ کی روایت ہے۔
عمار بن یاسر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر) آسمان سے روٹی اور گوشت کا دستر خوان اتارا گیا اور حکم دیا گیا کہ خیانت نہ کریں نہ اگلے دن کے لیے ذخیرہ کریں، مگر انہوں نے خیانت بھی کی اور جمع بھی کیا اور اگلے دن کے لیے اٹھا بھی رکھا تو ان کے چہرے مسخ کر کے بندر اور سور جیسے بنا دئیے گئے ۔
Sayyidina Ammar ibn Yasir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A tablespread with food was sent down from heaven containing bread and meat. And they were commanded that they should not cheat and not hoard for the morrow. But, they cheated and hoarded for the next day. So they were metamorphosed into apes and swines.”
(حديث عمار) ضعيف الإسناد، (حديث ابن أبي عروبة) ضعيف أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3061
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ابوعاصم اور کئی دوسرے لوگوں بطریق : «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن خلاس عن عمار ابن ياسر» موقوفاً روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٣٤٨) (ضعیف الإسناد) (قتادہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنا جواب القاء کیے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جواب اپنے اس قول کے جواب میں القاء کرے گا «وإذ قال اللہ يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله» جب اللہ تعالیٰ (قیامت میں) کہے گا اے عیسیٰ بن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو اللہ کو چھوڑ کر ؟ (المائدہ : ١١٦ ) ، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا جواب یہ القاء کرے گا «سبحانک ما يكون لي أن أقول ما ليس لي بحق» پاک ہے تیری ذات : میں بھلا وہ بات کیسے کہہ سکتا ہوں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے (المائدہ : ١١٦ ) ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) said, “Eesa was inspired with his argument. Allah inspired him in His saying."And (recall) when Allah will say, O Eesa son of Maryam! Did you say to mankind. Take me andmy mother for two goods besides Allah?" (5 :116)Abu Hurairah (RA) reported from the Prophet ﷺ that Allah will inspire him with:"Glory to Thee! never could I say what I had no right (to say). Had I said such a thing, thou wouldst indeed have known it. Thou knowest what is in my heart, Thou I know not what is in Thine. For Thou knowest in full all that is hidden."(5:116)
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3062
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورة المائدہ (اور سورة الفتح) ہے۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr said that the last surahs revealed were the surahs al-Maidah and al-Fath. (surah 5 48) [Abu Dawud 1618]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3063
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اور ابن عباس (رض) سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : آخری سورة جو نازل ہوئی ہے وہ «إذا جاء نصر اللہ والفتح» ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور صحیح بخاری میں براء (رض) سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی وہ ہے «يستفتونک قل اللہ يفتيكم في الکلالة» (النساء : ١٧٦ ) ان سب اقوال کے درمیان اس طرح تطبیق دی جاتی ہے کہ ہر ایک نے اپنی معلومات کے مطابق خبر دی ہے ، اس بابت کوئی مرفوع روایت تو ہے نہیں۔
علی (رض) سے روایت ہے کہ ابوجہل نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے ہیں، بلکہ آپ جو (دین قرآن) لے کر آئے ہیں اسے جھٹلاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فإنهم لا يکذبونک ولکن الظالمين بآيات اللہ يجحدون» وہ لوگ تجھ کو نہیں جھٹلاتے ہیں بلکہ ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں (الانعام : ٣٣ ) ۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Abu Jahl said to the Prophet ﷺ , “We do not belie you. We belie that which you have brought.” So Allah, the Exalted, revealed: "Though in truth they belie not you, but the evildoers in fact deny the revelations of Allah." (6:33)
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ جب آیت «قل هو القادر علی أن يبعث عليكم عذابا من فوقکم أو من تحت أرجلکم» کہہ دیجئیے، وہ (اللہ) قادر ہے اس بات پر کہ وہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے اوپر سے یا نیچے سے (الانعام : ٦٥ ) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تیری ذات کی پناہ لیتا ہوں پھر جب آگے «أو يلبسکم شيعا ويذيق بعضکم بأس بعض» یا تم کو مختلف فریق بنا کر ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے (الانعام : ٦٥ ) کا ٹکڑا نازل ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ دونوں ہی باتیں (اللہ کے لیے) آسان ہیں ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that the verse was revealed:"Say, “He is able to send forth upon you chastisement from above you or from beneath your feet." (6: 65)The Prophet ﷺ said, “I seek refuge in Your Countenance.” Then this portion was revealed: "Or to confuse you in factions and to make you taste the tyranny of one another, (6 : 65) The Prophet ﷺ said, “These are lighter (أَهْوَنُ) ,“ or he said, “These two easier (أَيْسَرُ)" [Ahmed 14320,Bukhari 4629]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3065