Sunan At-Tirmidhi 3046

قرآن کی تفسیر کا بیان

3046Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مائدہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ سورة المائدة آية 67فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ، فَقَالَ لَهُمْ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِي اللَّهُ . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحْرَسُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی حفاظت و نگرانی کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمک من الناس» اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا (المائدہ: ٦٧ ) ، نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا: تم (اپنے گھروں کو) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) reported that the Prophet ﷺ used to be guarded and protected till this verse was revealed"And Allah will protect you from (evil-minded) men." (5: 67) So, Allah’s Messenger ﷺ took his head out of his tent and said to them, ‘O you people! Go! Indeed, Allah will protect me.

حسن حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3046 اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3046
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔ بعض نے یہ حدیث جریری کے واسطہ سے، عبداللہ بن شقیق سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی حفاظت و نگہبانی کی جاتی تھی، اور انہوں نے اس روایت میں عائشہ ؓ کا ذکر نہیں کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کا یہ وعدہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ کے ساتھ خاص تھا، مسلمانوں کے دوسرے ذمہ دار اپنی حفاظت کے لیے پہرہ داری کا نظام اپنا سکتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٦٢١٥) (حسن ) انظر ماقبلہ (حسن )