Sunan At-Tirmidhi 3048

قرآن کی تفسیر کا بیان

3048Sunan At-Tirmidhi

تفسیر سورت مائدہ

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمَّا وَقَعَ فِيهِمُ النَّقْصُ كَانَ الرَّجُلُ فِيهِمْ يَرَى أَخَاهُ عَلَى الذَّنْبِ فَيَنْهَاهُ عَنْهُ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ لَمْ يَمْنَعْهُ مَا رَأَى مِنْهُ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَخَلِيطَهُ، فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ وَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ، فَقَالَ: لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ سورة المائدة آية 78 فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ سورة المائدة آية 81، قَالَ: وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: لَا حَتَّى تَأْخُذُوا عَلَى يَدِيِ الظَّالِمِ فَتَأْطُرُوهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا . حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَمْلَاهُ عَلَي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

ابوعبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسرائیل میں جب کوتاہیاں و برائیاں پیدا ہوئیں تو اس وقت حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا تو اسے اس گناہ کے کرنے سے روکتا، لیکن جب دوسرا دن آتا تو جو کچھ اس نے اسے کرتے دیکھا تھا وہ چیز اسے اس کا ہم نوالہ و ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دل ایک دوسرے سے ملا دیئے اور انہی لوگوں کے متعلق قرآن نازل ہوا، آپ نے «لعن الذين کفروا من بني إسرائيل علی لسان داود وعيسى ابن مريم ذلک بما عصوا وکانوا يعتدون» سے لے کر «ولو کانوا يؤمنون بالله والنبي وما أنزل إليه ما اتخذوهم أولياء ولکن كثيرا منهم فاسقون» ١ ؎ تک پڑھا۔ یہ باتیں کرتے وقت نبی اکرم ﷺ ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لیکن جب گفتگو اس مقام پر پہنچی تو آپ سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا: نہیں، تم نجات نہ پاؤ گے، تم عذاب الٰہی سے بچ نہ سکو گے جب تک کہ تم ظالم کا ہاتھ پکڑ نہ لو، اور اسے پوری طرح حق کی طرف موڑ نہ دو ۔

Sayyidina Abu Ubaydah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, “When the Banu Isra’il deteriorated, a person who found his brother commit a sin would reprimand him; but if he found him again the next day, he did not stop him. The mAnas (RA) commission of sin did not even prevent him from eating and drinking and associating with him. So Allah made their hearts compatible with each other and he revealed about them in the Quran: "Cursed were those who disblieved from among the children of Israil by the tongue of Dawud, and of Eesa, son of Maryam. That was because they disobeyed and used to transgress the limits." He recited it up to: "And had they believed in Allah and the Prophet ﷺ and that which is revealed to him, they would not have taken the disbelievers as friends; but many of them are transgresors."(5: 78-81) Allahs Messenger ﷺ sat up straight though he had been reclining hitherto. He said, “No! Not until you hold the hand of the oppressar, and incline him firrnI to the Truth.’ [Ibn e Majah 4006]

ضعيف انظر ما قبله (3047) ضعيف انظر ما قبله (3047 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3048 اس سند سے محمد بن مسلم نے علی بن بذیمہ سے علی بن بذیمہ نے ابوعبیدہ سے، اور ابوعبیدہ نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ٢ ؎۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3048
Notes · وضاحت
١ ؎: بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا تھا، ان پر داود اور مسیح ابن مریم (علیہم السلام) کی زبانی لعنت بھیجی گئی تھی۔ کیونکہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے آگے بڑھ جاتے۔ جو بھی منکر، قوم کرتی، اور سے وہ لوگوں کو روکتے نہ تھے۔ وہ بہت ہی برا کرتے تھے۔ تم ان میں سے بہتوں کو دیکھ رہے ہو کافروں سے دوستی کرتے ہیں، انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا وطیرہ اختیار کیا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ ان سے سخت ناراض ہے، وہ آخرت میں ہمیشہ ہمیش عذاب میں رہنے والے ہیں۔ اور اگر یہ لوگ اللہ پر اور اس نبی پر اور جو چیز اس نبی پر اتری ہے اس پر ایمان لاتے تو کافروں کو دوست نہ بناتے، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ فاسق و بدکار ہیں (المائدہ: ٧٨ )۔ ٢ ؎: جو بھی ہو بہرحال یہ سند ضعیف ہے، اگر سند میں عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہے تو ان سے ان کے بیٹے ابوعبیدہ کا سماع نہیں ہے، اور اگر ان کا ذکر نہیں ہے تب تو یہ سند معضل ہوگئی (یعنی دو راوی سند سے ساقط ہوگئے)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ١٩٥٩٠) (ضعیف) (یہ مرسل ہے، ابو عبیدہ تابعی ہیں) انظر حدیث رقم ٣٠٤٧ (ضعیف )