تفسیر سورت مائدہ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 وَعِنْدَهُ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: لَوْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ عَلَيْنَا لَاتَّخَذْنَا يَوْمَهَا عِيدًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمْعَةٍ وَيَوْمِ عَرَفَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ صَحِيحٌ.
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے آیت «اليوم أکملت لکم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لکم الإسلام دينا» پڑھی، ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا: اگر یہ آیت ہم (یہودیوں) پر نازل ہوئی ہوتی تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے اس دن کو ہم عید (تہوار) کا دن بنا لیتے یہ سن کر ابن عباس ؓ نے کہا: یہ آیت عید ہی کے دن نازل ہوئی ہے۔ اس دن جمعہ اور عرفہ کا دن تھا۔ (اور یہ دونوں دن مسلمانوں کی عید کے دن ہیں) ۔
Ammar ibn Abu Ammar reported that when Sayyidina lbn Abbas (RA) recited the verse."This day have I perfected your religion for you, completed My favour upon you, and have chosen for you Islam as your religion."(5:3) A Jew was sitting in his assembly. He remarked, ‘if it had been revealed to us then have taken that day as eed day.” So, Ibn Abbas (RA) said, “Indeed, it was revealed on the d eeds on a Friday that was also the day of Arafah (on which Hajj is performed).