Sunan At-Tirmidhi 34

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

34Sunan At-Tirmidhi

سر کو مسح ایک مرتبہ کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّهَا رَأَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ، قَالَتْ: مَسَحَ رَأْسَهُ وَمَسَحَ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ، وَصُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً . قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَجَدِّ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفِ بْنِ عَمْرٍو. قال أبو عيسى: وَحَدِيثُ الرُّبَيِّعِ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، وَبِهِ يَقُولُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: رَأَوْا مَسْحَ الرَّأْسِ مَرَّةً وَاحِدَةً. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قَال: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مَسْحِ الرَّأْسِ: أَيُجْزِئُ مَرَّةً ؟ فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ.

ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اگلے حصہ کا بھی اور پچھلے حصہ کا بھی اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور کانوں کا بھی۔

Sayidah Rubayyi bint Mu’awwidh ibn Afra (RA) narrated that she saw the Prophet ﷺ performing ablution. He wiped his head front and back, his temples and ears, once.

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 34
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ربیع ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی اور طلحہ بن مصرف بن عمرو کے دادا (عمرو بن کعب یامی) ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور بھی سندوں سے یہ بات مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سر کا مسح ایک بار کیا، ٤- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور جعفر بن محمد، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی ٢ ؎ احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ٥- سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد سے سر کے مسح کے بارے میں پوچھا: کیا ایک مرتبہ سر کا مسح کرلینا کافی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے اللہ کی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب سے مؤلف ان لوگوں کا رد کرنا چاہتے ہیں جو تین بار مسح کے قائل ہیں۔ ٢ ؎: امام ترمذی نے امام شافعی سے ایسا ہی نقل کیا ہے، مگر بغوی نے نیز تمام شافعیہ نے امام شافعی کے بارے میں تین بار مسح کرنے کا قول نقل کیا ہے، عام شافعیہ کا عمل بھی تین ہی پر ہے، مگر یا تو یہ دیگر اعضاء پر قیاس ہے جو نص صریح کے مقابلہ میں صحیح نہیں ہے، یا کچھ ضعیف حدیثوں سے تمسک ہے ( صحیحین کی نیز دیگر احادیث میں صرف ایک پر اکتفاء کی صراحت ہے )۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن الإسناد)