Sunan At-Tirmidhi 33

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

33Sunan At-Tirmidhi

سر کا مسح پچھلے حصہ سے شروع کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ ابْنِ عَفْرَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ، بَدَأَ بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا وَأَجْوَدُ إِسْنَادًا، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، مِنْهُمْ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ.

ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے سر کا دو مرتبہ ١ ؎ مسح کیا، آپ نے (پہلے) اپنے سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا ٢ ؎، پھر (دوسری بار) اس کے اگلے حصہ سے اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کا مسح کیا۔

Sayyidah Rubayyi bint Muawwidh ibn Afra (RA) narrated that the Prophet ﷺ ﷺ wiped his head twice beginning from the back of his head, and again from its fore, and his ears, both of them, inside and outside.

حسن، ابن ماجة (390)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 33
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے اور عبداللہ بن زید کی حدیث سند کے اعتبار سے اس سے زیادہ صحیح اور زیادہ عمدہ ہے، ٢- اہل کوفہ میں سے بعض لوگ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، انہیں میں سے وکیع بن جراح بھی ہیں ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حقیقت میں یہ ایک ہی مسح ہے آگے اور پیچھے دونوں کو راوی نے الگ الگ مسح شمار کر کے اسے «مرتین» دو بار سے تعبیر کیا ہے۔ ٢ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سر کا مسح سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا جائے، لیکن عبداللہ بن زید کی متفق علیہ روایت جو اوپر گزری اس کے معارض اور اس سے زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ربیع کی حدیث میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل متکلم فیہ ہیں اور اگر اس کی صحت مان بھی لی جائے تو ممکن ہے آپ نے بیان جواز کے لیے ایسا بھی کیا ہو۔ ٣ ؎: یہ مرجوح مذہب ہے، راجح سر کے اگلے حصہ ہی سے شروع کرنا ہے، جیسا کہ سابقہ حدیث میں گزرا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٥٠ (١٢٦)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣٩ (٣٩٠)، و ٥٢ (٤٤٠) (تحفة الأشراف: ١٥٨٣٧) (حسن)