Sunan At-Tirmidhi 2746

آداب اور اجازت لینے کا بیان

2746Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند اور جمائی کو ناپسند کرتے ہیں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعُطَاسُ مِنَ اللَّهِ، وَالتَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، وَإِذَا قَالَ: آهْ آهْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْ جَوْفِهِ، وَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ: آهْ آهْ إِذَا تَثَاءَبَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ فِي جَوْفِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھینکنا اللہ کی جانب سے ہے اور جمائی شیطان کی جانب سے ہے۔ جب کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہیئے کہ جمائی آتے وقت اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے، اور جب جمائی لینے والا آہ، آہ کرتا ہے تو شیطان جمائی لینے والے کے پیٹ میں گھس کر ہنستا ہے۔ اور بیشک اللہ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند کرتا ہے۔ تو (جان لو) کہ آدمی جب جمائی کے وقت آہ آہ کی آواز نکالتا ہے تو اس وقت شیطان اس کے پیٹ کے اندر گھس کر ہنستا ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Sneezing is from Allah and yawning is from the devil. So when one of you yawns, let him p his hand over his mouth; but when he says, ‘Ah, ah,’ the devil laughs from inside his mouth. And Allah likes the sneeze but dislikes yawning. When a man who yawns says, ‘Ah, ah,’ the devil laughs inside his mouth (because of his negligence in not placing his hand).” [Ahmed 7298, Bukhari 3289, Abu Dawud 50281

حسن صحيح، التعليق علی ابن خزيمة (921 - 922)، الإرواء (779)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2746
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٨٢ (٢١٧)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤٢ (٩٦٩)، وانظر مایاتي بعدہ (تحفة الأشراف: ١٣٠١٩) (حسن صحیح )