Sunan At-Tirmidhi 2680

علم کا بیان

2680Sunan At-Tirmidhi

مدینہ کے عالم کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، وَإِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً يُوشِكُ أَنْ يَضْرِبَ النَّاسُ أَكْبَادَ الْإِبِلِ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ فَلَا يَجِدُونَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا سُئِلَ: مَنْ عَالِمُ الْمَدِينَةِ ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَقَالَ إِسْحَاق بْنُ مُوسَى، سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: هُوَ الْعُمَرِيُّ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزَ الزَّاهِدُ وَاسْمُهُ: عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مُوسَى يَقُولُ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، هُوَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالْعُمَرِيُّ هُوَ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَبْدُ الْعَزِيزِ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.

ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً روایت ہے: عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ لوگ علم کی تلاش میں کثرت سے لمبے لمبے سفر طے کریں گے، لیکن (کہیں بھی) انہیں مدینہ کے عالم سے بڑا کوئی عالم نہ ملے گا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported in a marfu form, ‘Soon people will travel on camels (from afar) to acquire knowledge. They will not find anyone more learned than the scholar of Madinah.’

ضعيف، المشکاة (246)، التعليق علی التنکيل (1 / 385)، الضعيفة (4833) // ضعيف الجامع الصغير (6448) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2680
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عیینہ سے مروی یہ حدیث حسن ہے، ٢ - سفیان بن عیینہ سے اس بارے میں جب پوچھا گیا کہ عالم مدینہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: مالک بن انس ہیں، ٣ - اسحاق بن موسیٰ کہتے ہیں: میں نے ابن عیینہ کو کہتے سنا کہ وہ (یعنی عالم مدینہ) عمری عبدالعزیز بن عبداللہ زاہد ہیں، ٤ - میں نے یحییٰ بن موسیٰ کو کہتے ہوئے سنا عبدالرزاق کہتے تھے کہ وہ (عالم مدینہ) مالک بن انس ہیں، ٥ - عمری یہ عبدالعزیز بن عبداللہ ہیں، اور یہ عمر بن خطاب کی اولاد میں سے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١٢٨٧٧)، و مسند احمد (٢/٢٩٩) (ضعیف) (سند میں ابن جریج اور ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث سے اس کا ایک شاہد مروی ہے، مگر اس میں زہر بن محمد کثیر الغلط، اور سعید بن ابی ہند مدلس ہیں )