Sunan At-Tirmidhi 2679

علم کا بیان

2679Sunan At-Tirmidhi

جن چیزوں کو نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا انہیں ترک کرنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتْرُكُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فَخُذُوا عَنِّي فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم مجھے چھوڑے رکھو، پھر جب میں تم سے کوئی چیز بیان کروں تو اسے لے لو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ بہت زیادہ سوالات کرنے اور اپنے انبیاء سے کثرت سے اختلافات کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Leave me at what I leave you. When I narrate to you (anything), grasp it from me. And, indeed, those before you perished because of their much questioning and disputing with their Prophets.” [Ahmed 7371, 7288, Muslim 1337] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1 - 2)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2679
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خواہ مخواہ مسئلے مسائل پوچھ کر اپنے لیے تنگی اور دشواری نہ پیدا کرو، میرے بیان کرنے کے مطابق اس پر عمل کرو، کیونکہ کثرت سوال سے اسی طرح پریشانی میں پڑ سکتے ہو جیسا کہ تم سے پہلے کے لوگوں کا حال ہوا، سورة البقرہ میں بنی اسرائیل کا جو حال بیان ہوا وہ اس سلسلہ میں بےانتہا عبرت آموز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتصام ٢ (٧٢٨٨)، صحیح مسلم/الحج ٧٣ (١٣٣٧)، والفضائل ٣٧ (١٣٣٧)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١ (١، ٢) (تحفة الأشراف: ١٢٥١٨)، و مسند احمد (٢/٢٤٧، ٢٥٨، ٣١٣، ٤٢٨، ٤٤٨، ٤٥٧، ٤٦٧، ٤٨٢، ٤٩٥، ٥٠٢) (صحیح )