براء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ درمیانے قد کے، چوڑے مونڈھوں اور گھنی داڑھی والے تھے، آپ کے بدن پر کچھ سرخی ظاہر تھی، سر کے بال کان کی لو تک تھے ١ ؎، میں نے آپ کو لال جوڑا پہنے ہوئے دیکھا اور آپ سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا۔
It was narrated that Al-Bara said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was a man of average height with broad shoulders, a thick beard and a reddish complexion, and his hair came down to his earlobes. I saw him in a red Hullah and I never saw anything more handsome than him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5232
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے سر کے بالوں کے بارے میں متعدد و مختلف روایات وارد ہیں : آدھے کان تک، کانوں کے لو تک، کانوں کے لووں اور کندھوں کے درمیان تک، اور کندھوں تک، اور ان سب روایات میں کوئی تعارض و اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ مختلف حالات کی روایات ہیں، کبھی آپ نے بال کٹوائے تو آدھے کانوں تک کرلیا، اور وہ بڑھ کر کان کے لو تک ہوگئے، اور اسی حالت میں چھوڑ دیئے تو اور بڑھ گئے، کبھی اتنے ہی پر کٹوا لیا اور کبھی چھوڑ دیا تو تو کندھوں کے اوپر یا کندھوں تک ہوگئے، اب جس نے جو دیکھا وہی بیان کردیا۔
براء (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کسی بال والے کو لباس پہنے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ ﷺ کے بال مونڈھوں کے قریب تھے۔
It was narrated that Al-Bara said: "I never saw any long haired man in a Hullah who was more handsome than the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), and he had hair that came down to his shoulders.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5233
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ آئے، آپ نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے سر کے بال الجھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا : کیا اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس سے اپنے بال ٹھیک رکھ سکے ؟ ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came to us and saw a man with wild hair. He said: Could this man not find anything with which to calm down his hair?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5236
ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ ان کے بال بڑے بڑے تھے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے حکم دیا : انہیں اچھی طرح رکھو اور ہر روز کنگھی کرو ۔
It was narrated that Abu Qatadah said: That he had long thick hair. "He asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) (about it) and he told him to take care of it and comb it every day.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5237
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٢١٢٧) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن منکدر اور ابوقتادہ رضی الله عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز یہ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں ہر روز کنگھی کرنے سے ممانعت ہے )
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بال چھوڑ دیتے تھے اور کفار و مشرکین بالوں میں مانگ نکالتے تھے، آپ ایسے معاملات میں جن میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب (یہود و نصاری) کی موافقت پسند فرماتے تھے، پھر اس کے بعد آپ نے بھی مانگ نکالی۔
It was narrated from Ibn Abbas that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to let his hair hang down (without a parting) and the Mushrikun used to part their hair. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) liked to act in accordance with the People of the Book, in matters where no specific command had been given to him. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) parted his hair after that.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5238
عبید نامی ایک صحابی رسول (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ارفاہ (بہت زیادہ عیش میں پڑجانے) سے منع فرماتے تھے۔ عبداللہ بن بریدہ سے پوچھا گیا : ارفاہ کیا ہے ؟ کہا : ارفاہ میں (ہر روز) کنگھی کرنا بھی شامل ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Buraidah that: A man from among the Companions of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) who was called Ubaid said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to forbid too much of Al-Irfah." Ibn Buraidah was asked what too much of Al-Irfah meant, and he said: "It includes combing the hair.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5239
Notes · وضاحت
١ ؎: لفظ ترجل کا معنی ہر روز کنگھی کرنا اس لیے کیا گیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ خود بھی کنگھی کرتے تھے، اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، (جیسا کہ حدیث نمبر : ٥٢٣٨ میں ہے) آپ نے صرف کثرت سے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، اور ناغہ کر کے کرنے کی اجازت دی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ طاقت بھر دائیں طرف سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے : وضو کرنے، جوتے پہننے اور کنگھی کرنے (وغیرہ امور) میں۔
It was narrated from Aishah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) liked to start on the right whenever possible; when purifying himself, when putting on his shoes, and when combing his hair.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5240
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہودی اور نصرانی (بالوں کو) نہیں رنگتے، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ١ ؎۔
Abu Hurairah narrated that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The Jews and the Christians do not dye their hair, so be different from them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5241
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : سفید بالوں کو رنگ دو ، البتہ کالے خضاب سے بچو۔
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (ابوبکر کے والد) ابوقحافہ (رض) لائے گئے، ان کا سر اور داڑھی ثغامہ نامی گھاس کی طرح تھے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے بالوں کا رنگ بدلو ، یا (فرمایا) خضاب لگاؤ ۔
It was narrated that Jabir said: "Abu Quhafah was brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and his head and beard were white like the Thaghamah. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Change this, or dye it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5242
Notes · وضاحت
١ ؎: ثغامہ ایک گھاس ہے جس کے پھل اور پھول سب سفید ہوتے ہیں۔
عبید کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) کو اپنی داڑھی پیلی کرتے دیکھا، تو ان سے اس کے بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنی داڑھی زرد (پیلی) کرتے ہوئے دیکھا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ubaid said: "I saw Ibn Umar dyeing his beard yellow and I asked him about that. He said: "I saw the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) dye his beard yellow.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5243
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چمڑے کا جوتا پہنتے اور اپنی داڑھی ورس اور زعفران سے پیلی کرتے تھے، اور ابن عمر (رض) بھی ایسا کیا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to wear Sibtiyyah sandals and dye his beard yellow with Wars and saffron." And Ibn Umar used to do that.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5244
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ (رض) کو سنا، وہ مدینے میں منبر پر تھے، انہوں نے اپنی آستین سے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور کہا : مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ان جیسی چیزوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے، نیز آپ ﷺ نے فرمایا : بنی اسرائیل کی عورتوں نے جب ان جیسی چیزوں کو اپنانا شروع کیا تو وہ ہلاک و برباد ہوگئے ۔
It was narrated that Humaid bin Abdur-Rahman said: "I heard Muawiyah say, when he was on the Minbar in Al-Madinah, and he brought out a hairpiece from his sleeve: O people of Al-Madinah, where are your knowledgeable ones? I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbid such things as this, and he said: "The Children of Israel were destroyed when their women started to wear things like this.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5245
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ معاویہ (رض) مدینہ آئے اور ہمیں خطاب کیا، آپ نے بالوں کا ایک گچھا لے کر کہا : میں نے سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھا ١ ؎، اور رسول اللہ ﷺ تک جب یہ چیز پہنچی تو آپ نے اس کا نام دھوکا رکھا۔
It was narrated that Saeed bin Al-Musayyab said: "Muawiyah came to Al-Madinah and addressed us. He took hold of a hairpiece and said: I never used to see anyone do this except the Jews. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) heard of it and he called it "giving a false impression.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5246
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : اپنے اصلی بالوں میں دوسرے کے بال جوڑنا یہودی عورتوں کا کام ہے، مسلمان عورتوں کو اس سے بچنا ضروری ہے۔
معاویہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : لوگو ! نبی اکرم ﷺ نے تمہیں جھوٹ اور فریب سے روکا ہے، راوی (ابن المسیب) کہتے ہیں : اور انہوں نے ایک کالا چیتھڑا نکالا پھر اسے ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا : یہی ہے وہ (یعنی جھوٹ اور فریب کاری) ، اسے عورت اپنے سر میں لگا کر دوپٹا اوڑھ لیتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Muawiyah said: "O people, the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade you to give false impressions. He brought a piece of black cloth and threw it in front of them and said: This is what women are putting on their heads and covering it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5247
Notes · وضاحت
١ ؎: اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس عورت کے اپنے اصلی بال بڑے لمبے لمبے ہیں، اور لمبے بال عورتوں کی خوبصورتی میں شمار ہوتے ہیں، تو گویا غیر خوبصورت عورت خود کو مصنوعی ذریعے سے خوبصورت ظاہر کر کے اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، یہ عمل اسلام کی نظر میں ناپسندیدہ ہے کیونکہ یہ دھوکا ہے۔