انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اس پر نقش کرایا اور فرمایا : ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں کچھ نقش کرایا ہے، تو تم میں سے کوئی اسے نقش نہ کرائے ، پھر انس (رض) نے کہا : گویا اس کی چمک میں آپ کے ہاتھ میں (ابھی بھی) دیکھ رہا ہوں۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a ring, and he had some words inscribed on it. He said: We have put on a ring and have had some words engraved on it; no one of you should copy this inscription." Then Anas said: "It is as if I can see its whiteness on his hand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5208
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مشرکین کی آگ سے روشنی مت لو اور نہ اپنی انگوٹھیوں پر عربی نقش کراؤ ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not be so close to the Mushrikin that you can benefit from the light of their fires, and do not engrave Arabic (words) on your rings.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5209
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٦٧) ، مسند احمد (٣/٩٩٩٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” ازہر بن راشد “ مجہول ہیں )
ابوبردہ کہتے ہیں کہ علی (رض) نے کہا : مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علی ! اللہ سے ہدایت اور میانہ روی طلب کرو ، اور آپ نے مجھے روکا کہ انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں۔ اور اشارہ کیا یعنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کی طرف ١ ؎۔
It was narrated that Abu Burdah said: Ali said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: O Ali, ask Allah for guidance and steadfastness, and he forbade me from placing a ring on this one and this one - and he pointed to his forefinger and middle finger.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5210
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نہی تنزیہی ہے، یعنی زیادہ بہتر اس کا نہ پہننا ہے۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے انگوٹھی اس میں اور اس میں پہننے سے منع فرمایا یعنی شہادت کی اور بیچ کی انگلی میں ۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade me to wear a ring on this one and this one," meaning the forefinger and middle finger. And this is the wording of Ibn Al-Muthanna
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5211
علی (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہو : اللہم اهدني وسددني اللہ ! مجھے ہدایت دے، مجھے درست رکھ ، اور آپ نے منع فرمایا کہ میں انگوٹھی اس میں اور اس میں پہنوں۔ اور اشارہ کیا شہادت کی اور بیچ کی انگلی کی طرف۔ عاصم بن کلیب نے ان میں سے صرف ایک کا تذکرہ کیا۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: Say: O Allah, guide me and make me steadfast, and he forbade me to put a ring on this one and this one" - and Bishr (one of the narrators) pointed to his forefinger and middle finger. And Asim said: "One of the two of them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5212
انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار لیتے ١ ؎۔
It was narrated from Anas that: When entering the Khala, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) would take off his ring.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5213
Notes · وضاحت
١ ؎: بہتر یہی ہے کہ جس انگوٹھی میں قرآنی آیات اور ذکر الٰہی ہو اسے پاخانہ میں لے جانے سے بچا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٠ (١٩) ، سنن الترمذی/اللباس ١٦ (١٧٤٦) ، الشمائل ١١ (٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١ (٣٠٣) ، (تحفة الٔ شراف : ١٥١٢) ، مسند احمد (٣/٩٩٩٩، ١٠١، ٢٨٢) (ضعیف) (اس میں ” ہمام “ سے وہم ہوگیا ہے، انس رضی الله عنہ سے انگوٹھی کی بابت جو روایت ہے وہ یہ ہے کہ آپ صلی للہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی، پھر اسے اتار کر پھینک دی) (بقول امام ابوداود : اس روایت میں ہمام بن یحییٰ سے وہم ہوگیا ہے، (ان سے اکثر وہم ہوجاتا تھا) اصل روایت اس سند سے یوں ہے : آپ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے پھینک دی )
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھا، پھر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے اپنی انگوٹھی نکال پھینکی اور فرمایا : میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا پھر لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں نکال پھینک دیں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a ring of gold and put its stone toward his palm. Then the people started to wear rings of gold. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) threw away his ring and said: I will never wear it again, and the people threw away their rings.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5214
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی اس حدیث اور بعد کی آنے والی حدیثوں کا تعلق مذکورہ باب سے نہیں ہے، ممکن ہے صاحب کتاب نے کوئی عنوان قائم کیا ہو، مگر نساخ حدیث اسے سہوا درج نہ کرسکے ہوں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابن عمر (رض) سے مروی ان تمام طرق کے ذکر سے مصنف کا مقصد یہ ہے کہ پاخانہ میں داخل ہوتے وقت انگوٹھی اتار پھینکنے کی روایت ہمام کے وہم سے خالی نہیں ہے کیونکہ عام صحیح روایات سے جو ثابت ہے وہ کسی سبب سے سونے کی انگوٹھی کا اتار پھینکنا ہے نہ کہ پاخانہ جاتے وقت انگوٹھی کا اتارنا ہے، یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ ہمام کی حدیث غیر محفوظ ہے۔
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا۔ پھر لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوائیں، تو آپ نے وہ انگوٹھی نکال پھینکی اور فرمایا : میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا ۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a ring of gold and put its stone (Fass) toward his palm. Then the people started to wear rings, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) discarded it and said: "I will never wear it again.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5215
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی پہنی پھر اسے نکال کر پھینک دی اور چاندی کی انگوٹھی پہنی اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کرایا اور فرمایا : کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ میری اس انگوٹھی کے نقش کی طرح نقش کرائے ، پھر آپ نے اس کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب کرلیا۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) used to wear a ring of gold, then he discarded it, and put on a ring of silver on which was engraved (the words): Muhammad Rasul Allah. He said: No one else should engrave his ring with an inscription like this ring of mine. Then he put the stone toward the palm of his hand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5216
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین دن تک سونے کی انگوٹھی پہنی، پھر جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کو دیکھا تو سونے کی انگوٹھی عام ہوگئی۔ یہ دیکھ کر آپ نے اسے نکال پھینکا۔ پھر معلوم نہیں وہ کیا ہوئی، پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی کا حکم دیا اور حکم دیا کہ اس میں محمد رسول اللہ نقش کردیا جائے، وہ انگوٹھی رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی، پھر ابوبکر (رض) کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عمر (رض) کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ بھی وفات پا گئے، پھر عثمان (رض) عنہ کے ہاتھ میں ان کی مدت خلافت کے چھ سال تک رہی، پھر جب خطوط کثرت سے لکھے جانے لگے تو اسے انصار کے ایک شخص کے حوالے کردیا، وہ اس سے مہریں لگاتا تھا۔ ایک بار وہ انصاری عثمان (رض) عنہ کے ایک کنوئیں پر گیا، تو وہ انگوٹھی (اس میں) گرگئی، اور تلاش کے باوجود نہ ملی۔ پھر اسی جیسی انگوٹھی بنانے کا حکم ہوا اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کیا گیا۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) wore a ring of gold for three days, and when his Companions saw it, gold rings became popular. Then he threw it away and we did not realize what he had done. Then he ordered that a ring of silver be made, and that (the words): "Muhammad Rasul Allah" be engraved on it. It remained on the hand of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) until he died, then on the hand of Abu Bakr until he died, then on the hand of Umar until he died. Then (it remained) on the hand of Uthman for the first six years of his duties, but when he had to write many letters, he gave it to a man from among Ansar who used to seal letters with it. Then the Ansari went out to a well belonging to Uthman and the ring fell. They looked for it but could not find it. He ordered that a similar ring be made and engraved (the words): "Muhammad Rasul Allah" on it.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5217
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس کا نگینہ آپ اپنی ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے، پھر لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوائیں، یہ دیکھ کر آپ نے اسے نکال پھینکی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں نکال پھینکیں، پھر آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس سے آپ (خطوط پر) مہریں لگاتے تھے، اسے پہنتے نہیں تھے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) put on a ring of gold, and he used to wear its stone (Fass) next to his palm. Then the people started to wear rings of gold. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) discarded it, and the people discarded their rings. Then he acquired a ring of silver with which he used to seal letters, but he did not wear it.
صحيح دون قوله ولا يلبسه فإنه شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5218
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اکثر اوقات میں نہیں پہنتے تھے، ورنہ یہ ثابت ہے کہ آپ انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٧٦١٤) ، سنن الترمذی/الشمائل ١١، رقم : ٨٣، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٢٩٤ (صحیح) (حدیث میں ” ولایلبسہ “ کا لفظ ” شاذ “ ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے )
ابوبکر بن ابی شیخ کہتے ہیں کہ میں سالم کے ساتھ بیٹھا ہو تھا۔ اتنے میں ام البنین کا ایک قافلہ ہمارے پاس سے گزرا ان کے ساتھ کچھ گھنٹیاں تھیں، تو نافع سے سالم نے کہا کہ ان کے والد عبداللہ بن عمر (رض) نے روایت کی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں ہوتے جن کے ساتھ گھنگھرو یا گھنٹے ہوں، ان کے ساتھ تو بہت سارے گھنٹے دکھائی دے رہے ہیں ۔
It was narrated that Abu Bakr bin Abi Shaikh said: "I was sitting with Salim when a caravan belonging to Umm Al-Banin passed by us, and they had bells with them. Salim narrated to Nafi from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The angels do not accompany a caravan that has small bells with them. How often do you see small bells with these people.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5219
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الٔ شراف : ٧٠٣٩) ، مسند احمد (٢/٢٧) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٢٢٣، ٥٢٢٣ م) (صحیح )
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں ۔
It was narrated that Abu Bakr bin Musa said: "I was with Salim bin Abdullah when Salim narrated from his father, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The angels do not accompany groups of people who have small bells with them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5220
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے ساتھ گھنگھرو ہوں ۔
It was narrated from Salim, from his father,: Who attributed it to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "The angels do not accompany groups of people who have small bells with them.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5221
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے، جس میں گھنگھرو یا گھنٹہ ہو، اور نہ فرشتے ایسے قافلوں کے ساتھ چلتے ہیں جن کے ساتھ گھنٹی ہو ۔
Umm Salamah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: The angels do not enter a house in which there is a small bell, or a bell, and the angels do not accompany groups of people who have bells with them.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5222
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی (رض) روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے مجھے پھٹے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا : کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں، اللہ کے رسول ! سب کچھ ہے، آپ نے فرمایا : جب تمہیں اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ہے تو اس کے آثار بھی تمہارے اوپر ہونے چاہئیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Al-Ahwas that his father said: "I was sitting with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) and he saw that I was dressed in scruffy clothes. He said: Do you have any wealth? I said: Yes, O Messenger of Allah, all kinds of wealth. He said: If Allah gives you wealth then let its effect be seen on you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5223
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمت کی قدر کرو اور اس کی شکر گزاری کرتے ہوئے فضول خرچی کئے بغیر اسے حسب ضرورت استعمال کرو اور اس میں سے دوسروں کے حقوق ادا کرو۔
ابوالاحوص کے والد مالک بن نضلہ جشمی (رض) روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گھٹیا کپڑے پہن کر آئے۔ تو آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے ؟ وہ بولے : جی ہاں، سب کچھ ہے۔ آپ نے فرمایا : کس طرح کا مال ہے ؟ وہ بولے : اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام عطا کئے ہیں۔ آپ نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل کے تم پر آثار بھی دکھائی دینے چاہیئے ۔
It was narrated from Abu Al-Ahwas, from his father, : That he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) wearing shabby clothes. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: "Do you have any wealth?" He said: "Yes, all kinds of wealth." He said: "What kinds of wealth?" He said: "Allah has given me camels, cattle, sheep, horses and slaves." He said: "If Allah has given you wealth, then let the effect of Allahs blessing and generosity be seen on you.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5224
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں دین فطرت میں سے ہیں : مونچھ کاٹنا، بغل کے بال اکھیڑنا، ناخن کترنا، ناف کے نیچے کے بال مونڈنا اور ختنہ کرنا ۔
It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: Five things are from the Fitrah: Trimming the mustache, plucking the armpit hairs, clipping the nails, shaving the pubes and circumcision.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5225
Notes · وضاحت
١ ؎: کتاب الزینہ کے جو ابواب اب تک گزرے وہ سنن کبری کے تھے، اور یہ ابواب اس مختصر (سنن مجتبیٰ ) میں بڑھائے گئے ہیں، یہ سنن کبری میں نہیں تھے۔ ٢ ؎: پانچ چیزوں کے ذکر سے حصر مقصود نہیں ہے کیونکہ بعض روایتوں میں عشر ۃ من الفطر ۃ فطرت میں دس باتیں ہیں بھی ہے۔ ٣ ؎: فطرت سے مراد جبلت یعنی مزاج و طبیعت کے ہیں جس پر انسان کی پیدائش ہوتی ہے، یہاں مراد قدیم سنت ہے جسے انبیاء کرام (علیہم السلام) نے پسند فرمایا ہے اور پچھلی شریعتیں اس پر متفق ہیں گویا کہ وہ پیدائشی معاملہ ہے۔
عبداللہ بن جعفر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آل جعفر کو یہ کہہ کر کہ آپ ان کے پاس آئیں گے تین روز تک (رونے اور غم منانے کی) اجازت دی ١ ؎، پھر آپ ان کے پاس آئے اور فرمایا : آج کے بعد میرے بھائی پر مت روؤ، پھر فرمایا : میرے بھائی کے بچوں کو بلاؤ ۔ چناچہ ہمیں لایا گیا گویا ہم چوزے بہت چھوٹے تھے پھر آپ نے فرمایا : نائی کو بلاؤ ، پھر آپ نے ہمارے سر مونڈنے کا حکم دیا۔
It was narrated that Abdullah bin Jafar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) stayed away from the family of Jafar (when he died) for three days, then he came to them, and said: Do not weep for my brother after today. Then he said: Call my brothers sons to me. We were brought like little chicks, and he said: Call the barber for me. Then he ordered that our heads be shaved.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5227
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے پتہ چلا کہ میت پر بغیر آواز اور سینہ کو بی کے تین دن تک رونا اور اظہار غم کرنا جائز ہے۔