فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ
سعید بن عمرو اشعثی، عبثر، محمد بن بکار بن ریان، اسماعیل، بن زکریا، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، شعبہ، اعمش سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
A hadith having the same meaning (as mentioned above) has been transmitted by Amash.
فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَلَائِکَةَ تُصَلِّي عَلَی أَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ وَأَحَدُکُمْ فِي صَلَاةٍ مَا کَانَتْ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ
ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک تم میں سے کوئی اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ آدمی بےوضو نہ ہو اور تم میں سے ہر ایک نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ اسے نماز روکے رکھتی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The angels invoke blessings on everyone among you so long as he is in a place of worship with these words: O Allah! pardon him, O Allah, have mercy upon him, (and they continue to do so) as long as the ablution (of the worshipper) is not broken, and one among you is in prayer and so long as he is detained for the prayer.
فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا کَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ وَتَقُولُ الْمَلَائِکَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ حَتَّی يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ قُلْتُ مَا يُحْدِثُ قَالَ يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ
محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، رافع، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بندہ نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ وہ اپنی نماز کی جگہ نماز کے انتظار میں رہے اور فرشتے کہتے ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس پر رحم فرما یہاں تک کہ وہ واپس چلا جائے یا اسے حدث لاحق ہوجائے میں نے عرض کیا کہ حدث کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہوا خارج کر دے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The servant is constantly in prayer so long as he is in a place of worship waiting for the prayer (to be observed in congregation), and the angels invoke (blessings upon him in these words): O Allah! pardon him. O Allah! show mercy to him, (and they continue to do so) till he returns (from the mosque having completed the prayer) or his ablution breaks. I said: How is the ablution broken? He said: By breaking of the wind noiselessly or with noise.
فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَتْ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَی أَهْلِهِ إِلَّا الصَّلَاةُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھتی ہے گھر جانے میں نماز کے علاوہ اور کوئی چیز اسے نہیں روکتی۔
Abu Hurairah (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Everyone among you is constantly in prayer so long as the prayer detains him (for this noble objective) and nothing prevents him to return to his family but the prayer.
فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُکُمْ مَا قَعَدَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ تَدْعُو لَهُ الْمَلَائِکَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن محمد بن سلمہ مرادی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی جب تک نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے تو وہ نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے اور جب تک کہ وہ بےوضو نہ ہو تو فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس پر رحم فرما۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Anyone amongst you who sat in a place of worship waiting for the prayer is in prayer and his ablution is not broken, the angels invoke blessing upon him (in these words): O Allah! pardon him. O Allah! have mercy upon him.
فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی۔
A hadith like this has been narrated by Hammam bin Munabbih on the authority of Abu Hurairah (RA) .
مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًی فَأَبْعَدُهُمْ وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّی يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ الَّذِي يُصَلِّيهَا ثُمَّ يَنَامُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ حَتَّی يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ
عبداللہ بن براد اشعری و ابوکریب، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، حضرت ابوموسی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں سے نماز کا سب سے بڑا اجر اس آدمی کو ملتا ہے جو سب سے زیادہ دور سے اس کی طرف چل کر آتا ہے پھر جو ان کے بعد میں آنے والا ہو اور وہ آدمی جو امام کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہو اور اس آدمی کا اجر اس آدمی سے زیادہ ہے جو نماز پڑھتا ہے پھر سو جاتا ہے اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے امام کے ساتھ نماز پڑھنے کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے۔
Abu Musa reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most eminent among human beings (as a recipient of) reward (is one) who lives farthest away, and who has to walk the farthest distance, and he who waits for the prayer to observe it along with the Imam, his reward is greater than one who prays (alone) and then goes to sleep. In the narration of Abu Kuraib (the words are): "(He waits) till he prays along with the Imam in congregation."
مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ رَجُلًا أَبْعَدَ مِنْ الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَکَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ قَالَ فَقِيلَ لَهُ أَوْ قُلْتُ لَهُ لَوْ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْکَبُهُ فِي الظَّلْمَائِ وَفِي الرَّمْضَائِ قَالَ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَی جَنْبِ الْمَسْجِدِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُکْتَبَ لِي مَمْشَايَ إِلَی الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَی أَهْلِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ اللَّهُ لَکَ ذَلِکَ کُلَّهُ
یحییٰ بن یحیی، عبثر، سلیمان تیمی، ابوعثمان نہدی، حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی تھا کہ جس کو میرے سے زیادہ کوئی آدمی اسے نہیں جانتا کہ وہ مسجد سے اتنی دور ہے اور اس کی کوئی نماز بھی نہیں چھوٹتی تھی تو میں نے اس سے کہا کہ اگر تو ایک گدھا خرید لے کہ جس پر تو سوار ہو کر اندھیرے میں اور گرمیوں میں آیا کرے! اس نے کہا کہ میرے لئے یہ کوئی خوشی کی بات نہیں کہ میرا گھر مسجد کے کونے میں ہو بلکہ میں چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کی طرف چل کر جانا لکھا جائے اور واپس جانا جب میں اپنے گھر کی طرف واپس جاؤں تو یہ بھی لکھا جائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے یہ سارا ثواب تیرے لئے جمع کردیا ہے۔
Ubayy bin Kab reported: There was a man, and I do not know of any other man, whose house was farther than his from the mosque and he never missed the prayer (in congregation). It was said to him or I said to him: If you were to buy a donkey you could ride upon it in the dark nights and in the burning sand. He said: I do not like my house to be situated by the side of the mosque, for I (eagerly) desire that my steps towards the mosque and back from it, should be recorded when I return to my family. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Allah has gathered all (rewards) for you.
مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِهِ
محمد بن عبدالاعلی، معتمر بن سلیمان، اسحاق بن ابراہیم، اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted by Taimi with the same chain of narrators.
مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَی بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ فَکَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَتَوَجَّعْنَا لَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا فُلَانُ لَوْ أَنَّکَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيکَ مِنْ الرَّمْضَائِ وَيَقِيکَ مِنْ هَوَامِّ الْأَرْضِ قَالَ أَمَ وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَمَلْتُ بِهِ حِمْلًا حَتَّی أَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَدَعَاهُ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِکَ وَذَکَرَ لَهُ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ الْأَجْرَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَکَ مَا احْتَسَبْتَ
محمد بن ابی بکر مقدامی، عباد بن عباد، عاصم، ابی عثمان، حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی تھا اس کا گھر مدینہ منورہ سے بہت دور تھا اور اس کی کوئی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چھوٹتی بھی نہیں تھی حضرت ابی فرماتے ہیں کہ ہمیں اس کی اس تکلیف کا احساس ہوا تو میں نے اس سے کہا کہ اے فلاں کاش کہ تو ایک گدھا خرید لیتا جو تجھے گرمی اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے بچاتا تو اس آدمی نے کہا اللہ کی قسم میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد ﷺ کے قریب ہو حضرت ابی کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی کی یہ بات ناگوار لگی میں اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ ﷺ کو اس آدمی کی بات سے آگاہ کیا آپ ﷺ نے اس آدمی کو بلایا تو اس نے اسی بات کی طرح آپ ﷺ کے سامنے ذکر کیا اور یہ کہ میں اپنے قدموں کے اجر کی امید رکھتا ہوں نبی ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا کہ تجھے وہی اجر ملے گا جس کی تو نے نیت کی ہے۔
Ubayy bin Kab reported: There was a person among the Ansar whose house was situated at the farthest end of Madinah, but he never in missed any prayer along with the Messenger of Allah ﷺ . We felt pity for him and said to him: O, so and so, had you bought a donkey it would have saved you from the burning sand and would have saved you from the reptiles of the earth. He said: Listen! by Allah, I do not like my house to be situated by the side of Muhammad ﷺ . I took (these words of his) ill and came to the Apostle of Allah ﷺ and informed him about (these words). He (the Holy Prophet) called him and he said exactly like that (which he had mentioned to Ubbay bin Kab), but made a mention of this (also) that he wanted a reward for his steps. Upon this the Apostle of Allah ﷺ said: In fact for you is the reward which you expect.
مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَزْهَرَ الْوَاسِطِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
سعید بن عمرو اشعثی و محمد بن ابی عمر، ابن عیینہ، سعید بن ازہر واسطی، وکیع، حضرت عاصم ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث بھی نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Asim with the same chain of transmitters.
مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَتْ دِيَارُنَا نَائِيَةً عَنْ الْمَسْجِدِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَبِيعَ بُيُوتَنَا فَنَقْتَرِبَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لَکُمْ بِکُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً
حجاج بن شاعر، روح بن عبادہ، زکریا بن اسحاق، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھر مسجد سے دور تھے تو ہم نے چاہا کہ ہم اپنے گھروں کو بیچ دیں اور مسجد کے قریب گھر لے لیں تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منع فرما دیا اور فرمایا کہ تمہارے لئے ہر قدم کے ساتھ ایک درجہ ہے۔
Jabir bin Abdullah narrated: Our houses were situated far away from the mosque; we, therefore, decided to sell our houses so that we may be able to come near the mosque. The Messenger of Allah ﷺ forbade us (to do so) and said: There is for every step (towards the mosque) a degree (of reward) for you.
مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ قَالَ حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَلَتْ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا إِلَی قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّکُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَرَدْنَا ذَلِکَ فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارُکُمْ دِيَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارُکُمْ
محمد بن مثنی، عبدالصمد بن عبدالوارث، جریری، ابونضرہ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ مسجد کے گرد کچھ جگہیں خالی ہوئیں تو بنی سلمہ نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب منتقل ہوجائیں تو یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ مجھے تمہاری یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو انہوں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول ہم نے یہ ارادہ کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے بنی سلمہ اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں (آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا) اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: There were some plots vacant around the mosque. Banu Salama decided to shift (to this land) and come near the mosque. This (news) reached the Messenger of Allah ﷺ and he said to them (Banu Salama): I have received (information) that you intend to shift near the mosque. They said: Yes, Messenger of Allah, we have taken this decision. Upon this he (the Holy Prophet) said: O Banu Salama, live in your houses, for your steps are recorded; live in your houses, for your steps are recorded.
مسجدوں کی طرف کثرت سے قدم اٹھا کر جانے والوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ کَهْمَسًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَی قُرْبِ الْمَسْجِدِ قَالَ وَالْبِقَاعُ خَالِيَةٌ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَکُمْ تُکْتَبْ آثَارُکُمْ فَقَالُوا مَا کَانَ يَسُرُّنَا أَنَّا کُنَّا تَحَوَّلْنَا
عاصم بن نضر تیمی، معتمر، کہمس، ابونضرہ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ مسجد کے قریب والی جگہوں میں منتقل ہوجائیں راوی نے کہا کہ وہاں کچھ مکان خالی تھے یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے بنی سلمہ تم اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں انہوں نے عرض کیا کہ اب ہمیں منتقل ہونے کی اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (جتنی کہ آپ ﷺ کے یہ فرمانے پر کہ تمہارے قدموں کے نشانات بھی لکھے جاتے ہیں)
Jabir bin Abdullah (RA) reported that Banu Salama decided to shift near the mosque (as there were) some plots vacant. This (news) reached the Apostle of Allah ﷺ , whereupon he said: O people of the Salama tribe, you better stay in your houses (where you are living), for your footsteps are recorded They said. We could not be more delighted even by shifting (near the mosque) as we were delighted (on hearing these words from the Messenger of Allah ﷺ .
مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ مَشَی إِلَی بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ کَانَتْ خَطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً وَالْأُخْرَی تَرْفَعُ دَرَجَةً
اسحاق بن منصور، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، عدی بن ثابت، ابوحازم، اشعجی، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اپنے گھر میں طہارت حاصل کرے پھر وہ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کی طرف چلے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے ایک فریضہ کو پورا کرے تو اس کے قدموں میں سے ایک سے گناہ مٹیں گے اور دوسرے قدم سے اس کا ایک درجہ بلند ہوگا۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon him) said: He who purified himself in his house, and then he walked to one of the houses of Allah for the sake of performing a Fard (obligatory act) out of the Faraid (obligatory acts) of Allah, both his steps (would be significant) as one of them would obliterate his sin and the second one would raise his status.
مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا بَکْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَفِي حَدِيثِ بَکْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ کُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ هَلْ يَبْقَی مِنْ دَرَنِهِ شَيْئٌ قَالُوا لَا يَبْقَی مِنْ دَرَنِهِ شَيْئٌ قَالَ فَذَلِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا
قتیبہ بن سعید، لیث، قتیبہ، بکر ابن مضر، ابن ہاد، محمد بن ابراہیم، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ابوبکر کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر کوئی نہر ہو اور وہ روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو کیا اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گی صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ اس پر سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان نمازوں کے ذریعہ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
In the hadith narrated of the authority of Abu Hurairah (RA) the Messenger of Allah ﷺ is reported to have said. while in the hadith narrated by Bakr (the words are like this): He heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: Just see, can anything of his filthiness remain (on the body of) any one of you if there were a river at his door in which he washed himself five times daily? They, said: Nothing of his filthiness will remain (on his body). He said: That is like the five prayers by which Allah obliterates sins.
مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ کَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَی بَابِ أَحَدِکُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ کُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ قَالَ قَالَ الْحَسَنُ وَمَا يُبْقِي ذَلِکَ مِنْ الدَّرَنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال اس گہری نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروزاے پر بہہ رہی ہو اور وہ روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، حسن کہنے لگا کہ پھر تو اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گی۔
Jabir bin Abdullah reported that the Messenger of Allah ﷺ said: The similitude of five prayers is like an overflowing river passing by the gate of one of you in which he washes five times daily Hasan said: No filthiness can remain on him.
مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ غَدَا إِلَی الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُلًا کُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ
ابوبکر بن ابی شیبہ و زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، محمد بن مطرف، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی صبح کے وقت مسجد کی طرف آتا ہے یا شام کے وقت تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ضیافت تیار رکھتے ہیں کہ وہ صبح آئے یا شام آئے۔
Ata bin Yasar reported, on the authority of Abu Hurairah (RA) , the Apostle of Allah ﷺ as saying: He who went towards the mosque in the morning or evening, Allah would arrange a feast for him morning or evening in Paradise.
صبح (فجر) کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے اور مسجدوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَکُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ کَثِيرًا کَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوْ الْغَدَاةَ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ قَامَ وَکَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَکُونَ وَيَتَبَسَّمُ
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، سماک بن حرب، یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ سے عرض کیا کہ کیا آپ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا کہ ہاں بہت زیادہ۔ آپ ﷺ اپنی جگہ سے کھڑے نہیں ہوتے تھے جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے تھے جب تک کہ سورج نہ نکل آتا پھر جب سورج نکل آتا تو آپ ﷺ کھڑے ہوجاتے اور لوگ باتیں کرتے رہتے تھے اور زمانہ جاہلیت کا تذکرہ کرتے اور ہنستے اور آپ ﷺ بھی مسکراتے۔
Simak bin Harb reported: I said to Jabir bin ahadeeth: Did you sit in the company of the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him)? He said: Yes, very often. He (the Holy Prophet) used to sit at the place where he observed the morning or dawn prayer till the sun rose or when it had risen; he would stand, and they (his Companions) would talk about matters (pertaining to the days) of ignorance, and they would laugh (on these matters) while (the Holy Prophet) only smiled.
صبح (فجر) کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے اور مسجدوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ کِلَاهُمَا عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا صَلَّی الْفَجْرَ جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، ابوبکر، محمد بن بشر، زکریا، سماک، حضرت جابر بن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھتے تھے تو اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح طلوع ہوجاتا۔
Simak narrated on the authority of Jabir bin ahadeeth that when the Apostle of Allah ﷺ observed the dawn prayer, he sat at the place of worship till the sun had risen enough.