Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 77 of 379

1527Sahih Muslim

صبح (فجر) کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے اور مسجدوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُولَا حَسَنًا

قتیبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواحوص، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت سماک ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Simak with the same chain of transmitters, but no mention has been made of "enough".

1528Sahih Muslim

صبح (فجر) کی نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے رہنے اور مسجدوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ فِي رِوَايَةِ هَارُونَ وَفِي حَدِيثِ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَی اللَّهِ مَسَاجِدُهَا وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَی اللَّهِ أَسْوَاقُهَا

ہارون بن معروف، اسحاق بن موسیٰ انصاری، انس بن عیاض، ابن ابی ذباب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: The parts of land dearest to Allah are its mosques, and the parts most hateful to Allah are markets.

1529Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، قتادہ، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک امام بنے اور ان میں سے امامت کا مستحق وہ ہے جو ان میں سے زیادہ (قرآن مجید) پڑھا ہوا ہو۔

Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When there are three persons, one of them should lead them. The one among them most worthy to act as Imam is one who is best versed in the Quran.

1530Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، سعید بن ابی عروبہ، ابوغسان مسمعی، معاذ بن ہشام، ابوہشام، قتادہ، اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Qatida with the same chain of transmitters.

1531Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ح و حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ جَمِيعًا عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن مثنی، سالم بن نوح، حسن بن عیسی، ابن مبارک، جریری، حضرت ابوسعید ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرمائی ہے۔

This hadith has been narrated by Abu Said al-Khudri by another chain of transmitters.

1532Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي خَالِدٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَجَائٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِکِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ کَانُوا فِي الْقِرَائَةِ سَوَائً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ فَإِنْ کَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَائً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ کَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَائً فَأَقْدَمُهُمْ سِلْمًا وَلَا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَی تَکْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ قَالَ الْأَشَجُّ فِي رِوَايَتِهِ مَکَانَ سِلْمًا سِنًّا

ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوسعیداشج، ابوخالد احمر، اعمش، اسماعیل بن رجاء، اوس بن ضمعج، ابومسعود انصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں کا امام وہ آدمی بنے جو اللہ کی کتاب کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو اور اگر قرآن مجید کے جاننے میں سب برابر ہوں تو پھر وہ آدمی امام بنے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت کا سب سے زیادہ جاننے والا ہو تو اگر سنت کے جاننے میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی جس نے ہجرت پہلے کی ہو تو اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی امام بنے جس نے اسلام پہلے قبول کیا ہو اور کوئی آدمی کسی آدمی کی سلطنت میں جا کر امام نہ بنے اور نہ اس کے گھر میں اس کی مسند پر بیٹھے سوائے اس کی اجازت کے۔

Abu Masud al-Ansari reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The one who is most versed in Allahs Book should act as Imam for the people, but if they are equally versed in reciting it, then the one who has most knowledge regarding Sunnah; if they are equal regarding the Sunnah, then the earliest one to emigrate; it they emigrated at the same time, then the earliest one to embrace Islam. No man must lead another in prayer where (the latter) has authority, or sit in his place of honour in his house, without his permission. Ashajj in his narration used the word, "age" in place of "Islam".

1533Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوکریب، ابومعاویہ، اسحاق، جریر، ابومعاویہ، اشج، ابن فضیل، ابن ابی عمر، سفیان، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Amash by the same chain of transmitters

1534Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَجَائٍ قَالَ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُا قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِکِتَابِ اللَّهِ وَأَقْدَمُهُمْ قِرَائَةً فَإِنْ کَانَتْ قِرَائَتُهُمْ سَوَائً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ کَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَائً فَلْيَؤُمَّهُمْ أَکْبَرُهُمْ سِنًّا وَلَا تَؤُمَّنَّ الرَّجُلَ فِي أَهْلِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا تَجْلِسْ عَلَی تَکْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَکَ أَوْ بِإِذْنِهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، اسماعیل بن رجاء، اوس بن ضمعج، حضرت ابومسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ لوگوں کا امام وہ آدمی بنے جو اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ جاننے والا ہو اور سب سے اچھا پڑھتا ہو تو اگر ان کا پڑھنا برابر ہو تو وہ آدمی امام بنے جس نے ان میں سے پہلے ہجرت کی ہو اور اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی امامت کرے جو ان میں سب سے بڑا ہو اور کوئی آدمی کسی آدمی کے گھر میں امام نہ بنے اور نہ ہی اس کی حکومت میں اور نہ ہی اس کے گھر میں اس کی عزت کی جگہ پر بیٹھے سوائے اس کے کہ وہ اجازت دیدے۔

Abu Masud al-Ansari reported: The Messenger of Allah ﷺ said to us: The one who is well grounded in Allahs Book and is distinguished among them in recitation should act as Imam for the people. and if they are equally versed in reciting it, then the one who has most knowledge regarding Sunnah; if they are equal regarding the Sunnah, then the earliest one to emigrate; If they emigrated at the same time, then the oldest one in age. No man must lead another in prayer in latters house or where (the latter) has authority, or sit in his place of honour in his house, except that he gives you permission or with his permission.

1535Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا فَظَنَّ أَنَّا قَدْ اشْتَقْنَا أَهْلَنَا فَسَأَلَنَا عَنْ مَنْ تَرَکْنَا مِنْ أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ ارْجِعُوا إِلَی أَهْلِيکُمْ فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ فَإِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَکُمْ أَحَدُکُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب ابی قلابہ، مالک بن حویرث فرماتے ہیں کہ ہم سب جوان اور ہم عمر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور ہم آپ ﷺ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے اور رسول اللہ ﷺ نہایت مہربان اور نرم دل تھے آپ ﷺ کو اس چیز کا خیال ہوگیا کہ ہمیں اپنے وطن جانے کا اشتیاق ہوگیا ہے آپ ﷺ نے ہم سے پوچھا کہ تم اپنے گھروں میں سے کس کو چھوڑ کر آئے ہو؟ تو ہم نے آپ ﷺ کو اس سے باخبر کردیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کی طرف واپس جاؤ اور ان میں ٹھہرو اور ان کو دین کی باتیں سکھاؤ اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے کوئی اذان دے پھر تم میں سے جو سب سے بڑا ہو وہ تمہارا امام بنے۔

Malik bin Huwairith rejected: We came to the Messenger of Allah ﷺ and we were all young men of nearly equal age. We stayed with him (the Holy Prophet) for twenty nights, and as the Messenger of Allah ﷺ may peace be upon him) was extremely kind and tender of heart, he therefore, thought that we were eager (to see) our family (we felt home-sickness). So he asked us about the members of the family that we had left behind and when we informed him, he said: Go back to your family, stay with them, and teach them (beliefs and practices of Islam) and exhort them to good, and when the time for prayer comes, one amongst you should-announce Adzan and then the oldest among you should lead the prayer.

1536Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَبُو سُلَيْمَانَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي نَاسٍ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ وَاقْتَصَّا جَمِيعًا الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ

ابوربیع زہرانی، خلف بن ہشام، حماد، ایوب سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔ ابن ابی عمر، عبدالوہاب ثقفی، ابوقلابہ، مالک بن حویرث نے حویرث ابی سلیمان ؓ فرماتے ہیں کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور ہم جوان ہم عمر تھے باقی حدیث اسی طرح ہے جیسے گزری۔

This hadith has been transmitted by Ayyub with the same chain of narrator.

1538Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي فَلَمَّا أَرَدْنَا الْإِقْفَالَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ لَنَا إِذَا حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا وَلْيَؤُمَّکُمَا أَکْبَرُکُمَا

اسحاق بن ابراہیم، عبدالوہاب، خالد حذاء، ابوقلابہ، مالک بن حویرث فرماتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے پھر جب ہم نے آپ ﷺ کے پاس سے واپس جانے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ جب نماز کا وقت آئے تو تم اذان دینا اور اقامت کہنا اور تم میں سے جو بڑا ہو اسے اپنا امام بنا لینا۔

Malik bin Huwairith Abu Sulaiman reported: I came to the Messenger of Allah ﷺ along with other persons and we were young men of nearly equal age, and the rest of the hadith was transmitted like the hadith narrated before.

1539Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ امامت کرنے کا زیادہ مستحق کون ہے ؟

حَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ الْحَذَّائُ وَکَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَائَةِ

ابوسعیداشج، حفص بن غیاث، خالد حذاء اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated with the same chain of transmitters, but al-Hadra made this addition: "They both were equal in recitation."

1540Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ الْقِرَائَةِ وَيُکَبِّرُ وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ کَسِنِي يُوسُفَ اللَّهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَکْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثُمَّ بَلَغَنَا أَنَّهُ تَرَکَ ذَلِکَ لَمَّا أُنْزِلَ لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت فجر کی نماز میں قرأت سے فارغ ہوتے اور تکبیر کہتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ( سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ) کہتے پھر کھڑے کھڑے یہ دعا فرماتے اے اللہ ولید بن ولید اور سلمہ بن ہشام اور عیاش ابن ابی ربیعہ اور کمزور مومنوں کو کافروں سے نجات عطا فرما، اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی سختی نازل فرما اور ان پر بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی طرح قحط سالی مسلط فرما اے اللہ قبیلہ لحیان اور رعل اور ذکوان اور عصیہ پر لعنت فرما انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی ہے پھر ہمیں یہ بات پہنچی کہ آپ ﷺ نے یہ دعا چھوڑ دی جب یہ آیت نازل ہوئی ( لَيْسَ لَکَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ ) 3۔ آل عمران: 128) اے پیغمبر اسلام اس معاملہ میں آپ ﷺ کا کوئی اختیار نہیں ہے (اے اللہ) ان کو توبہ کی توفیق عطا فرمایا ان کو عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

Abu Salama bin Abdul Rahman bin Auf (RA) heard Abu Hurairah (RA) say: (When) Allahs Messenger ﷺ (wished to invoke curse or blessing on someone, he would do so at the end) of the recitation in the dawn prayer, when he had pronounced Allah-o-Akbar (for bending) and then lifted his head (saying): "Allah listened to him who praised Him; our Lord! to Thee is all praise" ; he would then stand up and say: "Rescue al-Walid bin Walid, Salama bin Hisham, and Ayyash bin Abd Rabia, and the helpless among the Muslims. O Allah! trample severely Mudar and cause them a famine (which broke out at the time) of Joseph. O Allah! curse Lihyan, Ril, Dhakwan, Usayya, for they disobeyed Allah and His Messenger." (The narrator then adds): The news reached us that he abandoned (this) when this verse was revealed: "Thou but no concern in the matter whether He turns to them (mercifully) or chastises them; surely they are wrongdoers" (III 128)

1541Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ إِلَی قَوْلِهِ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ کَسِنِي يُوسُفَ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ و عمرو ناقد، ابن عیینہ، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل کیا ہے لیکن اس روایت میں کَسِنِی یوسف تک ہے اس کے بعد اور کچھ ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters up to the words: "And cause them a famine like that (which broke out at the time) of Joseph," but the subsequent portion was not mentioned.

1542Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرَّکْعَةِ فِي صَلَاةٍ شَهْرًا إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ اللَّهُمَّ نَجِّ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ اللَّهُمَّ نَجِّ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَکَ عَلَی مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ کَسِنِي يُوسُفَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَکَ الدُّعَائَ بَعْدُ فَقُلْتُ أُرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَرَکَ الدُّعَائَ لَهُمْ قَالَ فَقِيلَ وَمَا تُرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا

محمد بن مہران، ولید بن مسلم، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک مہینہ تک نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی جب آپ ﷺ (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کہتے ہوئے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے اے اللہ ولید بن ولید کو نجات عطا فرمایا اے اللہ سلمہ بن ہشام کو نجات عطا فرما اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما اے اللہ کمزور مسلمانوں کو نجات عطا فرما اے اللہ قبیلہ مضر پر اپنی سختی نازل فرما اے اللہ ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کے قحط کی طرح کا قحط نازل فرما حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد یہ دعا کرنی چھوڑ دی تو میں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ نے ان کے لئے یہ دعا چھوڑ دی تو مجھے کہا گیا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جن کے لئے نجات کی دعا کی جاتی تھی وہ تو آگئے ہیں۔

Abu Salama reported it on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Apostle of Allah ﷺ recited Qunut after ruku in prayer for one month at the time of reciting (these words): "Allah listened to him who praised Him," and he said in Qunut: "O Allah! rescue al-Walid bin al-Walid; O Allah! rescue Salama bin Hisham; O Allah! rescue Ayyash bin Abu Rabia; O Allah! rescue the helpless amongst the Muslims; O Allah! trample Mudar severely; O Allah! cause them a famine like that (which was caused at the time) of Joseph." Abu Hurairah (RA) (further) said: I saw that the Messenger of Allah ﷺ afterwards abandoned this supplication. I, therefore said: I see the Messenger of Allah ﷺ abandoning this blessing upon them. It was said to him ( Abu Hurairah (RA) ): Dont you see that (those for whom was blessing invoked by the Holy Prophet) have come (i. e. they have been rescued)?

1543Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي الْعِشَائَ إِذْ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ اللَّهُمَّ نَجِّ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَی قَوْلِهِ کَسِنِي يُوسُفَ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ

زہیر بن حرب، حسین بن محمد، شیبان، یحیی، ابوسلمہ، ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز پڑھا رہے تھے جب آپ ﷺ نے (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کہا پھر آپ ﷺ نے سجدہ کرنے سے پہلے یہ دعا کی اے اللہ عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات عطا فرما پھر اس طرح ذکر فرمائی ( کَسِنِي يُوسُفَ ) تک اور اس کے بعد ذکر نہیں فرمایا۔

Abu Salama narrated that Abu Hurairah (RA) told him that when the Messenger of Allah ﷺ pronounced: "Allah listened to him who praised Him." and before prostration, he would recite this in the Isha prayer: O Allah! rescue Ayyash bin Abu Rabia, and the rest of the hadith is the same as narrated by Auzai to the words: "Like the famine (at the time) if Joseph." but he made no mention of that which follows afterwards.

1544Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِکُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الظُّهْرِ وَالْعِشَائِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْکُفَّارَ

محمد بن مثنی، معاذ، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی طرح نماز پڑھاؤں گا پھر حضرت ابوہریرہ ؓ ظہر اور عشاء اور صبح کی نماز میں قنوت پڑھتے اور مومنوں کے لئے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے۔

Abu Salama bin Abdul Rahman is reported to have said that he had heard Abu Hurairah (RA) saying: I would say prayer along with you which is near to the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . and Abu Hurairah (RA) recited Qunut in the noon and in the Isha and in the morning prayer, and invoked blessing (of Allah) upon Muslims-and curse upon the unbelievers.

1545Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الَّذِينَ قَتَلُوا أَصْحَابَ بِئْرِ مَعُونَةَ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا يَدْعُو عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَلِحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَنَسٌ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ قُرْآنًا قَرَأْنَاهُ حَتَّی نُسِخَ بَعْدُ أَنْ بَلِّغُوا قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِينَا عَنْهُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں پر تیس دن تک صبح کے وقت بد دعا فرمائی کہ جنہوں نے بیر معونہ والوں کو شہید کردیا تھا خاص طور پر رعل اور ذکوان اور لحیان اور عصیہ والوں کے خلاف بد دعا فرمائی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں جو بیر معونہ میں شہید کردیئے گئے قرآن نازل فرمایا ہم اس حصے کو پڑھتے بھی رہے پھر بعد میں اسے منسوخ کردیا گیا، ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم نے اپنے رب سے ملاقات کی وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہوئے۔

Anas bin Malik (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ invoked curse in the morning (prayer) for thirty days upon those who killed the Companions (of the Holy Prophet) at Bir Mauna. He cursed (the tribes) of Ril, Dhakwan, Lihyan, and Usayya, who had disobeyed Allah and His Messenger ﷺ . Anas said: Allah the Exalted and Great revealed (a verse) regarding those who were killed at Bir Mauna, and we recited it, till it was abrogated later on (and the verse was like this): convey to it our people the tidings that we have met our Lord, and He was pleased with us and we were pleased with Him".

1546Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّکُوعِ يَسِيرًا

عمرو بن ناقد و زہیر بن حرب، اسماعیل، ایوب، محمد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز میں دعائے قنوت پڑھی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں رکوع کے بعد (حالات) کی آسانی تک۔

Muhammad reported: I asked Anas whether the Messenger of Allah ﷺ observed Qunut in the dawn prayer. He said: Yes, (he did so) after the ruku, for a short while.

1547Sahih Muslim

تمام نمازوں میں قنوت پڑھنے کے استح کے بیان میں جب مسلمانوں پر کوئی آفت آئے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنا اور اس کے پڑھنے کا وقت صبح کی نماز میں آخری رکعت میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور بلند آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّکُوعِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَيَقُولُ عُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ

عبیداللہ بن معاذ و ابوکریب و اسحاق بن ابراہیم و محمد بن عبدالاعلی، معتمر بن سلیمان، سلیمان، ابی مجلز، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینہ صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی جس میں آپ ﷺ رعل اور ذکوان کے خلاف بد دعا فرماتے اور فرماتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔

Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ observed Qunut for a month in the dawn prayer after ruku and invoked curse upon Ril, Dhakwan, and said that Usayya had disobeyed Allah and His Apostle ﷺ .