Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 75 of 379

1487Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنن ہُدیٰ میں سے ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْ الصَّلَاةِ إِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُهُ أَوْ مَرِيضٌ إِنْ کَانَ الْمَرِيضُ لَيَمْشِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ حَتَّی يَأْتِيَ الصَّلَاةَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَنَا سُنَنَ الْهُدَی وَإِنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَی الصَّلَاةَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُؤَذَّنُ فِيهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشرعبدی، زکریا بن ابی زائدہ، عبدالملک بن عمیر، ابی احوص، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم دیکھتے تھے کہ سوائے منافق کے نماز سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہتا تھا جس کا نفاق ظاہر ہو یا وہ بیما رہو اگر بیمار ہوتا تو بھی دو آدمیوں کے سہارے چلتا ہوا نماز پڑھنے کے لئے آجاتا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سنن ہدی سکھایا ہے اور سنن ہُدیٰ میں یہ کہ اس مسجد میں نماز پڑھنا کہ جس میں اذان دی جاتی ہو۔

Abdullah (b. Masud) reported: I have seen the time when no one stayed away from prayer except a hypocrite, whose hypocrisy was well known, or a sick man, but it a sick man could walk between two persons (i. e. with the help of two persons with one on each side) he would come to prayer. And (further) said: The Messenger of Allah ﷺ taught us the paths of right guidance among which is prayer in the mosque in which the Adzan is called.

1488Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنن ہدی میں سے ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَی اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَی هَؤُلَائِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَی بِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَی وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَی وَلَوْ أَنَّکُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِکُمْ کَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَکْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّکُمْ وَلَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّکُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَی مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا کَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِکُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَی بِهِ يُهَادَی بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّی يُقَامَ فِي الصَّفِّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، فضل بن دکین، ابی عمیس، علی بن اقمر، ابواحوص، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی یہ چاہتا ہو کہ وہ کل اسلام کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان ساری نمازوں کی حفاظت کرے جہاں سے انہیں پکارا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کے لئے ہدایت کے طریقے متعین کر دئیے ہیں اور یہ نمازیں بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اور اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو تم نے اپنے نبی ﷺ کے طریقے کو چھوڑ دیا ہے اور اگر تم اپنے نبی ﷺ کے طریقے کو چھوڑ دو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے اور کوئی آدمی نہیں جو پاکی حاصل کرے پھر ان مسجدوں میں سے کسی مسجد کی طرف جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کے ہر قدم پر جو وہ رکھتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کے ایک درجے کو بلند کرتا اور اس کے ایک گناہ کو مٹا دیتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ منافق کے سوا کوئی بھی نماز سے پیچھے نہیں رہتا تھا کہ جس کا نفاق ظاہر ہوجاتا اور ایک آدمی جسے دو آدمیوں کے سہارے لایا جاتا تھا یہاں تک کہ اسے صف میں کھڑا کردیا جاتا۔

Abdullah (b. Masud) reported: He who likes to meet Allah tomorrow as Muslim, he should persevere in observing these prayers, when a call is announced for them, for Allah has laid down for your Prophet ﷺ the paths of right guidance, and these (prayers) are among the paths of right guidance. If you were to pray in your houses as this man why stays away (from the mosque) prays in his house, you would abandon the practice of your Prophet, and if you were to abandon the practice of your Prophet, you would go astray. No man purifies himself, doing it well, then makes for one of those mosques without Allah recording a blessing for him for every step he takes raising him a degree for it, and effacing a sin from him for it. I have seen the time when no one stayed away from it, except a hypocrite, who was well known for his hypocrisy, whereas a man would be brought swaying (due to weakness) between two men till he was set up in a row.

1489Sahih Muslim

جب موذن اذان دے دے تو مسجد سے نکلنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ عَنْ أَبِي الشَّعْثَائِ قَالَ کُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْمَسْجِدِ يَمْشِي فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ حَتَّی خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواحوص، ابراہیم بن مہاجر، حضرت ابوشعثاء ؓ فرماتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو مؤذن نے اذان دی تو ایک آدمی کھڑا ہو اور مسجد سے جانے لگا حضرت ابوہریرہ اپنی نگاہ سے اس کا پیچھا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ مسجد سے نکل گیا پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ اس آدمی نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔

Abu Shatha reported: While we were sitting with Abu Hurairah (RA) in a mosque a man went out of the mosque after the call to prayer had been announced. (A man stood up in the mosque and set off.) Abu Hurairah (RA) s eyes followed him till he went out of the mosque. Upon this Abu Hurairah (RA) said: This man has disobeyed Abul- Qasim (Muhammad) ﷺ .

1490Sahih Muslim

جب موذن اذان دے دے تو مسجد سے نکلنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ الْمُحَارِبِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَرَأَی رَجُلًا يَجْتَازُ الْمَسْجِدَ خَارِجًا بَعْدَ الْأَذَانِ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَی أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابن ابی عمر مکی، سفیان بن عیینہ، عمر بن سعید، حضرت اشعث بن ابی شعثا صحابی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا اور انہوں نے ایک آدمی کو اذان کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔

Abu Shatha al-Muharibi reported on the authority of his father, who said: I heard it from Abu Hurairah (RA) that he saw a person getting out of the mosque after the call to prayer had been announced. Upon this he remarked: This man disobeyed Abul-Qasim ﷺ .

1491Sahih Muslim

عشاء اور صبح کی نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَسْجِدَ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقَعَدَ وَحْدَهُ فَقَعَدْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّی الْعِشَائَ فِي جَمَاعَةٍ فَکَأَنَّمَا قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ وَمَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَکَأَنَّمَا صَلَّی اللَّيْلَ کُلَّهُ

اسحاق بن ابراہیم، مغیرہ بن سلمہ، عبدالواحد بن زیاد، عثمان بن حکیم، حضرت عبدالرحمن بن ابوعمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں داخل ہوئے اور اکیلے بیٹھ گئے تو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بھتیجے میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس آدمی نے صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی تو گویا کہ اس نے ساری رات قیام کیا۔

Abdul Rahman bin Abd Amr reported: Uthman bin Affan (narrated the mosque after evening prayer and sat alone. I also sat alone with him, so he said: 0, son of my brother, I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who observed the Isha prayer in congregation, it was as if he prayed up to the midnight, and he who prayed the morning prayer in congregation, it was as if he prayed the whole night.

1492Sahih Muslim

عشاء اور صبح کی نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَهْلٍ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ اسدی و محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، ابی سہل، حضرت عثمان بن حکیم ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح سے نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by the chain of transmitters by Abu Sahl Uthman bin Hakim.

1493Sahih Muslim

عشاء اور صبح کی نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّکُمْ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْئٍ فَيُدْرِکَهُ فَيَکُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ

نصر بن علی جہضمی، بشر ابن مفضل، خالد، حضرت انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جندب بن عبداللہ ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے اللہ کی ذمہ داری میں خلل نہ ڈالو تو جو اس طرح کرے گا اللہ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔

Jundab bin Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who prayed the morning prayer (in congregation) he is in fact under the protection of Allah. And it can never happen that Allah should demand anything from you in connection with the protection (that He guarantees) and one should not get it. He would then throw him in the fire of Hell.

1494Sahih Muslim

عشاء اور صبح کی نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدَبًا الْقَسْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّکُمْ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْئٍ فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْئٍ يُدْرِکْهُ ثُمَّ يَکُبَّهُ عَلَی وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ

یعقوب بن ابراہیم دورقی، اسماعیل، خالد، حضرت انس بن سیرین ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جندب قمری سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے کوئی اللہ کی ذمہ داری میں خلل نہ ڈالے تو جو آدمی اللہ سے کسی چیز کے ساتھ اللہ کی ذمہ داری کو طلب کرے گا تو اللہ اسے اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔

Anas bin Sirin reported: I heard Jundab bin Qasri saying that the Messenger of Allah ﷺ said: He who observed the morning prayer (in congregation), he is in fact under the protection of Allah and it never happens that Allah should make a demand in connection with the protection (that He guarantees and should not get it) for when he asks for anything in relation to His protection, he definitely secures it. He then throws him flatly in the Hell-fire.

1495Sahih Muslim

عشاء اور صبح کی نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَلَمْ يَذْکُرْ فَيَکُبَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، داؤد بن ابی ہند، حسن، حضرت جندب بن سفیان ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح یہ حدیث نقل کی ہے لیکن اس میں اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈالے جانے کا ذکر نہیں ہے۔

This hadith has been narrated by Jundab bin Sufyan in from the Apostle of Allah ﷺ with the same chain of transmitters, but this has not been mentioned: "He would throw him in fire."

1496Sahih Muslim

کسی عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنے کی رخصت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِکٍ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَّهُ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَنْکَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي وَإِذَا کَانَتْ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ وَدِدْتُ أَنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي مُصَلًّی فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّی قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَفْعَلُ إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّی دَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِکَ قَالَ فَأَشَرْتُ إِلَی نَاحِيَةٍ مِنْ الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَبَّرَ فَقُمْنَا وَرَائَهُ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ قَالَ وَحَبَسْنَاهُ عَلَی خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ لَهُ قَالَ فَثَابَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ حَوْلَنَا حَتَّی اجْتَمَعَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ ذَوُو عَدَدٍ فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ أَيْنَ مَالِکُ بْنُ الدُّخْشُنِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ذَلِکَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِکَ أَلَا تَرَاهُ قَدْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُرِيدُ بِذَلِکَ وَجْهَ اللَّهِ قَالَ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّمَا نَرَی وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ لِلْمُنَافِقِينَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَی النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِي بِذَلِکَ وَجْهَ اللَّهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِکَ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت محمود بن ربیع انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عتبان بن مالک ؓ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے وہ صحابی ہیں جو انصار میں سے غزوہ بدر میں شریک ہوئے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول میری بینائی ختم ہوگئی ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں اور جب بارش ہوتی ہے تو میرے اور ان کے درمیان ایک نالہ ہے جو بہتا ہے جس کی وجہ سے میں ان کی مسجد میں ان کو نماز پڑھانے کے لئے نہیں آسکتا اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اے اللہ کے رسول آپ ﷺ میرے گھر میں تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں تاکہ میں اس جگہ میں اپنی نماز پڑھنے کی جگہ بنالوں تو رسول اللہ ﷺ فرمایا میں اسی طرح کروں گا اگر اللہ نے چاہا تو عتبان کہتے ہیں کہ اگلے دن رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ دن چڑھے ہی میرے ہاں تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ نے اجازت طلب فرمائی اور میں نے آپ ﷺ کو اجازت دی آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے ابھی آپ ﷺ بیٹھے نہیں تھے اور فرمایا کہ تو کہاں چاہتا ہے کہ ہم تیرے گھر میں نماز پڑھیں عتبان کہتے ہیں کہ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی اور ہم بھی آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے دو رکعتیں نماز کی پڑھائیں پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا عتبان کہتے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ کے لئے حریرہ بنایا ہوا تھا ہم نے آپ ﷺ کو روکا کہ آپ ﷺ کو وہ حریرہ کھلائیں اور ہمارے اردگرد کے لوگ بھی آگئے یہاں تک کہ گھر میں کچھ لوگوں کا ایک اجتماع ہوگیا ان لوگوں میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ مالک بن دخشن کہاں ہے؟ ان میں سے کسی نے (جذبات میں آکر) کہہ دیا کہ وہ تو منافق ہے وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت نہیں کرتا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے اس طرح نہ کہو کیا تم نہیں دیکھتے کہ اس نے جو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہے وہ اس سے صرف اللہ کی رضا چاہتا ہے عتبان کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جاننے والے ہیں (ان لوگوں میں سے کسی نے) کہا کہ ہم نے اس کی تو جہ اور اس کی خیر خواہی منافقوں کے لئے کرتا دیکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ کی رضا کی خاطر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہے اللہ نے اس پر دوزخ کی آگ کو حرام کردیا ہے ابن شہاب کہتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت حصیں بن محمد ؓ انصاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جو محمود بن ربیع نے بیان کی ہے تو انہوں نے اس کی تصدیق کی حضرت حصین بن محمد ؓ قبیلہ بنی سالم کے سردار ہیں۔

Mahmud bin al-Rabi reported that Ibn bin Malik, who was one of the Companions of the Apostle of Allah ﷺ and who participated in the (Battle of) Badr and was among the Ansar (of Madinah), told that he came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, I have lost my eyesight and I lead my people in prayer. When there is a downpour there is then a current (of water) in the valley that stands between me and them and I find it impossible to go to their mosque and lead them in prayer. Messenger of Allah, I earnestly beg of you that you should come and observe prayer at a place of worship (in my house) so that I should then use it as a place of worship. The Messenger of Allah ﷺ said: Well, it God so wills I would soon do so. Itban said: On the following day when the day dawned, the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) came along with Abu Bakr (RA) at-Siddiq, and the Messenger of Allah ﷺ asked permission (to get into the house). I gave him the permission, and he did not sit after entering the house, when he said: At what place in your house you desire me to say prayer? I (Itban bin Malik) said: I pointed to a corner in the house, The Messenger of Allah ﷺ stood (at that place for prayer) and pronounced Allah-o-Akbar (Allah is the Greatest) (as an expression for the commencement of prayer). We too stood behind him, and he said two rakahs and then pronounced salutation (marking the end of the prayer). We detained him (the Holy Prophet) for the meat curry we had prepared for him. The people of the neighbouring houses came and thus there was a good gathering in (our house). One of them said: Where is Malik bin Dukhshun? Upon this one of them remarked: He is a hypocrite; he does not love Allah and His Messenger. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Do not say so about him. Dont you see that he utters La ilaha ill-Allah (There is no god but Allah) and seeks the pleasure of Allah through it? They said: Allah and His Messenger know best. One (among the audience) said: We see his inclination and well wishing for hypocrites only. Upon this the Messenger of Allah ﷺ again said: Verily Allah has forbidden the Fire for one who says: There is no god but Allah, thereby seeking Allahs pleasure. Ibn Shihab said: I asked Husain bin Muhammad al-Ansar (he was one of the leaders of Banu Salim) about the hadith transmitted by Mahmud bin Rabi and he testified it.

1497Sahih Muslim

کسی عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنے کی رخصت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ رَبِيعٍ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ أَيْنَ مَالِکُ بْنُ الدُّخْشُنِ أَوْ الدُّخَيْشِنِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَفَرًا فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا قُلْتَ قَالَ فَحَلَفْتُ إِنْ رَجَعْتُ إِلَی عِتْبَانَ أَنْ أَسْأَلَهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ شَيْخًا کَبِيرًا قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ وَهُوَ إِمَامُ قَوْمِهِ فَجَلَسْتُ إِلَی جَنْبِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيهِ کَمَا حَدَّثَنِيهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ قَالَ الزُّهْرِيُّ ثُمَّ نَزَلَتْ بَعْدَ ذَلِکَ فَرَائِضُ وَأُمُورٌ نَرَی أَنَّ الْأَمْرَ انْتَهَی إِلَيْهَا فَمَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَغْتَرَّ فَلَا يَغْتَرَّ

محمد بن رافع و عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، محمود بن ربیع، حضرت عتبان بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا پھر آگے حدیث اسی طرح بیان کی سوائے اس کے کہ اس حدیث میں ہے کہ ایک نے کہا کہ مالک بن دخشن یا دخشین کہا ہے محمود کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث چند آدمیوں سے بیان کی۔ ان میں حضرت ابوایوب انصاری تھے انہوں نے فرمایا کہ میرا خیال نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا ہو جو تو نے کہا ہے۔ محمود راوی نے کہا کہ پھر میں نے قسم کھائی کہ میں عتبان کی طرف جا کر ان سے پوچھوں گا تو میں ان کی طرف گیا تو میں نے ان کو بوڑھا پایا، ان کی بینائی جاتی رہی تھی اور وہ اپنی قوم کے امام تھے۔ تو میں ان کے پہلو کی طرف جاکر بیٹھ گیا اور میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اسی طرح حدیث بیان کی جیسے پہلے بیان کی تھی زہری کہتے ہیں کہ پھر اس کے بعد بہت سی چیزیں فرض ہوئیں اور احکام نازل ہوئے اور ہم نے دیکھا کہ کام (دین) ان پر انتہا ہوگیا تو جو اس کی استطاعت رکھتا ہے کہ دھوکہ نہ کھائے تو وہ دھوکہ نہ کھائے۔

Itban bin Malik reported: I came to the Messenger of Allah ﷺ and the rest of the hadith is the same as narrated (above) except this that a man said: Where is Malik bin Dukhshun or Dukhaishin, and also made this addition that Mahmud said: I narrated this very hadith to many people and among them was Abu Ayyub al-Ansari who said: I cannot think that the Messenger of Allah ﷺ could have said so as you say. He (the narrator) said: I took an oath that if I ever go to Itban. I would ask him about it. So I went to him and found him to be a very aged man, having lost his eyesight, but he was the Imam of the people. I sat by his side and asked about this hadith and he narrated it in the same way as he had narrated it for the first time. Then so many other obligatory acts and commands were revealed which we see having been completed. So he who wants that he should not be deceived would not be deceived.

1498Sahih Muslim

کسی عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنے کی رخصت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ إِنِّي لَأَعْقِلُ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ دَلْوٍ فِي دَارِنَا قَالَ مَحْمُودٌ فَحَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَصَرِي قَدْ سَائَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَی قَوْلِهِ فَصَلَّی بِنَا رَکْعَتَيْنِ وَحَبَسْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی جَشِيشَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ زِيَادَةِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ

اسحاق بن ابراہیم، ولید بن مسلم، اوزاعی، زہری، حضرت محمود بن ربیع ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کا وہ کلی کرنا یاد ہے کہ جو کلی آپ ﷺ نے ہمارے گھر کے ڈول سے کی تھی حضرت محمود فرماتے ہیں کہ حضرت عتبان بن مالک ؓ نے مجھ سے بیان فرمایا کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میری بینائی کمزور ہوگئی ہے پھر آگے ایسی حدیث بیان فرمائی جو ابھی گزری یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں نماز پڑھائیں اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کو جشیشہ کھلانے کے لئے روک لیا جو ہم نے آپ ﷺ کے لئے بنایا تھا اور اس کے بعد حدیث میں یونس اور معمر کی زیادتی کا ذکر نہیں ہے۔

Mahmud b. Rabi reported: I well remember the disgorge of the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) that he did (with water) from a bucket of our house. Mahmud said: Itban b. Malik narrated it to me that he had said: Messenger of Allah, I have lost my eyesight, and the rest of the hadith is the same up to these words:" He led us in two rakahs of prayer and we detained the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) for serving him the pudding that we had prepared for him," and no mention has been made of what follows next from the addition made by Yunus and Mamar.

1499Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْکَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَکَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَأُصَلِّيَ لَکُمْ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ فَقُمْتُ إِلَی حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَائٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَائَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ

یحییٰ بن یحیی، مالک اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ ؓ نے ایک کھانے پر جو انہوں نے بنایا رسول اللہ ﷺ کو بلایا تو آپ ﷺ نے اس کھانے میں سے کھایا پھر فرمایا کھڑے ہوجاؤ میں تمہارے لئے نماز پڑھوں حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک چٹائی لے کر کھڑا ہوگیا جو کثرت استعمال کی وجہ سے سیاہ ہوگئی تھی میں نے اس پر پانی چھڑکا پھر اس پر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے میں نے اور ایک یتیم نے آپ ﷺ کے پیچھے ایک صف باندھی اور بڑھیا ملیکہ بھی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئی پھر ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے۔

Anas bin Malik (RA) reported that his grandmother, Mulaikah, invited the Messenger of Allah ﷺ to a dinner which she had prepared. He (the Holy Prophet) ate out of that and then said: Stand up so that I should observe prayer (in order to bless) you. Anas bin Malik (RA) said: I stood up on a mat (belonging to us) which had turned dark on account of its long use. I sprinkled water over it (in order to soften it), and the Messenger of Allah ﷺ stood upon it, and I and an orphan formed a row behind him (the Holy Prophet) and the old woman was behind us, and the Messenger of Allah ﷺ led us in two rakahs of prayer and then went back.

1500Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَأَبُو الرَّبِيعِ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ شَيْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا فَرُبَّمَا تَحْضُرُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُکْنَسُ ثُمَّ يُنْضَحُ ثُمَّ يَؤُمُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا وَکَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ

شیبان بن فروخ و ابوربیع، عبدالوراث، شیبان، عبدالوارث، ابوتیاح، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے بعض مرتبہ آپ ﷺ ہمارے گھر میں ہوتے تھے تو نماز کا وقت آجاتا تو اس چٹائی کو اٹھانے کا حکم فرماتے جس چٹائی پر آپ ﷺ تشریف فرما تھے پھر اسے صاف کیا جاتا پھر اسے پانی سے دھویا جاتا اور پھر رسول اللہ ﷺ امام بنتے اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی ہوتی تھی۔

Anas bin Malik (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ was the best among people in character. On occasions, the time of prayer would come while he was in our house. He would then order to spread the mat lying under him. That was dusted and then water was sprinkled over it. The Messenger of Allah ﷺ then led the prayer and we stood behind him, and that mat was made of the leaves of date-palm.

1501Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِکُمْ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ فَصَلَّی بِنَا فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ قَالَ جَعَلَهُ عَلَی يَمِينِهِ ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِکُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَقَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُکَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ فَدَعَا لِي بِکُلِّ خَيْرٍ وَکَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ أَنْ قَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِکْ لَهُ فِيهِ

زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم، سلیمان بن ثابت، حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمارے گھر داخل ہوئے جبکہ گھر میں میں اور میری والدہ اور ام حرام میری خالہ تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں اور وہ وقت کسی نماز کا بھی نہیں تھا ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے حضرت انس ؓ کو کہاں کھڑا کیا تھا انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے انہیں اپنی دائیں طرف کھڑا کیا پھر آپ ﷺ نے ہمارے گھر والوں کے لئے ہر طرح کی دنیا وآخرت کی بھلائی کی دعا فرمائی میری والدہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول انس آپ ﷺ کا ایک چھوٹا سا خادم ہے اس کے لئے آپ دعا فرمائیں! آپ ﷺ نے میرے لئے ہر طرح کی بھلائی کی دعا فرمائی اور دعا کے آخر میں جو میرے لئے تھی اس کے ساتھ یہ فرمایا اے اللہ ان کے مال اور ان کی اولاد میں کثرت اور ان کے لئے اس میں برکت عطا فرما۔

Thabit reported on the authority of Anas (RA) : The Apostle of Allah ﷺ came to us and there was none in our house but I, my mother and my aunt Umm Haram. He (the Holy Prophet) said: Stand up so that I may lead you in prayer (and there was no time for prescribed prayer). He led us in prayer. A person said to Thabit (RA) : Where stood Anas with him (the Holy Prophet)? He replied: He was on the right side. He then blessed us, the members of the household with every good of this world and of the Hereafter. My mother said: Messenger of Allah ﷺ (and then, pointing towards Anas, said), here is your little servant, invoke the blessing of Allah upon him too. He then blessed me with every good, and he concluded his blessings for me (with these words): Allah! increase his wealth, and his children and make (them the source of) blessing for him.

1502Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ سَمِعَ مُوسَی بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِهِ وَبِأُمِّهِ أَوْ خَالَتِهِ قَالَ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، عبداللہ بن مختار، موسی، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اور ان کی والدہ یا ان کی خالہ کو نماز پڑھائی اور ارشاد فرمایا کہ مجھے آپ ﷺ نے دائیں طرف کھڑا کیا اور خاتون کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔

Abdullah bin al-Mukhtar heard Musa bin Anas narrating on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ led him, his mother or his aunt in prayer. He made me stand on his right side and made the woman stand behind us.

1503Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

This hadith has also been narrated by Shubah with this chain of transmitters.

1504Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ کِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَائَهُ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ وَکَانَ يُصَلِّي عَلَی خُمْرَةٍ

یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عباد بن عوام، شیبانی، عبداللہ بن شداد، حضرت میمونہ ؓ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے اور بعض مرتبہ آپ ﷺ کے کپڑے میرے ساتھ لگتے تھے جب سجدہ کرتے اور آپ ﷺ چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔

Maimuna, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , reported: The Messenger of Allah ﷺ said prayer while I was by his side, and at times when he prostrated his cloth touched me, and he prayed on a small mat.

1505Sahih Muslim

جماعت کے ساتھ نوافل اور پاک چٹائی وغیرہ پر نماز پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ يُصَلِّي عَلَی حَصِيرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوکریب، ابومعاویہ، سوید بن سعید، علی بن مسہر، اعمش، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابوسفیان، جابر، ابوسعید خدری ؓ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ کو ایک چٹائی پر نماز پڑھتے ہوئے پایا جس پر آپ ﷺ سجدہ فرما رہے تھے۔

Abu Said al-Khudri reported that he went to the Messenger of Allah ﷺ and found him observing prayer on a mat and prostrating on that.

1506Sahih Muslim

فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور نماز کے انتظار اور کثرت کے ساتھ مسجد کی طرف قدم اٹھانے اور اس کی طرف چلنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَی صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِکَ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ ثُمَّ أَتَی الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فَلَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ حَتَّی يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِي الصَّلَاةِ مَا کَانَتْ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلَائِکَةُ يُصَلُّونَ عَلَی أَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّی فِيهِ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوکریب، ابومعاویہ، ابوبکر، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اس کا اپنے گھر میں نماز پڑھنے پر کچھ اوپر بیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے اور یہ اس لئے کہ تم میں سے کوئی جب وضو کرتا اور خوب اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد میں آتا ہے اسے نماز کے علاوہ کسی نے نہیں اٹھایا اور نہ ہی نماز کے علاوہ اس کا کسی چیز کا ارادہ ہے تو کوئی قدم نہیں اٹھاتا مگر اللہ تعالیٰ اس کے (ایک قدم) کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند فرما دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو جب وہ مسجد میں داخل ہوتا ہے تو وہ نماز ہی کے حکم میں رہتا ہے جب تک کہ نماز اسے روکے رکھتی ہے اور فرشتے تمہارے لئے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ اپنی اسی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے جس میں اس نے نماز پڑھی ہے کہتے رہتے ہیں اے اللہ اس پر رحم فرما اے اللہ اس کی مغفرت فرما اے اللہ اس کی توبہ قبول فرما جب کہ وہ بےوضو نہ ہو۔ (وہ فرشتے دعا ہی کرتے رہتے ہیں)

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A mans prayer in congregation is more valuable than twenty degrees and some above them as compared with his prayer in his house and his market, for when he performs ablution doing it well, then goes out to the mosque, and he is impelled (to do so) only by (the love of congregational) prayer, he has no other objective before him but prayer. He does not take a step without being raised a degree for it and having a sin remitted for it, till he enters the mosque, and when he is busy in prayer after having entered the mosque, the angels continue to invoke blessing on him as long as he is in his place of worship. saying: O Allah, show him mercy, and pardon him! Accept his repentance (and the angels continue this supplication for him) so long as he does not do any harm in it, or as long as his ablution is not broken.