Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 74 of 379

1467Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي أَوْصَانِي أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ وَأَنْ أُصَلِّيَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَکْتَ الْقَوْمَ وَقَدْ صَلَّوْا کُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَکَ وَإِلَّا کَانَتْ لَکَ نَافِلَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، شعبہ، ابوعمران، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ﷺ نے وصیت فرمائی ہے میں سنوں اور فرمانبرداری کروں اگرچہ ہاتھ پاؤں کٹا ہوا غلام ہو اور یہ کہ میں نماز کو اپنے وقت پر پڑھوں اگر تو لوگوں کو پائے کہ انہوں نے نماز پڑھ لی ہے تو تو نے اپنی نماز پہلے ہی پوری کرلی ورنہ وہ نماز تیرے لئے نفل ہوجائے گی۔

Abu Dharr (RA) reported: My friend (the Holy Prophet) bade me to hear and obey (the ruler) even if he is a slave having his feet and arms cut off, and observe prayer at its prescribed time. (And further said): It you find people having observed the prayer, you in fact saved your prayer, otherwise (if you join with them) that would be a Nafl prayer for you.

1468Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ بُدَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَرَبَ فَخِذِي کَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا قَالَ قَالَ مَا تَأْمُرُ قَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ اذْهَبْ لِحَاجَتِکَ فَإِنْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلِّ

یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، شعبہ، بدیل، ابوعالیہ، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور میری ران پر ہاتھ مارا کہ تیرا کیا حال ہوگا جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اپنے وقت سے تاخیر کر کے پڑھیں میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ ایسے وقت کے لئے مجھے کیا حکم فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا پھر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے جانا پھر اگر نماز کی اقامت کہی جائے اس حال میں کہ تم مسجد میں ہو تو نماز پڑھ لینا۔

Abu Dharr (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ struck my thigh and said: How would you act if you survive among the people who would delay prayers beyond their (prescribed) time? He (Abu Dharr) said: What do you command (under this situation)? He (the Holy Prophet) slid: Observe prayer at its prescribed time, then go (to meet) your needs, and if when he hears the Iqamah is pronounced, and you are present in the mosque, then observe prayer (along with the Jamaat).

1469Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّائِ قَالَ أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ فَجَائَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَأَلْقَيْتُ لَهُ کُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ فَذَکَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَی شَفَتِهِ وَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ کَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي کَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَکَ وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي کَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَکَ وَقَالَ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ أَدْرَکَتْکَ الصَّلَاةُ مَعَهُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، حضرت ابوالعالیہ ؓ فرماتے ہیں کہ ابن زیاد نے نماز میں تاخیر کی تو حضرت عبداللہ بن صامت ؓ میرے پاس آئے اور میں نے ان کے لئے کرسی ڈالی وہ اس کر سی پر بیٹھے تو میں نے ان سے ابن زیاد کے کام کا ذکر کیا تو انہوں نے اپنے ہونٹ دبائے اور میری ران پر مارا اور فرمایا کہ میں نے ابوذر ؓ سے پوچھا تھا جس طرح تو نے مجھ سے پوچھا ہے اور انہوں نے بھی میری ران پر مارا جس طرح میں نے تیری ران پر مارا اور فرمایا کہ نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا اور اگر تو نے نماز ان کے ساتھ پا لی تو پڑھ لینا یہ مت کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے اس لئے اب میں نماز نہیں پڑھتا۔

Abul-Aliyat al-Bara reported: Ibn Ziyad delayed the prayer. Abdullah bin Samit came to me and I placed a chair for him and he sat in it and I made a mention of what Ibn Ziyad had done. He bit his lips (as a sign of extreme anger and annoyance) and struck at my thigh and said: I asked Abu Dharr (RA) as you have asked me, and he struck my thigh just as I have struck your thigh, and said: I asked the Messenger of Allah ﷺ as you have asked me and he struck my thigh just as I have struck your thigh, and he (the Holy Prophet) said: Observe prayer at its prescribed time, and if you can say prayer along with them. do so, and do not say "I have observed prayer and so I shall not pray."

1470Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ کَيْفَ أَنْتُمْ أَوْ قَالَ کَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَصَلِّ مَعَهُمْ فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ

عاصم بن نضر تیمی، خالد بن حارث، شعبہ، ابونعامہ، عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ تمہارا کیا حال ہوگا یا فرمایا کہ تیرا کیا حال ہوگا کہ جب تو ایسے لوگوں میں باقی رہ جائے گا جو نماز کو اپنے وقت سے دیر کر کے پڑھتے ہیں تو نماز کو اپنے وقت پر پڑھ اگر نماز کھڑی ہوجائے تو تو ان کے ساتھ نماز پڑھ کیونکہ یہ زیادہ بہتر ہے۔

Abu Dharr (RA) reported: (The Messenger of Allah) ﷺ said: How would you, or how would thou, act if you survive to live among people who defer prayer beyond the (prescribed) time? (The narrator said: Allah and His Messenger know best). whereupon he said: Observe prayer at its prescribed time, but if when he hears the Iqamah is pronounced for (congregational) prayer, then observe prayer along with them. for herein is an excess of virtue.

1471Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ مختار (مستحب) وقت سے نماز کو تاخیر سے پڑھنا مکروہ ہے اور جب امام تاخیر کرے تو مقتدی بھی ایسے ہی کریں۔

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّائِ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ نُصَلِّي يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَلْفَ أُمَرَائَ فَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ قَالَ فَضَرَبَ فَخِذِي ضَرْبَةً أَوْجَعَتْنِي وَقَالَ سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ عَنْ ذَلِکَ فَضَرَبَ فَخِذِي وَقَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ صَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلَاتَکُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً قَالَ و قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ذُکِرَ لِي أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ فَخِذَ أَبِي ذَرٍّ

ابوغسان مسمعی، معاذ، ابن ہشام، مطر، حضرت ابوالعالیہ براء ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن صامت ؓ سے کہا کہ ہم جمعہ کے دن حکمرانوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں وہ نماز میں تاخیر کرتے ہیں راوی ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ نے میری ران پر ایک ہاتھ مارا تو مجھے درد ہونے لگا اور فرمایا کہ میں نے بھی اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل کردیا کرو راوی نے کہا کہ حضرت عبداللہ نے مجھ سے ذکر کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ کی ران پر بھی ہاتھ مارا تھا۔

Abul-Aliyat al-Bara reported: I said to Abdullah bin Samit: We say our Jumua prayer behind those rulers who defer the prayer. He (Abdullah bin Samit), struck. my thigh that I felt pain and said: I asked Abu Dharr (RA) about it, he struck my thigh and said: I asked the Messenger of Allah ﷺ about it. Upon this he said: Observe prayer at its prescribed time, and treat prayer along with them (along with those Imams who deter prayer) as Nafl. Abdullah said: It was narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ struck the thigh of Abu Dharr.

1472Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِکُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جُزْئًا

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا پچیس گنا اس نماز سے افضل ہے جو تم میں سے کوئی اکیلا نماز پڑھے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Prayer said in a congregation is twenty-five degrees more excellent than prayer said by a single person.

1473Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَفْضُلُ صَلَاةٌ فِي الْجَمِيعِ عَلَی صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً قَالَ وَتَجْتَمِعُ مَلَائِکَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِکَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْهُودًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، معمر، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے رات اور دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو (قرآن کی یہ آیت) پڑھو! إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْهُودًا)۔ 17۔ الاسراء: 78)

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Prayer said in a congregation is twenty-five degrees more excellent than prayer said by a single person. He ( Abu Hurairah (RA) further) said: The angels of the night and the angels of the day meet together. Abu Hurairah (RA) said: Recite it you like:" Surely the recital of the Quran at dawn is witnessed" (al-Quran, xvii. 78).

1474Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ وَأَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ جُزْئًا

ابوبکر بن اسحاق، ابویمان، شعیب، زہری، سعید، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا باقی حدیث اسی طرح ہے۔

A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) with another chain of transmitters with a very slight change of words.

1475Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَعْدِلُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ

عبداللہ بن مسلمہ، قعنب، افلح، ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم، سلیمان اغر، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے والے کی پچیس نمازوں کے برابر ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Prayer said in a congregation is equivalent to twenty-five (prayers) as compared with the prayer said by a single person.

1476Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَائِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ إِذْ مَرَّ بِهِمْ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُ زَيْدِ بْنِ زَبَّانٍ مَوْلَی الْجُهَنِيِّينَ فَدَعَاهُ نَافِعٌ فَقَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةٌ مَعَ الْإِمَامِ أَفْضَلُ مِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً يُصَلِّيهَا وَحْدَهُ

ہارون بن عبداللہ، محمد بن حاتم، حجاج بن محمد، ابن جریج، حضرت عمر بن عطاء بن ابی خوار فرماتے ہیں کہ ہم حضرت نافع بن جبیر بن مطعم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوعبداللہ وہاں سے گزرے حضرت نافع نے انہیں بلایا انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ امام کے ساتھ ایک نماز پڑھنا اکیلے پچیس نمازیں پڑھنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Prayer along with the Imam is twenty-five times more excellent than prayer said by a single person.

1477Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے والے سے ستائیس گنا فضیلت رکھتا ہے۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ assaying: Prayer said in a congregation is twenty-seven degrees more excellent than prayer said by a single person.

1478Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ تَزِيدُ عَلَی صَلَاتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحییٰ بن عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس گنا فضیلت رکھتا ہے۔

Ibn Umar reported Allahs Apostle ﷺ as saying: The prayer of a person in congregation is twenty-seven times in excess to the prayer said alone.

1479Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ و قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ ابن نمیر، اس سند میں ابن نمیر نے بیس اور کچھ زیادہ اور ابوبکر کی روایت میں ستائیس درجہ ہے۔

Ibn Numair reported it on the authority of his father (a preference of) more than twenty (degrees) and Abu Bakr (RA) in his narration (has narrated it) twenty-seven degrees.

1480Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه ابْنُ رَافِعٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِضْعًا وَعِشْرِينَ

ابن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کچھ زیادہ اور بیس۔

Ibn Umar reported from the Apostle of Allah ﷺ as some and twenty (degrees).

1481Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَ نَاسًا فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ فَقَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَی رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْهَا فَآمُرَ بِهِمْ فَيُحَرِّقُوا عَلَيْهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ بُيُوتَهُمْ وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا لَشَهِدَهَا يَعْنِي صَلَاةَ الْعِشَائِ

عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو نمازوں میں موجود پایا تو فرمایا کہ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر ان آدمیوں کی طرف جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ گئے ہیں پھر میں لکڑیاں جمع کروا کے ان کے گھروں کو جلا ڈالنے کا حکم دوں اور اگر ان میں سے کسی کو معلوم ہوجائے کہ انہیں گوشت سے پر ہڈی ملے گی تو وہ اس نماز یعنی عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتے۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ found some people absenting from certain prayers and he said: I intend that I order (a) person to lead people in prayer, and then go to the persons who do not join the (congregational prayer) and then order their houses to be burnt by the bundles of fuel. If one amongst them were to know that he would find a fat fleshy bone he would attend the night prayer.

1482Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَی الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَائِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَی قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ

ابن نمیر، اعمش، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ منافقوں پر سب سے زیادہ بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے اور اگر وہ جان لیں کہ ان نمازوں میں کتنا اجر ہے تو یہ ان نمازوں کو پڑھنے کے لئے ضرور آئیں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے اور میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں نماز کا حکم دوں پھر وہ قائم کی جائے پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر چلوں کہ لکڑیوں کے ڈھیر ان کے ساتھ ہو ان لوگوں کی طرف جو (جان بوجھ کر) نماز میں حاضر نہیں ہوتے ان کے گھروں کو آگ کے ساتھ جلا ڈالوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most burdensome prayers for the hypocrites are the night prayer and the morning prayer. If they were to know the blessings they have in store, they would have come to them, even though crawling, and I thought that I should order the prayer to be commenced and command a person to lead people in prayer, and I should then go along with some persons having a fagot of fuel with them to the people who have not attended the prayer (in congregation) and would burn their houses with fire.

1483Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي أَنْ يَسْتَعِدُّوا لِي بِحُزَمٍ مِنْ حَطَبٍ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ تُحَرَّقُ بُيُوتٌ عَلَی مَنْ فِيهَا

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، حضرت ہمام بن منبہ ان چند چیزوں میں سے نقل فرماتے ہیں جو کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے نقل فرمائی ہیں ان احادیث میں یہ حدیث ذکر فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں اپنے جوانوں کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر ان گھروں پر آگ لگا دوں جن میں وہ ہیں۔

Hammam bin Munabbih reported: This is what Abu Hurairah (RA) reported to us from the Messenger of Allah ﷺ and (in this connection) he narrated some ahadith, one of them is: The Messenger of Allah ﷺ said: I intend that I should command my young men to gather bundles fuel for me, and then order a person to lead people in prayer, and then burn the houses with their inmates (who have not joined the congregation).

1484Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ وَکِيعٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ

زہیر بن حرب، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، جعفر بن برقان، یزید بن اصم اس سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح کی حدیث نقل فرمائی۔

A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) .

1485Sahih Muslim

نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کی فضیلت اور اس کے چھوڑنے میں سخت وعید اور اس کے فرض کفایہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَی رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، ابواسحاق، ابواحوص، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایسے لوگوں کے لئے فرمایا کہ جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں کہ میں نے ارادہ کرلیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر میں ایسے آدمیوں کے گھروں پر آگ لگا دوں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying about people who are absent from Jumua prayer: I intend that I should command a person to lead people in prayer, and then burn those persons who absent themselves from Jumua prayer in their houses.

1486Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کو اذان کی آواز سنے اس کے لئے مسجد میں آنا واجب ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْأَصَمِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَی فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَی الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّی دَعَاهُ فَقَالَ هَلْ تَسْمَعُ النِّدَائَ بِالصَّلَاةِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَجِبْ

قتیبہ بن سعید و اسحاق بن ابراہیم و سوید بن سعید و یعقوب دورقی، مروان، قتیبہ، فزاری، عبیداللہ بن اصم، یزید بن اصم، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک نابینا آدمی آیا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرا کوئی ایسا رہبر نہیں ہے جو مجھے مسجد کی طرف لے کر آئے اس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ اس لئے پوچھا تاکہ اسے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مل جائے آپ ﷺ نے اسے اجازت دے دی جب وہ پشت پھیر کر جانے لگا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا کیا تو نماز کے لئے اذان کی آواز سنتا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تیرے لئے ضروری ہے کہ مسجد میں آکر نماز پڑھ۔

Abu Hurairah (RA) reported: There came to the Apostle of Allah ﷺ a blind man and said: Messenger of Allah, I have no one to guide me to the mosque. He, therefore, asked Allahs Messenger ﷺ permission to say prayer in his house. He (the Holy Prophet) granted him permission. Then when the man turned away he called him and said: Do you hear the call to prayer? He said: Yes. He (the Holy Prophet ﷺ then said: Respond to it.