اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِيمٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَی عَائِشَةَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَکْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا وَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، مالک، زید بن اسلم، قعقاع، حکیم، حضرت ابویونس ؓ حضرت عائشہ ؓ کے غلام فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ ؓ نے حکم فرمایا کہ میں ان کے لئے قرآن لکھوں اور فرماتی ہیں کہ جب تو اس آیت پر پہنچے تو مجھے بتانا (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ ) 2۔ البقرۃ: 138) تو جب میں اس آیت پر پہنچا تو آپ ؓ کو میں نے بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ اس آیت کو اس طرح لکھو حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی ( وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ) وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ، عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے اس آیت کو اسی طریقے سے سنا ہے۔
Abu Yunus, the freed slave of Aisha said: Aisha ordered me to transcribe a copy of the Quran for her and said: When you reach this verse: "Guard the prayers and the middle prayer" (ii. 238), inform me; so when I reached it, I informed her and she gave me dictation (like this): Guard the prayers and the middle prayer and the afternoon prayer, and stand up truly obedient to Allah. Aisha said: This is how I have heard from the Messenger of Allah ﷺ .
اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَرَأْنَاهَا مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ نَسَخَهَا اللَّهُ فَنَزَلَتْ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی فَقَالَ رَجُلٌ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقٍ لَهُ هِيَ إِذَنْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَقَالَ الْبَرَائُ قَدْ أَخْبَرْتُکَ کَيْفَ نَزَلَتْ وَکَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، یحییٰ بن آدم، فضیل بن مرزوق، شقیق بن عقبہ، حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ تو ہم اس آیت کو جب تک اللہ نے چاہا اسی طرح پڑھتے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ فرما دیا تو اس طرح آیت نازل ہوئی (حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی) تو ایک آدمی جو کہ حضرت شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اب نماز عصر ہی یہی نماز (نماز وسطی) ہے حضرت براء نے فرمایا کہ میں نے تجھے بتادیا ہے کہ یہ آیت کیسے نازل ہوئی اور اللہ نے اسے کیسے منسوخ فرما دیا اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported: This verse was revealed (in this way): "Guard the prayers and the Asr prayer." We recited it (in this very way) so long as Allah desired. Allah, then, abrogated it and it was revealed: "Guard the prayers, and the middle prayer." A person who was sitting with Shaqiq (one of the narrators in the chain of transmitters) said: Now it implies the Asr prayer. Upon this al-Bara said: I have already informed you how this (verse) was revealed and how Allah abrogated it, and Allah knows best. Imam Muslim said: Ashjai narrated it from Sufyan al-Thauri, who narrated it from al-Aswad bin Qais, who narrated it from Uqba, who narrated it from al-Bara bin Azib (RA) who said: We recited with the Prophet ﷺ (the above-mentioned verse like this, i. e. instead of Salat al- Wusta, Salat al-Asr) for a certain period. as it has been mentioned (in the above-quoted hadith).
اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔
قَالَ مُسْلِم وَرَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَرَأْنَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ
اشجعی، سفیان ثوری، اسود بن قیس، شقیق بن عقبہ، حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ اس آیت کو ایک عرصہ دراز تک اسی طرح پڑھتے رہے باقی حدیث اسی طرح سے ہے جیسے گزری۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported: This verse was revealed (in this way): "Guard the prayers and the Asr prayer." We recited it (in this very way) so long as Allah desired. Allah, then, abrogated it and it was revealed: "Guard the prayers, and the middle prayer." A person who was sitting with Shaqiq (one of the narrators in the chain of transmitters) said: Now it implies the Asr prayer. Upon this al-Bara said: I have already informed you how this (verse) was revealed and how Allah abrogated it, and Allah knows best. Imam Muslim said: Ashjai narrated it from Sufyan al-Thauri, who narrated it from al-Aswad bin Qais, who narrated it from Uqba, who narrated it from al-Bara bin Azib (RA) who said: We recited with the Prophet ﷺ (the above-mentioned verse like this, i.e. instead of Salat al- Wusta, Salat al-Asr) for a certain period. As it has been mentioned (in the above-quoted hadith).
اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ جَعَلَ يَسُبُّ کُفَّارَ قُرَيْشٍ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا کِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ حَتَّی کَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا فَنَزَلْنَا إِلَی بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ
ابوغسان، محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ غزوہ خندق والے دن قریش کے کافروں کو سب وشتم کرنے لگے اور عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کی قسم عصر کی نماز ابھی تک نہیں پڑھی اور سورج غروب ہونے کے قریب ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم اگر میں نے بھی عصر کی نماز پڑھی ہو، پھر ہم بطحان کی طرف اترے رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اور ہم نے بھی وضو کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھائی پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
Jabir bin Abdullah reported that Umar bin al-Khattab had been cursing the pagans of the Quraish on the day (of the Battle) of Khandaq (Ditch). (He came to the Holy Prophet ﷺ) and said: Messenger of Allah, by God, I could not say. the Asr prayer till the sun set. Upon this the Messenger ﷺ said: By Allah I, too, have not observed it. So we went to a valley. The Messenger of Allah ﷺ performed ablution and we too performed ablution, and then the Messenger of Allah ﷺ said the Asr prayer after the sun had set and then said the evening prayer after it.
اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر، اسحاق، وکیع، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر، اس سند میں یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been reported by Yahya bin Abd Kathir with the same chain of transmitters.
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَتَعَاقَبُونَ فِيکُمْ مَلَائِکَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِکَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيکُمْ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ کَيْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِي فَيَقُولُونَ تَرَکْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رات اور دن کے فرشتے تمہارے پاس آتے ہیں اور فجر کی نماز میں اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہوتے ہیں پھر یہ اوپر چڑھ جاتے ہیں پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا تو فرشتے کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو نماز کی حالت میں چھوڑا اور ہم ان کے پاس سے آئے تو اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Angels take turns among you by night and by day, and they all assemble at the dawn and afternoon prayers. Those (of the angels) who spend the night among you, then, ascend, and their Lord asks them, though He is the best informed about them: How did you leave My servants? They say: We left them while they were praying and we came to them while they were praying.
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالْمَلَائِکَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيکُمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ اس سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل فرمائی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Angels take turns among you by night and by day, and the rest of the hadith is the same.
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَقُولُا کُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَظَرَ إِلَی الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ أَمَا إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنْ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَی صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا يَعْنِي الْعَصْرَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ قَرَأَ جَرِيرٌ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا
زہیر بن حرب، مروان بن معاویہ، اسماعیل بن ابی خالد، قیس بن ابی حازم، حضرت جریر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا کہ بلاشبہ تم اپنے رب کو اس طرح سے دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اسے دیکھنے میں تم کسی قسم کی دقت محسوس نہیں کرتے پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج کے نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے کی نمازوں یعنی عصر اور فجر کی نمازوں کو قضاء نہ کرنا پھر حضرت جریر نے یہ آیت پڑھی (وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا) 20۔ طہ: 130) سورج کے نکلنے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی پاکی حمد کے ساتھ بیان کرو۔
Jarir bin Abdullah is reported to have said: We were sitting with the Messenger of Allah ﷺ that he looked at the full moon and observed: You shall see your Lord as you are seeing this moon, and you will not be harmed by seeing Him. So if you can, do not let yourselves be overpowered in case of prayer observed before the rising of the sun and its setting, i. e. the Asr prayer and the morning prayer. Jarir then recited it: "Celebrate the praise of thy Lord before the rising of the sun and before its setting" (xx. 130).
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ وَوَکِيعٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَمَا إِنَّکُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَی رَبِّکُمْ فَتَرَوْنَهُ کَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ وَقَالَ ثُمَّ قَرَأَ وَلَمْ يَقُلْ جَرِيرٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابواسامہ، وکیع، اس سند کے ساتھ ایک روایت میں اس طرح ہے کہ تمہیں عنقریب اپنے رب کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اپنے رب کو اسطرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو پھر آپ ﷺ نے پڑھا۔
Waki reported (this hadith) with the same chain of transmitters (that the Holy Prophet) said: You will be soon presented before your Lord, and you will see Him as you are seeing this moon, and then recited (the above-mentioned verse). But (in this hadith) no mention is made of Jarir.
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ وَمِسْعَرٍ وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، ابن ابی خالد، مسعر، مختار، حضرت ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ آدمی ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی یعنی فجر اور عصر کی نماز۔ بصرہ کے ایک آدمی نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے انہوں نے فرمایا ہاں، تو اس آدمی نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے میرے کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔
Umarah bin Ruwaiba is reported to have said on the authority of his father: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: He who observed prayer before the rising of the son and its setting, i. e. the dawn prayer and the afternoon prayer, would not cater the (Hell) fire. A person belonging to Basrah said to him: Did you yourself hear it from the Messenger of Allah ﷺ ? He said: Yes. The person (from Basrah) said: I bear witness that I heard it from the Messenger of Allah ﷺ ; my ears heard it and my heart retained it.
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ بِالْمَکَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ
یعقوب بن ابراہیم، یحییٰ بن ابی بکیر، شیبان، عبدالملک بن عمیر، حضرت عمارہ ؓ بن رویبہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آدمی دوزخ میں نہیں جائے گا جس نے سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی اور ان کے پاس بصرہ کا ایک آدمی تھا اس نے کہا کہ کیا آپ نے نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے اسی جگہ سے سنا جس سے میں سن سکتا ہوں۔
Umara bin Ruwaiba reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ said: He who said prayer before the rising of the sun and its setting would not enter the fire (of Hell), and there was a man from Basrahh (sitting) beside him who said: Did you hear it from the Apostle of Allah ﷺ ? He said: Yes, I bear witness to it. The man from Basrahh said: I bear witness that I did hear from the Apostle of Allah ﷺ saying it from the place that you heard from him.
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ عَنْ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَلَّی الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ہداب بن خالد، ہمام بن یحیی، ابوحمزہ ضبعی، ابوبکر حضرت ابوبکر ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے دو ٹھنڈی نمازیں پڑھیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔
Abu Bakr (RA) reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ said: He who observed two prayers at two cool (hours) would enter Paradise.
صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان پر محافظ مقرر کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَنَسَبَا أَبَا بَکْرٍ فَقَالَا ابْنُ أَبِي مُوسَی
ابن ابی عمر، بشربن سری، ابن خراش، عمرو بن عاصم، ہمام اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by the same chain of transmitters by Hammam, and said about Abu Bakr (RA) that he was Ibn Abu Musa.
اس بات کے بیان میں کہ مغرب کی نماز کا بتدائی وقت سورج غروب ہونے کے وقت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَتَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یریذ بن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج غروب ہوتا (اور اتنا غروب ہوتا) کہ نظروں سے اوجھل ہوجاتا۔
Salama bin al-Akwa reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say the evening prayer when the sun had set and disappeared (behind the horizon).
اس بات کے بیان میں کہ مغرب کی نماز کا بتدائی وقت سورج غروب ہونے کے وقت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُا کُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
محمد بن مہران، ولید بن مسلم، اوزاعی، ابونجاشی، حضرت رافع بن خدیج ؓ فرماتے ہیں کہ ہم مغرب کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے تو ہم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہوتا تو وہ اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا۔
Rafi bin Khadij reported: We used to observe the evening prayer with the Messenger of Allah ﷺ and then one of us would go away and he could see the (distant) place where his arrow would fall.
اس بات کے بیان میں کہ مغرب کی نماز کا بتدائی وقت سورج غروب ہونے کے وقت ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ بِنَحْوِهِ
اسحاق بن ابراہیم، شعیب بن اسحاق دمشقی، اوزاعی، ابونجاشی، رافع بن خدیج، اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this, i. e." We used to observe evening prayer...." so on and so forth, has been narrated by Rafi bin Khadij by another chain of transmitters.
عشاء کی نماز کے وقت اور اس میں تاخیر کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَائِ وَهِيَ الَّتِي تُدْعَی الْعَتَمَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَامَ النِّسَائُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُکُمْ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ فِي النَّاسِ زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَذُکِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَمَا کَانَ لَکُمْ أَنْ تَنْزُرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الصَّلَاةِ وَذَاکَ حِينَ صَاحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
عمرو بن سواد عامری، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں تاخیر کی اور اس کو عتمہ پکارا جاتا ہے رسول اللہ ﷺ نہ نکلے یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا کہ عورتیں اور بچے سو گئے تو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے جس وقت آپ ﷺ تشریف لا رہے تھے تو مسجد والوں سے فرمایا کہ تمہارے علاوہ زمین والوں میں سے کوئی بھی اس کا انتظار نہیں کر رہا اور یہ لوگوں میں اسلام کے پھیلنے سے پہلے کی بات ہے حرملہ نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے اور اس میں اس طرح ہے کہ حضرت عمر ؓ بن خطاب نے جس وقت چلا کر رسول اللہ ﷺ کو نماز کی طرف متوجہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے لئے یہ مناسب نہیں کہ تم رسول اللہ ﷺ سے نماز کا کہو۔
Aisha. the wife of the Apostle of Allah ﷺ , reported: The Messenger of Allah ﷺ deferred one night the Isha prayer. And this is called Atama. And the Messenger of Allah ﷺ did not come out till Umar bin Khattab told (him) that the women and children had gone to sleep. So the Messenger of Allah ﷺ came out towards them and said to the people of the mosque: None except you from the people of the earth waits for it (for the night prayer at this late hour), and it was before Islam had spread amongst people. And in the narration transmitted by Ibn Shihab the Messenger of Allah ﷺ is reported to have said: It is not meant that you should compel the Messenger of Allah ﷺ for prayer. And (this he said) when Umar bin Khattab called (the Holy Prophet) in a loud voice.
عشاء کی نماز کے وقت اور اس میں تاخیر کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ الزُّهْرِيِّ وَذُکِرَ لِي وَمَا بَعْدَهُ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل، ابن شہاب اس سند کے ساتھ ایک اور روایت میں اس طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters, but therein no mention has been made of the words of al-Zuhri: It was narrated to me, and that which followed.
عشاء کی نماز کے وقت اور اس میں تاخیر کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالُوا جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَکِيمٍ عَنْ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّی ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ وَحَتَّی نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی فَقَالَ إِنَّهُ لَوَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ لَوْلَا أَنَّ يَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي
اسحاق بن ابراہیم و محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، حجاج بن شاعر و محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریر، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات نبی ﷺ نے عشاء کی نماز میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا بہت سا حصہ گزر گیا اور یہاں تک کہ مسجد والے سو گئے پھر آپ ﷺ نکلے اور نماز پڑھائی اور فرمایا کہ عشاء کی نماز کا یہی وقت ہوتا اگر مجھے میری امت پر مشقت کا خیال نہ ہوتا۔
Aisha reported: The Apostle of Allah ﷺ one night delayed (observing the Isha prayer) till a great part of the night was over and the people in the mosque had gone to sleep. He (the Holy Prophet) then came out and observed prayer and said: This is the proper time for it; were it not that I would impose a burden on my people (I would normally pray at this time). In the hadith transmitters by Abdul Razzaq (the words are): "Were it not that it would impose burden on my people."
عشاء کی نماز کے وقت اور اس میں تاخیر کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ مَکَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَائِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَلَا نَدْرِي أَشَيْئٌ شَغَلَهُ فِي أَهْلِهِ أَوْ غَيْرُ ذَلِکَ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ إِنَّکُمْ لَتَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُکُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَی أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَلَّی
زہیر بن حرب و اسحاق بن ابراہیم، زہیر، جریر، منصور، حکم، نافع، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم عشاء کی نماز کے لئے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے تو آپ ﷺ تہائی رات کے وقت یا اس کے بعد ہماری طرف تشریف لائے ہمیں نہیں معلوم کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں کسی کام میں مصروف تھے یا اس کے کے علاوہ کوئی اور وجہ تھی تو نکلتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے سوا کوئی بھی دین والا جس کا انتظار نہیں کر رہا اور اگر میری امت پر بوجھ نہ ہوتا تو میں اسی وقت نماز پڑھتا پھر آپ نے مؤذن کو حکم فرمایا تو اس نے نماز کی اقامت کہی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔
Abdullah bin Umar (RA) reported: We waited one night in expectation of the Messenger of Allah ﷺ for the last prayer of the night, and he came out to us when a third of the night had passed even after that. We do not know whether he had been occupied with family business or something else. When he came out he said: You are waiting for prayer, for which the followers of no other religion wait, except you. Were it not a burden for my Ummah, I would have led them (in the Isha prayer) at this hour. He then ordered the Muadhdhin (to call for prayer) and then stood up for prayer and observed prayer.