Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 71 of 379

1407Sahih Muslim

سخت گرمی کے علاوہ ظہر کی نماز پہلے وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَکِّنَ جَبْهَتَهُ مِنْ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ

یحییٰ بن یحیی، بشر بن مفضل، غالب قطان، بکر بن عبداللہ، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سخت گرمی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھنے کی طاقت نہ رکھتا تو وہ اپنے کپڑے کو بچھا کر اس پر سجدہ کرتا۔

Anas bin Malik (RA) reported: We used to say (the noonprayer) with the Messenger of Allah ﷺ in the intense heat, but when someone amongst us found it hard to place his forehead on the ground, he spread his cloth and prostrated on it.

1408Sahih Muslim

عصر کی نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَی الْعَوَالِي فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَلَمْ يَذْکُرْ قُتَيْبَةُ فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز پڑھتے تھے اس حال میں کہ سورج بلند ہوتا اور کوئی عوالی کی طرف جانے والا عوالی پہنچ جاتا تو پھر بھی سورج بلند ہوتا قتیبہ کی روایت میں عوالی جانے کا ذکر نہیں۔

Anas bin Malik (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ used to pray the afternoon prayer when the sun was high and bright, then one would go off to al-Awali and get there while the sun was still high. Ibn Qutaiba made no mention of" one would go off to al-Awali".

1409Sahih Muslim

عصر کی نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ سَوَائً

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو، ابن شہاب، حضرت انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح حدیث مبارکہ نقل کی ہے۔

This hadith that the Messenger of Allah ﷺ used to offer the afternoon prayer like the one narrated above has been transmitted by Anas bin Malik (RA) by another chain of transmitters.

1410Sahih Muslim

عصر کی نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَی قُبَائٍ فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے پھر کوئی قباء کی طرف جانے والا جاتا تو وہاں پہنچ جانے کے بعد بھی سورج بلند ہوتا۔

Anas bin Malik (RA) reported: We used to offer the Asr prayer, then one would go to Quba and reach there and the sun would be still high.

1411Sahih Muslim

عصر کی نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ إِلَی بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ

یحییٰ بن یحیی، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے پھر ایک انسان قبیلہ عمرو بن عوف کی طرف جاتا تو ان کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔

Anas bin Malik (RA) reported: We used to offer the afternoon prayer (at such a time) that a person would go to Bani Amr bin Auf (RA) and he would find them busy offering the afternoon prayer.

1412Sahih Muslim

عصر کی نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ الظُّهْرِ وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ أَصَلَّيْتُمْ الْعَصْرَ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنْ الظُّهْرِ قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْکَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّی إِذَا کَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لَا يَذْکُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا

یحییٰ بن ایوب، محمد بن صباح، قتیبہ و ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، علاء بن عبدالرحمن، حضرت علاء بن عبدالرحمن ؓ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میں ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر بصرہ میں حضرت انس بن مالک ؓ کے گھر میں گئے وہ گھر مسجد کے ایک کونے میں تھا تو جب ہم ان کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا کیا تم نے عصر کی نماز پڑھ لی تو ہم نے ان سے کہا کہ ہم ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آئے ہیں انہوں نے فرمایا کہ عصر کی نماز پڑھ لو تو ہم کھڑے ہوئے تو ہم نے نماز پڑھی جب ہم فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ تو منافق کی نماز ہے کہ سورج کو بیٹھے دیکھتا رہتا ہے جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان میں ہوتا ہے تو کھڑا ہو کر چار ٹھونگیں مارنے لگ جاتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا مگر بہت تھوڑا۔

Ala bin Abdul Rahman reported that they came to the house of Anas bin Malik (RA) in Basrah after saying the noon prayer. His (Anas) house was situated by the side of the mosque. As revisited him he (Anas) said: Have you said the afternoon prayer? We said to him: It is just a few minutes before that we finished the noon prayer. He said: Offer the afternoon prayer. So we stood up and said our prayer. And when we completed it, he said: I have heard the Messenger of Allah ﷺ saying: This is how the hypocrite prays: he sits watching the sun, and when it is between the horns of devil, he rises and strikes the ground four times (in haste) mentioning Allah a little during it.

1413Sahih Muslim

عصر کی نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عُثْمَانِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ يَقُولُا صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ قَالَ الْعَصْرُ وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ تَعَالَی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي کُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ

منصور بن ابی مزاحم، عبداللہ بن مبارک، ابی بکر بن عثمان بن سہل بن حنیف، حضرت امامہ بن سہل فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر ہم نکلے یہاں تک کہ حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس پہنچ گئے تو ہم نے ان کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا میں نے عرض کیا اے چچا جان یہ آپ نے کونسی نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا عصر کی نماز اور یہ وہ نماز ہے جسے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔

Abu Umama bin Sahl reported: We offered the noon prayer with Umar bin Abdul Aziz. We then set out till we came to Anas bin Malik (RA) and found him busy in saying the afternoon prayer. I said to him: O uncle! which is this prayer that you are offering? He said: It is the afternoon prayer and this is the prayer of the Messenger of Allah ﷺ that we offered along with him.

1414Sahih Muslim

عصر کی نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ عَمْرٌو أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ مُوسَی بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّی لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا قَالَ نَعَمْ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قُطِّعَتْ ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ثُمَّ أَکَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ و قَالَ الْمُرَادِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ

عمرو بن سواد عامری، محمد بن سلمہ مرادی، احمد بن عیسی، عمرو، ابن وہب، عمرو بن حارث، یزید بن ابی حبیب، موسیٰ بن سعد، انصاری، حفص بن عبیداللہ، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو بنی سلمہ کا ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم ایک اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اور ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اس موقع پر آپ ﷺ بھی ہمارے ساتھ موجود ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اچھا چلو اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلے ہم نے دیکھا کہ ابھی تک اونٹ ذبح نہیں ہوا تھا پھر اسے ذبح کیا گیا پھر اس کا گوشت کاٹا گیا پھر اس گوشت کو پکایا گیا پھر ہم نے اس گوشت کو سورج غروب ہونے سے پہلے کھالیا۔

Anas bin Malik (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in the afternoon prayer. When he completed it, a person from Bani Salama came to him and said: Messenger of Allah, we intend to slaughter our camel and we are desirous that you should also be present there (on this occasion). He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the person) went and we also went along with him and we found that the camel had not been slaughtered yet. Then it was slaughtered, and it was cut into pieces and then some of those were cooked, and then we ate (them) before the setting of the sun. This hadith has also been narrated by another chain of transmitters.

1415Sahih Muslim

عصر کی نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُا کُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْکُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ

محمد بن مہران رازی، ولید بن مسلم، اوزاعی، نجاشی، رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے تھے پھر ہم اونٹ ذبح کر کے دس حصوں میں تقسیم کرتے پھر اسے پکایا جاتا تو ہم پکا ہوا گوشت سورج کے غروب ہونے سے پہلے کھالیتے۔

Rafi bin Khadij reported: We used to say the afternoon prayer with the Messenger of Allah ﷺ , and then the camel was slaughtered and ten parts of it were distributed; then it was cooked and then we ate this cooked meat before the sinking of the sun.

1416Sahih Muslim

عصر کی نماز کو ابتدائی وقت میں پڑھنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ الدِّمَشْقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ وَلَمْ يَقُلْ کُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ

اسحاق بن منصور، عیسیٰ بن یونس، شعیب بن اسحاق دمشقی، اوزاعی، اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہم اونٹ ذبح کرتے تھے اور یہ نہیں کہا کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔

This hadith has been reported by Auzai with the same chain of transmitters: We used to slaughter the camel during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ after the Asr prayer, but he made no mention of: "We used to pray along with him."

1417Sahih Muslim

عصر کی نماز کے فوت کردینے میں عذاب کی وعید کے بیا میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ کَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر سے وایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی سے عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا کہ اس کے گھر والے اور اس کا مال ہلاک ہوگیا۔

Ibn Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: He who misses the afternoon prayer, it is as though he has been deprived of his family and his property.

1418Sahih Muslim

عصر کی نماز کے فوت کردینے میں عذاب کی وعید کے بیا میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ عَمْرٌو يَبْلُغُ بِهِ و قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَفَعَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، زہری، سالم، اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی۔

This hadith has been narrated as Marfu by another chain of transmitters.

1419Sahih Muslim

عصر کی نماز کے فوت کردینے میں عذاب کی وعید کے بیا میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَاتَتْهُ الْعَصْرُ فَکَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، حضرت سالم بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی کی عصر کی نماز فوت ہوگئی تو گویا کہ اس کے گھر والے اور اس کا مال ہلاک ہوگیا۔

Abdullah relates on the authority of his father. He who missed his afternoon prayer it is as though he was deprived of his family and property.

1420Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا کَمَا حَبَسُونَا وَشَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَی حَتَّی غَابَتْ الشَّمْسُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوا سامہ، ہشام، محمد بن عبیدہ، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احزاب کے دن فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے جیسے کہ انہوں نے ہمیں صلوہ وسطی سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا۔

Ali reported: When it was the day (of the Battle) of Ahzab, the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah fill their graves and houses with fire, as they detained us and diverted us from the middle prayer, till the sun set.

1421Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن ابوبکر مقدامی، یحییٰ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، معتمر بن سلیمان، حضرت ہشام ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters.

1422Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي حَسَّانَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَی حَتَّی آبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ شَکَّ شُعْبَةُ فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ

محمد بن مثنی و محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، ابوحسان، عبیدہ، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب والے دن ارشاد فرمایا کہ کافروں نے ہمیں نماز وسطی سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے شعبہ راوی کو شک ہے کہ بیوت فرمایا یا بطون فرمایا۔

Ali reported: The Messenger of Allah ﷺ said: On the day (of the Battle) of Ahzab we were diverted from the middle prayer, till the sun set. May Allah fill their graves or their houses, or their stomachs with fire. The narrator is in doubt about "houses" and "stomachs".

1423Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ وَلَمْ يَشُکَّ

محمد بن مثنی، ابن عدی، سعید، قتادہ، اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے اور اس میں بغیر کسی شک کے (بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ ) فرمایا۔

This hadith has heed narrated by Qatada with the same chain of transmitters. And he said: Their houses and their graves (be filled with fire), and did not express doubt over the words, "houses" and "graves".

1424Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ يَحْيَی بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَلِيٍّ ح و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ يَحْيَی سَمِعَ عَلِيًّا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَی فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَی حَتَّی غَرَبَتْ الشَّمْسُ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ أَوْ قَالَ قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، شعبہ، حکم، یحییٰ بن حزار، علی، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حکم، یحیی، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب کے دن فرمایا اس حال میں کہ آپ ﷺ خندق کے راستوں میں سے ایک راستہ پر تشریف فرما تھے، مشرکوں نے ہمیں نماز وسطی سے روکے رکھا ہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا ہے اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا ان کی قبروں یا ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔

Yahya heard Ali saying that the Messenger of Allah ﷺ said on the day (of the Battle) of Ahzab, while sitting in one of the openings of the ditch: They (the enemies) have diverted us from the middle prayer till the sun set. May Allah fill their graves and their houses with fire, or their graves and stomachs with fire.

1425Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَکَلٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَی صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَائَيْنِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسلم بن صبیح، شتیر بن شکل، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احزاب والے دن فرمایا کافروں نے ہمیں صلوہ وسطی یعنی عصر کی نماز پڑھنے سے روکے رکھا ہے اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھردے پھر آپ نے عشاء اور مغرب کے درمیان عصر کی نماز ادا فرمائی۔

Ali reported: The Messenger of Allah ﷺ said on the day (of the Battle) of Ahzab: They diverted us from saying the middle prayer, i. e. the Asr prayer. May Allah fill their houses and graves with fire; he then observed this prayer between the evening prayer and the night prayer.

1426Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ صلوہ وسطی نماز عصر ہے۔

حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْکُوفِيُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِکُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّی احْمَرَّتْ الشَّمْسُ أَوْ اصْفَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَغَلُونَا عَنْ الصَّلَاةِ الْوُسْطَی صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا أَوْ قَالَ حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا

عون بن سلام کوفی، محمد بن طلحہ یامی، زبید، مرہ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو عصر کی نماز سے روک دیا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مشرکوں نے ہمیں صلوہ وسطی سے روک دیا ہے اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔

Abdullah (b. Masud) reported that the polytheists detained the Messenger of Allah ﷺ from observing the afternoon prayer till the sun became red or it became yellow. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: They have diverted us from (offering) the middle prayer. i. e. the Asr prayer. May Allah fill their bellies and their graves with fire, or he said: May Allah stuff their bellies and their graves with fire.