Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 7 of 379

119Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ لَقِيَ ذَاکَ الْوَفْدَ وَذَکَرَ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ وَتَذِيفُونَ فِيهِ مِنْ الْقُطَيْعَائِ أَوْ التَّمْرِ وَالْمَائِ وَلَمْ يَقُلْ قَالَ سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنْ التَّمْرِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ سے روایت ہے کہ مجھ سے ان لوگوں نے روایت کیا جو قبیلہ عبدالقیس کے وفد سے ملے اور حضرت قتادہ ؓ نے حضرت ابونضرہ کے واسطہ سے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کی کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا باقی حدیث اسی طرح ہے جو گزر چکی ہے صرف سند اور کچھ الفاظ کا ردوبدل ہے مگر ترجمہ یہی ہے۔

The above hadith has been mentioned with a different chain and slightly different wording.

120Sahih Muslim

اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو قَزَعَةَ أَنَّ أَبَا نَضْرَةَ أَخْبَرَهُ وَحَسَنًا أَخْبَرَهُمَا أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَائَکَ مَاذَا يَصْلُحُ لَنَا مِنْ الْأَشْرِبَةِ فَقَالَ لَا تَشْرَبُوا فِي النَّقِيرِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَائَکَ أَوَ تَدْرِي مَا النَّقِيرُ قَالَ نَعَمْ الْجِذْعُ يُنْقَرُ وَسَطُهُ وَلَا فِي الدُّبَّائِ وَلَا فِي الْحَنْتَمَةِ وَعَلَيْکُمْ بِالْمُوکَی

محمد بن بکاربصری، عاصم ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوقرعہ، ابونضرہ، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ ہم آپ ﷺ پر قربان، ہمیں کس قسم کی چیز میں پینا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا لکڑی کے کٹھلے میں نہ پیا کرو، لوگوں نے عرض کی اے اللہ کے نبی ﷺ ہم آپ ﷺ پر قربان، کیا آپ ﷺ جانتے ہیں کہ لکڑی کا کٹھلا کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لکڑی کو اندر سے کھود لیتے ہیں اسے کٹھلا کہتے ہیں اور کدو کی تو بنی اور سبز گھڑے میں بھی نہ پیا کرو ہاں چمڑے کے برتن میں جس کا منہ ڈروی سے باندھ دیا جاتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Said al-Khudri that when the delegation of the tribe of Abdul-Qais came to the Prophet ﷺ of Allah ﷺ , (its members) said: Apostle of Allah ﷺ , may God enable us to lay down our lives for you, which beverage is good for us? He (the Prophet) said: (Not to speak of beverages, I would lay stress) that you should not drink in the wine jars. They said: Apostle of Allah ﷺ , may God enable us to lay down our lives for you, do you know what al-naqir is? He (the Holy Prophet) replied: Yes, it is a stump which you hollow out in the middle, and added: Do not use gourd or receptacle (for drink). Use water-skin the mouth of which is tied with a thong (for this purpose).

121Sahih Muslim

تو حید ورسالت کی گواہی کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے ارکان کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رُبَّمَا قَالَ وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُعَاذًا قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّکَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْکِتَابِ فَادْعُهُمْ إِلَی شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي کُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِکَ فَإِيَّاکَ وَکَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، ابوبکر، وکیع، زکریا، ابن اسحاق، یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی، ابی معبد، ابن عباس، معاذ بن جبل، ابوبکر، وکیع، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا تم اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے پاس جا رہے ہو پہلے تم انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں اگر وہ اس کو مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازیں ان پر فرض فرمائی ہیں اگر وہ اس کو بھی مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو دولت مندوں سے لے کر انہی کے مفلس طبقہ میں تقسیم کی جائے گی اب اگر وہ اس کو بھی مان لیں تو تم ان کا بہترین مال ہرگز نہ لینا اور مظلوم کی بد دعا سے ڈرنا کیونکہ مظلوموں کی بد دعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ (براہ راست اللہ تک پہنچتی ہے)

It is reported on the authority of Ibn Abbas that Muadh said: The Messenger of Allah ﷺ sent me (as a governor of Yemen) and (at the time of departure) instructed me thus: You will soon find yourself in a community one among the people of the Book, so first call them to testify that there is no god but Allah, that I (Muhammad) am the messenger of Allah, and if they accept this, then tell them Allah has enjoined upon them five prayers during the day and the night and if they accept it, then tell them that Allah has made Zakat obligatory for them that it should be collected from the rich and distributed among the poor, and if they agree to it dont pick up (as a share of Zakat) the best of their wealths. Beware of the supplication of the oppressed for there is no barrier between him and Allah.

122Sahih Muslim

تو حید ورسالت کی گواہی کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے ارکان کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ فَقَالَ إِنَّکَ سَتَأْتِي قَوْمًا بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ

ابن ابی عمر، بشر بن السری، زکریابن اسحاق، ح، عبد بن حمید، ابوعاصم، زکریا بن اسحاق، یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی، ابی معبد، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا باقی حدیث وہی ہے جو اوپر گزری ہے صرف سند کا فرق ہے۔

The above hadith has been mentioned with a different chain with a slightly different wording at the beginning, then follows the same.

123Sahih Muslim

تو حید ورسالت کی گواہی کی طرف دعوت دینا اور اسلام کے ارکان کا بیان

حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَی الْيَمَنِ قَالَ إِنَّکَ تَقْدَمُ عَلَی قَوْمٍ أَهْلِ کِتَابٍ فَلْيَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ فَإِذَا فَعَلُوا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَکَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِهِمْ فَإِذَا أَطَاعُوا بِهَا فَخُذْ مِنْهُمْ وَتَوَقَّ کَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ

امیہ بن بسطام عیشی، یزید بن زریع، روح یعنی ابن قاسم، اسماعیل بن امیہ، یحییٰ بن عبداللہ صیفی، ابی معبد، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت معاذ ؓ کو یمن کو حاکم بنا کر بھیجا تو فرمایا تم اہل کتاب کی قوم کی طرف جا رہے ہو پہلے تم انہیں اس چیز کی دعوت دینا کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کریں اگر وہ توحید کا اقرار کرلیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں اگر وہ اس کی بھی تعمیل کرنے لگیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو دولت مند لوگوں سے لے کر انہی کے محتاجوں کو دی جائے گی اب اگر وہ یہ بات بھی مان لیں تو ان سے وصول کرنا مگر ان کے اعلی درجہ کے مال سے پرہیز رکھنا۔

It is narrated on the authority of Ibn Abbas that when the Messenger of Allah ﷺ sent Muadh towards Yemen (as governor) he said to him: Verily you would reach a community of the people of the Book, the very first thing to which you should call them is the worship of Allah, may His Glory be Magnificent, and when they become fully aware of Allah, instruct them that He has enjoined five prayers on them during the day and the night, and when the begin observing it, then instruct them that verily Allah has made Zakat obligatory for them which would be collected from the wealthy amongst them and distributed to their needy ones, and when they submit to it, then collect it from them and avoid (the temptation) of selecting the best (items) of their riches.

124Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَکْرٍ بَعْدَهُ وَکَفَرَ مَنْ کَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَبِي بَکْرٍ کَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّکَاةِ فَإِنَّ الزَّکَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا کَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَی مَنْعِهِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَکْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ

قتیبہ بن سعید، لیث بن سعید، عقیل، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، عتبہ بن مسعود، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب وفات پائی اور آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ بنائے گئے اور اہل عرب میں سے جنہیں کافر ہونا تھا وہ کافر ہوگئے حضرت ابوبکر ؓ نے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا تو حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے عرض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کس طرح جنگ کرتے ہیں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرما دیا تھا کہ مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم اس وقت تک ہوا ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجائیں پس جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا قائل ہوجائے گا وہ مجھ سے اپنا جان ومال بچالے گا ہاں حق پر ضرور اس کے جان و مال سے تعرض کیا جائے گا باقی اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے حضرت ابوبکر ؓ نے جواب میں ارشاد فرمایا اللہ کی قسم میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کی فرضیت میں فرق جانتا ہے کیونکہ جس طرح نماز جسم کا حق ہے اسی طرح زکوٰۃ مال کا حق ہے اللہ کی قسم اگر وہ لوگ ایک رسی دینے سے بھی انکار کریں گے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دیا کرتے تھے اور مجھے نہ دیں گے تو میں ضرور ان سے جنگ کروں گا، حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر ؓ کا سینہ مرتدوں سے جنگ کرنے کے لئے کشادہ کردیا ہے تو میں بھی سمجھ گیا کہ یہی بات حق ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that when the Messenger of Allah ﷺ breathed his last and Abu Bakr (RA) was appointed as his successor (Caliph), those amongst the Arabs who wanted to become apostates became apostates. Umar bin Khattab said to Abu Bakr (RA) : Why would you fight against the people, when the Messenger of Allah ﷺ declared: I have been directed to fight against people so long as they do not say: There is no god but Allah, and he who professed it was granted full protection of his property and life on my behalf except for a right? His (other) affairs rest with Allah. Upon this Abu Bakr (RA) said: By Allah, I would definitely fight against him who severed prayer from Zakat, for it is the obligation upon the rich. By Allah, I would fight against them even to secure the cord (used for hobbling the feet of a camel) which they used to give to the Messenger of Allah ﷺ (as zakat) but now they have withheld it. Umar bin Khattab remarked: By Allah, I found nothing but the fact that Allah had opened the heart of Abu Bakr (RA) for (perceiving the justification of) fighting (against those who refused to pay Zakat) and I fully recognized that the (stand of Abu Bakr) was right.

125Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، احمد بن عیسی، احمد، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے یہاں تک کہ لَا اِلٰہ اِلَّاَ اللہ کے قائل ہوجائیں جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا قائل ہوجائے وہ مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرے گا لیکن حق پر اس کے جان و مال سے تعرض کیا جائے گا باقی اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded to fight against people so long as they do not declare that there is no god but Allah, and he who professed it was guaranteed the protection of his property and life on my behalf except for the right affairs rest with Allah.

126Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ الْعَلَائِ ح و حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ

احمد بن عبدہ الضبی، عبدالعزیز (در اور دی) علاء، ح، امیہ بن بسطام یزید بن زریع، روح، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب اپنے والد سے، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم اس وقت تک ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کی گواہی دینے لگیں اور میرے ان تمام احکام پر ایمان لے آئیں جو میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لایا ہوں اگر وہ ایسا کرلیں تو مجھ سے اپنی جان ومال محفوظ کرلیں گے ہاں حق پر ان کی جان ومال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: I have been commanded to fight against people, till they testify to the fact that there is no god but Allah, and believe in me (that) I am the messenger (from the Lord) and in all that I have brought. And when they do it, their blood and riches are guaranteed protection on my behalf except where it is justified by law, and their affairs rest with Allah.

127Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، اعمش، ابی سفیان، جابر، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں باقی حدیث اسی طرح ہے جو گزر چکی ہے صرف الفاظ کا فرق ہے باقی مفہوم یہی ہے۔

It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah said: I have been commanded that I should fight against people till they declare that there is no god but Allah, and when they profess it that there is no god but Allah, their blood and riches are guaranteed protection on my behalf except where it is justified by law, and their affairs rest with Allah, and then he (the Holy Prophet) recited (this verse of the Holy Quran):" Thou art not over them a warden" (lxxxviii, 22).

128Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَکِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُسَيْطِرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن مثنی، عبدالرحمن یعنی ابن مہدی، سفیان، ابی الزبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجائیں اگر وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجائیں گے تو ان کی جان اور انکا مال مجھ سے بچ جائے گا ہاں حق پر جان و مال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی یعنی آپ ﷺ تو نصیحت کرنے والے ہیں آپ ﷺ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔

Abu Malik narrated on the authority of his father that he heard the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: He who held belief in the unity of Allah, and then narrated what has been stated above.

129Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِیُّ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّکَاةَ فَإِذَا فَعَلُوا عَصَمُوا مِنِّي دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ

ابوغسان مسمعی، مالک بن عبدالواحد، عبدالملک بن الصباح، شعبہ، واقد بن محمد بن زید بن عبداللہ، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے لوگوں سے اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے کہ وہ لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ کی گواہی دینے لگیں اور نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں اگر وہ ایسا کریں گے تو مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال بچالیں گے ہاں حق پر جان ومال سے تعرض کیا جائے گا باقی ان کے دل کی حالت کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: I have been commanded that I should fight against people till they declare that there is no god but Allah, and when they profess it that there is no god but Allah, their blood and riches are guaranteed protection on my behalf except where it is justified by law, and their affairs rest with Allah, and then he (the Holy Prophet) recited (this verse of the Holy Quran):" Thou art not over them a warden" (lxxxviii, 22).

130Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ عَنْ أَبِي مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَکَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ وَحِسَابُهُ عَلَی اللَّهِ

سوید بن سعید، ابن ابی عمر، مروان، ابومالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہا اور اللہ تعالیٰ کے سوا اور چیزوں کی پرستش کا انکار کردیا اس کا جان ومال محفوظ ہوگیا باقی ان کے دل کی حالت کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔

It Is narrated on the authority of Abu Malik: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who professed that there is no god but Allah and made a denial of everything which the people worship beside Allah, his property and blood became inviolable, an their affairs rest with Allah.

131Sahih Muslim

ایسے لوگوں سے قتال (جہاد) کا حکم یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد الاحمر، ح، زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، ابومالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو ایک مانا پھر اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔

Abu Malik narrated on the authority of his father that he heard the Apostle ﷺ say: He who held belief in the unity of Allah, and then narrated what has been stated above.

132Sahih Muslim

موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ الْوَفَاةُ جَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبَا جَهْلٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کَلِمَةً أَشْهَدُ لَکَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُهَا عَلَيْهِ وَيُعِيدُ لَهُ تِلْکَ الْمَقَالَةَ حَتَّی قَالَ أَبُو طَالِبٍ آخِرَ مَا کَلَّمَهُمْ هُوَ عَلَی مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبَی أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ مَا لَمْ أُنْهَ عَنْکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا کَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِينَ وَلَوْ کَانُوا أُولِي قُرْبَی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی فِي أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ

حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ کو ان کے پاس موجود پایا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے چچا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا کلمہ کہہ دو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی گواہی دوں گا ابوجہل اور ابن امیہ کہنے لگے کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر رہے ہو؟ مگر رسول اللہ ﷺ باربار کلمہ توحید اپنے چچا ابوطالب کے سامنے پیش کرتے رہے اور یہی بات دھراتے رہے بالآخر ابوطالب نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے سے انکار کردیا اور آخری الفاظ یہ کہے کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک مجھے روکا نہیں جائے گا میں تو برابر دعائے مغفرت کرتا رہوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْ ا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ ) 9۔ التوبہ: 113) نازل فرمائی نبی ﷺ اور مومنوں کے لئے یہ بات مناسب نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان پر یہ ظاہر ہوگیا ہو کہ وہ دوزخی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ابوطالب کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرماتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) 28۔ القصص: 56) یعنی بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ تعالیٰ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔

It is reported by Said bin Musayyib who narrated it on the authority of his father (Musayyib bin Hazm) that when Abu Talib was about to die, the Messenger of Allah ﷺ came to him and found with him Abu Jahl (Amr bin Hisham) and Abdullah bin Abi Umayya ibn al-Mughirahh. The Messenger of Allah ﷺ said: My uncle, you just make a profession that there is no god but Allah, and I will bear testimony before Allah (of your being a believer), Abu Jahl and Abdullah bin Abi Umayya addressing him said: Abu Talib, would you abandon the religion of Abdul-Muttalib? The Messenger of Allah ﷺ constantly requested him (to accept his offer), and (on the other hand) was repeated the same statement (of Abu Jahl and Abdullah bin Abi Umayya) till Abu Talib gave his final decision and be stuck to the religion of Abdul-Muttalib and refused to profess that there is no god but Allah. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: By Allah, I will persistently beg pardon for you till I am forbidden to do so (by God), It was then that Allah, the Magnificent and the Glorious, revealed this verse: " It is not meet for the Prophet ﷺ and for those who believe that they should beg pardon for the polytheists, even though they were their kith and kin, after it had been made known to them that they were the denizens of Hell" (ix. 113) And it was said to the Messenger of Allah ﷺ : " Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will, and He knoweth best who are the guided" (xxviii, 56).

133Sahih Muslim

موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ صَالِحٍ انْتَهَی عِنْدَ قَوْلِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَلَمْ يَذْکُرْ الْآيَتَيْنِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَيَعُودَانِ فِي تِلْکَ الْمَقَالَةِ وَفِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ مَکَانَ هَذِهِ الْکَلِمَةِ فَلَمْ يَزَالَا بِهِ

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ح، حسن الحلوانی، عبد بن حمید، یعقوب یعنی ابن ابراہیم بن سعد اپنے والد سے، صالح، زہری نے انہی سندوں کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے مگر اس روایت میں دونوں آیات کا تذکرہ نہیں ہے۔

The same hadith is mentioned through a different chain except it ends where it mentions that Allah revealed the verses and it does not mention the verses. There is also a slight variation in words.

134Sahih Muslim

موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ عِنْدَ الْمَوْتِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ الْآيَةَ

محمد بن عباد، ابن ابی عمر، مروان، یزید یعنی ابن کیسان، ابوکیسان، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے ان کی موت کے وقت فرمایا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دے دوں گا ابوطالب نے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) 28۔ القصص: 56) نازل فرمائی یعنی بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔

It is narrated on the authority of It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to his uncle at the time of his death: Make a profession of it that there is no god but Allah and I will bear testimony (of your being a Muslim) on the Day of Judgment. But he (Abu Talib) refused to do so. Then Allah revealed this verse: " Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will and He knoweth best who are the guided" (xxviii. 56).

135Sahih Muslim

موت کے وقت نزع کا عالم طاری ہونے سے پہلے پہلے اسلام قابل قبول ہے اور مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں اور شرک پر مرنے والا دوزخی ہے کوئی وسیلہ اس کے کام نہ آئے گا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمِّهِ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ لَکَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ يَقُولُونَ إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَی ذَلِکَ الْجَزَعُ لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّکَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَکِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَائُ

محمد بن حاتم بن میمون، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم اشجعی، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دو تو میں قیامت کے دن اس کی گواہی دے دوں گا ابوطالب نے جواب میں کہا قریش مجھے بدنام کریں گے اور کہیں گے کہ ابوطالب نے ڈر کے مارے ایسا کیا اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں کلمہ پڑھ کر آپ ﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اسی پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَا ءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ ) 28۔ القصص: 56) نازل فرمائی یعنی بیشک تو ہدایت نہیں کرسکتا جسے تو چاہے لیکن اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت والوں کو خوب جانتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said to his uncle (at the time of his death): Make a profession of it that there is no god but Allah and I will bear testimony (of your being a Muslim) on the Day of Judgment. He (Abu Talib) said: Were it not the fear of the Quraysh blaming me (and) saying that it was the fear of (approaching death) that induced me to do so, I would have certainly delighted your eyes. It was then that Allah revealed: " Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will and He knoweth best who are the guided" (xxviii-56).

136Sahih Muslim

جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ حُمْرَانَ عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوبکر، ابن علیہ، خالد، ولید بن مسلم، حمران، عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا یقین رکھتے ہوئے مرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔

It is narrated on the authority of Uthman that the Messenger of Allah ﷺ said. He who died knowing (fully well) that there is no god but Allah entered Paradise

137Sahih Muslim

جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَائً

محمد بن ابی بکر مقدمی، بشربن مفضل، خالد حذاء، ولید ابی بشر، حمران، حضرت عثمان ؓ سے اسی طرح کا فرمان رسول اللہ ﷺ کا نقل کیا ہے صرف الفاظ میں ردو بدل ہے مطلب اور ترجمہ یہی ہے۔

It is narrated on the authority of Humran that he heard Uthman saying this: I heard the Messenger of Allah ﷺ uttering these words (as stated above).

138Sahih Muslim

جو شخص عقیدہ توحید پر مرے گا وہ قطعی طور پر جنت میں داخل ہوگا

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ قَالَ فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ قَالَ حَتَّی هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَجَائَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ قَالَ وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ قُلْتُ وَمَا کَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَی قَالَ کَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَائَ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهَا حَتَّی مَلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ قَالَ فَقَالَ عِنْدَ ذَلِکَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ لَا يَلْقَی اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاکٍّ فِيهِمَا إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ

ابوبکر بن نضر بن ابی النضر، ابوالنضر ہاشم بن القاسم، عبیداللہ اشجعی، مالک بن مغول، طلحہ بن مصرف، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے لوگوں کے پاس جو زاد راہ تھا وہ ختم ہوگیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں میں سے بعض کے اونٹ ذبح کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر آپ ﷺ لوگوں کے پاس سے بچا ہو زاد راہ جمع کریں اور اس پر دعا فرمائیں تاکہ اس میں برکت ہوجائے اور سب کو کفایت کر جائے، آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا تو جس کے پاس گیہوں تھے وہ گیہوں لے کر آگئے اور جس کے پاس کھجور تھی وہ کھجور لے کر آگئے اور جس کے پاس خالی گٹھلیاں تھیں وہ خالی گٹھلیاں لے کر آیا، میں نے کہا گٹھلی کو کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ گٹھلیوں کو چوستے تھے اور اس پر پانی پی لیا کرتے تھے بالآخر سارا سامان جب جمع ہوگیا تو آپ ﷺ نے اس پر دعا فرمائی نتیجہ یہ ہوا کہ سب لوگوں نے اپنے اپنے توشہ دانوں کو بھر لیا اس وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو بندہ اللہ تعالیٰ سے ان دونوں باتوں کی شہادتوں کا یقین رکھتے ہوئے مرے گا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) : We were accompanying the Apostle ﷺ in a march (towards Tabuk). He (the narrator) said: The provisions with the people were almost depleted. He (the narrator) said: (And the situation became so critical) that they (the men of the army) decided to slaughter some of their camels. He (the narrator) said: Upon this Umar said: Messenger of Allah, I wish that you should pool together what has been left out of the provisions with the people and then invoke (the blessings of) Allah upon it. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) did it accordingly. He (the narrator) said: The one who had wheat in his possession came there with wheat. He who had dates with him came there with dates. And Mujahid said: He who possessed stones of dates came there with stones. I (the narrator) said: What did they do with the date-stones. They said: They (the people) sucked them and then drank water over them. He (the narrator said): He (the Holy Prophet) invoked the blessings (of Allah) upon them (provisions). He (the narrator) said: (And there was such a miraculous increase in the stocks) that the people replenished their provisions fully. He (the narrator) said: At that time he (the Holy Prophet) said: I bear testimony to the fact that there is no god but Allah, and I am His messenger. The bondsman who would meet Allah without entertaining any doubt about these (two fundamentals) would enter heaven.