ایمان اور اسلام اور احسان اور اللہ سبحانہ وتعالی کی تقدیر کے اثبات کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلُونِي فَهَابُوهُ أَنْ يَسْأَلُوهُ فَجَائَ رَجُلٌ فَجَلَسَ عِنْدَ رُکْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ لَا تُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّکَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ کُلِّهِ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَخْشَی اللَّهَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنَّکَ إِنْ لَا تَکُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاکَ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَی تَقُومُ السَّاعَةُ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ وَسَأُحَدِّثُکَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا رَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا رَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الصُّمَّ الْبُکْمَ مُلُوکَ الْأَرْضِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا رَأَيْتَ رِعَائَ الْبَهْمِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ مِنْ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ قَالَ ثُمَّ قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوهُ عَلَيَّ فَالْتُمِسَ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا جِبْرِيلُ أَرَادَ أَنْ تَعَلَّمُوا إِذْ لَمْ تَسْأَلُوا
زہیر بن حرب، جریر بن عمارہ یعنی ابن قعقاع، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کچھ چاہو مجھ سے پوچھو۔ لوگوں پر ہیبت چھا گئی کہ آپ ﷺ سے کچھ پوچھیں۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور رسول اللہ ﷺ کے زانوں کے پاس بیٹھ کر عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، نماز پابندی سے پڑھو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو۔ اس نے عرض کیا آپ نے سچ فرمایا۔ اس نے پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس سے ملنے کا اور اس کے پیغمبروں کا یقین رکھو، حشر کو سچا جانو اور ہر طرح کی تقدیر الٰہی کو خواہ خیر ہو یا شر ہو دل سے مانو اس نے کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا اس نے پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ احسان کس کو کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا خوف اتنا رکھو گویا ہر وقت اس کو دیکھ رہے ہو اگر یہ بات نہ ہو تم کم از کم اتنا یقین رکھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ اس نے عرض کیا آپ نے سچ فرمایا۔ پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ قیامت کب ہوگی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا ہے وہ اس بات کو سائل سے زیادہ نہیں جانتا ہاں میں اس کی علامات تمہیں بتادیتا ہوں جب تم دیکھو کہ عورتیں اپنے مالکوں کو جنم دے رہی ہیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب دیکھو کہ ننگے پاؤں بہرے گونگے جاہل زمین کے بادشاہ ہو رہے ہیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے اور جب دیکھو کہ اونٹوں کے چرانے والے اونچی اونچی عمارتیں بنا کر اترا رہے ہیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے قیامت ان پانچ غیبی چیزوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر رسول اللہ ﷺ نے آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَه عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان: 34) پڑھی اس کے بعد وہ شخص اٹھ کر چلا گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو واپس بلاؤ لوگوں نے اس کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے چونکہ تم نے خود سوال نہیں کیا تھا اس لئے انہوں نے چاہا کہ تم لوگ دین کی باتیں سیکھ لو۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Ask me (about matters pertaining to religion), but they (the Companions of the Holy Prophet) were too much overawed out of profound respect for him to ask him (anything). In the meanwhile a man came there, and sat near his knees and said: Messenger of Allah, what al-lslam is? -to which he (the Holy Prophet) replied: You must not associate anything with Allah, and establish prayer, pay the poor-rate (Zakat) and observe (the fasts) of Ramadan. He said: You (have) told the truth. He (again) said: Messenger of Allah, what al-Iman (the faith) is? He (the Holy Prophet) said: That you affirm your faith in Allah, His angels, His Books, His meeting, His Apostles, and that you believe in Resurrection and that you believe in Qadr (Divine Decree) in all its entirety, He (the inquirer) said: You (have) told the truth. He (again) said: Messenger of Allah, what al-Ihsan is? Upon this he (the Holy Prophet) said: (Al-Ihsan implies) that you fear Allah as if you are seeing Him, and though you see Him not, verily He is seeing you. He (the inquirer) said: You (have) told the truth. He (the inquirer) said: When there would be the hour (of Doom)? (Upon this) he (the HolyProphet ﷺ said: The one who is being asked about it is no better informed than the inquirer himself. I, however, narrate some of its signs (and these are): when you see a slave (woman) giving birth to her master - that is one of the signs of (Doom) ; when you see barefooted, naked, deaf and dumb (ignorant and foolish persons) as the rulers of the earth - that is one of the signs of the Doom. And when you see the shepherds of black camels exult in buildings - that is one of the signs of Doom. The (Doom) is one of the five things (wrapped) in the unseen. No one knows them except Allah. Then (the Holy Prophet) recited (the folowing verse):" Verily Allah! with Him alone is the knowledge of the hour and He it is Who sends down the rain and knows that which is in the wombs and no person knows whatsoever he shall earn on morrow and a person knows not in whatsoever land he shall die. Verily Allah is Knowing, Aware. He (the narrator, Abu Hurairah (RA) ) said: Then the person stood up an (made his way). The Messenger of Allah ﷺ said: Bring him back to me. He was searched for, but they (the Companions of the Holy Prophet) could not find him. The Messenger of Allah ﷺ thereupon said: He was Gabriel (علیہ السلام) and he wanted to teach you (things pertaining to religion) when you did not ask (them yourselves).
ان نمازوں کے بیان میں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہیں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُا جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّی دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنْ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ فَقَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ وَذَکَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّکَاةَ فَقَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ قَالَ فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَی هَذَا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ
قتیبہ بن سعید بن جمیل بن طریف بن عبداللہ الثقفی، مالک بن انس، ابی سہیل اپنے باپ سے، حضرت طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ نجد والوں میں سے ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، ہمیں اس کی آواز میں گنگناہٹ تو سنائی دے رہی تھی مگر بات سمجھ میں نہیں آتی تھی بالا آخر جب وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوگیا اس وقت معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے متعلق پوچھ رہا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے عرض کیا کیا اس کے علاوہ بھی کوئی نماز میرے لئے فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، ہاں اگر تم نفل پڑھ لو تو خیر اور ماہ رمضان کے روزے بھی فرض ہیں۔ اس نے عرض کیا کیا اس کے علاوہ بھی میرے لئے کوئی روزہ فرض ہے؟ فرمایا نہیں ہاں اگر تم نفل روزہ رکھو تو خیر، رسول اللہ ﷺ نے اس کے سامنے زکوٰۃ کا بھی تذکرہ کیا اس نے عرض کیا کیا اس کے علاوہ بھی کوئی اور صدقہ دینا مجھ پر لازم ہے؟ فرمایا نہیں ہاں اگر اپنی طرف سے دو تو بہتر ہے، اس کے بعد وہ شخص پشت پھیر کر یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ اللہ کی قسم میں اس میں کمی بیشی نہیں کروں گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہوگیا۔
It is reported on the authority of Talha bin Ubaidullah that a person with dishevelled hair, one of the people of Nejd, came to the Messenger of Allah ﷺ . We heard the humming of his voice but could not fully discern what he had been saying, till he came nigh to the Messenger of Allah ﷺ . It was then (disclosed to us) that he was asking questions pertaining to Islam. The Messenger of Allah ﷺ said: Five prayers during the day and the night. (Upon this he said: Am I obliged to say any other (prayer) besides these? He (the Holy Prophet,) said: No, but whatever you observe voluntarily, out of your own free will, and the fasts of Ramadan. The inquirer said: Am I obliged to do anything else besides this? He (the Holy Prophet) said: No, but whatever you do out of your own free will. And the Messenger of Allah ﷺ told him about the Zakat (poor-rate). The inquirer said: Am I obliged to pay anything else besides this? He (the Holy Prophet) said: No, but whatever you pay voluntarily out of your own free will. The man turned back and was saying: I would neither make any addition to this, nor will decrease anything out of it. The Prophet ﷺ remarked: He is successful, if he is true to what he affirms.
ان نمازوں کے بیان میں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہیں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، ابی سہیل اپنے والد سے، حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ نے اس حدیث کو امام مالک کی حدیث کی طرح نبی ﷺ سے روایت کیا ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کے باپ کی اگر یہ سچا ہے تو کامیاب ہوگیا یا قسم ہے اس کے باپ کی اگر یہ سچا ہے تو جنت میں داخل ہوگا۔
Another hadith, the like of which has been narrated by Malik (b. Anas) (and mentioned above) is also reported by Talha b. Ubaidullah, with the only variation that the Prophet remarked:
By his father, he shall succeed if he were true (to what he professed), or: By his father, he would enter heaven if he were true (to what he professed).
اسلام کے ارکان اور ان کی تحقیق کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَيْرٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ فَکَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيئَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَهُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتَانَا رَسُولُکَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّکَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَکَ قَالَ صَدَقَ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَائَ وَخَلَقَ الْأَرْضَ وَنَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَکَ آللَّهُ أَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَيْنَا زَکَاةً فِي أَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَکَ آللَّهُ أَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا قَالَ صَدَقَ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَکَ آللَّهُ أَمَرَکَ بِهَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَزَعَمَ رَسُولُکَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا قَالَ صَدَقَ قَالَ ثُمَّ وَلَّی قَالَ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ
عمرو بن محمد بن بکیر الناقد، ہاشم بن القاسم ابوالنصر، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ چونکہ ہمیں از خود رسول اللہ ﷺ سے سوال کرنے سے روک دیا گیا تھا اس لئے ہمیں اس بات سے خوشی ہوتی تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور وہ آپ ﷺ سے سوال کرے اور ہم بھی سنیں۔ اتفاقا ایک دیہاتی آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کا قاصد ہمارے ہاں آیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے، اس دیہاتی نے کہا آسمان کو کس نے بنایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے، اس نے عرض کیا زمین کو کس نے بنایا؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے، اس نے عرض کیا ان پہاڑوں کو کس نے بنایا؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے، اس دیہاتی نے عرض کیا اس اللہ کی قسم جس نے آسمان بنایا زمین بنائی پہاڑ قائم کئے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں بیشک دیہاتی نے عرض کیا آپ ﷺ کا قاصد کہتا تھا کہ دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا، دیہاتی نے عرض کیا آپ ﷺ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، دیہاتی نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے سچ کہا، دیہاتی نے عرض کیا کہ اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، دیہاتی نے عرض کیا آپ ﷺ کا قاصد کہتا تھا کہ سال میں ماہ رمضان کے روزے بھی ہم پر فرض ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس نے سچ کہا، دیہاتی نے کہا آپ ﷺ کو اس اللہ کی قسم جس نے آپ ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کا حکم بھی دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، دیہاتی نے عرض کیا آپ ﷺ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم میں سے جس کو استطاعت زاد راہ ہو اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی ضروری ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا، اس کے بعد وہ دیہاتی پشت پھیر کر یہ کہتا ہوا چلا گیا قسم ہے اس اللہ کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں ان باتوں میں نہ زیادہ کروں گا اور نہ کمی کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔
It is reported on the authority of Anas bin Malik (RA) that he said: We were forbidden that we should ask anything (without the genuine need) from the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ). It, therefore, pleased us that an intelligent person from the dwellers of the desert should come and asked him (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) and we should listen to it. A man from the dwellers of the desert came (to the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) and said: Muhammad, your messenger came to us and told us your assertion that verily Allah had sent you (as a prophet). He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) remarked: He told the truth. He (the bedouin) said: Who created the heaven? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) replied: Allah. He (the bedouin again) said: Who created the earth? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) replied: Allah. He (the bedouin again) said: Who raised these mountains and who created in them whatever is created there? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) replied: Allah. Upon this he (the bedouin) remarked: By Him Who created the heaven and created the earth and raised mountains thereupon, has Allah (in fact) sent you? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger also told us that five prayers (had been made) obligatory for us during the day and the night. He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) remarked: He told you the truth. He (the bedouin) said: By Him Who sent you, is it Allah Who ordered you about this (i. e. prayers)? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger told us that Zakat had been made obligatory in our riches. He (the Holy Prophet) said. He has told the truth. He (the bedouin) said: By Him Who sent you (as a prophet), is it Allah Who ordered you about it (Zakat)? He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger told us that it had been made obligatory for us to fast every year during the month of Ramadan. He (the Holy Prophet) said: He has told the truth. He (the bedouin) said: By Him Who sent you (as a prophet), is it Allah Who ordered you about it (the fasts of Ramadan)? He (the Holy Prophet) said: Yes. He (the bedouin) said: Your messenger also told us that pilgrimage (Hajj) to the House (of Ka’bah) had been made obligatory for him who is able to undertake the journey to it. He (the Holy Prophet) said: Yes. The narrator said that he (the bedouin) set off (at the conclusion of this answer, but at the time of his departure) remarked: By Him Who sent you with the Truth, I would neither make any addition to them nor would I diminish anything out of them. Upon this the Holy Prophet ﷺ remarked: If he were true (to what he said) he must enter Paradise.
اسلام کے ارکان اور ان کی تحقیق کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ کُنَّا نُهِينَا فِي الْقُرْآنِ أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْئٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ
عبداللہ بن ہاشم العبدی، بہز، سلیمان بن مغیرہ، حضرت ثابت سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں ہمیں رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے سے منع فرما دیا گیا تھا اور باقی حدیث اس طرح بیان کی جو اوپر گزری۔
It is narrated on the authority of Thabit that Anas said: We were forbidden in the Holy Quran that we should ask about anything from the Messenger of Allah ﷺ and then Anas reported the hadith in similar words.
اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ طَلْحَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِهَا ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنْ الْجَنَّةِ وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ فَکَفَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِهِ ثُمَّ قَالَ لَقَدْ وُفِّقَ أَوْ لَقَدْ هُدِيَ قَالَ کَيْفَ قُلْتَ قَالَ فَأَعَادَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّکَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ دَعْ النَّاقَةَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر اپنے والد سے، عمر بن عثمان، موسیٰ بن طلحہ، حضرت ابوایوب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سفر کے دوران ایک دیہاتی سامنے سے آیا اور آپ ﷺ کی اونٹنی کی نکیل پکڑ کر عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے ایسی چیز بتا دیجئے جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کر دے! رسول اللہ ﷺ رک گئے اور اپنے صحابہ کی طرف غور سے دیکھ کر فرمایا اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق مل گئی یا فرمایا ہدایت مل گئی، پھر دیہاتی سے فرمایا تو نے کیا کہا تھا؟ دیہاتی نے دوبارہ وہی عرض کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر، نماز پاپندی سے پڑھ اور زکوٰۃ ادا کر اور رشتہ داروں سے میل جول رکھ پس اب میری اونٹنی چھوڑ دے۔
It is narrated on the authority of Abu Ayyub Ansari that once during the journey of the Holy Prophet ﷺ a bedouin appeared before him and caught hold of the nosestring of his she-camel and then said, Messenger of Allah ﷺ (or Muhammad), inform me about that which takes me near to Paradise and draws me away from the Fire (of Hell). He (the narrator) said: The Prophet ﷺ stopped for a while and cast a glance upon his companions and then said: He was afforded a good opportunity (or he had been guided well). He (the Holy Prophet) addressing the bedouin said: (Repeat) whatever you have uttered. He (the bedouin) repeated that. Upon this the Apostle ﷺ remarked: The deed which can draw you near to Paradise and take you away from Hell is, that you worship Allah and associate none with Him, and you establish prayer and pay Zakat, and do good to your kin. After having uttered these words, the Holy Prophet ﷺ asked the bedouin to release the nosestring of his she-camel.
اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَی بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ
محمد بن حاتم و عبدالرحمن بن بشر، بہز، محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب، اس کے والد عثمان، موسیٰ بن طلحہ، حضرت ابوایوب ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث مبارکہ بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Ayyub that a man came to the Prophet ﷺ and said: Direct me to a deed which draws me near to Paradise and takes me away from the Fire (of Hell). Upon this he (the Holy Prophet) said: You worship Allah and never associate anything with Him, establish prayer, and pay Zakat, and do good to your kin. When he turned his back, the Messenger of Allah ﷺ remarked: If he adheres to what he has been ordered to do, he would enter Paradise.
اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دُلَّنِي عَلَی عَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْنِينِي مِنْ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنْ النَّارِ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّکَاةَ وَتَصِلُ ذَا رَحِمِکَ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ تَمَسَّکَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ إِنْ تَمَسَّکَ بِهِ
یحییٰ بن یحییٰ التمیمی، ابوالاحوص، ابوبکر بن شیبہ، ابوالاحوص، ابواسحاق، موسیٰ بن طلحہ، حضرت ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت سے نزدیک اور دوزخ سے دور کر دے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر اور نماز پابندی سے پڑھ اور زکوٰۃ ادا کر اور اپنے رشتہ داروں سے اچھا سلوک کر، اس کے بعد وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ میرے حکم پر کار بند رہے گا تو جنت میں داخل ہوجائے گا۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that a bedouin came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, direct me to a deed by which I may be entitled to enter Paradise. Upon this he (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) remarked: You worship Allah and never associate anything with Him, establish the obligatory prayer, and pay the Zakat which is incumbent upon you, and observe the fast of Ramadan. He (the bedouin) said: By Him in Whose hand is my life, I will never add anything to it, nor will I diminish anything from it. When he (the bedouin) turned his back, the Prophet ﷺ said: He who is pleased to see a man from the dwellers of Paradise should catch a glimpse of him.
اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَی عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَکْتُوبَةَ وَتُؤَدِّي الزَّکَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَزِيدُ عَلَی هَذَا شَيْئًا أَبَدًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ فَلَمَّا وَلَّی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَی هَذَا
ابوبکر بن اسحاق، عفان، وہیب، یحییٰ بن سعید، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے کوئی ایسا کام بتا دیجئے کہ اگر میں اس پر عمل پیرا ہوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز پابندی سے پڑھو اور فرض کی گئی زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو، دیہاتی نے یہ سن کر کہا قسم ہے اس اللہ کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں کبھی اس میں کمی بیشی نہیں کروں گا پھر جب وہ پشت پھیر کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی کو جنتی آدمی دیکھنے سے خوشی ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔
It is reported on the authority of Abu Huraira that a bedouin came to the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) and said:
Messenger of Allah, direct me to a deed by which I may be entitled to enter Paradise. Upon this he (the Holy Prophet) remarked: You worship Allah and never associate anything with Him, establish the obligatory prayer, and pay the Zakat which is incumbent upon you, and observe the fast of Ramadan. He (the bedouin) said: By Him in Whose hand is my life, I will never add anything to it, nor will I diminish anything from it. When he (the bedouin) turned his back, the Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: He who is pleased to see a man from the dwellers of Paradise should catch a glimpse of him.
اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَکْتُوبَةَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نعمان بن قوقل نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پس عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں فرض نماز پڑھتا رہوں اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں اور حلال کو حلال سمجھوں تو کیا آپ ﷺ کی رائے میں میں جنت میں داخل ہوجاؤں گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں۔
It is narrated on the authority of Jabir that Numan bin Qaufal came to the Holy Prophet ﷺ and said: Would I enter Paradise if I say the obligatory prayers and deny myself that which is forbidden and treat that as lawful what has been made permissible (by the Shariah)? The Holy Prophet ﷺ replied in the affirmative.
اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمِثْلِهِ وَزَادَا فِيهِ وَلَمْ أَزِدْ عَلَی ذَلِکَ شَيْئًا
حجاج بن شاعر، قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، اعمش، ابوصالح، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ نعمان بن قوقل نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا اے اللہ کے رسول ﷺ باقی روایت اسی طرح ہے جو اوپر گزری ہے اس میں صرف اتنا زیادہ ہے کہ اس پر میں کچھ بھی زیادہ نہیں کروں گا۔
A similar hadith is narrated on Jabirs authority in which the following words are added: I will do nothing more.
اس ایمان کے بیان میں جو جنت میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور وہ احکام جن پر عمل کی وجہ سے جنت میں داخلہ ہوگا
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوبَاتِ وَصُمْتُ رَمَضَانَ وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ وَلَمْ أَزِدْ عَلَی ذَلِکَ شَيْئًا أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَی ذَلِکَ شَيْئًا
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل یعنی عبداللہ، ابوالزبیر، جابر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں تو کیا آپ ﷺ کی رائے میں میں جنت میں داخل ہوجاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! اس شخص نے عرض کیا اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔
It is narrated on the authority of Jabir that a man once said to the Messenger of Allah ﷺ : Shall I enter Paradise in case I say the obligatory prayers, observe the (fasts) of Ramadan and treat that as lawful which has been made permissible (by the Shariah) and deny myself that what is forbidden, and make no addition to it? He (the Holy Prophet) replied in the affirmative. He (the inquirer) said: By Allah, I would add nothing to it.
اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ الْأَحْمَرَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسَةٍ عَلَی أَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَالْحَجِّ فَقَالَ رَجُلٌ الْحَجُّ وَصِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ لَا صِيَامُ رَمَضَانَ وَالْحَجُّ هَکَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن عبداللہ ابن نمیر الہمدانی، ابوخالد یعنی سلیمان بن حیان الاحمر، ابومالک الاشجعی، سعد بن عبیدہ، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار، پابندی سے نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔ ایک شخص نے راوی سے کہا کہ اصل حدیث میں الحج وصیام رمضان یعنی حج کا ذکر رمضان سے مقدم ہے راوی نے جواب میں کہا کہ نہیں صیام رمضان والحج ہے میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا ہے۔
It is narrated on the authority of (Abdullah) son of Umar (may Allah be pleased with them) that the Holy Prophet ﷺ said: (The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), i. e. the oneness of Allah, the establishment of prayer, payment of Zakat, the fast of Ramadan, Pilgrimage (to Makkah).
A person said (to Abdullah bin Umar (RA) the narrator): Which of the two precedes the other-Pilgrimage or the fasts of Ramadan? Upon this he (the narrator) replied: No (it is not the Pilgrimage first) but the fasts of Ramadan precede the Pilgrimage.
اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْکَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ السُّلَمِيُّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ عَلَی أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَيُکْفَرَ بِمَا دُونَهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ
سہل بن عثمان العسکری، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ، سعد بن طارق، سعد ابن عبیدہ السلمی ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کے علاوہ ہر چیز کی عبادت سے انکار کرنا، پابندی سے نماز پڑھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
It is narrated on the authority of Abdullah son of Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: (The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), testifying (the fact) that there is no god but Allah, that Muhammad is His bondsman and messenger, and the establishment of prayer, payment of Zakat, Pilgrimage to the House (Ka’bah) and the fast of Ramadan.
اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ
عبیداللہ بن معاذ اپنے والد سے، عاصم یعنی ابن محمد بن زید بن ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کا اقرار کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، نماز پابندی سے پڑھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
It is narrated on the authority of Abdullah son of Umar that the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said:
(The superstructure of) al-Islam is raised on five (pillars), testifying (the fact) that there is no god but Allah, that Muhammad is His bondsman and messenger, and the establishment of prayer, payment of Zakat, Pilgrimage to the House (Kaba) and the fast of Ramadan.
اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کے بیان میں
حَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ قَالَ سَمِعْتُ عِکْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يُحَدِّثُ طَاوُسًا أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَلَا تَغْزُو فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَی خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ وَحَجِّ الْبَيْتِ
ابن نمیر اپنے والد سے، حنظلہ، عکرمہ بن خالد، طاؤس، ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ کیا آپ جہاد نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔
It is reported on the authority of Taus that a man said to Abdullah son of Umar (RA) . Why dont you carry out a military expedition? Upon which he replied: I heard the messenger of Allah ﷺ say: Verily, al-Islam is founded on five (pillars): testifying the fact that there is no god but Allah, establishment of prayer, payment of Zakat, fast of Ramadan and Pilgrimage to the House.
اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ فَلَا نَخْلُصُ إِلَيْکَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَائَنَا قَالَ آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ فَقَالَ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَائِ الزَّکَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُقَيَّرِ زَادَ خَلَفٌ فِي رِوَايَتِهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ وَاحِدَةً
خلف بن ہشام، حماد بن زید، ابوجمرہ، ابن عباس، ح، یحییٰ بن یحییٰ عباد بن ابوجمرہ، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم خاندان ربیعہ سے ہیں اور ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور زمانہ میں نہیں پہنچ سکتے اس لئے آپ ہمیں کوئی ایسا حکم فرمائیں جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور ادھر والوں کو بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیں، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم کو چار باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں کی ممانعت کرتا ہوں: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، نماز باقاعدگی سے پڑھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا اس کے بعد فرمایا میں تم کو درج ذیل چیزوں سے منع کرتا ہوں کدو کے تون بے سے، سبز گھڑے سے، لکڑی کے گھڑے سے اور روغن قیر ملے ہوئے برتن سے خلف بن ہشام نے اپنی روایت میں اتنا زیادہ کیا ہے کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
It is narrated on the authority of Ibn Abbas that a delegation of Abdul Qais came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, verily ours is a tribe of Rabiah and there stand between you and us the unbelievers of Mudar and we find no freedom to come to you except in the sacred month. Direct us to an act which we should ourselves perform and invite those who live beside us. Upon this the Prophet ﷺ remarked: I command you to do four things and prohibit you against four acts. (The four deeds which you are commanded to do are): Faith in Allah, and then he explained it for them and said: Testifying the fact. that there is no god but Allah, that Muhammad is the messenger of Allah, performance of prayer, payment of Zakat, that you pay Khums (one-fifth) of the booty fallen to your lot, and I prohibit you to use round gourd, wine jars, wooden pots or skins for wine. Khalaf bin Hisham has made this addition in his narration: Testifying the fact that there is no god but Allah, and then he with his finger pointed out the oneness of the Lord.
اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ کُنْتُ أُتَرْجِمُ بَيْنَ يَدَيْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَبَيْنَ النَّاسِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَسْأَلُهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَقَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ الْوَفْدُ أَوْ مَنْ الْقَوْمُ قَالُوا رَبِيعَةُ قَالَ مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ أَوْ بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا النَّدَامَی قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْتِيکَ مِنْ شُقَّةٍ بَعِيدَةٍ وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَکَ هَذَا الْحَيَّ مِنْ کُفَّارِ مُضَرَ وَإِنَّا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَأْتِيَکَ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَائَنَا نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ قَالَ فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ قَالَ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَائُ الزَّکَاةِ وَصَوْمُ رَمَضَانَ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمُسًا مِنْ الْمَغْنَمِ وَنَهَاهُمْ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ النَّقِيرِ قَالَ شُعْبَةُ وَرُبَّمَا قَالَ الْمُقَيَّرِ وَقَالَ احْفَظُوهُ وَأَخْبِرُوا بِهِ مِنْ وَرَائِکُمْ و قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ مَنْ وَرَائَکُمْ وَلَيْسَ فِي رِوَايَتِهِ الْمُقَيَّرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابوبکر، غندر، شعبہ، محمد بن جعفر، شعبہ، ابوجمرہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے لوگوں کے درمیان ترجمانی کیا کرتا تھا اتنے میں ایک عورت آئی اس نے حضرت ابن عباس ؓ سے گھڑے کی نبیذ کے متعلق مسئلہ پوچھا حضرت ابن عباس ؓ نے جواب دیا کہ قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا وفد ہے یا کس قوم سے ہیں؟ وفد والوں نے عرض کیا کہ خاندان ربیعہ، آپ ﷺ نے اس وفد کو خوش آمدید کہا اور دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تم کو رسوا اور پشیمان نہ کرے، اہل وفد نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم آپ ﷺ کی خدمت میں دور دراز سے سفر کر کے آئے ہیں اور ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور کسی مہینہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتے اس لئے آپ ﷺ ہمیں کوئی ایسا امر فیصل بتادیں جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلے کے لوگوں کو بھی اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں اور ہم جنت میں داخل ہوجائیں، آپ ﷺ نے ان کو چار چیزوں کے کرنے کا اور چار چیزوں سے رک جانے کا حکم دیا آپ ﷺ نے ان کو ایک اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پھر خود ہی فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانے کے کیا معنی ہیں؟ وفد والوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا، آپ ﷺ نے ان کو چار چیزوں سے منع فرمایا کدو کی تونبی، سبز گھڑا، روغن قیر ملا ہوا برتن، شعبہ کی روایت کے مطابق لکڑی کا برتن پھر آپ ﷺ نے فرمایا تم خود بھی اسے یاد رکھو اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اطلاع کردو ابوبکر بن شیبہ نے اپنی روایت میں لکڑی کے برتن کا ذکر نہیں کیا۔
Abu Jamra reported: I was an interpreter between Ibn Abbas (RA) and the people, that a woman happened to come there and asked about nabidh or the pitcher of wine. He replied: A delegation of the people of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) asked the delegation or the people (of the delegation about their identity). They replied that they belonged to the tribe of Rabiah. He (the Holy Prophet) welcomed the people or the delegation which were neither humiliated nor put to shame. They (the members of the delegation) said: Messenger of Allah, we come to you from a far-off distance and there lives between you and us a tribe of the unbelievers of Mudar and, therefore, it is not possible for us to come to you except in the sacred months. Thus direct us to a clear command, about which we should inform people beside us and by which we may enter heaven. He (the Holy Prophet) replied: I command you to do four deeds and forbid you to do four (acts), and added: I direct you to affirm belief in Allah alone, and then asked them: Do you know what belief in Allah really implies? They said: Allah and His Messenger know best. The Prophet ﷺ said: It implies testimony to the fact that there is no god but Allah, and that Muhammad is the messenger of Allah, establishment of prayer, payment of Zakat, fast of Ramadan, that you pay one-fifth of the booty (fallen to your lot) and I forbid you to use gourd, wine jar, or a receptacle for wine. Shubah sometimes narrated the word naqir (wooden pot) and sometimes narrated it as muqayyar. The Holy Prophet ﷺ also said: Keep it in your mind and inform those who have been left behind.
اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَقَالَ أَنْهَاکُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّائِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ إِنَّ فِيکَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ
عبیداللہ بن معاذ اپنے والد سے، نصر بن علی الجہضمی اپنے والد سے، قرہ بن خالد، ابی جمرہ حضرت ابن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس حدیث کو حضرت شعبہ ؓ والی حدیث کی طرح نقل کیا ہے اور اس میں آپ ﷺ نے فرمایا میں تم کو اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو کدو کی تو نبی اور لکڑی کے کٹھلے اور سبز گھڑے اور روغن قیر ملے ہوئے برتن میں بنایا جاتا ہے حضرت ابن معاذ ؓ کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اشج سے جو قبیلہ عبدالقیس کا سردار تھا فرمایا تمہارے اندر دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے عقلمندی اور سوچ سمجھ کر کام کرنا۔
There is another hadith narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) (the contents of which are similar to the one) narrated by Shubah in which the Holy Prophet ﷺ said: I forbid you to prepare nabidh in a gourd, hollowed block of wood, a varnished jar or receptacle. Ibn Muadh made this addition on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ said to Ashajj, of the tribe of Abdul-Qais: You possess two qualities which are liked by Allah: insight and deliberateness.
اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺ اور شریعت کے احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اسکی طرف لوگوں کو بلانا اور دین کے بارے میں پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو اسکی تبلیغ کرنا
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَنْ لَقِيَ الْوَفْدَ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ سَعِيدٌ وَذَکَرَ قَتَادَةُ أَبَا نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ هَذَا أَنَّ أُنَاسًا مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَکَ کُفَّارُ مُضَرَ وَلَا نَقْدِرُ عَلَيْکَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَأْمُرُ بِهِ مَنْ وَرَائَنَا وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آمُرُکُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ اعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَصُومُوا رَمَضَانَ وَأَعْطُوا الْخُمُسَ مِنْ الْغَنَائِمِ وَأَنْهَاکُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَنْ الدُّبَّائِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عِلْمُکَ بِالنَّقِيرِ قَالَ بَلَی جِذْعٌ تَنْقُرُونَهُ فَتَقْذِفُونَ فِيهِ مِنْ الْقُطَيْعَائِ قَالَ سَعِيدٌ أَوْ قَالَ مِنْ التَّمْرِ ثُمَّ تَصُبُّونَ فِيهِ مِنْ الْمَائِ حَتَّی إِذَا سَکَنَ غَلَيَانُهُ شَرِبْتُمُوهُ حَتَّی إِنَّ أَحَدَکُمْ أَوْ إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَضْرِبُ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ قَالَ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ أَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ کَذَلِکَ قَالَ وَکُنْتُ أَخْبَؤُهَا حَيَائً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ فَفِيمَ نَشْرَبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فِي أَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَی أَفْوَاهِهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا کَثِيرَةُ الْجِرْذَانِ وَلَا تَبْقَی بِهَا أَسْقِيَةُ الْأَدَمِ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ أَکَلَتْهَا الْجِرْذَانُ وَإِنْ أَکَلَتْهَا الْجِرْذَانُ وَإِنْ أَکَلَتْهَا الْجِرْذَانُ قَالَ وَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ إِنَّ فِيکَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ
یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ ؓ نے فرمایا کہ مجھ سے اس شخص نے روایت نقل کی ہے جو قبیلہ عبدالقیس کے وفد سے ملا تھا وہ وفد جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، حضرت سعید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابونضرہ کے واسطہ سے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت بیان کی کہ قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم ربیعہ کے قبیلہ سے ہیں ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان قبیلہ مضر کے کفار حائل ہیں اس لئے حرمت والے مہینوں کے علاوہ اور مہینوں میں ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتے اس لئے آپ ﷺ ہمیں ایسا حکم دیں جس پر ہم خود بھی عمل کریں اور اپنے قبیلہ والوں کو بھی اس پر عمل کرنے کا حکم دیں اور اس کے ذریعے ہم جنت میں داخل ہوجائیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم کو چار باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور چار باتوں سے منع کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرو اور چار باتوں سے میں تم کو منع کرتا ہوں۔ کدو کی تونبی، سبز گھڑا، روغن قیر ملا ہوا برتن، لکڑی کا کٹھلا، وفد کے لوگوں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ کیا آپ ﷺ کو معلوم ہے کہ کٹھلا کیا ہوتا ہے اور کس کام آتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لکڑی کو کھود کر تم لوگ اس میں کھجوریں ڈال کر پانی ملاتے ہو جب اس کا جوش تھم جاتا ہے تو پھر تم اس کو پی لیتے ہو اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ نشہ میں تم میں سے کوئی اپنے چچا کے بیٹے کو تلوار سے مارنے لگتا ہے، راوی نے کہا لوگوں میں اس وقت ایک شخص موجود تھا اس کو اس نشہ کی بدولت زخم لگ چکا تھا اس نے کہا میں اس کو رسول اللہ ﷺ سے شرم کے مارے چھپاتا تھا، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ پھر ہم کس برتن میں پانی پئیں آپ ﷺ نے فرمایا چمڑے کے مشکوں میں جن کا منہ باندھا جاتا ہے، لوگوں نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ ہمارے علاقے میں چوہے بہت ہیں چمڑے کی مشکیں نہیں رہ سکتیں، آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ چوہے کاٹ ڈالیں اگرچہ چوہے کاٹ ڈالیں اگرچہ چوہے کاٹ ڈالیں پھر رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ عبدالقیس کے سردار اشج سے فرمایا تمہارے اندر دو خصلتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے عقلمندی اور بردباری۔
It is reported on the authority of Qatada that one among the delegates of the Abdul-Qais tribe narrated this tradition to him. Said said that Qatada had mentioned the name of Abu Nadra on the authority of Abu Said Khudri who narrated this tradition: That people from the- tribe of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, we belong to the tribe of Rabiah and there live between you and us the unbelievers of the Mudar tribe and we find it impossible to come to you except in the sacred months; direct us to a deed which we must communicate to those who have been left behind us and by doing which we may enter heaven. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: I enjoin upon you four (things) and forbid you to do four (things): worship Allah and associate none with Him, establish prayer, pay Zakat, and observe the fast of Ramadan, and pay the fifth part out of the booty. And I prohibit you from four (things): dry gourds, green-coloured jars, hollowed stumps of palm-trees, and receptacles. They (the members of the delegation) said: Do you know what al-naqir is? He replied: Yes, it is a stump which you hollow out and in which you throw small dates. Said said: He (the Holy Prophet) used the word tamar (dates). (The Holy Prophet ﷺ then added): Then you sprinkle water over it and when its ebullition subsides, you drink it (and you are so intoxicated) that one amongst you, or one amongst them (the other members of your tribe, who were not present there) strikes his cousin with the sword. He (the narrator) said: There was a man amongst us who had sustained injury on this very account due to (intoxication), and he told that he tried to conceal it out of shame from the Messenger of Allah ﷺ . I, however, inquired from the Messenger of Allah ﷺ (it we discard those utensils which you have forbidden us to use), then what type of vessels should be used for drink? He (the Holy Prophet) replied: In the waterskin the mouths of which are tied (with a string). They (again) said: Prophet ﷺ of Allah, our land abounds in rats and water-skins cannot remain preserved. The holy Prophet ﷺ of Allah ﷺ said: (Drink in water-skins) even if these arenibbled by rats. And then (addressing) al-Ashajj of Abdul-Qais he said: Verily, you possess two such qualities which Allah loves: insight and deliberateness.