نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ هَلْ کَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ فَقَالَ عَلْقَمَةُ أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْکُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ قَالَ لَا وَلَکِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَفَقَدْنَاهُ فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا اسْتُطِيرَ أَوْ اغْتِيلَ قَالَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا هُوَ جَائٍ مِنْ قِبَلَ حِرَائٍ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْنَاکَ فَطَلَبْنَاکَ فَلَمْ نَجِدْکَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ فَقَالَ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ الْقُرْآنَ قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ فَقَالَ لَکُمْ کُلُّ عَظْمٍ ذُکِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيکُمْ أَوْفَرَ مَا يَکُونُ لَحْمًا وَکُلُّ بَعْرَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّکُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهُمَا طَعَامُ إِخْوَانِکُمْ
محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داؤد، عامر سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ ؓ سے پوچھا کیا ابن مسعود ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لیلۃ الجن میں تھے تو علقمہ نے کہا میں نے ابن مسعود ؓ سے پوچھا کیا تم میں سے کوئی لیلہ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا کہ نہیں لیکن ایک رات ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم نے رسول اللہ ﷺ کو نہ پایا تو ہم نے آپ ﷺ کو پہاڑی وادیوں اور کھائیوں میں تلاش کیا ہم نے کہا کہ آپ ﷺ کو جن لے گئے یا کسی نے دھوکہ سے شہید کردیا بہر حال ہم نے وہ رات بد ترین رات والی قوم کی طرح گزاری جب ہم نے صبح کی تو آپ ﷺ حرا کی طرف سے تشریف لائے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ کو گم پایا اور آپ کو تلاش کیا اور آپ ﷺ کو نہ ڈھونڈ سکے ہم نے رات اس طرح گزاری جیسے کوئی قوم سخت بےچینی میں رات گزارتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جنات کی طرف سے بلانے والا آیا میں اس کے ساتھ چلا گیا اور میں نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی فرمایا پھر وہ ہمیں اپنے ساتھ لے گئے اور ہمیں اپنے جنات کے نشانات اور آگ کے نشانات دکھائے جنات نے آپ ﷺ سے اپنے کھانے کی چیزوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا ہر وہ ہڈی جس کو اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کیا گیا ہو تمہارے ہاتھوں میں آتے ہی وہ گوشت کے ساتھ پر ہوجائے گی اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کی خوراک ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہڈی اور مینگنی سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے بھائیوں کا کھانا ہیں۔
Dawud reported from Amir who said: I asked Alqama if Ibn Masud was present with the Messenger of Allah ﷺ on the night of the Jinn (the night when the Holy Prophet ﷺ met them). He (Ibn Masuad) said: No, but we were in the company of the Messenger of Allah ﷺ one night and we missed him. We searched for him in the valleys and the hills and said. He has either been taken away (by jinn) or has been secretly killed. He (the narrator) said. We spent the worst night which people could ever spend. When it was dawn we saw him coming from the side of Hiri. He (the narrator) reported. We said: Messenger of Allah, we missed you and searched for you, but we could not find you and we spent the worst night which people could ever spend. He (the Holy Prophet) said: There came to me an inviter on behalf of the Jinn and I went along with him and recited to them the Quran. He (the narrator) said: He then went along with us and showed us their traces and traces of their embers. They (the Jinn) asked him (the Holy Prophet) about their provision and he said: Every bone on which the name of Allah is recited is your provision. The time it will fall in your hand it would be covered with flesh, and the dung of (the camels) is fodder for your animals. The Messenger of Allah ﷺ said: Dont perform istinja with these (things) for these are the food of your brothers (Jinn).
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ قَالَ الشَّعْبِيُّ وَسَأَلُوهُ الزَّادَ وَکَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ إِلَی آخِرِ الْحَدِيثِ مِنْ قَوْلِ الشَّعْبِيِّ مُفَصَّلًا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ
علی بن حجر سعدی، اسماعیل بن ابراہیم، داؤد اس دوسری سند سے یہی حدیث اس اضافہ کے ساتھ روایت کی گئی ہے کہ وہ جن جزیرہ کے تھے۔
This hadith has been reported by Dawud with the same chain of transmitters up to the word (s):" The traces of their embers." Shabi said: They (the Jinn) asked about their provision, and they were the Jinn of al-Jazzier, up to the end of the hadith, and the words of Shabi have been directly transmitted from the hadith of Abdullah.
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی قَوْلِهِ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، داؤد، شعبی، علقمہ، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور یہ حدیث جنات کے آثار تک ہے اس سے آگے ذکر نہیں کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Abdullah from the Apostle ﷺ up to the words: "The traces of the embers," but he made no mention of what followed afterward.
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمْ أَکُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَدِدْتُ أَنِّي کُنْتُ مَعَهُ
یحییٰ بن یحییٰ، خالد بن عبداللہ، خالدحذاء، ابومعشر، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ سے روایت ہے کہ میں لیلہ الجن میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ تھا اور میری خواہش ہے کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتا۔
Abdullah (b. Masud) said: I was not with the Messenger of Allah ﷺ but I wish I were with him.
نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مَعْنٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ سَأَلْتُ مَسْرُوقًا مَنْ آذَنَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِنِّ لَيْلَةَ اسْتَمَعُوا الْقُرْآنَ فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبُوکَ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ آذَنَتْهُ بِهِمْ شَجَرَةٌ
سعید بن محمد جرمی، عبیداللہ بن سعید، ابواسامہ، مسعر، معن، مسرور، حضرت معن ؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا انہوں نے مسروق سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کو جنات کے رات کے وقت قرآن سننے کی خبر کس نے دی تو انہوں نے کہا مجھے آپ کے والد ابن مسعود نے بیان کیا کہ آپ ﷺ کو جنات کی خبر ایک درخت نے دی۔
Man reported.. I heard it from my father who said: I asked Masruq who informed the Messenger of Allah ﷺ about the night when they heard the Quran. He said: Your father, Ibn Masud, narrated it to me that a tree informed him about that.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَکَانَ يُطَوِّلُ الرَّکْعَةَ الْأُولَی مِنْ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ الثَّانِيَةَ وَکَذَلِکَ فِي الصُّبْحِ
محمد بن مثنی، عنزی، ابن ابی عدی، حجاج، صواف، یحییٰ ابن ابی کثیر، عبداللہ بن ابی قتادہ، ابی سلمہ، ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھاتے اور پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور اس کے علاوہ کوئی دو اور سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے اور کبھی ہمیں ایک آیت مبارکہ سناتے تھے اور ظہر کی پہلی رکعت لمبی اور دوسری چھوٹی ہوتی اور اسی طرح صبح کی نماز میں۔
Abu Qatadah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in prayer and recited in the first two rakahs of the noon and afternoon prayers Surat al-Fatiha and two (other) surahs. And he would sometimes recite loud enough for us to hear the verses. He would prolong the first rakah more than the second. And he acted similarly in the morning prayer.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ وَسُورَةٍ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا وَيَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْکِتَابِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، ہمام، ابان بن یزید، یحییٰ بن ابی کثیر، عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور ایک ایک سورت پڑھتے تھے اور کبھی ایک آیت ہمیں سنا دیتے اور آخری دو رکعتوں میں سورت فاتحہ پڑھی کرتے تھے۔
Abu Qatadah (RA) reported it on the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ would recite in the first two rakahs of the noon and afternoon prayers the opening chapter of the Book and another surah. He would sometimes recite loud enough to make audible to us the verse and would recite in the last two rakahs Surat al-Fatiha (only).
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ کُنَّا نَحْزِرُ قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ قَدْرَ قِرَائَةِ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ مِنْ الْعَصْرِ عَلَی قَدْرِ قِيَامِهِ فِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنْ الظُّهْرِ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ مِنْ الْعَصْرِ عَلَی النِّصْفِ مِنْ ذَلِکَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ الم تَنْزِيلُ وَقَالَ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ہشیم، یحیی، ہشیم، منصور، ولید بن مسلم، ابوصدیق، ابوسعید، خدری سے روایت ہے کہ ہم ظہر اور عصر میں رسول اللہ ﷺ کے قیام کے اندازہ کرتے پس ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ ﷺ کے قیام کا اندازہ یہ کیا کہ جیسے الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ پڑھی جائے اور آپ ﷺ کی آخری دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ اس سے نصف کا اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں اس سے نصف ابوبکر ؓ نے اپنی روایت میں الم کا اندازہ نہیں ذکر کیا بلکہ تیس آیات کی مقدار کہا ہے۔
Abu Said al-Khudri reported: We used to estimate how long Allahs Messenger ﷺ stood in the noon and afternoon prayers, and we estimated that he stood in the first two rakahs of the noon prayer as long as it takes to recite Alif Lam Mim, Tanzil, i. e. as-Sajda. We estimated that he stood half that time in the last two rakahs; that he stood in the first two of the afternoon as long as he did in the last two at noon; and in the last two of the afternoon prayer about half that time.
Abu Bakr (RA) in his narration has made no mention of Alif Lam Mim, Tanzil, but said: As long as it takes to recite thirty verses.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ قَدْرَ ثَلَاثِينَ آيَةً وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً أَوْ قَالَ نِصْفَ ذَلِکَ وَفِي الْعَصْرِ فِي الرَّکْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ قَدْرَ قِرَائَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِکَ
شیبان بن فروخ، ابوعوانہ، منصور، ولید بن مسلم، بشر، ابوصدیق، ناجی، ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کی مقدار کے برابر پڑھا کرتے تھے اور آخری دو رکعتوں میں پندرہ آیات کی مقدار اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں پندرہ آیات کی مقدار کے برابر اور آخری دو رکعتوں میں اس کی آدھی مقدار۔
Abu Said al-Khudri reported: The Apostle of Allah ﷺ used to recite in every rakah of the first two rakahs of the noon prayer about thirty verses and in the last two about fifteen verses or half (of the first rakah) and in every rakah of the Asr prayer of the first two rakahs about fifteen verses and in the last two verses half (of the first ones).
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ أَهْلَ الْکُوفَةِ شَکَوْا سَعْدًا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَذَکَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ بِهِ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ فَقَالَ إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَخْرِمُ عَنْهَا إِنِّي لَأَرْکُدُ بِهِمْ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ فَقَالَ ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ أَبَا إِسْحَقَ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، عبدالملک بن عمیر، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ سید نا عمر ؓ نے حضرت سعد ؓ سے فرمایا لوگوں نے آپ کی ہر بات کی یہاں تک کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے تو انہوں نے کہا بہرحال میں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا اور آخری دو رکعتوں کو مختصر کرتا ہوں اور میں نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے کوتاہی نہیں کرتا تو فاروق اعظم ؓ نے فرمایا آپ کے بارے میں اے ابواسحاق مجھے بھی یہی گمان تھا۔
Jabir bin ahadeeth reported: The people of Kufa complained to Umar bin Khattab about Said and they made a mention of his prayer. Umar sent for him. He came to him. He (Umar) told him that the people had found fault with his prayer. He said: I lead them in prayer in accordance with the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . I make no decrease in it. I make them stand for a longer time in the first two (rakahs) and shorten it in the last two. Upon this Umar remarked: This is what I deemed of thee, O Abu Ishaq.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عبدالملک بن عمیر سے بھی یہی حدیث اس سند سے منقول ہے۔
This hadith his been narrated by Abu al-Malik with the same chain of transmitters.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عَوْنٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ لِسَعْدٍ قَدْ شَکَوْکَ فِي کُلِّ شَيْئٍ حَتَّی فِي الصَّلَاةِ قَالَ أَمَّا أَنَا فَأَمُدُّ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَمَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ذَاکَ الظَّنُّ بِکَ أَوْ ذَاکَ ظَنِّي بِکَ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، ابی عون، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ سید نا عمر ؓ نے حضرت سعد ؓ سے فرمایا لوگوں نے آپ کی ہر بات کی یہاں تک کہ نماز کی بھی شکایت کی ہے تو انہوں نے کہا بہر حال میں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا اور آخری دو کو مختصر کرتا ہوں اور میں نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے کوتاہی نہیں کرتا تو فاروق اعظم ؓ نے فرمایا آپ کے بارے میں میرا بھی یہی گمان تھا۔
Jabir bin ahadeeth reported: Umar said to Sad: They complain against you in every matter, even in prayer. He (Sad) said: I prolong (standing) in the first two (rakahs) and shorten it in the last two, and I make no negligence in following the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . He (Umar) remarked: This is what is expected of you, or, that is what I deemed of you.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَأَبِي عَوْنٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَقَالَ تُعَلِّمُنِي الْأَعْرَابُ بِالصَّلَاةِ
ابوکریب، ابن بشر، مسعر، عبدالملک، ابوعون، حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ دیہاتی مجھے نماز سکھاتے ہیں باقی حدیث اسی طرح ہے۔
This hadith is narrated by Jabir bin ahadeeth but with the addition of these words:" (Sad said): These bedouins presume to teach me prayer."
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ العَزِيزِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَزْعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ لَقَدْ کَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَی الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَأْتِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی مِمَّا يُطَوِّلُهَا
داؤد بن رشید، ولید بن مسلم، سعید ابن عبدالعزیز، عطیہ بن قیس، قزعہ، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ظہر کی جماعت کھڑی ہوجاتی ہے جانے والا بقیع جاتا اور اپنی حاجت پوری کرتا پھر وضو کر کے آتا اور رسول اللہ ﷺ پہلی رکعت میں ہوتے اس قدر اس کو لمبا کرتے۔
Abu Said al-Khudri reported: The noon prayer would start and one would go to al-Baqi and after having relieved himself he would perform ablution and then come, while the Messenger of Allah ﷺ would be in the first rakah, because he would prolong it so much.
نماز ظہر وعصر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي قَزْعَةُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ مَکْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لَا أَسْأَلُکَ عَمَّا يَسْأَلُکَ هَؤُلَائِ عَنْهُ قُلْتُ أَسْأَلُکَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لَکَ فِي ذَاکَ مِنْ خَيْرٍ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ کَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَی الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَی الْمَسْجِدِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی
محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح، ربیعہ، قزعہ، حضرت قزعہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس آیا اور وہاں کثرت سے لوگ موجود تھے جب لوگ ان سے جدا ہوئے تو میں نے کہا میں آپ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں سوال کرتا ہوں تو حضرت ابوسعید ؓ نے فرمایا اس میں تیرے لئے بھلائی نہیں اس لئے میں نے اپنا سوال دوبارہ دہرا یا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز کی جماعت کھڑی ہوتی تو ہم میں سے کوئی بقیع جاتا اور اپنی حاجت پوری کرتا پھر اپنے گھر آکر وضو کرتا پھر مسجد کی طرف لوٹتا تو رسول اللہ ﷺ پہلی رکعت میں ہوتے۔
Qaza reported: I came to Abu Said al-Khudri and he was surrounded by people. When the people departed from him I said: I am not going to ask you what these people have been asking you. I want to ask you about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ . He (Abu Said) said: There is no good for you in this. He (Qaza), however, repeated (his demand). He then said: The noon prayer would start and one of us would go to Baqi and, having relieved himself, would come to his home, then perform ablution and go to the mosque, and (he would find) The Messenger of Allah ﷺ in the first rakah.
نماز فجر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْعَابِدِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ صَلَّی لَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَکَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّی جَائَ ذِکْرُ مُوسَی وَهَارُونَ أَوْ ذِکْرُ عِيسَی مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ يَشُکُّ أَوْ اخْتَلَفُوا عَلَيْهِ أَخَذَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَرَکَعَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ ذَلِکَ وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَحَذَفَ فَرَکَعَ وَفِي حَدِيثِهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَلَمْ يَقُلْ ابْنِ الْعَاصِ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، محمد بن عباد بن جعفر، ابوسلمہ بن سفیان، عبداللہ بن عمرو بن عاص، عبداللہ بن مسیب بن عابدی، حضرت عبداللہ بن سائب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں مکہ میں نماز صبح پڑھائی اور آپ ﷺ نے سورت مومنون شروع فرمائی یہاں تک کہ موسیٰ و ہارون یا حضرت عیسیٰ کا ذکر آیا تو آپ ﷺ کو کھانسی آنے لگی تو آپ ﷺ نے رکوع کردیا اور حضرت عبداللہ بن سائب ؓ موجود تھے عبدالرزاق کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے تلاوت چھوڑ کر رکوع کیا۔
Abdullah bin Said reported: The Apostle of Allah ﷺ led us in the morning prayer in Makkah and began Sarat al-Muminin (xxiii) but when he came to the mention of Moses (علیہ السلام) and Aaron (verse. 45) or to the mention of Jesus (verse 50), a cough got the better of him, and he bowed. Abdullah bin Saib was present there, and in the hadith narrated by Abdul Razzaq (the words are): He cut short (the recitation) and bowed.
نماز فجر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ سَرِيعٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوکریب، ابن بشر، مسعر، ولید بن سریع، عمرو بن حریث سے روایت ہے کہ انہوں نے فجر کی نماز میں نبی کریم ﷺ سے (وَالَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَ ) 81۔ التکویر: 17) آیت سنی۔
Amr bin Huwairith reported: I heard the Apostle of Allah ﷺ recite in the morning prayer "Wal-lail-i-idhd Asasa" (ixxxi. 17).
نماز فجر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِکٍ قَالَ صَلَّيْتُ وَصَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ حَتَّی قَرَأَ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ قَالَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّدُهَا وَلَا أَدْرِي مَا قَالَ
ابوکامل جحدری، فضیل بن حسین، ابوعوانہ، زیاد بن علاقہ، حضرت قطبہ ؓ بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نماز ادا کی اور ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی۔ آپ ﷺ نے سورت (ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ ) 50۔ ق: 1) پڑھی جب آپ ﷺ نے (وَالنَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌ) 50۔ ق: 10) پڑھا تو اس آیت کو دہراتے رہے اور مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے کیا کہا۔
Qutba bin Malik reported: I said prayer and the Messenger of Allah ﷺ led it and he recited "Qaf. (I.). By the Glorious Quran," till he recited "and the tall palm trees" (l. 10). I wanted to repeat it but I could not follow its significance.
نماز فجر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيکٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِکٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، شریک، ابن عیینہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، حضرت زیاد بن علاقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت نبی کریم ﷺ سے فجر کی نماز میں ( وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ) 50۔ ق: 10) پڑھتے ہوئے سنا۔
Ziyad bin Ilaqa reported it on the authority of his uncle that he said the morning prayer with the Apostle of Allah ﷺ and he recited in the first rakah: "And the tall palm trees having flower spikes piled one above another (l. 10) or perhaps Surah Qaf.
نماز فجر میں قرأت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ صَلَّی مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَرَأَ فِي أَوَّلِ رَکْعَةٍ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ وَرُبَّمَا قَالَ ق
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، زیاد بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی تو آپ ﷺ نے ایک رکعت میں (وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ) 50۔ ق: 10) پڑھا یا کبھی راوی کہتا ہے کہ سورت ق پڑھی۔
Ziyad bin Ilaqa reported it on the authority of his uncle that he said the morning prayer with the Apostle of Allah ﷺ and he recited in the first rakah: "And the tall palm trees having flower spikes piled one above another (l. 10) or perhaps Surah Qaf. 00000