Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 50 of 379

987Sahih Muslim

مردوں کے پیچھے نماز ادا کرنے والی عورتوں کے لئے حکم کے بیان میں کہ وہ مردوں سے پہلے سجدہ سے سر نہ اٹھائیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِثْلَ الصِّبْيَانِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَائِلٌ يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ لَا تَرْفَعْنَ رُئُوسَکُنَّ حَتَّی يَرْفَعَ الرِّجَالُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان ابی حازم، سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ تنگی کی وجہ سے اپنے تہنبد بچوں کی طرح اپنے گلوں میں باندھ کر نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے تھے تو کسی کہنے والے نے کہا اے عورتوں کی جماعت تم اپنے سروں کو مت اٹھاؤ یہاں تک کہ مرد اپنے سر نہ اٹھالیں۔

Sahl bin Sad reported: I saw men having tied (the ends) of their lower garments around their necks, like children, due to shortage of cloth and offering their prayers behind the Apostle of Allah ﷺ . One of the proclaimers said: O women folk, do not lift your heads till men raise (them).

988Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ سَالِمًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَأْذَنَتْ أَحَدَکُمْ امْرَأَتُهُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا

عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان بن عیینہ، زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی عورت اس سے مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو وہ اس کو نہ روکے۔

Salim narrated it from his father (Abdullah bin Umar (RA) ) that the Messenger of Allah ﷺ said: When women ask permission for going to the mosque, do not prevent them.

989Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَمْنَعُوا نِسَائَکُمْ الْمَسَاجِدَ إِذَا اسْتَأْذَنَّکُمْ إِلَيْهَا قَالَ فَقَالَ بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ قَالَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ أُخْبِرُکَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنی عورتوں کو مساجد سے نہ روکو جب وہ تم سے اس کی اجازت طلب کریں بلال بن عبداللہ نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم ان کو ضرور منع کریں گے جس پر حضرت عبداللہ ؓ نے ان پر اس قدر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ اتنا کسی پر ناراض نہ ہوئے تھے اور فرمایا میں تجھ کو رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی خبر دیتا ہوں اور تو کہتا ہے کہ ہم ان کو ضرور منع کریں گے۔

Abdullah bin Umar (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ say: Dont prevent your women from going to the mosque when they seek your permission. Bilal (RA) bin Abdullah said: By Allah, we shall certainly prevent them. On this Abdullah bin Umar (RA) turned towards him and reprimanded him to harshly as I had never heard him do before. He ( Abdullah bin Umar (RA) ) said: I am narrating to you that which comes from the Messenger of Allah ﷺ and you (have the audacity) to say: By Allah, we shall certainly prevent them.

990Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ إِدْرِيسَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمْنَعُوا إِمَائَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن ادریس، عبیداللہ، نافع، ابن عمر سے رایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اللہ کی باندیوں کو مسجدوں سے نہ روکو۔

Ibn Umar reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Do not prevent the maid-servants of Allah from going to the mosque.

991Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا اسْتَأْذَنَکُمْ نِسَاؤُکُمْ إِلَی الْمَسَاجِدِ فَأْذَنُوا لَهُنَّ

ابن نمیر، حنظلہ، سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جب تم سے تمہاری عورتیں مسجدوں کی طرف جانے کی اجازت طلب کریں تو ان کو اجازت دے دو۔

Ibn Umar reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: When your women seek your permission for going to the mosque, you grant them (permission).

992Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَمْنَعُوا النِّسَائَ مِنْ الْخُرُوجِ إِلَی الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ لَا نَدَعُهُنَّ يَخْرُجْنَ فَيَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا قَالَ فَزَبَرَهُ ابْنُ عُمَرَ وَقَالَ أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ لَا نَدَعُهُنَّ

ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مجاہد، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم عورتوں کو رات کے وقت مساجد کی طرف نکلنے سے نہ روکو تو ابن عمر ؓ کے بیٹے نے عرض کیا کہ ہم تو ان کو نہیں جانے دیں گے تاکہ وہ اس کو دھوکہ و فریب کا ذریعہ نہ بنالیں ابن عمر ؓ نے اپنے بیٹے کو خوب ڈانٹا اور فرمایا کہ میں تو رسول اللہ ﷺ کا قول نقل کرتا ہوں اور تو کہتا ہے ہم ان کو اجازت نہیں دیں گے۔

Ibn Umar reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Do not prevent women from going to the mosque at night. A boy said to Abdullah bin Umar (RA) : We would never let them go out, that they may not be caught in evil. He (the narrator) said: Ibn Umar (RA) reprimanded him and said.. I am saying that the Messenger of Allah ﷺ said this, but you say: We would not allow!

993Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

علی بن خشرم، عیسی، اعمش، اسی حدیث کی دوسری سند بیان کی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Amash with the same chain of transmitters.

994Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْذَنُوا لِلنِّسَائِ بِاللَّيْلِ إِلَی الْمَسَاجِدِ فَقَالَ ابْنٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ وَاقِدٌ إِذَنْ يَتَّخِذْنَهُ دَغَلًا قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِهِ وَقَالَ أُحَدِّثُکَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ لَا

محمد بن حاتم، ابن رافع، شبابہ، عمرو، مجاہد، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورتوں کو رات کے وقت مساجد کی طرف جانے کی اجازت دے دو تو ان کے بیٹے جن کو واقد کہا جاتا ہے نے عرض کیا وہ جب وہاں جانے کو دھوکہ و فریب کا ذریعہ بنائیں تو ابن عمر ؓ نے اس کے سینہ پر ضرب ماری اور فرمایا میں تجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تو کہتا ہے نہیں۔

Ibn Umar reported: Grant permission to women for going to the mosque in the night. His son who was called Waqid said: Then they would make mischief. He (the narrator) said: He thumped his (sons) chest and said: I am narrating to you the hadith of the Messenger of Allah ﷺ , and you say: No!

995Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنَا کَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَمْنَعُوا النِّسَائَ حُظُوظَهُنَّ مِنْ الْمَسَاجِدِ إِذَا اسْتَأْذَنُوکُمْ فَقَالَ بِلَالٌ وَاللَّهِ لَنَمْنَعُهُنَّ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ أَنْتَ لَنَمْنَعُهُنَّ

ہارون بن عبداللہ، عبداللہ بن یزید مقبری، سعید، ابن ابی ایوب، کعب بن علقمہ، حضرت بلال بن عبداللہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب عورتیں تم سے اجازت مانگیں تو ان کو مساجد کے ثواب حاصل کرنے سے منع نہ کرو تو بلال نے عرض کیا اللہ کی قسم ہم تو ان کو منع کریں گے تو اس پر عبداللہ ؓ نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور تو کہتا ہے کہ ہم منع کریں گے۔

Ibn Umar (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Do not deprive women of their share of the mosques, when they seek permission from you. Bilal (RA) said: By Allah, we would certainly prevent them. Abdullah said: I say that the Messenger of Allah ﷺ said it and you say: We would certainly prevent them!

996Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ زَيْنَبَ الثَّقَفِيَّةَ کَانَتْ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاکُنَّ الْعِشَائَ فَلَا تَطَيَّبْ تِلْکَ اللَّيْلَةَ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، مخرمہ، بسر بن سعید، زینب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی عورت عشاء کی نماز میں حاضر ہو تو اس رات خوشبو نہ لگائے۔

Zainab Thaqafiya reported: The Messenger of Allah ﷺ said: When any one of you (women) participates in the Isha prayer, she should not perfume herself that night.

997Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي بُکَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَهِدَتْ إِحْدَاکُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تَمَسَّ طِيبًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن سعید، قطان، محمد بن عجلان، بکیر بن عبداللہ بن اشج، بسر بن سعید، زینب، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ حضرت زینب ؓ زوجہ عبداللہ ؓ نے کہا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی عورت مسجد جائے تو خوشبو نہ لگائے۔

Zainab, the wife of Abdullah (b. Umar), reported: The Messenger of Allah ﷺ said to us: When any one of you comes to the mosque, she should not apply perfume.

998Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَائَ الْآخِرَةَ

یحییٰ بن یحییٰ، اسحاق بن ابر اہیم، عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن ابوفروہ، یزید بن خصیفہ، بسر بن سعید، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی عورت خوشبو کی دھونی لے تو وہ ہمارے ساتھ نماز عشاء میں شریک نہ ہو۔

Abu Hurairah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever (woman) fumigates herself with perfume should not join us in the Isha prayer.

999Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ لَوْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی مَا أَحْدَثَ النِّسَائُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ کَمَا مُنِعَتْ نِسَائُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرَةَ أَنِسَائُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُنِعْنَ الْمَسْجِدَ قَالَتْ نَعَمْ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال، یحیی، ابن سعید، عمرہ بنت عبدالرحمن، سیدہ عائشہ ؓ زوجہ نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتے تو ان کو مسجدوں سے منع فرما دیتے جیسا کہ بنی سرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد جانے سے منع کردیا گیا تھا تو سیدہ ؓ نے فرمایا ہاں!

Amra, daughter of Abdul Rahmin, reported: I heard Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ . say: If the Messenger of Allah ﷺ had seen what new things the women have introduced (in their way of life) he would have definitely prevented them from going to the mosque, as the women of Bani Israil were prevented.

1000Sahih Muslim

عورتوں کے لئے مسجد کی طرف نکلنا جبکہ فتنہ کا خوف نہ ہو اور وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ قَالَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ قَالَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثفقی، عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد، احمر اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اسی حدیث کو اس سند کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے۔

This hadith has been narrated by Yahya bin Said with the same chain of transmitters.

1001Sahih Muslim

جہری نمازوں میں جب خوف ہو تو قرأت درمیانی آواز سے کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَکَّةَ فَکَانَ إِذَا صَلَّی بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ فَإِذَا سَمِعَ ذَلِکَ الْمُشْرِکُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَائَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَی لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ فَيَسْمَعَ الْمُشْرِکُونَ قِرَائَتَکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا عَنْ أَصْحَابِکَ أَسْمِعْهُمْ الْقُرْآنَ وَلَا تَجْهَرْ ذَلِکَ الْجَهْرَ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِکَ سَبِيلًا يَقُولُ بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ

ابوجعفر، محمد بن صباح، عمرو ناقد، ہشیم، ابن صباح، ہشیم، ابوبشر، سعید بن جبیر، ابن عباس ؓ سے اللہ تبارک وتعالی کا قول ( وَلَا تَجْ هَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا) 17۔ الاسراء: 110) کی تفسیر میں روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ مکہ میں چھپ کر اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تھے اور آپ ﷺ بلند آواز سے قرأت قرآن فرماتے تھے جب مشرکین قرآن سنتے تو وہ قرآن اور اس کے نازل کرنے والے اور اس کے لانے والے کو برا کہتے تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا اس قدر بلند آواز سے نہ پڑھیں کہ مشرکین آپ ﷺ کی تلاوت سن لیں اور نہ اتنا آہستہ پڑھیں کہ آپ ﷺ کے اصحاب بھی نہ سن سکیں بلکہ ان دونوں کے درمیان راستہ نکالیں جہراً اور پوشیدہ کے درمیان۔

Ibn Abbas reported: The word of (Allah) Great and Glorious: And utter not thy prayer loudly, nor be low in it" (xvii. 110) was revealed as the Messenger of Allah ﷺ was hiding himself in Makkah. When he led his Companions in prayer he raised his voice (while reciting the) Quran. And when the polytheists heard that, they reviled the Quran and Him Who revealed it and him who brought it. Upon this Allah, the Exalted, said to His Apostle ﷺ : Utter not thy prayer so loudly that the polytheists may hear thy recitation and (recite it) not so low that it may be inaudible to your Companions. Make them hear the Quran, but do not recite it loudly and seek a (middle) way between these. Recite between loud and low tone.

1002Sahih Muslim

جہری نمازوں میں جب خوف ہو تو قرأت درمیانی آواز سے کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا قَالَتْ أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَائِ

یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن زکریا، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول (وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا) بھا دعا کے بارے میں نازل ہوا ہے۔

Aisha reported that so far as these words of (Allah) Glorious and High are concerned:" And utter not thy prayer loudly, not be low in it" (xvii. 110) relate to supplication (dua).

1003Sahih Muslim

جہری نمازوں میں جب خوف ہو تو قرأت درمیانی آواز سے کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح قَالَ و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَکِيعٌ ح قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

قتیبہ بن سعید، حماد، ابن زید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، وکیع، ابوکریب، ابومعاویہ، ہشام، اس سند سے بھی یہی حدیث روایت کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated by Hisham with the same chain of transmitters.

1004Sahih Muslim

قرات سننے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کُلُّهُمْ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ کَانَ مِمَّا يُحَرِّکُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ فَکَانَ ذَلِکَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ أَخْذَهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِکَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ قَالَ أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِکَ فَکَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ کَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، ابوبکر، جریر بن عبدالحمید، موسیٰ بن ابی عائشہ، سعید، بن جبیر، ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ ) کے بارے میں روایت ہے کہ جب جبرائیل وحی لے کر نازل ہوتے تو نبی کریم ﷺ اپنی زبان اور ہونٹ مبارک کو حرکت دیتے ہوئے دہراتے تھے اور اس میں مشکل ہوتی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ( لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ ) آپ ﷺ اپنی زبان کو یاد کرنے کی خاطر جلدی حرکت نہ دیں۔ ہمارے ذمہ ہے کہ اسے ہم آپ ﷺ کے سینہ میں جمع کردیں اور آپ اسے پڑھا دیں، فرمایا جب ہم قرآن کو آپ ﷺ پر نازل کریں تو آپ ﷺ اس کو سنیں (إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ ) ہم اس کو آپ ﷺ کی زبان سے بیان کرائیں گے پس اس کے بعد جب جبرائیل آپ ﷺ کے پاس آتے تو آپ ﷺ گردن جھکا دیتے اور جب جبرائیل چلے جاتے تو آپ ﷺ اللہ کے وعدے کے مطابق قرآن پڑھتے۔

Ibn Abbas reported with regard to the words of Allah, Great and Glorious: "Move not thy tongue therewith" (Ixxv. 16) that when Gabriel (علیہ السلام) brought revelation to him (the Holy Prophet) he moved his tongue and lips (with a view to committing it to memory instantly). This was something hard for him and it was visible (from his face). Then Allah, the Exalted. revealed this: "Move not thy tongue therewith to make haste (in memorising it). Surely on us rests the collecting of it and the reciting of it" (ixxv. 16), i. e. Verily it rests with Us that We would preserve it in your heart and (enable you) to recite it. You would recite it when We would recite it and so follow its recitation." and He (Allah) said: "We revealed it, so listen to it attentively. Verily its exposition rests with Us. i. e. We would make it deliver by your tongue." So when Gabriel (علیہ السلام) came to him (to the Holy Prophet), he kept silence, and when he went away he recited as Allah had promised him.

1005Sahih Muslim

قرات سننے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْله لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَالِجُ مِنْ التَّنْزِيلِ شِدَّةً کَانَ يُحَرِّکُ شَفَتَيْهِ فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا أُحَرِّکُهُمَا کَمَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّکُهُمَا فَقَالَ سَعِيدٌ أَنَا أُحَرِّکُهُمَا کَمَا کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّکُهُمَا فَحَرَّکَ شَفَتَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ قَالَ جَمْعَهُ فِي صَدْرِکَ ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ قَالَ فَاسْتَمِعْ وَأَنْصِتْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا أَقْرَأَهُ

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، موسیٰ بن ابی عائشہ ؓ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ ) کی تفسیر میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نزول وحی سے تکلیف میں پڑجاتے آپ ﷺ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے راوی کہتا ہے کہ مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں ہونٹوں کو تیرے لئے اسی طرح حرکت دوں جس طرح رسول اللہ ﷺ حرکت دیتے پھر اپنے ہونٹوں کو ابن عباس ؓ نے حرکت دی تو سعید ؓ نے کہا میں تم کو اسی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جس طرح ابن عباس ؓ اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے پھر ہونٹ ہلائے اللہ تعالیٰ نے آیات ذیل نازل فرمائیں (لَا تُحَرِّکْ بِهِ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِهِ ِانَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ) تفسیر میں فرمایا آپ ﷺ کے سینہ میں اسے جمع کرنا کہ پھر آپ اسے قرأت کرسکیں ہمارے ذمہ ہے فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ میں فرمایا کہ کان لگا کر سنو اور خاموش رہو پھر ہم پر لازم ہے کہ آپ ﷺ سے اس کی قرأت کرا دیں پھر جب جبرائیل آپ کے پاس آتے تو آپ ﷺ کان لگا کر سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو آپ ﷺ اس کی قرأت کے مطابق قرأت فرماتے۔

Ibn Abbas (RA) reported with regard to the words:" Do not move thy tongue there with to make haste," that the Apostle of Allah ﷺ felt it hard and he moved his lips. Ibn Abbas said to me (Said bin Jubair): I move them just as the Messenger of Allah ﷺ moved them. Then said Said: I move them just as Ibn Abbas moved them, and he moved his lips. Allah, the Exalted, revealed this: "Do not move your tongue therewith to make haste. It is with Us that its collection rests and its recital" (al-Quran, ixxv. 16). He said: "Its preservation in your heart and then your recital. So when We recite it, follow its recital" He said: "Listen to it, and be silent and then it rests with Us that you recite it.". So when Gabriel (علیہ السلام) came to the Messenger of Allah ﷺ , he listened to him attentively, and when Gabriel (علیہ السلام) went away, the Apostle of Allah ﷺ recited as he ( Gabriel (علیہ السلام)) had recited it.

1006Sahih Muslim

نماز فجر میں جہری قرأت اور جنات کے سامنے قرأت کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْجِنِّ وَمَا رَآهُمْ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَامِدِينَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَ الشَّيَاطِينِ وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْهِمْ الشُّهُبُ فَرَجَعَتْ الشَّيَاطِينُ إِلَی قَوْمِهِمْ فَقَالُوا مَا لَکُمْ قَالُوا حِيلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ وَأُرْسِلَتْ عَلَيْنَا الشُّهُبُ قَالُوا مَا ذَاکَ إِلَّا مِنْ شَيْئٍ حَدَثَ فَاضْرِبُوا مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَانْظُرُوا مَا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ فَانْطَلَقُوا يَضْرِبُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا فَمَرَّ النَّفَرُ الَّذِينَ أَخَذُوا نَحْوَ تِهَامَةَ وَهُوَ بِنَخْلٍ عَامِدِينَ إِلَی سُوقِ عُکَاظٍ وَهُوَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَلَمَّا سَمِعُوا الْقُرْآنَ اسْتَمَعُوا لَهُ وَقَالُوا هَذَا الَّذِي حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ خَبَرِ السَّمَائِ فَرَجَعُوا إِلَی قَوْمِهِمْ فَقَالُوا يَا قَوْمَنَا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَی الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِکَ بِرَبِّنَا أَحَدًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی نَبِيِّهِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنْ الْجِنِّ

شیبان بن فروخ، ابوعوانہ، ابی بشر، سعید بن جبیر، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنات کے سامنے قرآن پڑھا نہ ان کو دیکھا تھا، رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کی جماعت میں بازار عکاظ کا ارادہ کرکے جا رہے تھے اور شیطانوں اور آسمانی خبروں کا درمیانی واسطہ بند ہوگیا اور ان پر آگ کے شعلے برسائے جانے لگے تو شیطان اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو انہوں نے کہا تمہیں کیا ہوگیا ہے انہوں نے کہا ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان کوئی حائل ہوگیا ہے اور ہم پر آگ کے شعلے برسائے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ضرور کوئی نئی بات پیش آگئی ہے پس پھرو تم مشرق ومغرب میں اور دیکھو کہ ہمارے اور آسمان کے درمیان کیا چیز حائل ہوگئی ہے پس وہ چلے اور مشارق ومغا رب میں پھرے پس ان میں سے کچھ جنات تہامہ کی طرف سے گزرے اور آپ ﷺ مقام نخل پر بازار عکاظ کو گئے اور اپنے اصحاب کو نماز فجر پڑھائی جب انہوں نے توجہ و غور سے قرآن کی آواز سنی تو انہوں نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو ہمارے اور آسمانی خبروں کے درمیان حائل ہوگئی ہے وہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور انہوں نے کہا اے ہماری قوم ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو ہدایت کی طرف رہنمائی کرتا ہے ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے اکیلے رب کے ساتھ شرک نہیں کریں گے تو اللہ نے اپنے نبی محمد ﷺ پر (قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنْ الْجِنِّ ) یعنی سورت الجن نازل فرمائی۔

Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ﷺ neither recited the Quran to the Jinn nor did he see them. The Messenger of Allah ﷺ went out with some of his Companions with the intention of going to the bazaar of Ukaz and there had been (at that time) obstructions between satans and the news from the Heaven, and there were flung flames upon them. So satan went back to their people and they said: What has happened to you? They said: There have been created obstructions between us and the news from the Heaven. And there have been flung upon us flames. They said: It cannot happen but for some (important) event. So traverse the eastern parts of the earth and the western parts and find out why is it that there have been created obstructions between us and the news from the Heaven. So they went forth and traversed the easts of the earth and its wests. Some of them proceeded towards Tihama and that is a nakhl towards the bazaar of Ukaz and he (the Holy Prophet) was leading his Companions in the morning prayer. So when they heard the Quran. they listened to it attentively and said: It is this which has caused obstruction between us and news from the Heaven. They went back to their people and said: O our people, we have heard a strange Quran which directs us to the right path; so we affirm our faith in it and we would never associate anyone with our Lord. And Allah, the Exalted and Glorious, revealed to His Apostle ﷺ Muhammad ﷺ :" It has been revealed to me that a party of Jinn listened to it" (Quran, lxxii. 1).