مقتدی کا امام کی اقتداء کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع، زہرانی، حماد ابن زید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام بن عروہ سے بھی دوسری سند کے ساتھ یہی حدیث مروی ہے۔
This hadith is narrated with the same chain of transmitters by Hisham bin Urwa.
مقتدی کا امام کی اقتداء کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ اشْتَکَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْنَا وَرَائَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَکْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ تَکْبِيرَهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا فَرَآنَا قِيَامًا فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ إِنْ کِدْتُمْ آنِفًا لَتَفْعَلُونَ فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ يَقُومُونَ عَلَی مُلُوکِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ فَلَا تَفْعَلُوا ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِکُمْ إِنْ صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِنْ صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابوزبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بیماری میں ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے اس طرح نماز ادا کی کہ آپ ﷺ بیٹھنے والے تھے اور حضرت ابوبکر ؓ لوگوں کو آپ ﷺ کی تکبیر سنا رہے تھے آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو ہم کو کھڑے ہوئے دیکھا آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ فرمایا تو ہم بیٹھ گئے اور ہم نے آپ ﷺ کی نماز کے ساتھ بیٹھ کر نماز ادا کی جب سلام پھیرا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اس وقت وہ کام کیا جو فارسی اور رومی کرتے ہیں کہ وہ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور وہ بیٹھا ہوتا ہے ایسا نہ کرو اپنے ائمہ کی اقتداء کرو اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز ادا کرو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز ادا کرو۔
Jabir reported: The Messenger of Allah ﷺ was ill and we said prayer behind him and he was sitting. And Abu Bakr (RA) was making audible to the people his takbir. As he paid his attention towards us he saw us standing and (directed us to sit down) with a gesture. So we sat down and said our prayer with his prayer in a sitting posture. After uttering salutation he said: You were at this time about to do an act like that of the Persians and the Romans. They stand before their kings while they sit, so dont do that; follow your Imams. If they say prayer standing, you should also do so, and if they say prayer sitting, you should also say prayer sitting.
مقتدی کا امام کی اقتداء کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا کَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَبَّرَ أَبُو بَکْرٍ لِيُسْمِعَنَا ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ
یحییٰ بن یحیی، حمید بن عبدالرحمن رواسی، ابوزبیر، جابر ؓ سے روایت ہے کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور ابوبکر ؓ آپ ﷺ کے خلیفہ تھے جب رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی تو ابوبکر ؓ نے ہمیں سنانے کے لئے تکبیر کہی باقی حدیث حضرت لیث کی طرح ہے۔
Jabir said: The Messenger of Allah ﷺ led the prayer and Abu Bakr (RA) was behind him. When the Messenger of Allah ﷺ recited the takbir, Abu Bakr (RA) also recited (it) in order to make it audible to us. And the rest of the hadith is like one transmitted by Laith.
مقتدی کا امام کی اقتداء کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا وَإِذَا صَلَّی جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ
قتیبہ بن سعید، مغیرہ، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امام صرف اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے تم اس سے اختلاف نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تم تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تم رکوع کرو جب وہ (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه) کہے تو تم (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ ) کہو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی سارے بیٹھ کر ہی نماز ادا کرو۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: The Imam is appointed, so that he should be followed, so dont be at variance with him. Recite takbir when he recites it; bow down when he bows down and when he says: "Allah listens to him who praises Him," say: "O Allah, our Lord, to Thee be the Praise." And when he (the Imam) prostrates, you should also prostrate, and when he says prayer sitting, you should all observe prayer sitting.
مقتدی کا امام کی اقتداء کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ سے دوسری سند سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔
A hadith like this has been transmitted by Hammam bin Munabbih from the Apostle of Allah ﷺ on the authority of Abu Hurairah (RA) .
امام سے تکبیر وغیرہ میں آگے بڑھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا يَقُولُ لَا تُبَادِرُوا الْإِمَامَ إِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا وَإِذَا قَالَ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ
اسحاق بن ابراہیم، ابن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تعلیم دیتے تھے کہ امام سے سبقت نہ کرو جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ (وَلَا الضَّالِّينَ ) کہے تو تم آمین کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کہے تو تم (اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ) کہو۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ while teaching us (the principles of faith), said: Do not try to go ahead of the Imam, recite takbir when he recites it. and when he says: "Nor of those who err," you should say Amin, bow down when lie bows down, and when he says: "Allah listens to him who praises Him," say: "O Allah, our Lord, to Thee be the praise".
امام سے تکبیر وغیرہ میں آگے بڑھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ وَزَادَ وَلَا تَرْفَعُوا قَبْلَهُ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، سہیل بن ابوصالح، ابوہریرہ ؓ یہی حدیث ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے مگر اس میں آپ ﷺ کا فرمان امام کہے (وَلَا الضَّالِّينَ ) تو تم آمین کہو، نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported from the Apostle of Allah ﷺ (a hadith) like it, except the words: "Nor of those who err, say Amin" and added: "And dont rise up ahead of him."
امام سے تکبیر وغیرہ میں آگے بڑھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَی وَهُوَ ابْنُ عَطَائٍ سَمِعَ أَبَا عَلْقَمَةَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا صَلَّی قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ فَإِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الْأَرْضِ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَائِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، یعلی بن عطاء، ابوعلقمہ، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امام ڈھال ہے جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو اور جب وہ (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کہے تو تم ( رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ) کہو جب زمین والوں کا قول آسمان والوں کے قول کے موافق ہوجائے تو ان کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Verily the Imam is a shield, say prayer sitting when he says prayer sitting. And when he says: "Allah listens to him who praises Him," say: "O Allah, our Lord, to Thee be the praise." and when the utterance of the people of the earth synchronises with that of the beings of heaven (angels), all the previous sins would be pardoned.
امام سے تکبیر وغیرہ میں آگے بڑھنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ حَيْوَةَ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا وَإِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّی قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا وَإِذَا صَلَّی قَاعِدًا فَصَلَّوْا قُعُودًا أَجْمَعُونَ
ابوطاہر، ابن وہب، حیوہ، ابویونس، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امام صرف اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کرے تو تم بھی سب بیٹھ کر نماز ادا کرو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ saying: The Imam is appointed to be followed. So recite takbir when he recites it, and bow down when he bows down and when he utters: "Allah listens to him who praises Him," say: "O Allah, our Lord for Thee be the praise." And when he prays, standing, you should pray standing. And when he prays sitting, all of you should pray sitting.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ بَلَی ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعُوا لِي مَائً فِي الْمِخْضَبِ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوئَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ أَصَلَّی النَّاسُ فَقُلْنَا لَا وَهُمْ يَنْتَظِرُونَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُکُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَائِ الْآخِرَةِ قَالَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُکَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ رَجُلًا رَقِيقًا يَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِکَ قَالَتْ فَصَلَّی بِهِمْ أَبُو بَکْرٍ تِلْکَ الْأَيَّامَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ وَأَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَکْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَتَأَخَّرَ وَقَالَ لَهُمَا أَجْلِسَانِي إِلَی جَنْبِهِ فَأَجْلَسَاهُ إِلَی جَنْبِ أَبِي بَکْرٍ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي وَهُوَ قَائِمٌ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَدَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَهُ أَلَا أَعْرِضُ عَلَيْکَ مَا حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَاتِ فَعَرَضْتُ حَدِيثَهَا عَلَيْهِ فَمَا أَنْکَرَ مِنْهُ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَسَمَّتْ لَکَ الرَّجُلَ الَّذِي کَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ هُوَ عَلِيٌّ
احمد بن عبداللہ بن یونس، موسیٰ بن ابی عائشہ، عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کے مرض کے بارے میں نہیں بتائیں گی فرمایا کیوں نہیں نبی کریم ﷺ کو بیماری سے افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز ادا کرلی ہے ہم نے عرض کیا نہیں وہ تو آپ ﷺ کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا میرے لئے برتن میں پانی رکھ دو ہم نے ایسا ہی کیا آپ ﷺ نے اس سے غسل فرمایا پھر آپ چلنے لگے تو بےہوشی طاری ہوگئی پھر افاقہ ہوا تو فرمایا کیا لوگوں نے نماز ادا کرلی ہے ہم نے عرض کیا نہیں بلکہ یا رسول اللہ ﷺ وہ تو آپ ﷺ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا میرے لئے برتن میں پانی رکھ دو ہم نے ایسا ہی کیا آپ ﷺ نے غسل فرمایا پھر آپ ﷺ چلنے لگے تو آپ ﷺ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر افاقہ ہوا تو پوچھا کیا لوگوں نے نماز ادا کرلی ہم نے عرض کیا نہیں بلکہ وہ تو آپ ﷺ کا یا رسول اللہ ﷺ انتظار کر رہے ہیں سیدہ ؓ نے فرمایا صحابہ مسجد میں بیٹھے رسول اللہ ﷺ کا عشاء کی نماز کے لئے انتظار کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو سیدنا ابوبکر کی طرف بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو اس نے جا کر کہا بیشک رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کو حکم دے رہے ہیں کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور ابوبکر نرم دل آدمی تھے اس لئے انہوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں سیدہ نے فرمایا پھر ان کو حضرت ابوبکر ؓ نے ان دنوں کی نماز پڑھائی پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی جان میں کچھ کمی محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے ظہر کی نماز کے لئے نکلے ان میں ایک حضرت عباس ؓ تھے اور ابوبکر ؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب ابوبکر نے آپ ﷺ کو آتے دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ پیچھے نہ ہوں اور آپ ﷺ نے ان دونوں کو فرمایا مجھے ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دو تو آپ ﷺ کو ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا اور حضرت ابوبکر ؓ نماز ادا کرتے رہے کھڑے ہو کر نبی ﷺ کی اقتداء میں اور صحابہ بیٹھے ہوئے تھے عبیداللہ نے کہا میں ابن عباس ؓ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے عرض کیا کیا میں آپ کی خدمت میں عائشہ کی نبی ﷺ کے مرض کے بارے میں حدیث پیش نہ کروں جو آپ نے مجھے بیان کی ہے تو انہوں نے کہا لے آؤ تو میں نے سیدہ کی حدیث ان پر پیش کی تو انہوں نے اس سے کوئی انکار نہیں کیا سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا کیا سیدہ نے تجھے عباس ؓ کے ساتھ جو آدمی تھا اس کا نام بتایا ہے میں نے کہا نہیں تو ابن عباس ؓ نے کہا وہ حضرت علی ؓ تھے۔
Ubaidullah bin Abdullah reported: I visited Aisha and asked her to tell about the illness of the Messenger of Allah ﷺ . She agreed and said: The Apostle ﷺ was seriously ill and he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: Put some water in the tub for me. We did accordingly and he (the Holy Prophet) took a bath; and, when he was about to move with difficulty, he fainted. When he came round, he again said: Have the people said prayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) again said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bath, but when he was about to move with difficulty he fainted. When he came round, he asked whether the people had prayed. We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. He said: Put some water for me in the tub. We did accordingly and he took a bath and he was about to move with difficulty when he fainted. When he came round he said: Have the people said prayer? We said: No, they are waiting for you, Messenger of Allah. She (Aisha) said: The people were staying in the mosque and waiting for the Messenger of Allah ﷺ to lead the last (night) prayer. She (Aisha) said: The Messenger of Allah ﷺ sent (instructions) to Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer. When the messenger came, he told him (Abu Bakr): The Messenger of Allah ﷺ has ordered you to lead the people in prayer. Abu Bakr (RA) who was a man of very tenderly feelings asked Umar to lead the prayer. Umar said: You are more entitled to that. Abu Bakr (RA) led the prayers during those days. Afterwards the Messenger of Allah ﷺ felt some relief and he went out supported by two men, one of them was al-Abbas, to the noon prayer. Abu Bakr (RA) was leading the people in prayer. When Abu Bakr (RA) saw him. he began to withdraw, but the Apostle of Allah ﷺ told him not to withdraw. He told his two (companions) to seat him down beside him (Abu Bakr). They seated him by the side of Abu Bakr. Abu Bakr (RA) said the prayer standing while following the prayer of the Apostle ﷺ and the people performed prayer (standing) while following the prayer of Abu Bakr. The Apostle ﷺ was seated. Ubaidullah said: I visited Abdullah bin Abbas, and said: Should I submit to you what Aisha had told about the illness of the Apostle ﷺ ? He said: Go ahead. I submitted to him what had been transmitted by her (Aisha). He objected to none of it, only asking whether she had named to him the man who accompanied al-Abbas. I said: No. He said: It was Ali.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَوَّلُ مَا اشْتَکَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا وَأَذِنَّ لَهُ قَالَتْ فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَی الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَيَدٌ لَهُ عَلَی رَجُلٍ آخَرَ وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيٌّ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ابتدا میں سیدہ میمونہ کے گھر میں بیمار ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے عائشہ ؓ کے گھر میں ایام بیماری گزارنے کی اجازت طلب فرمائی آپ ﷺ کو اجازت دے دی گئی سیدہ فرماتی ہیں آپ ﷺ اس حال میں نکلے کہ آپ ﷺ کا ایک ہاتھ فضل بن عباس ؓ پر اور دوسرا ہاتھ ایک دوسرے آدمی پر تھا اور آپ ﷺ کے پاؤں گھسٹ رہے تھے حضرت عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کیا تو جانتا ہے اس آدمی کو جس کا نام حضرت عائشہ ؓ نے نہیں لیا وہ کون تھا وہ حضرت علی ؓ تھے۔
Aisha reported: It was in the house of Maimuna that the Messenger of Allah ﷺ first fell ill. He asked permission from his wives to stay in her (Aishas) house during his illness. They granted him permission. She (Aisha) narrated: He (the Holy Prophet) went out (for prayer) with his hand over al-Fadl bin Abbas and on the other hand there was another person and (due to weakness) his feet dragged on the earth. Ubaidullah said: I narrated this hadith to the son of Abbas (Abdullah bin Abbas) and he said: Do you know who the man was whose name Aisha did not mention? It was Ali.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ عَلِيٌّ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، زوجہ نبی ﷺ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کی تکلیف میں شدت ہوگئی تو آپ نے اپنی ازواج مطہرات سے اجازت طلب فرمائی کہ آپ اپنے ایام بیماری میرے گھر میں گزاریں انہوں نے آپ کو اجازت دیدی تو آپ دو آدمیوں کے درمیان نکلے اس حال میں کہ آپ کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے ایک حضرت عباس بن عبدالمطلب اور ایک دوسرے آدمی کے سہارے۔ حضرت عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ کو سیدہ عائشہ کی اس بات کی خبر دی تو عبداللہ نے مجھے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ دوسرا آدمی کون تھا جس کا نام سیدہ عائشہ نے نہیں لیا؟ میں نے عرض کیا نہیں تو ابن عباس نے فرمایا وہ حضرت علی ؓ تھے۔
Aisha, the wife of the Apostle ﷺ , said: When the Messenger of Allah ﷺ fell ill and his illness became serious, he asked permission from his wives to stay in my house during his illness. They gave him permission to do so. He stepped out (of Aishas apartment for prayer) supported by two persons. (He was so much weak) that his feet dragged on the ground and he was being supported by Abbas bin Abdul Muttalib and another person. Ubaidullah said: I informed Abdullah (b. Abbas) about that which Aisha had said. Abdullah bin Abbas said: Do you know the man whose name Aisha did not mention? He said: No. Ibn Abbas said: It was Ali.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَی کَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلًا قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَإِلَّا أَنِّي کُنْتُ أَرَی أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلَّا تَشَائَمَ النَّاسُ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَبِي بَکْرٍ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (ابوبکر صدیق کے امام نہ بنانے پر) اصرار کیا اور اس بار بار اصرار کی وجہ یہ تھی کہ مجھے اس بات کا خیال نہ تھا کہ آپ کے بعد لوگ اس سے محبت کریں گے جو آپ کے بعد آپ کی جگہ پر کھڑا ہوگا لیکن میرے دل میں یہ تھا کہ جو شخص آپ کی جگہ کھڑا ہوگا لوگ اس کو منحوس تصور کریں گے۔ تو اسی لئے میں نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر ؓ کو امام بنانے سے معاف رکھیں تو مناسب ہوگا۔
Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , said: I tried to dissuade the Messenger of Allah ﷺ from it (i. e. from appointing Abu Bakr (RA) as the Imam.) and my insistence upon it was not due to the fact that I entertained any apprehension in my mind that the people would not love the man who would occupy his (Prophets) place (i. e. who would be appointed as his caliph) and I feared that the people would be superstitious about one who would occupy his place. I, therefore, desired that the Messenger of Allah ﷺ should leave Abu Bakr (RA) aside in this matter.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي قَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِکُ دَمْعَهُ فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا کَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَائَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَکْرٍ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبد ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، حمزہ بن عبداللہ بن عمر، عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں داخل ہوئے تو فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ابوبکر ؓ نرم دل آدمی ہیں جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو اپنے آنسوؤں کو روک نہیں سکتے اگر آپ ﷺ ابوبکر کے علاوہ کسی اور کو حکم دیں تو مناسب ہوگا۔ سیدہ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے لئے سوا اس بات کے کوئی بات پیش نظر نہ تھی کہ لوگ بد شگونی لیں گے اس سے جو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی جگہ کھڑا ہوگا فرماتی ہیں کہ میں نے دو یا تین مرتبہ اصرار کیا لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ہی لوگوں کو نماز پڑھائیں اور تم یوسف کے دور کی عورتوں جیسی ہو۔
Aisha reported: When the Messenger of Allah ﷺ came to my house, he said: Ask Abu Bakr (RA) to lead people in prayer. Aisha narrated: I said, Messenger of Allah, Abu Bakr (RA) is a man of tenderly feelings; as he recites the Quran, he cannot help shedding tears: so better command anyone else to lead the prayer. By Allah, there is nothing disturbing in it for me but the idea that the people may not take evil omen with regard to one who is the first to occupy the place of the Messenger of Allah ﷺ . I tried to dissuade him (the Holy Prophet) twice or thrice (from appointing my father as an Imam in prayer), but he ordered Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer and said: You women are like those (who had) surrounded Yusuf.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يُسْمِعْ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ وَإِنَّهُ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يُسْمِعْ النَّاسَ فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ فَقَالَتْ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَکْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَقَامَ يُهَادَی بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ سَمِعَ أَبُو بَکْرٍ حِسَّهُ ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْ مَکَانَکَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ جَالِسًا وَأَبُو بَکْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَکْرٍ بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقْتَدِي النَّاسُ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے اور حضرت بلال ؓ آپ ﷺ کو نماز کے لئے بلانے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ نماز پڑھائے سیدہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ابوبکر بہت نرم دل آدمی ہیں وہ آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑے ہو کر لوگوں کو کب قرآن سنا سکیں گے کاش آپ ﷺ عمر کو حکم دیتے آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر کو حکم کرو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ فرماتی ہیں میں نے حضرت حفصہ سے کہا کہ وہ آپ ﷺ کو کہیں کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں جب وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو قرآن نہ سنا سکیں گے کاش آپ ﷺ عمر کو حکم دیتے تو انہوں نے آپ ﷺ کو کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم تو یوسف کے دور کی عورتوں جیسی ہو ابوبکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو میں نے کہا پس جب انہوں نے نماز شروع کی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے بیماری میں تحفیف محسوس کی تو آپ ﷺ دو آدمیوں کے سہارے اس حال میں آئے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک سے زمین میں لکیر سی پڑ رہی تھی جب آپ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے پیچھے ہٹنا شروع کیا رسول اللہ ﷺ نے اشارے سے فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو رسول اللہ ﷺ تشریف لائے یہاں تک کہ ابوبکر ؓ کی بائیں طرف آکر بیٹھ گئے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر کھڑے ہوئے اقتداء کر رہے تھے نبی کریم ﷺ کی نماز کی اور لوگ ابوبکر کی نماز کی اقتداء کر رہے تھے۔
Aisha reported:
When the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) was confined to bed, Bilal came to him to summon him to prayer. He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead the people in prayer. She (Aisha) reported: I said: Messenger of Allah, Abu! Bakr is a tenderhearted man, go when ]be would stand at your place (he would be so overwhelmed by feelings) that he would not be able to make the people hear anything (his recitation would not be audible to the followers in prayer). You should better order Umar (to lead the prayer). He (the Holy Prophet) said: Ask Abu Bakr to lead people in- prayer. She (Aisha) said: I asked Hafsa to (convey) my impression to him (the Holy Prophet) that Abu Bakr was a tenderhearted man, so when he would stand at his place, he would not be able to make the people bear anything. He better order Umar. Hafsa conveyed this (message of Hadrat Aisha) to him (the Holy Prophet). The Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: (You are behaving) as if you are the females who had gathered around Yusuf. Order Abd Bakr to lead the people in prayer. She (Aisha) reported: So Abu Bakr was ordered to lead the people in prayer. As the prayer began, the Messenger of Allah (may peace he upon him) felt some relief; he got up and moved supported by two persons and his feet dragged on earth (due to excessive weakness). Aisha reported: As he (the Holy Prophet) entered the mosque. Abu Bakr perceived his (arrival). He was about to with. draw, but the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) by the gesture (of This hand) told him to keep standing at his place. The Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) came and seated himself on the left side of Abu Bakr. She (Aisha) reported: The Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) was leading people in prayer sitting. Abu Bakr was following the prayer of the Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) in a standing posture and the people were following the prayer of Abu Bakr.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِهِمَا لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فَأُتِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أُجْلِسَ إِلَی جَنْبِهِ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَأَبُو بَکْرٍ يُسْمِعُهُمْ التَّکْبِيرَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَی فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَبُو بَکْرٍ إِلَی جَنْبِهِ وَأَبُو بَکْرٍ يُسْمِعُ النَّاسَ
منجاب بن حارث، ابن مسہر، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے اس مرض میں کہ جس میں آپ ﷺ کا انتقال ہوا ابن مسہر کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو لایا گیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کو حضرت ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا اور آپ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور ابوبکر ؓ ان کو تکبیر سنا رہے تھے۔
Amash reported: When the Messenger of Allah ﷺ suffered from illness of which he died, and in the hadith transmitted by Ibn Mus-hir, the words are: The Messenger of Allah ﷺ was brought till he was seated by his (Abu Bakrs) side and the Apostle ﷺ led the people in prayer and Abu Bakr (RA) was making takbir audible to them, and in the hadith transmitted by Isa the (words are): "The Messenger of Allah ﷺ sat and led the people in prayer and Abu Bakr (RA) was by his side and he was making (takbir) audible to the people."
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَکَانَ يُصَلِّي بِهِمْ قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَکْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَکْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ کَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَائَ أَبِي بَکْرٍ إِلَی جَنْبِهِ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پس وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طبیعت میں جب آرام محسوس کیا تو آپ باہر تشریف لائے اس وقت لوگوں کی امامت حضرت ابوبکر فرما رہے تھے جب ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو وہیں کھڑے رہنے کا اشارہ فرمایا رسول اللہ ﷺ ابوبکر کے پہلو میں بیٹھ گئے سیدنا ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے اور صحابہ ابوبکر کی نماز کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ ordered Abu Bakr (RA) that he should lead people in prayer during his illness, and he led them in prayer. Urwa said: The Messenger of Allah ﷺ felt relief and went (to the mosque) and Abu Bakr (RA) was leading the people in prayer. When Abu Bakr (RA) saw him he began to withdraw, but the Messenger of Allah ﷺ signed him to remain where he was. The Messenger of Allah ﷺ sat opposite to Abu Bakr (RA) by his side. Abu Bakr (RA) said prayer following the prayer of the Messenger of Allah ﷺ , and the people said prayer following the prayer of Abu Bakr.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ و حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ کَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ کَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِکًا قَالَ فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ لِلصَّلَاةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْخَی السِّتْرَ قَالَ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِکَ
عمرو ناقد، حسن حلوانی، عبد بن حمید، عبد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، انس بن مالک حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات میں ان کو نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سوموار کے دن جب تمام صحابہ صفوں میں نماز ادا کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے حجرہ کا پردہ ہٹایا پھر کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھا آپ ﷺ کا چہرہ گویا کہ قرآن کے ورق کی طرح معلوم ہو رہا تھا پھر آپ ﷺ مسکرائے اور ہم لوگ نماز ہی میں بےانتہا خوش ہوگئے نبی کریم ﷺ کے نکلنے پر اور حضرت ابوبکر ؓ اپنی ایڑیوں پر اس گمان سے پیچھے ہٹ کر صف میں ملنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے نکلنے والے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرو پھر رسول اللہ ﷺ اپنے حجرہ میں چلے گئے اور پردہ گرا دیا اور اس روز رسول اللہ ﷺ نے رحلت فرمائی۔
Anas bin Malik (RA) reported, Abu Bakr (RA) led them in prayer due to the illness of the Messenger of Allah ﷺ of which be died. It was a Monday and they stood in rows for prayer. The Messenger of Allah ﷺ drew aside the curtain of (Aishas) apartment and looked at us while he was standing, and his (Prophets) face was (as bright) as the paper of the Holy Book. The Messenger of Allah ﷺ felt happy and smiled. And we were confounded with joy while in prayer due to the arrival (among our midst) of the Messenger of Allah ﷺ , Abu Bakr (RA) stepped back upon his heels to say prayer in a row perceiving that the Messenger of Allah ﷺ had come out for prayer. The Messenger of Allah ﷺ with the help of his hand signed to them to complete their prayer. The Messenger of Allah ﷺ went back (to his apartment) and drew the curtain. He (the narrator) said: The Messenger of Allah ﷺ breathed his last on that very day.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَشَفَ السِّتَارَةَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ وَحَدِيثُ صَالِحٍ أَتَمُّ وَأَشْبَعُ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کا آخری دیدار سوموار کے دن پردہ کے اٹھانے کے وقت کیا اسی قصہ کے ساتھ باقی حدیث مبارکہ گزر چکی۔
Anas reported: The last glance that I have had of the Messenger of Allah ﷺ (before his death) was that when he on Monday drew the curtain aside. The hadith transmitted by Salih is perfect and complete.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری سے یہی حدیث ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) by another chain of transmitters.