مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَذَهَبَ أَبُو بَکْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ کَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا قَالَ فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَأَرْخَی نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّی مَاتَ
محمد بن مثنی، ہارون بن عبداللہ، عبدالصمد، عبدالعزیز، انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تین دن تک تشریف نہ لائے اور ان دنوں میں حضرت ابوبکر ؓ جماعت کراتے رہے نبی کریم ﷺ نے پردہ کے پاس کھڑے ہو کر اس کو اٹھایا جب نبی کریم ﷺ کا چہرہ ہمارے لئے واضح ہوگیا تو ہم نے اس منظر سے زیادہ کوئی منظر نہیں دیکھا جو ہمارے نزدیک نبی ﷺ کے چہرہ اقدس سے زیادہ پسند ہو نبی کریم ﷺ نے ابوبکر ؓ کو اشارہ کیا کہ وہ نماز پڑھاتے رہیں اور نبی کریم ﷺ نے پردہ نیچے گرا دیا پھر ہم آپ ﷺ کی زیارت پر قادر نہ ہو سکے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوگیا۔
Anas reported: The Apostle of Allah ﷺ did not come to us for three days. When the prayer was about to start. Abu Bakr (RA) stepped forward (to lead the prayer), and the Apostle of Allah ﷺ lifted the curtain. When the face of the Apostle of Allah ﷺ became visible to us, we (found) that no sight was more endearing to us than the face of the Apostle of Allah ﷺ as it appeared to us. The Apostle of Allah ﷺ with the gesture of his hand directed Abu Bakr (RA) to step forward (and lead the prayer). The Apostle of Allah ﷺ then drew the curtain, and we could not see him till he died.
مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت وقدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ فَقَالَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَی يَقُمْ مَقَامَکَ لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَقَالَ مُرِي أَبَا بَکْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ قَالَ فَصَلَّی بِهِمْ أَبُو بَکْرٍ حَيَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، عبدالملک بن عمیر، ابوبردہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوگئے اور آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں جب آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کی طاقت نہ پاسکیں گے آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ ؓ سے فرمایا ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تم تو یوسف کے دور کی عورتوں کی طرح ہو تو ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی میں لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔
Abu Musa reported: When the Messenger of Allah ﷺ became ill and illness became serious he ordered Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer. Upon this Aisha said: Messenger of Allah, Abu Bakr (RA) is a man of tenderly feelings: when he would stand in your place (he would be so much overwhelmed -by grief that) he would not be able to lead the people in prayer. He (the Holy Prophet) said: You order Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer, and added: You are like the female companions of Yusuf. So Abu Bakr (RA) led the prayer (during this period of illness) in the life of the Messenger of Allah ﷺ .
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَی بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فَحَانَتْ الصَّلَاةُ فَجَائَ الْمُؤَذِّنُ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَتَخَلَّصَ حَتَّی وَقَفَ فِي الصَّفِّ فَصَفَّقَ النَّاسُ وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا أَکْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ الْتَفَتَ فَرَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ امْکُثْ مَکَانَکَ فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِکَ ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی اسْتَوَی فِي الصَّفِّ وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ مَا کَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِي رَأَيْتُکُمْ أَکْثَرْتُمْ التَّصْفِيقَ مَنْ نَابَهُ شَيْئٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَائِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے جب نماز کا وقت ہوگیا تو مؤذن حضرت ابوبکر کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں اقامت کہوں فرمایا ہاں، ابوبکر نے نماز پڑھائی رسول اللہ ﷺ آئے تو لوگ نماز میں تھے آپ ﷺ لوگوں میں سے گزرتے ہوئے صف میں جا کر کھڑے ہوگئے لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے جب لوگوں کی تصفیق (تالیاں بجانا) زیادہ ہوگئی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کو دیکھا رسول اللہ ﷺ نے اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور نبی ﷺ کے حکم کے مطابق اللہ کی حمد کی پھر ابوبکر پیچھے ہو کر صف میں برابر آگئے اور نبی کریم ﷺ آگے تشریف لے گئے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا اے ابوبکر جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو تم اپنی جگہ پر کیوں نہ کھڑے رہے؟ تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ ابن قحافہ کے لئے رسول اللہ ﷺ کے سامنے لوگوں کو نماز پڑھانا مناسب نہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے تم کو کثرت کے ساتھ ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آجائے تو تم سُبْحَانَ اللَّهِ کہو جب سُبْحَانَ اللَّهِ کہا جائے گا تو امام متوجہ ہوجائے گا تصفیق عورتوں کے لئے ہے۔
Sahl bin Sad al-Saidi reported: The Messenger of Allah ﷺ went to the tribe of Bani Amr bin Auf in order to bring reconciliation amongst (its members), and it was a time of prayer. The Muadhdhin came to Abu Bakr (RA) and said: Would you lead the prayer in case I recite takbir (tahrima, with which the prayer begins)? He (Abu Bakr) said: Yes. He (the narrator) said: He (Abu Bakr) started (leading) the prayer. The people were engaged in observing prayer when the Messenger of Allah ﷺ happened to come there and made his way (through the people) till he stood in a row. The people began to clap (their hands), but Abu Bakr (RA) paid no heed (to it) in prayer. When the people clapped more vigorously, he (Abu Bakr) then paid heed and saw the Messenger of Allah ﷺ there. (He was about to withdraw when) the Messenger of Allah ﷺ signed to him to keep standing at his place. Abu Bakr (RA) lifted his hands and praised Allah for what the Messenger of Allah ﷺ had commanded him and then Abu Bakr (RA) withdrew himself till he stood in the midst of the row and the Messenger of Allah ﷺ stepped forward and led the prayer. When (the prayer) was over, he (the Holy Prophet) said: O Abu Bakr, what prevented you from standing (at that place) as I ordered you to do? Abu Bakr (RA) said: It does not become the son of Abu Quhafa to lead prayer before the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ said (to the people) around him: What is it that I saw you clapping so vigorously? (Behold) when anything happens in prayer, say: Subhan Allah, for when you would utter it, it would attract the attention, while clapping of hands is meant for women.
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَفِي حَدِيثِهِمَا فَرَفَعَ أَبُو بَکْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَی وَرَائَهُ حَتَّی قَامَ فِي الصَّفِّ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن ابی حازم، قتیبہ، یعقوب ابن عبدالرحمن، ابی حازم، سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ مالک کی حدیث کی طرح حدیث روایت کی گئی ہے ان کی حدیث میں ہے کہ ابوبکر ؓ نے اپنے ہاتھ بلند کئے اللہ کی تعریف کی اور پھر الٹے پاؤں لوٹ کر پیچھے صف میں آکر کھڑے ہوگئے۔
This hadith is transmitted by Sahl bin Sad in the same way as narrated by Malik, with the exception of these words: " Abu Bakr (RA) lifted his hands and praised Allah and retraced his (steps) till he stood in a row."
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّی قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجَعَ الْقَهْقَرَی
محمد بن عبداللہ بن بزیع، عبدالاعلی، عبیداللہ بن ابی حازم، سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بنو عمرو بن عوف کے درمیان میں صلح کروانے کے لئے تشریف لے گئے باقی حدیث ان کی حدیث کی طرح ہے اس میں اضافہ یہ ہے کہ آپ ﷺ صفوں سے نکلتے ہوئے پہلی صف میں آکر کھڑے ہوگئے اور حضرت ابوبکر ؓ الٹے پاؤں پیچھے آگئے۔
Sahl bin Sad al-Saidi reported: The Apostle of Allah ﷺ went to Bani Amr bin Auf in order to bring about reconciliation amongst them. The rest of the hadith is the same but with (the addition of these words): "The Messenger of Allah ﷺ came and made his way through the rows till he came to the first row and Abu Bakr (RA) retraced his steps."
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوکَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَی يَدَيْهِ مِنْ الْإِدَاوَةِ وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ کُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ حَتَّی أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَی خُفَّيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّی نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّی لَهُمْ فَأَدْرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَی الرَّکْعَتَيْنِ فَصَلَّی مَعَ النَّاسِ الرَّکْعَةَ الْآخِرَةَ فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلَاتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِکَ الْمُسْلِمِينَ فَأَکْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ أَحْسَنْتُمْ أَوْ قَالَ قَدْ أَصَبْتُمْ يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوْا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا
محمد بن رافع، حسن بن علی حلوانی، عبدالرزاق، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، عباد بن زیاد، عروہ بن مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت کی رسول اللہ ﷺ نماز فجر سے پہلے قضائے حاجت کے لئے باہر نکلے اور میں لوٹا اٹھائے آپ ﷺ کے ساتھ ہوگیا جب رسول اللہ ﷺ میری طرف پلٹے تو میں لوٹے سے آپ ﷺ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے پھر اپنے چہرے کو دھویا پھر آپ ﷺ نے اپنی کہنیوں کو اپنے جبہ سے نکالنا چاہا تو آستین تنگ تھیں آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ جبے کے اندر داخل کیا یہاں تک کہ اپنی کہنیوں کو جبے کے نیچے سے نکالا اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا پھر موزوں کے اوپر والے حصہ پر مسح کیا پھر آپ ﷺ واپس آئے اور حضرت مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ واپس آیا یہاں تک کہ ہم نے لوگوں کو پایا کہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو امام بنا لیا ہے انہوں نے ان کی نماز پڑھائی رسول اللہ ﷺ کو دو رکعتوں میں سے ایک رکعت ملی اور آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی جب حضرت عبدالرحمن بن عوف نے سلام پھیرا تو رسول اللہ ﷺ اپنی نماز کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے اس بات نے مسلمانوں کو پریشان کردیا تو انہوں نے سُبْحَانَ اللَّهِ کہنے کی کثرت کردی جب نبی کریم ﷺ نے اپنی نماز پوری کرلی تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم نے اچھا کیا فرمایا تم نے ٹھیک کیا اور ان کی تعریف کی اور فرمایا کہ تم نے نماز کو اس کے وقت میں ادا کیا۔
Mughira bin Shubah reported that he participated in the expedition of Tabuk along with the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ went out to answer the call of nature before the morning prayer, and I carried along with him a jar (full of water). When the Messenger of Allah ﷺ came back to me (after relieving himself). I began to pour water upon his hands out of the jar and he washed his hands three times, then washed his face three times. He then tried to tuck up the sleeves of his cloak upon his forearms but since the sleeves were tight he inserted his hands in the cloak and then brought out his forearms up to the elbow below the cloak, and then wiped over his shoes and then moved on. Mughira said: I also moved along with him till he came to the people and (he found) that they had been saying their prayer under the Imamah of Abdul Rahman bin Auf. The Messenger of Allah ﷺ could get one rakah out of two and said (this) last rakah along with the people. When Abdul Rahman bin Auf pronounced the salutation, the Messenger of Allah ﷺ got up to complete the prayer. This made the Muslims terrified and most of them began to recite the glory of the Lord. When the Apostle of Allah ﷺ finished his prayer, he turned towards them and then said: You did well, or said with a sense of joy: You did the right thing that you said prayer at the appointed hour.
جب امام کو تاخیر ہوجائے اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَالْحُلْوَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ
محمد بن رافع، حسن بن علی حلوانی، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، اسماعیل بن محمد بن سعد، حمزہ بن مغیرہ سے روایت ہے اسی طرح دوسری سند کے ساتھ بھی منقول ہے اس میں ہے کہ حضرت مغیرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف کو پیچھے کروں لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا رہنے دو۔
This hadith is narrated by Hamza bin Mughira by another chain of transmitters (but with the addition of these words): I made up my mind to hold Abdul Rahman bin Auf back, but the Messenger of Allah ﷺ said: "Leave him."
مرد کے لئے تسبیح اور عورت کے لئے تصفیق کے بیان میں جب نماز میں کچھ پیش آجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَائِ زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تسبیح مردوں کے لئے اور تصفیق (تالیاں بجانا) عورتوں کے لئے ہے ابن شہاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے چند علماء کو دیکھا جو تسبیح اور اشارہ کرتے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Glorification of Allah is for men and clapping of hands is meant for women (if something happens in prayer). Harmala added in his narration that Ibn Shihab told him: I saw some of the scholars glorifying Allah and making a gesture.
مرد کے لئے تسبیح اور عورت کے لئے تصفیق کے بیان میں جب نماز میں کچھ پیش آجائے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
قتیبہ بن سعید، فضیل بن عیاض، ابوکریب، ابومعاویہ، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، ابی صالح ابوہریرہ ؓ سے یہی حدیث اس سند کے ساتھ نقل کی گئی ہے
This hadith is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters.
مرد کے لئے تسبیح اور عورت کے لئے تصفیق کے بیان میں جب نماز میں کچھ پیش آجائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ فِي الصَّلَاةِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام، ابوہریرہ ؓ سے یہی حدیث ایک اور سند سے نقل کی گئی ہے لیکن اس میں اضافہ ہے کہ یہ عمل نماز میں کریں۔
This hadith is transmitted by Muhammad bin Rafi, AbuI-Razzaq. Mamar, Hammam on the authority of Abu Hurairah (RA) with the addition of (the word) "prayer".
نماز تحسین کے ساتھ اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ يَا فُلَانُ أَلَا تُحْسِنُ صَلَاتَکَ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّی کَيْفَ يُصَلِّي فَإِنَّمَا يُصَلِّي لِنَفْسِهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَأُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي کَمَا أُبْصِرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ
ابوکریب، محمد بن علاء ہمدانی، ابواسامہ، ولید ابن کثیر، سعید بن ابی سعید مقبری، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک نماز پڑھائی پھر مڑے اور فرمایا اے فلاں تم نے اپنی نماز اچھی طرح ادا کیوں نہیں کی کیا نمازی کو دکھائی نہیں دیتا ہے کہ اس نے کس طرح نماز ادا کی ہے حالانکہ وہ اپنے ہی لئے نماز ادا کرتا ہے اور اللہ کی قسم میں اپنے پیچھے سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح اپنے آگے دیکھتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported: One day the Messenger of Allah ﷺ led the prayer. Then turning (towards his Companions) he said: O you, the man, why dont you say your prayer well? Does the observer of prayer not see how he is performing the prayer for he performs it for himself? By Allah, I see behind me as I see in front of me.
نماز تحسین کے ساتھ اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَا هُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَی عَلَيَّ رُکُوعُکُمْ وَلَا سُجُودُکُمْ إِنِّي لَأَرَاکُمْ وَرَائَ ظَهْرِي
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم میرا رخ ادھر دیکھتے ہو اللہ کی قسم مجھ پر تمہارے رکوع اور تمہارے سجود پوشیدہ نہیں اور میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Do you find me seeing towards the Qibla only? By Allah, your bowing and your prostrating are not hidden from my view. Verily I see them behind my back.
نماز تحسین کے ساتھ اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقِيمُوا الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ بَعْدِي وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا رَکَعْتُمْ وَسَجَدْتُمْ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رکوع اور سجود کو اچھی طرح ادا کیا کرو اللہ کی قسم میں بیشک تم کو پشت کے پیچھے سے دیکھتا ہوں اور فرمایا کہ بعض مرتبہ تم کو اپنی پیٹھ پیچھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں دیکھتا ہوں۔
Anas bin Malik (RA) reported. The Messenger of Allah ﷺ said: Perform bowing and prostration well. By Allah. I see you even if you are behind me, or he said. (1 see you) behind my back when you bow or prostrate.
نماز تحسین کے ساتھ اور خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتِمُّوا الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاکُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَکَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ إِذَا رَکَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ
ابوغسان، معاذ، ابن ہشام، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، سعید، قتادہ، انس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رکوع اور سجود پورا پورا ادا کیا کرو پس اللہ کی قسم میں تم کو اپنی پشت سے دیکھتا ہوں جب تم رکوع یا سجدہ کرو۔
Anas reported: The Apostle of Allah ﷺ said: Complete the bowing and prostration well. By Allah, I see you behind my back as to how you bow and prostrate or when you bow and prostrate.
امام سے پہلے رکوع وسجدہ وغیرہ کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي إِمَامُکُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّکُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ وَلَا بِالِانْصِرَافِ فَإِنِّي أَرَاکُمْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا قَالُوا وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن حجر، ابوبکر، ابن حجر، ابوبکر، علی بن مسہر، مختاربن فلفل، انس سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی جب نماز پوری کرچکے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے لوگوں میں تمہارا امام ہوں مجھ سے رکوع سجدہ قیام کے ادا کرنے اور سلام پھیرنے میں سبقت نہ کرو میں تم کو آگے اور اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم وہ دیکھو جو میں دیکھتا ہوں تو تم کم ہنسو اور روؤ زیادہ، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے کیا دیکھا فرمایا میں نے جنت دوزخ کو دیکھا۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ one day led us in the prayer, and when he completed the Prayer he turned his face towards us and said: O People, I am your Imam, so do not precede me in bowing and prostration and in standing and turning (faces, i. e. In pronouncing salutation), for I see you in front of me and behind me, and then said: By Him in Whose hand is the life of Muhammad, if you could see what I see, you would have laughed little and wept much more. They said: What did you see, Messenger of Allah? ﷺ He replied: (I saw) Paradise and Hell.
امام سے پہلے رکوع وسجدہ وغیرہ کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ جَمِيعًا عَنْ الْمُخْتَارِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَلَا بِالِانْصِرَافِ
قتیبہ بن سعید، جریر، ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، ابن فضیل، مختاربن فلفل، انس سے یہی حدیث اس سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں نماز سے پھر نے کا ذکر نہیں۔
This hadith is narrated by Anas with another chain of transmitters, and in the hadith transmitted by Jarir there is no mention of "turning (faces)".
امام سے پہلے رکوع وسجدہ وغیرہ کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادٍ قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا يَخْشَی الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ
خلف بن ہشام، ابوربیع، زہرانی، قتیبہ بن سعید، حماد، خلف بن حماد بن زید، محمد بن زیاد حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ محمد ﷺ نے فرمایا کیا وہ آدمی اس بات سے نہیں ڈرتا جو اپنا سر امام سے پہلے اٹھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کے سر سے تبدیل کر دے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Does the man who lifts his head ahead of the Imam (from prostration) not fear that Allah may change his head into the head of an ass?
امام سے پہلے رکوع وسجدہ وغیرہ کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي صَلَاتِهِ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ فِي صُورَةِ حِمَارٍ
عمرو بن ناقد، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، یونس محمد بن زیاد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا امن میں نہیں رہتا وہ شخص جو نماز میں اپنا سر امام سے پہلے اٹھاتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی صورت کو گدھے کی صورت سے تبدیل کر دے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Does the man who lifts his head before the Imam not fear that Allah may change his face into that of an ass?
امام سے پہلے رکوع وسجدہ وغیرہ کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ جَمِيعًا عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ کُلُّهُمْ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ وَجْهَهُ وَجْهَ حِمَارٍ
عبدالرحمن بن سلام، عبدالرحمن بن ربیع بن مسلم، ربیع ابن مسلم، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، حماد بن سلمہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا بےخوف ہے وہ آدمی جو اپنا سر امام سے پہلے اٹھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا چہرہ گدھے کے چہرے کی طرح کر دے۔
This hadith has been narrated by Abu Hurairah (RA) by another chain of transmitters except for the words narrated by Rabi bin Muslim:" Allah may make his face like the face of an ass."
نماز میں آسمان کی طرف دیکھنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمُسَيَّبِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَی السَّمَائِ فِي الصَّلَاةِ أَوْ لَا تَرْجِعُ إِلَيْهِمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسیب، تمیم بن طرفہ، جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگ نماز میں اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں ان کو اس سے رک جانا چاہئے ورنہ اندیشہ ہے کہ ان کی نگاہ واپس نہ آئے۔
Jabir bin ahadeeth reported: The Messenger of Allah ﷺ said: The people who lift their eyes towards the sky in Prayer should avoid it or they would lose their eyesight.