سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ قَالَ عَلَی قِرَائَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي أَنْ أَقْرَأَ فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِکِتَابِ اللَّهِ وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ قَالَ شَقِيقٌ فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِکَ عَلَيْهِ وَلَا يَعِيبُهُ
اسحاق بن ابراہیم، حنظلی عبدہ بن سلیمان اعمش، شقیق حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا جس نے کسی چیز میں خیانت کی تو وہ قیامت کے دن اپنی خیانت شدہ چیز کو لے کر حاضر ہوگا پھر کہا تم مجھے کس آدمی کی قرأت کے بارے میں حکم دیتے کہ میں قرأت کروں حالانکہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ستر سے کچھ اوپر سورتیں پڑھ چکا ہوں اور تحقیق رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ کی کتاب کا علم رکھنے والا ہوں اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ کوئی ایک مجھ سے زیادہ علم رکھنے والا ہے تو میں اس کی طرف سوار ہو کر چلا جاتا اور شقیق نے کہا میں نبی ﷺ کے صحابہ کے حلقوں میں بیٹھا ہوں میں نے کسی سے بھی نہیں سنا جس نے ابن مسعود کا رد کیا ہو یا ان پر کوئی عیب لگایا ہو۔
Abdullah (b. Masud) reported that he (said to his companions to conceal their copies of the Quran) and further said: He who conceals anything he shall have to bring that which he had concealed on the Day of Judgment, and then said: After whose mode of recitation you command me to recite? I in fact recited before AIlahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) more than seventy chapters of the Quran and the Companions of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) know it that I have better understanding of the Book of Allah (than they do), and if I were to know that someone had better understanding than I, I would have gone to him. Shaqiq said: I sat in the company of the Companions of Mubkmmad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) but I did not hear anyone having rejected that (that is, his recitation) or finding fault with it.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا مِنْ کِتَابِ اللَّهِ سُورَةٌ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ وَمَا مِنْ آيَةٍ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا هُوَ أَعْلَمُ بِکِتَابِ اللَّهِ مِنِّي تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَرَکِبْتُ إِلَيْهِ
ابوکریب، یحییٰ بن آدم، قطبہ، اعمش، مسلم، حضرت مسروق (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) نے کہا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ کی کتاب میں کوئی سورت ایسی نہیں ہے مگر میں جانتا ہوں کہ وہ کس چیز کے بارے میں نازل کی گئی تھی اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کوئی ایک اللہ کی کتاب کو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے اور اس تک اونٹ پہنچ سکتے ہوں تو میں سوار ہو کر اس کی طرف جاتا۔
Abdullah reported:
By Him besides Whom there is no god, there is no chapter in the Book of Allah about which I do not know as to where it was revealed and there is no verse about which I do not know in what context it was revealed, and if I were to know of one having a better understanding of the Book of Allah than I (and I could reach him) on the back of the mule, I would have definitely gone to him on camels back.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عِنْدَهُ فَذَکَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَقَدْ ذَکَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَيْئٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَسَالِمٍ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق حضرت مسروق (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور ان سے محو گفتگو ہوتے ان کے پاس ایک دن ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا تحقیق تم نے ایسے آدمی کا ذکر کیا ہے جن سے میں اس وقت سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ قرآن ان چار ابن ام عبد (ابن مسعود (رض) اور ان سے شروع کیا اور معاذ بن جبل اور ابی بن کعب اور ابوحذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم (رض) سے حاصل کرو۔
Masruq reported: We used to go toAbdullah bin Amr and talk to him, Ibn Numair said: One day we made a mention of Abdullah bin Masud, whereupon he said: You have made mention of a person whom I love more than anything else. I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Learn Quran from four persons: Ibn Umm Abd (i. e. Abdullah bin Masud) he started from him-then Muadh bin Jabal and Ubayya bin Kab, then Salim the ally of Abu Hudhaifa.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَکَرْنَا حَدِيثًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنَّ ذَاکَ الرَّجُلَ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَيْئٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ اقْرَئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ وَمِنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَمِنْ سَالِمٍ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ وَمِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَحَرْفٌ لَمْ يَذْکُرْهُ زُهَيْرٌ قَوْلُهُ يَقُولُهُ
قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابو وائل حضرت مسروق (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کی خدمت میں حاضر تھے کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مروی ایک حدیث ذکر کی تو انہوں نے کہا یہ وہ آدمی ہیں جس سے میں اس وقت سے محبت کرتا ہوں جب سے ان کے بارے میں میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے ہوئے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے چار آدمیوں ابن ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود (رض) اور ان سے ابتداء کی اور ابی بن کعب اور ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم اور معاذ بن جبل (رض) سے پڑھو۔
Masruq reported: We were in the company of Abdullah b Amr that we made a mention of a hadith from Abdullah bin Masud; thereupon he said: That is a person whose love ever remains (fresh in my heart) after I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Learn Quran from four persons: Ibn Umm Abd, i e. Abdullah bin Masud and he started from his name-then Ubayy bin Kab and Muadh b Jabal. Zuhri did not make a mention of the words yaquluhu in his narration.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَوَکِيعٍ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَدَّمَ مُعَاذًا قَبْلَ أُبَيٍّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ أُبَيٌّ قَبْلَ مُعَاذٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اعمش، جریر، وکیع، ابوبکر ابومعاویہ اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ مروی ہے البتہ چاروں کے نام میں تقدیم و تاخیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Bakr (RA) bin Abu Shaiba and Abu Kuraib, and both of them said: Abu Muawiyahh (RA) narrated to us from Amash on the authority of Jarir and Waki, and in a narration of Abu Bakr (RA) transmitted on the authority of Abu Muawiyahh (RA) the mention of Muadh has preceded Ubayys, and in the narration transmitted on the authority of Abu Kuraib, the name of Ubayy preceded Muddhs.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِمْ وَاخْتَلَفَا عَنْ شُعْبَةَ فِي تَنْسِيقِ الْأَرْبَعَةِ
ابن مثنی ابن بشار ابن ابی عدی، بشر ابن خالد محمد ابن جعفر شعبہ، اعمش، ان دو اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ شعبہ سے چاروں کی ترتیب میں اختلاف مذکور ہے۔
This tradition has been transmitted on the authority of Shubah through Amash, but there is a difference of order of the four.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ ذَکَرُوا ابْنَ مَسْعُودٍ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ ذَاکَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ ابراہیم، حضرت مسروق (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو (رض) کے پاس حضرت ابن مسعود (رض) کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا یہ وہ آدمی ہیں جن سے میں اس وقت سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے بارے میں سنا ہے کہ قرآن مجید پڑھنا ان چار سے سیکھو ابن مسعود اور ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہم) ۔
Masruq reported: They made a mention of Ibn Masud before Abdullah bin Amr (RA) , whereupon he said: He is a person whose love is always fresh in my heart after I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Learn the recitation of the Quran from four persons: from Ibn Masud, Salim, the ally of Abu Hudhaifa, Ubayy bin Kab, Muadh bin Jabal.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ بَدَأَ بِهَذَيْنِ لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ
عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں اضافہ یہ ہے کہ شعبہ (رض) نے کہا آپ ﷺ نے ان دونوں سے ابتدا کی البتہ یہ معلوم نہیں کہ ان دو میں سے کس سے ابتداء کی تھی۔
Ubaidullah bin Muadh reported it on the authority of his father Shubah with the same chain of transmitters and he made this addition. He made a mention of these two names but I do not know whose name he mentioned first.
حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ کُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ قَالَ قَتَادَةُ قُلْتُ لِأَنَسٍ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي
محمد بن مثنی، ابوداؤد شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں چار آدمیوں نے قرآن مجید کو جمع کیا اور وہ سارے کے سارے انصار سے تھے معاذ بن جبل ابی بن کعب زید بن ثابت اور ابوزید (رض) ۔ قتادہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے انس سے کہا ابو زید کون تھے ؟ انہوں نے کہا وہ چچاؤں میں سے ایک تھے۔
Anas is reported to have said: Four persons collected the Quran during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and all of them were Ansar: Muadh bin Jabal, Ubayy bin Kab, Zaid bin Thabit, Abu Zaid. Qatada said: Anas, who was Abu Zaid? He said: He was one of my uncles.
حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعَةٌ کُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُکْنَی أَبَا زَيْدٍ
ابوداؤد سلیمان بن معبد عمرو بن عاصم، ہمام قتادہ، انس بن مالک، ہمام، حضرت قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک (رض) سے کہا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں قرآن مجید کس نے جمع کیا انہوں نے کہا چار نے اور وہ سارے انصار میں سے تھے ابی بن کعب معاذ بن جبل اور زید بن ثابت (رض) اور انصار میں سے ایک آدمی نے جن کی کنیت ابوزید تھی۔
Hammam said: I said to Anas bin Malik (RA): Who collected the Quran during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? He said: Four (persons), all of them belonging to Ansar: Ubayy bin Kab, Muadh bin Jabal, Zaid bin Thabit and a person from the Ansar whose Kunya was Abu Zaid.
حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَکَ قَالَ اللَّهُ سَمَّاکَ لِي قَالَ فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْکِي
ہداب بن خالد ہمام قتادہ حضرت انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی سے فرمایا اللہ رب العزت نے مجھے حکم دیا ہے کہ تیرے سامنے قرآن مجید پڑھوں انہوں نے عرض کیا اللہ نے آپ ﷺ سے میرا نام لے کر فرمایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تیرا نام لے کر مجھ سے فرمایا ہے تو ابیحضرت ابی سے (خوشی سے) رونے لگے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to Ubayy: Verily Allah, the Exalted and Glorious, has commanded me to recite the Quran to you, whereupon he said: (Has) Allah mentioned my name to you? He said: Allah has mentioned your name to me. Thereupon he began to shed tears (of joy)
حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا قَالَ وَسَمَّانِي قَالَ نَعَمْ قَالَ فَبَکَی
محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب (رض) سے فرمایا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے (لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا) پڑھوں انہوں نے عرض کیا (اللہ نے) میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں راوی کہتے ہیں پھر وہ (ابی بن کعب) رو دئیے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to Ubayy bin Kab: I have been commanded to recite to you the Sura (al- Bayyinah) which opens with these words (Lam Yakunil-ladhiyna Kafaruu) He said: Has he mentioned to you my name? He said: Yes; thereupon he shed tears of joy.
حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی سے فرمایا۔ باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ
عبد بن حمید عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حال میں فرمایا کہ حضرت سعد بن معاذ (رض) کا جنازہ ان کے سامنے تھا کہ ان کی (موت کی) وجہ سے اللہ کے عرش کو بھی حرکت آگئی ہے۔
Jabir bin Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying while the bier of Sad bin Muadh was placed before them: The Throne of the most Gracious shook at the death of Sad bin Muadh.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ
عمرو ناقد عبداللہ بن ادریس اودی اعمش، ابوسفیان، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت سعد بن معاذ (رض) کی وجہ سے رحمن کا عرش بھی لرزہ براندام ہے۔
Jabir reported that the Throne of the most Compassionate shook because of the death of Sad bin Muadh.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ الْخَفَّافُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَنَازَتُهُ مَوْضُوعَةٌ يَعْنِي سَعْدًا اهْتَزَّ لَهَا عَرْشُ الرَّحْمَنِ
محمد بن عبداللہ رزی عبدالوہاب بن عطاء، سعید قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا جبکہ سعد کا جنازہ رکھا ہوا تھا کہ اس کی (موت) وجہ سے اللہ کا عرش بھی حرکت میں آگیا ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as say- ing: That his bier (that of Sad) was placed (before them) and the Throne of the most Compassionate shook.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَلْمِسُونَهَا وَيَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا وَأَلْيَنُ
محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ریشم کا ایک جوڑا ہدیہ کیا گیا تو آپ ﷺ کے صحابہ (رض) نے اسے چھونا شروع کردیا اور اس کی نرمی کی وجہ سے تعجب کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس کی نرمی کی وجہ سے تعجب کر رہے ہو حالانکہ سعد بن معاذ کے رومال جنت میں اس سے بہتر اور نرم ہوں گے۔
Al-Bara reported that a garment of silk was presented to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . His Companions touched it and admired its softness; there- upon he said: Do you admire the softness of this (cloth)? The handkerchiefs of Sad bin Muadh in Paradise are better than this.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَنْبَأَنِي أَبُو إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبِ حَرِيرٍ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا أَوْ بِمِثْلِهِ
احمد بن عبدہ ضبی ابوداؤد شعبہ، ابواسحاق براء، بن عازب اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا کَرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ
محمد بن عمرو بن جبلہ امیہ بن خالد شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah combining the two chains of transmitters.
سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ سُنْدُسٍ وَکَانَ يَنْهَی عَنْ الْحَرِيرِ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَنَادِيلَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا
زہیر بن حرب، یونس بن محمد شیبان قتادہ حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو سندس ریشم کا ایک جبہ ہدیہ کیا گیا اور آپ ﷺ ریشم سے منع فرماتے تھے پس لوگوں نے (اس کی خوبصورتی پر) کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے بیشک سعد بن معاذ کا رومال جنت میں اس سے بھی خوبصورت ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah combining the two chains of transmitters. Anas b Malik reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was presented a garment of sundus and he prohibited the use of silk. The persons admired it, whereupon he said: By Him in Whose Hand is the life of Muhammad, the kerchiefs of Sad bin Muadh in Paradise are better than this.