Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 318 of 379

6352Sahih Muslimصحیح

سعد بن معاذ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُکَيْدِرَ دُومَةِ الْجَنْدَلِ أَهْدَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً فَذَکَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ وَکَانَ يَنْهَی عَنْ الْحَرِيرِ

محمد بن بشار، سالم بن نوح عمر بن عامر قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ اکیدر دومہ الجندل کے حاکم نے رسول اللہ ﷺ کو ایک حلہ ہدیہ کیا باقی حدیث اسی طرح مذکور ہے اور اس حدیث میں یہ نہیں کہ آپ ﷺ ریشم سے منع کرتے تھے۔

Anas reported the king of Dumat al-Jandal presented to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the garment and lie made no mention (of the fact) that he prohibited the use of silk.

6353Sahih Muslimصحیح

ابو دجانہ سماک بن خرشہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ مَنْ يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ کُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يَقُولُ أَنَا أَنَا قَالَ فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ قَالَ فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ فَقَالَ سِمَاکُ بْنُ خَرَشَةَ أَبُو دُجَانَةَ أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ قَالَ فَأَخَذَهُ فَفَلَقَ بِهِ هَامَ الْمُشْرِکِينَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان حماد بن سلمہ ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن ایک تلوار لے کر فرمایا مجھ سے یہ تلوار کون لے گا پس صحابہ (رض) میں سے ہر انسان نے اپنے ہاتھوں کو یہ کہتے ہوئے دراز کیا میں آپ ﷺ نے فرمایا اسے اس کا حق ادا کرنے کی شرط پر کون لیتا ہے لوگ پیچھے ہٹ گئے تو حضرت سماک بن خرشہ ابودجانہ (رض) نے عرض کیا میں اسے اس کا حق ادا کرنے کی شرط پر لیتا ہوں پس انہوں نے یہ تلوار لے لی اور اس کے ساتھ مشرکین کی کھوپڑیاں پھوڑیں۔

Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took hold of his sword on the Day of Uhud and said: Who would take it from me? All the persons stretched their hands saying: I would do it, I would do it. He (Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who would take it in order to fulfil its rights? Then the people withdrew their hands. Simak bin Kharasha Abu Dujana said: I am here to take it and fulfil its rights. He took it and struck the heads of the polytheists.

6354Sahih Muslimصحیح

سیدنا جابر (رض) کے والد گرامی حضرت عبداللہ ابن عمرو بن حرام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا لَمَّا کَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جِيئَ بِأَبِي مُسَجًّی وَقَدْ مُثِلَ بِهِ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ فَنَهَانِي قَوْمِي ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أَرْفَعَ الثَّوْبَ فَنَهَانِي قَوْمِي فَرَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَرُفِعَ فَسَمِعَ صَوْتَ بَاکِيَةٍ أَوْ صَائِحَةٍ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالُوا بِنْتُ عَمْرٍو أَوْ أُخْتُ عَمْرٍو فَقَالَ وَلِمَ تَبْکِي فَمَا زَالَتْ الْمَلَائِکَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّی رُفِعَ

عبیداللہ بن عمر قواریری عمر ناقد سفیان، عبیداللہ سفیان بن عیینہ، ابن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ جب غزوہ احد کے دن میرے باپ کو کپڑے سے ڈھکا ہوا لایا گیا اس حال میں کہ ان کے اعضاء کاٹے گئے تھے پس میں نے کپڑا اٹھانے کا ارادہ کیا تو میری قوم نے مجھے منع کردیا میں نے پھر کپڑا اٹھانے کا ارادہ کیا تو میری قوم نے مجھے منع کردیا پس رسول اللہ ﷺ نے خود اٹھا دیا یا حکم دیاتو اسے اٹھا دیا گیا پس آپ ﷺ نے ایک رونے چلانے والی عورت کی آواز سنی تو فرمایا یہ کون ہے لوگوں نے عرض کیا عمرو کی بیٹی یا عمرو کی بہن ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیوں روتی ہے حالانکہ فرشتے برابر اس پر اپنے پروں سے سایہ کئے ہوئے ہیں یہاں تک کہ (جنازہ) اٹھا لیا جائے۔

Jabir bin Abdullah reported: The dead body of my father was brought and he was covered (with cloth) and it had been mutilated. I made an attempt to lift the cloth, but my people prohibited me to do so. I again made an attempt to lift the cloth, but my people prohibited me. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) lifted it or he commanded it to be lifted. He heard the noise (of a loud) weeping, or the noise of a woman mourner. He inquired who she was. They said: The daughter of Amr or the sister of Amr, whereupon he said: Why does she weep? The Angels provide him shade with the help of their Wings until he would be lifted (to his heavenly abode)

6355Sahih Muslimصحیح

سیدنا جابر (رض) کے والد گرامی حضرت عبداللہ ابن عمرو بن حرام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُصِيبَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلْتُ أَکْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ وَأَبْکِي وَجَعَلُوا يَنْهَوْنَنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي قَالَ وَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْکِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْکِيهِ أَوْ لَا تَبْکِيهِ مَا زَالَتْ الْمَلَائِکَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّی رَفَعْتُمُوهُ

محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، محمد بن منکدر حضرت جابر (رض) بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میرے والد غزوہ احد کے دن شہید کئے گئے پس میں ان کے چہرہ سے کپڑا اٹھایا اور رونے لگا اور لوگوں نے مجھے روکنا شروع کردیا اور رسول اللہ ﷺ مجھے روک نہیں رہے تھے اور فاطمہ بنت عمر نے بھی رونا شروع کردیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس پر رؤ یا نہ رؤ فرشتے برابر اس پر اپنے پروں سے سایہ کر رہے ہیں یہاں تک کہ تم ان کا جنازہ اٹھالو۔

Jabir bin Abdullah reported: My father fell as a martyr on the Day of Uhud and I attempted to uncover his face and weep, but they (the Companions of the Holy Prophet) forbade me to do this, whereas Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not forbid me and Fatima bint Amr, the sister of my father, was also weeping There- upon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: You may weep or you may not weep; the Angels provide him shade with the help of their wings until you lift him (to be buried in the grave).

6356Sahih Muslimصحیح

سیدنا جابر (رض) کے والد گرامی حضرت عبداللہ ابن عمرو بن حرام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِکْرُ الْمَلَائِکَةِ وَبُکَائُ الْبَاکِيَةِ

عبد بن حمید روح بن عبادہ، ابن جریج، اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، محمد بن منکدر جابر، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن ابن جریج کی حدیث میں حالانکہ اور رونے والے کے رونے کا ذکر نہیں ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters, but with this difference that there is no mention of the Angels and the weeping of a female mourner.

6357Sahih Muslimصحیح

سیدنا جابر (رض) کے والد گرامی حضرت عبداللہ ابن عمرو بن حرام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْکَرِيمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جِيئَ بِأَبِي يَوْمَ أُحُدٍ مُجَدَّعًا فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

محمد بن احمد بن ابی خلف زکریا، بن عدی عبیداللہ بن عمرو عبدالکریم محمد بن منکدر حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن میرے باپ کو ناک اور کان کٹے ہوئے لایا گیا پس انہیں نبی ﷺ کے سامنے رکھا گیا باقی حدیث مبارکہ انہیں کی طرح ہے۔

Jabir reported: My father was brought in a state that his ears had been cut off and (his dead body) was placed before Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , the rest of the hadith is the same.

6358Sahih Muslimصحیح

حضرت جلیبیب (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ کِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ فِي مَغْزًی لَهُ فَأَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَعَمْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَعَمْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا ثُمَّ قَالَ هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ قَالُوا لَا قَالَ لَکِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا فَاطْلُبُوهُ فَطُلِبَ فِي الْقَتْلَی فَوَجَدُوهُ إِلَی جَنْبِ سَبْعَةٍ قَدْ قَتَلَهُمْ ثُمَّ قَتَلُوهُ فَأَتَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ قَتَلَ سَبْعَةً ثُمَّ قَتَلُوهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ قَالَ فَوَضَعَهُ عَلَی سَاعِدَيْهِ لَيْسَ لَهُ إِلَّا سَاعِدَا النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحُفِرَ لَهُ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ غَسْلًا

اسحاق بن عمرو بن سلیط حماد سلیمہ ثابت کنانہ بن نعیم حضرت ابوبرزہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک جہاد میں تھے کہ اللہ نے آپ ﷺ کو مال عطا کیا تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام (رض) سے فرمایا کیا تمہیں کوئی ایک غائب معلوم ہوتا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں فلاں فلاں اور فلاں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی گم نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں فلاں فلاں اور فلاں غائب ہیں آپ ﷺ نے پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی گم نہیں ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا لیکن میں تو جلیبیب کو گم پاتا ہوں پس اسے تلاش کرو پس انہیں شہداء میں تلاش کیا گیا تو انہوں نے انہیں ان ہی سات آدمیوں کے پہلو میں پایا جنہیں انہوں نے انہیں سات آدمیوں کے پہلو میں پایا جنہیں انہوں نے قتل کیا تھا پھر کافروں نے انہیں شہید کردیا پس نبی ﷺ ان کے پاس آ کر کھڑے ہوئے پھر فرمایا اس نے سات کو قتل کیا پھر انہوں نے انہیں شہید کردیا یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں پھر آپ ﷺ نے اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا اور اس طرح کہ نبی ﷺ کے علاوہ کسی اور نے اٹھایا ہوا نہ تھا پھر ان کے لئے قبر کھودی گئی اور انہیں قبر میں دفن کردیا گیا اور غسل کا ذکر نہیں کیا۔

Abu Barza reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was there in a battlefield that Allah conferred upon him the spoils of war. He said to his Companions: Is anyone missing amongst you? They said: So and so and so. He again said: Is there anyone missing amongst you? They said: So and so and so. He then said: Is there anyone missing amongst you? They said: No. Thereupon he (the Holy Prophet) said: But I am missing Julaibib. They (his Companions) searched him amongst those who had been killed and they found him by the side of seven (dead bodies) whom he had killed and he had been killed (by the oppoments). Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came there and stood (by his side) and said: He killed seven (persons). Then (his opponents) killed him. He is mine and I am his. He then placed him upon his hands and there was none else to lift but Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then the grave was dug for him and he was placed in the grave and no mention is made of a bath.

6359Sahih Muslimصحیح

ابوذر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَکَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَنَزَلْنَا عَلَی خَالٍ لَنَا فَأَکْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا إِنَّکَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِکَ خَالَفَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَائَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْنَا الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ أَمَّا مَا مَضَی مِنْ مَعْرُوفِکَ فَقَدْ کَدَّرْتَهُ وَلَا جِمَاعَ لَکَ فِيمَا بَعْدُ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّی خَالُنَا ثَوْبَهُ فَجَعَلَ يَبْکِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّی نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَکَّةَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْکَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا أُنَيْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا قَالَ وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثِ سِنِينَ قُلْتُ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ قُلْتُ فَأَيْنَ تَوَجَّهُ قَالَ أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي أُصَلِّي عِشَائً حَتَّی إِذَا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ کَأَنِّي خِفَائٌ حَتَّی تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ فَقَالَ أُنَيْسٌ إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَکَّةَ فَاکْفِنِي فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّی أَتَی مَکَّةَ فَرَاثَ عَلَيَّ ثُمَّ جَائَ فَقُلْتُ مَا صَنَعْتَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا بِمَکَّةَ عَلَی دِينِکَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ قُلْتُ فَمَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ يَقُولُونَ شَاعِرٌ کَاهِنٌ سَاحِرٌ وَکَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَائِ قَالَ أُنَيْسٌ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکَهَنَةِ فَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَی أَقْرَائِ الشِّعْرِ فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَی لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ قَالَ قُلْتُ فَاکْفِنِي حَتَّی أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ قَالَ فَأَتَيْتُ مَکَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَقُلْتُ أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقَالَ الصَّابِئَ فَمَالَ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِکُلٍّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّی خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ قَالَ فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ کَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ قَالَ فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَائَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا وَلَقَدْ لَبِثْتُ يَا ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَا کَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَائُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّی تَکَسَّرَتْ عُکَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَی کَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ فَبَيْنَا أَهْلِ مَکَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَائَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَی أَسْمِخَتِهِمْ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَةَ قَالَ فَأَتَتَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا فَقُلْتُ أَنْکِحَا أَحَدَهُمَا الْأُخْرَی قَالَ فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا قَالَ فَأَتَتَا عَلَيَّ فَقُلْتُ هَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لَا أَکْنِي فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ وَتَقُولَانِ لَوْ کَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا قَالَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ قَالَ مَا لَکُمَا قَالَتَا الصَّابِئُ بَيْنَ الْکَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَ مَا قَالَ لَکُمَا قَالَتَا إِنَّهُ قَالَ لَنَا کَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ ثُمَّ صَلَّی فَلَمَّا قَضَی صَلَاتَهُ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَکُنْتُ أَنَا أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ قَالَ فَقُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَعَلَيْکَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ مَنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ قَالَ فَأَهْوَی بِيَدِهِ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَی جَبْهَتِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي کَرِهَ أَنْ انْتَمَيْتُ إِلَی غِفَارٍ فَذَهَبْتُ آخُذُ بِيَدِهِ فَقَدَعَنِي صَاحِبُهُ وَکَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ مَتَی کُنْتَ هَاهُنَا قَالَ قُلْتُ قَدْ کُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ فَمَنْ کَانَ يُطْعِمُکَ قَالَ قُلْتُ مَا کَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَائُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّی تَکَسَّرَتْ عُکَنُ بَطْنِي وَمَا أَجِدُ عَلَی کَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ إِنَّهَا مُبَارَکَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَفَتَحَ أَبُو بَکْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ وَکَانَ ذَلِکَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَکَلْتُهُ بِهَا ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ لَا أُرَاهَا إِلَّا يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَکَ عَسَی اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِکَ وَيَأْجُرَکَ فِيهِمْ فَأَتَيْتُ أُنَيْسًا فَقَالَ مَا صَنَعْتَ قُلْتُ صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ قَالَ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِکَ فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَأَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِکُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَاحْتَمَلْنَا حَتَّی أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ وَکَانَ يَؤُمُّهُمْ أَيْمَائُ بْنُ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَکَانَ سَيِّدَهُمْ وَقَالَ نِصْفُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ الْبَاقِي وَجَائَتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَتُنَا نُسْلِمُ عَلَی الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ

ہداب بن خالد ازدی سلیمان بن مغیرہ حمید بن ہلال عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے اور وہ حرمت والے مہینے کو بھی حلال جانتے تھے پس میں اور میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ نکلے پس ہم اپنے ماموں کے ہاں اترے پس ہمارے ماموں نے اعزازو اکرام کیا اور خوب خاطر مدارت کی جس کی وجہ سے ان کی قوم نے ہم پر حسد کیا تو انہوں نے کہا (ماموں سے) کہ جب تو اپنے اہل سے نکل کرجاتا ہے تو انیس ان سے بدکاری کرتا ہے پس ہمارے ماموں آئے اور انہیں جو کچھ کہا گیا تھا وہ الزام ہم پر لگا میں نے کہا تو نے ہمارے ساتھ جو احسان و نیکی کی تھی اسے تو نے اس الزام کے وجہ سے خراب کردیا ہے پس اب اس کے بعد ہمارا آپ سے تعلق اور نبھاؤ نہیں ہوسکتا پس ہم اپنے اونٹوں کے قریب آئے اور ان پر اپنا سامان سوار کیا اور ہمارے ماموں نے کپڑا ڈال کر رونا شروع کردیا پس ہم چل پڑے یہاں تک کہ مکہ کے قریب پہنچے پس انیس نے ہمارے اونٹوں اور اتنے ہی اور اونٹوں پر شرط لگائی (شاعری میں) کہ کس کے اونٹ عمدہ ہیں پس وہ دونوں کاہن کے پاس گئے تو اس نے انہیں کے اونٹوں کو پسند کیا پس انیس ہمارے پاس ہمارے اونٹوں کو اور اتنے ہی اور اونٹوں کو لے کر آیا اور میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات سے تین سال پہلے ہی اے میرے بھیجتے نماز پڑھا کرتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کہا کس کی رضا کے لئے انہوں نے کہا اللہ کی رضا کے لئے میں نے کہا تو اپنا رخ کس طرف کرتا تھا انہوں نے کہا جہاں میرا رب رخ کردیتا اسی طرف میں عشاء کی نماز ادا کرلیتا تھا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں اپنے آپ کو اس طرح ڈال لیتا گویا کہ میں چادر ہی ہوں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجاتا انیس نے کہا مجھے مکہ میں ایک کام ہے تو میرے معاملات کی دیکھ بھال کرنا پس انیس چلا یہاں تک کہ مکہ آیا اور کچھ عرصہ کے بعد واپس آیا تو میں نے کہا تو نے کیا کیا اس نے کہا میں مکہ میں ایک آدمی سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور دعوی کرتا ہے کہ اللہ نے اسے (رسول بنا کر) بھیجا ہے میں نے کہا لوگ کیا کہتے ہیں ؟ اس نے کہا لوگ اسے شاعر، کاہن اور جادوگر کہتے ہیں اور انیس خود شاعروں میں سے تھا انیس نے کہا میں کاہنوں کی باتیں سن چکا ہوں پس اس کا کلام کاہنوں جیسا نہیں ہے اور تحقیق میں نے اس کے اقوال کا شعراء کے اشعار سے بھی موزانہ کیا لیکن کسی شخص کی زبان پر ایسے شعر بھی مناسب نہیں۔ اللہ کی قسم ! وہ سچا ہے اور دوسرے لوگ جھوٹے ہیں میں نے کہا تم میرے معاملات کی نگرانی کرو یہاں تک کہ میں جاتا ہوں اور دیکھتا ہوں پس میں مکہ میں آیا اور ان میں سے ایک کمزور آدمی کو مل کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو ؟ پس اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ دین بدلنے والا ہے پس وادی والوں میں سے ہر ایک سنتے ہی مجھ پر ڈھیلوں اور ہڈیوں کے ساتھ ٹوٹ پڑا یہاں تک کہ میں بےہوش ہو کر گرپڑا پس جب میں بےہوشی سے ہوش میں آ کر اٹھا تو میں گویا سرخ بت (خون میں لت پت) تھا میں زمزم کے پاس آیا اور اپنا خون دھویا پھر اس کا پانی پیا اور میں اے بھتیجے تین رات اور دن وہاں ٹھہرا رہا اور میرے لئے زمزم کے پانی کے سوا کوئی خوراک نہ تھی پس میں موٹا ہوگیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں ختم ہوگئیں اور نہ ہی میں نے اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی محسوس کی پس اس دوران ایک چاندنی رات میں جب اہل مکہ سو گئے اور اس وقت کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا تھا اور ان میں سے دو عورتیں اساف اور نائلہ (بتوں) کو پکار رہی تھیں پس وہ جب اپنے طواف کے دوران میری طرف آئیں تو میں نے کہا ان میں سے ایک (بت) کا دوسرے کے ساتھ نکاح کردو (اساف مرد اور نائلہ عورت تھی اور باعتقاد مشرکین مکہ کے مطابق یہ دونوں زنا کرتے وقت مسخ ہو کر بت ہوگئے تھے) لیکن وہ اپنی بات سے باز نہیں آئیں پس جب وہ میرے قریب آئیں تو میں نے بغیر کنایہ اور اشارہ کے فلاں کہہ دیا کہ فلاں کے (فرج میں) لکڑی۔ پس وہ چلاتی اور یہ کہتی ہوئی گئیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی موجود ہوتا راستہ میں انہیں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) پہاڑی سے اترتے ہوئے ملے آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا ہوگیا ہے انہوں نے کہا کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان ایک دین کو بدلنے والا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس نے کیا کہا ہے انہوں نے کہا اس نے ہمیں ایسی بات کہی ہے جو منہ کو بھر دیتی ہے پس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے یہاں تک کہ حجر اسود کا بوسہ لیا اور بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز ادا کی حضرت ابوذر (رض) نے کہا میں وہ پہلا آدمی ہوں جس نے اسلام کے طریقہ کے مطابق آپ ﷺ کو سلام کیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول آپ پر سلام ہو آپ ﷺ نے فرمایا تو کون ہے ؟ میں نے عرض کیا میں قبیلہ غفار سے ہوں آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ ﷺ کو میرا قبیلہ غفار سے ہونا ناپسند ہوا ہے پس میں آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ ﷺ کے ساتھی نے مجھے پکڑ لیا اور وہ مجھ سے زیادہ آپ ﷺ کے بارے میں واقفیت رکھتا تھا کہ آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا تو یہاں کب سے ہے میں نے عرض کیا میں یہاں تین دن رات سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کھانا کون کھلاتا ہے میں نے عرض کیا میرے لئے زمزم کے پانی کے علاوہ کوئی کھانا نہیں ہے پس اس سے موٹا ہوگیا ہوں یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بل مڑ گئے ہیں اور میں اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی بھی محسوس نہیں کرتا آپ ﷺ نے فرمایا یہ پانی بابرکت ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھی بھر دیتا ہے حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے اس کے رات کے کھانے کی اجازت دے دیں پس رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) چلے اور میں بھی ان کے ساتھ ساتھ چلا پس ابوبکر (رض) نے دروازہ کھولا اور میرے لئے طائف کی کشمش نکالنے لگے اور یہ میرا پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا پھر میں رہا جب تک رہا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے کھجوروں والی زمین دکھائی گئی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ یثرب کے علاوہ کوئی اور علاقہ نہیں ہے کیا تو میری طرف سے اپنی قوم کو تبلیغ کرے گا عنقریب اللہ انہیں تیری وجہ سے فائدہ عطا کرے گا اور تمہیں ثواب عطا کیا جائے گا پھر میں انیس کے پاس آیا تو اس نے کہا تو نے کیا کیا ؟ میں نے کہا میں اسلام قبول کرچکا ہوں اور تصدیق کرچکا ہوں اس نے کہا مجھے بھی تجھ سے نفرت نہیں ہے میں بھی اسلام قبول کرتا ہوں اور تصدیق کرتا ہوں پھر ہم اپنی والدہ کے پاس گئے تو اس نے کہا مجھے تم دونوں کے دین سے نفرت نہیں میں بھی اسلام قبول کرتی اور تصدیق کرتی ہوں پھر ہم نے اپنا سامان لادا اور اپنی قوم غفار کے پاس آئے تو ان میں سے آدھے لوگ مسلمان ہوگئے اور ان کی امامت ان کے سرادر ایماء بن رحضہ انصاری کراتے تھے اور باقی آدھے لوگوں نے کہا جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے پس جب رسول اللہ مدینہ تشریف لائے تو باقی آدھے لوگ بھی مسلمان ہوگئے اور قبیلہ اسلام کے لوگ بھی حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم بھی اس بات پر اسلام قبول کرتے ہیں جس پر ہمارے بھائی مسلمان ہوئے ہیں پس وہ بھی مسلمان ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبیلہ غفار کو اللہ نے معاف فرما دیا اور قبیلہ کی اللہ نے حفاظت کی (قتل اور قید سے)

Abdullah bin Samit reported that Abu Dharr (RA) said: We set out from our tribe Ghafir who look upon the prohibited months as permissible months. I and my brother Unais and our mother stayed with our maternal uncle who treated us well. The men of his tribe fell jealous and they said: When you are anay from your house, Unais commits adultery with your wife. Our -naternal uncle came and he accused us of the sin which was conveyed to him. I said: You have undone the good you did to us. We cannot stay with you after this. We came to our camels and loaded (our) luggage. Our maternal uncle began to weep covering himself with (a piece of) cloth. We proceeded on until we encamped by the side of Makkah. Unais cast lot on the camels (we had) and an equal number (above that). They both went to a Kahin and he made Unais win and Unais came with our camels and an equal number along with them. He (Abu Dharr) said: My nephew, I used to observe prayer three years before my meeting with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I said: For whom did you say prayer? He said: For Allah. I said: To which direction did you turn your face (for observing prayer)? He said: I used to turn my face as Allah has directed me to turn my face. I used to observe the night prayer at the time of the end of night and I fell down in prostration like the mantle until the sun rose over me. Unais said: I have a work in Makkah, so you better stay here. Unais went until he came to Makkah and he came to me late. I said: What did you do? He said: I met a person in Makkah who is on your religion and he claims that verily it is Allah Who has sent him. I said: What do the people say about him? He said: They say that he is a poet or a Kahin or a magician. Unais who was himself one of the poets said. I have heard the words of a Kahin but his words in no way resemble his (words). And 1 also compared his words to the verses of poets but such words cannot be uttered by any poet. By Allah, he is truthful and they are liars. Then I said: you stay here, until I go, so that I should see him. He said: I came to Makkah and I selected an insignificant person from amongst them and said to him: Where is he whom you call as-Sabi? He pointed out towards me saying: He is Sabi. Thereupon the people of the valley attacked me with sods and bows until I fell down unconscious. I stood up after havin. regained my consciousness and I found as if I was a red idol. I came to Zamzarn and washed blood from me and drank water from it and listen, O son of my brother, I stayed there for thirty nights or days and there was no food for me but the water of Zamzarn. And I became so bulky that there appeared wrinkles upon my stomach, and I did not feel any hunger in my stomach. It was during this time that the people of Makkah slept in the moonlit night and none was there to eircumambulate the House but only two women who had been invoking the name of Isafa, and Naila (the two idols). They came to me while in their circuit and I said: Marry one with the other, but they did not dissuade from their invoking. They came to me and I said to them: Insert wood (in the idols private parts). (I said this to them in such plain words) as I could not express in metaphorical terms. These women went away crying and saying: Had there been one amongst our people (he would have taught a lesson to you for the obscene words used for our idols before us). These women met Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Abu Bakr (RA) who had also been coming down the hill. He asked them: What has happened to you? They said: There is Sabi, who has hidden himself between the Ka’bah and its curtain. He said: What did he say to you? They said: He uttered such words before us as we cannot express. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came and he kissed the Black Stone and circumambulated the House along with his Companion and then observed prayer, and when he had finished his prayer, Abu Dharr (RA) said: I was the first to greet him with the salutation of peace and uttered (these words) in this way; Allahs Messen- ger, may there be peace upon you, whereupon he said: It may be upon you too and the mercy of Allah. He then said: Who are you? I said: From the tribe of Ghifar. He leaned his hand and placed his finger on his forehead and I said to myself: Perhaps he has not liked it that I belong to the tribe of Ghifar. I attempted to catch hold of his hand but his friend who knew about him more than I dissuaded me f rom doing so. He then lifted his head and said: Since how long have you been here? I said: I have been here for the last thirty nights or days. He said: Who has been feeding you? I said: There has been no food for me but the water of Zamzam. I have grown so bulky that there appear wrinkles upon my stomach and I do not feel any hunger. He said: It is blessed (water) and it also serves as food. Thereupon Abu Bakr (RA) said: Allahs Messenger, let me serve as a host to him for tonight, and then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) proceeded forth and so did Abu Bakr (RA) and I went along with them. Abu Bakr (RA) opened the door and then he brought for us the raisins of Taif and that was the first food which I ate there. Then I stayed as long as I had to stay. I then came to Allahs Messenaer (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he said: I have been shown the land abound- ing in trees and I think it cannot be but that of Yathrib (that is the old name of Madinah). You are a preacher to your people on my behalf. I hope Allah would benefit them through you and He would reward you. I came to Unais and he said: What have you done? I said: I have done that I have embraced Islam and I have testified (to the prophethood of Allahs Messenger). He said: I have no aversion for your religion and I also embrace Islam and testify (to the prophethood of Muhammad). Then both of us came to our mother and she said: I have no aversion for your religion and I also embrace Islam and testify to the prophethood of Muhammad. We then loaded our camels and came to our tribe Ghifir and half of the tribe embraced Islam and their chief was Aimi bin Rahada Ghifirl and he was their leader and hall of the tribe said: We will embrace Islam when Allahs Messenger (may p,. ace be upon him) would come to Madinah, and when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to Madinah the remaining half also embraced Islam. Then a tribe Aslam came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, we also embrace Islam like our brothers who have embraced Islam. And they also embraced Islam. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Allah granted pardon to the tribe of Ghifar and Allah saved (from destruction) the tribe of Aslam.

6360Sahih Muslimصحیح

ابوذر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ قُلْتُ فَاکْفِنِي حَتَّی أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ قَالَ نَعَمْ وَکُنْ عَلَی حَذَرٍ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، نضر بن شمیل سلیمان بن مغیرہ حمید بن ہلال اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت ابوذر نے بیان کیا کہ میں نے کہا تم میرے معاملات کی نگرانی کرو یہاں تک کہ میں جا کر دیکھ آؤں انیس نے کہا جی ہاں جاؤ لیکن اہل مکہ سے بچتے رہنا کیونکہ وہ اس آدمی کے دشمن ہیں اور برے طریقوں سے لڑتے ہیں۔

This hadlth has been narrated on the authority of Humaid bin Hilal with the same chain of transmitters but with this addition:" As I came to Makkah, Unais said: (Well), go but be on your guard against the Makkahns for they are his enemies and are annoyed with him."

6361Sahih Muslimصحیح

ابوذر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا ابْنَ أَخِي صَلَّيْتُ سَنَتَيْنِ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ کُنْتَ تَوَجَّهُ قَالَ حَيْثُ وَجَّهَنِيَ اللَّهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَتَنَافَرَا إِلَی رَجُلٍ مِنْ الْکُهَّانِ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ أَخِي أُنَيْسٌ يَمْدَحُهُ حَتَّی غَلَبَهُ قَالَ فَأَخَذْنَا صِرْمَتَهُ فَضَمَمْنَاهَا إِلَی صِرْمَتِنَا وَقَالَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ خَلْفَ الْمَقَامِ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَإِنِّي لَأَوَّلُ النَّاسِ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ قَالَ قُلْتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَعَلَيْکَ السَّلَامُ مَنْ أَنْتَ وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَقَالَ مُنْذُ کَمْ أَنْتَ هَاهُنَا قَالَ قُلْتُ مُنْذُ خَمْسَ عَشَرَةَ وَفِيهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَتْحِفْنِي بِضِيَافَتِهِ اللَّيْلَةَ

محمد بن مثنی عنزی ابن ابی عدی، ابن عون حمید بن ہلال حضرت عبداللہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا اے بھیجتے میں نبی کریم ﷺ کی بعثت سے دو سال پہلے نماز پڑھا کرتا تھا میں نے کہا تو اپنا رخ کس طرف کرتا تھا انہوں نے کہا جہاں اللہ تعالیٰ میرا رخ فرما دیا کرتے باقی حدیث گزر چکی اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ دونوں کاہنوں میں سے ایک آدمی کے پاس گئے اور میرا بھائی برابر اس کی تعریف کرتا رہا یہاں تک کہ اس پر غالب آگیا پس ہم نے اس سے اونٹ لے لیا اور انہیں اپنے اونٹوں کے ساتھ ملا لیا اس حدیث میں اضافہ بھی ہے کہ نبی ﷺ تشریف لائے اور بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیھچے دو رکعتیں ادا کیں پس میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور میں لوگوں میں سب سے پہلے ہوں جس نے آپ ﷺ کو اسلام کے مطابق سلام کیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ پر سلامتی ہو آپ ﷺ نے فرمایا تجھ پر بھی سلامتی ہو تو کون ہے ؟ اور یہ بھی اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم کب سے یہاں ہو ؟ میں نے عرض کیا پندرہ دن سے اور مزید یہ ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا انہیں رات کی مہمان نوازی کے لئے میرے ساتھ کردیں۔

Abdullah bin Samit reported that Abu Dharr (RA) said: Son of my brother, I used to observe prayer two years before the advent of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I said: To which direction did you turn your face? He said: To which Allah directed me to turn my face. The rest of the hadith is the same but with this addition that they went to a Kahin and his brother Unais began to praise him until he (in verses declared) him (Unais) as winner (in the contest of poetry), and so we got his camels, mixed them with our camels, and there is in this hadith also these words that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came there and he circumambulated the House and observed two Rakahs of prayer behind the Station (of Ibrahim). I came to him and I was the first amongst persons to greet him with Assalam-o-Alaikum, and I said to Allahs Messenger Let there be peace upon you. And he said: Let there be peace upon you too; who are you? And in the hadith (these words are) also found: Since how long have you been here? And Abu Bakr (RA) said: Let him be my guest tonight.

6362Sahih Muslimصحیح

ابوذر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَتَقَارَبَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ قَالَ لِأَخِيهِ ارْکَبْ إِلَی هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنْ السَّمَائِ فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي فَانْطَلَقَ الْآخَرُ حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَکَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَکَلَامًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ فَقَالَ مَا شَفَيْتَنِي فِيمَا أَرَدْتُ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَائٌ حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ فَأَتَی الْمَسْجِدَ فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْرِفُهُ وَکَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّی أَدْرَکَهُ يَعْنِي اللَّيْلَ فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْئٍ حَتَّی أَصْبَحَ ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَظَلَّ ذَلِکَ الْيَوْمَ وَلَا يَرَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَمْسَی فَعَادَ إِلَی مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ فَقَالَ مَا أَنَی لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ وَلَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْئٍ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ فَأَقَامَهُ عَلِيٌّ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَلَا تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَکَ هَذَا الْبَلَدَ قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْکَ قُمْتُ کَأَنِّي أُرِيقُ الْمَائَ فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتَّبِعْنِي حَتَّی تَدْخُلَ مَدْخَلِي فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَکَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَی قَوْمِکَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّی يَأْتِيَکَ أَمْرِي فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّی أَتَی الْمَسْجِدَ فَنَادَی بِأَعْلَی صَوْتِهِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَثَارَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّی أَضْجَعُوهُ فَأَتَی الْعَبَّاسُ فَأَکَبَّ عَلَيْهِ فَقَالَ وَيْلَکُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تُجَّارِکُمْ إِلَی الشَّامِ عَلَيْهِمْ فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنْ الْغَدِ بِمِثْلِهَا وَثَارُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ فَأَکَبَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَأَنْقَذَهُ

ابرہیم بن محمد بن عرعرہ سامی محمد بن حاتم، ابن حاتم عبدالرحمن بن مہدی، مثنی بن سعد ابی جمرہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ابوذر (رض) کو جب نبی ﷺ کی بعثت کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا اس وادی کے طرف سوار ہو کر جاؤ اور میرے لئے اس آدمی کے بارے میں معلومات لے کر آؤ جو دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں اور اس کی گفتگو سن کر میرے پاس واپس آ۔ وہ چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور آپ ﷺ کی بات سنی پھر حضرت ابوذر (رض) کی طرف لوٹے اور کہا میں نے انہیں عمدہ اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا ہے اور گفتگو ایسی ہے جو شعر نہیں ہے تو ابوذر (رض) نے کہا جس چیز کا میں نے ارادہ کیا تھا تم اس کی تسلی بخش جواب نہیں لائے ہو پھر انہوں نے زاد راہ لیا اور ایک مشکیزہ جس میں پانی تھا لادا یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے مسجد میں پہنچے اور نبی ﷺ کو ڈھونڈنا شروع کردیا اور آپ ﷺ کو پہچانتے نہ تھے اور آپ ﷺ کے بارے میں پوچھنا مناسب نہ سمجھا یہاں تک کہ رات ہوگئی اور لیٹ گئے حضرت علی (رض) نے انہیں دیکھا تو اندازہ لگایا کہ یہ مسافر ہے پس وہ انہیں دیکھنے ان کے پیچھے گئے اور ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنے ساتھی سے کوئی گفتگو نہ کی یہاں تک کہ صبح ہوگئی انہوں نے پھر اپنی مشک اور زاد راہ اٹھایا اور مسجد کی طرف چل دئیے پس یہ دن بھی اسی طرح گزر گیا اور نبی ﷺ کو دیکھ نہ سکے یہاں تک کہ شام ہوگئی اور اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹے پس علی (رض) ان کے پاس سے گزرے تو کہا اس آدمی کو ابھی تک اپنی منزل کا علم نہیں ہوسکا پس انہیں اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گئے اور ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنے ساتھی سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھا یہاں تک کہ تیسرے دن بھی اسی طرح ہوا کہ حضرت علی (رض) انہیں اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اور ان سے کہا کیا تم مجھے بتاؤ گے نہیں کہ تم اس شہر میں کس غرض سے آئے ہو ابوذر (رض) نے کہا اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کرو کہ تم میری صحیح راہنمائی کرو گے تو میں بتادیتا ہوں پس حضرت علی (رض) نے وعدہ کرلیا حضرت ابوذر (رض) نے اپنا مقصد بیان کیا تو حضرت علی (رض) نے کہا آپ ﷺ سچے اور اللہ کے رسول ہیں جب صبح ہوئی تو تم میرے ساتھ چلنا اگر میں نے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ محسوس کیا تو میں کھڑا ہوجاؤں گا گویا کہ میں پانی بہا رہا ہوں اور اگر میں چلتا رہا تو تم میری اتباع کرنا یہاں تک کہ جہاں میں داخل ہوں تم بھی داخل ہوجانا پس انہوں نے ایسا ہی کیا کہ حضرت علی (رض) کے پیچھے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ حضرت علی (رض) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ابو ذر (رض) ان کے ساتھ حاضر خدمت ہوئے اور آپ ﷺ کی گفتگو سنی اور اسی جگہ اسلام قبول کرلیا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اپنی قوم کی طرف لوٹ جا اور انہیں اس (دین کی) تبلیغ کر یہاں تک کہ تیرے پاس میرا حکم پہنچ جائے ابوذر (رض) نے عرض کیا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے میں تو یہ بات مکہ والوں کے سامنے پکار کر کروں گا پس وہ نکلے یہاں تک کہ مسجد میں آئے اور اپنی بلند آواز سے کہا (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور قوم ان پر ٹوٹ پڑی انہیں مارنا شروع کردیا یہاں تک کہ انہیں لٹا دیا پس حضرت عباس (رض) آئے اور ان پر جھک گئے اور کہا تمہارے لئے افسوس ہے کیا تم جانتے نہیں ہو کہ یہ قبیلہ غفار سے ہیں اور تمہاری شام کی طرف تجارت کا راستہ ان کے پاس سے گزرتا ہے پھر ابوذر (رض) کو ان سے چھڑا لیا انہوں نے اگلی صبح پھر اسی جملہ کو دہرایا اور مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے اور مارنا شروع کردیا حضرت عباس (رض) نے ان پر جھک کر انہیں بچایا اور چھڑا کرلے گئے۔

Ibn Abbas reported that when Abu Dharr (RA) heard of the advent of the Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in Makkah he said: Brother, ride in this valley and bring information for me about the person who claims that there comes to him information from the Heavens. Listen to his words and then come to me. So he rode on until he came to Makkah and he heard his words (the sacred words of the Holy Prophet) and then came back to Abu Dharr (RA) and said: I have seen him exhorting (people) to develop good morals and his expressions can in no way be termed as poetry. He (Abu Dharr) said: I have not been satisfied with it regarding that which I had in my mind (as I sent you). So he took up provisions for the journey and a small water-skin con- taining water (and set forth) until he came to Makkah. He came to the mosque (Ka’bah) and began to find out Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he did not re- cognise him (the Holy Prophet) and he did not even like that he should ask about him from anyone until it was night, and he slept. All saw him and found him to be a stranger. So he went with him. He followed hive but one did not make any inquiry from the other about anything until it was morning. He then brought the water and his provisions to the mosque and spent a day there, but he did not see Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) until it was night. He then returned to his bed that there happened to pass Ali and he said: This man has not been able to find his destination until this time. He made him stand and he went with him and no one made an in- quiry from his companion about anything. And when it was the third day he did the same. Ali made him stand up and brought him along with him. He said: By Him, besides Whom there is no god, why dont you tell me (the reason) which brought you here to this town? He said: (I shall do this) provided you hold me promise and a covenant that you would guide me aright. He then did that. He (Ali) said: Verily, he Is truthful and he is a Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and when it is morning, follow me and if I would say anything from which I would sense fear about you I would stand (in a manner) as if I was throwing water and if I move on, you then follow me until I get in (some house). He did that and I followed him until he came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He entered (the house) of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) along with him and listened to his words and embraced Islam at his very place. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Go to your people and inform them until my command reaches you. Thereupon he said: By Him in Whose Hand is my life, I shall say to the people of Makkah this thing at the top of my voice So he set forth until he came to the mosque and then spoke at the top of his voice (saying): I bear testimony to the fact that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. The people attacked him and made him fall down when Abbas came and he leaned over him and said: Woe be upon you, dont you know that he is from amongst the tribe of Ghifar and your trad- ing route to Syria passes through (the settlements of this tribe), and he rescued him. He (Abu Dharr) did the same on the next day and they (the Makkahns) again attacked him and Abbas leaned upon him and he rescued him.

6363Sahih Muslimصحیح

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ بَيانٍ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِکَ

یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، قیس بن ابی حازم، جریر بن عبداللہ، عبدالحمید بن بیان، خالد، بیان، قیس بن ابی حازم، حضرت جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی مجھے اندر آنے سے نہیں روکا ہے اور جب بھی (آپ ﷺ مجھے دیکھتے تو مسکراتے تھے۔

Jarir bin Abdullah said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) never refused me permission to see him since I embraced Islam and never looked at me but with a smile.

6364Sahih Muslimصحیح

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ وَلَقَدْ شَکَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَی الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابواسامہ اسماعیل ابن نمیر، عبداللہ بن ادریس اسماعیل حضرت جریر (رض) سے روایت ہے کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا رسول ﷺ نے کبھی بھی مجھے اندر آنے سے نہیں روکا اور جب بھی مجھے دیکھتے تو میرے سامنے مسکرا دیتے ابن ادریس کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک کو میرے سینے پر مارا اور فرمایا اے اللہ اسے جما دے اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔

Jarir reported: Since I embraced Islam Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) never refused to see me and he did not see me but with a smile on his face. Ibn Numair has made this addition to this hadith which has been reported on the authority of Ibn Idris that he (Jarir) made this complaint to him (to the Holy Prophet): I cannot sit upon the horse with firmness, whereupon he (Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) struck his chest with his hand and prayed: O Allah, make him steadfast and rightly-guided.

6365Sahih Muslimصحیح

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ وَکَانَ يُقَالُ لَهُ الْکَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ وَالْکَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَالْکَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ وَالشَّامِيَّةِ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَکَسَرْنَاهُ وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ

عبدالحمید ابن بیان خالد بیان حضرت جریر (رض) سے روایت ہے کہ دور جاہلیت میں ایک گھر تھا جسے ذوالخلصہ کہا جاتا تھا اور اسی کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو مجھے ذوالخلصہ اور کعبہ یمانہ اور شامیہ کی فکر سے آرام پہنچائے گا پس میں قبیلہ احمس سے ایک سو پچاس آدمیوں کو لے کر اس کی طرف چل پڑا ہم نے اسے توڑ دیا اور جسے اس کے پاس پایا اسے قتل کردیا پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے ہمارے لئے اور قبیلہ احمس کے لئے دعا فرمائی۔

Jabir reported that there was in pre-Islamic days a temple called Dhul- Khalasah and it was called the Yamanite Ka’bah or the northern Ka’bah. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said unto me: Will you rid me of Dhul-Khalasah and so I went forth at the head of 35O horsemen of the tribe of Ahmas and we destroyed it and killed whomsoever we found there. Then we came back to him (to the Holy Prophet) and informed him and he blessed us and the tribe of Ahmas

6366Sahih Muslimصحیح

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَرِيرُ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ بَيْتٍ لِخَثْعَمَ کَانَ يُدْعَی کَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ قَالَ فَنَفَرْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ وَکُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَی الْخَيْلِ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي فَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا قَالَ فَانْطَلَقَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُبَشِّرُهُ يُکْنَی أَبَا أَرْطَاةَ مِنَّا فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مَا جِئْتُکَ حَتَّی تَرَکْنَاهَا کَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ فَبَرَّکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، اسماعیل بن ابی خالد قیس بن ابی حازم حضرت جریر بن عبداللہ بجلی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے جریر کیا تم مجھے خثعم کے گھر ذوالخلصہ کے معاملہ سے آزاد نہیں کردیتے اسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا پس میں ایک سو پچاس سواروں کے ساتھ اس کی طرف چل پڑا اور میں گھوڑے پر جم کر نہ بیٹھ سکتا تھا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مار کر فرمایا اے اللہ اسے ثابت قدمی عطا فرما اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا پس میں گیا اور اسے آگ میں جلا ڈالا پھر حضرت جریر (رض) نے ہم میں سے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاہ تھی رسول اللہ ﷺ کی طرف خوشخبری دینے کے لئے بھیجا پس وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا ہم ذوالخلصہ کو خارش زدہ اونٹ کی طرح کر کے چھوڑ کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں پس رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیادوں کے لئے پانچ مرتبہ برکت کی دعا کی۔

Jarir bin Abdullah al-Bajali said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to me: Cant on rid me of DhuI-Khalasah, the idol-house of Khatham, and this idol-house was called the Yamanite Ka’bah. So I went along with 15O horsemen and I could not sit with steadfastness upon the horse. I made the mention of it to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he struck his hand on my chest and said: O Allah, grant him steadfastness and make him the guide of righteousness and the rightly-guided one. So he went away and he set fire to it. Then Jarir sent some person to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) whose Kunya was Abu Arta to give him the happy news about that. He came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: I have not come to you (but with the news) that we have left Dhul-Khalasah as a scabed camel. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) blessed the horses of Ahmas and the men of their tribe five times.

6367Sahih Muslimصحیح

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَرْوَانَ فَجَائَ بَشِيرُ جَرِيرٍ أَبُو أَرْطَاةَ حُصَيْنُ بْنُ رَبِيعَةَ يُبَشِّرُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، ابی محمد بن عباد سفیان، ابن ابی عمر مروان فزاری محمد بن رافع ابواسامہ اسماعیل ان اسنا سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور مروان کی حدیث میں ہے کہ پس جریر کی طرف سے خوشخبری لانے والا ابوارطاہ حصین بن ربیعہ تھا جس نے نبی ﷺ کو خوشخبری دی۔

This hadith has been narrated on the authority of Ismail with different chains of transmitters and in the hadith transmitted on the authority of Marwan (the words are):" A person giving the glad tidings on behalf of Jarir came or Abu Husain bin Rabiah came in order to give glad tidings to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

6368Sahih Muslimصحیح

سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْکُرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی الْخَلَائَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوئًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ مَنْ وَضَعَ هَذَا فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالُوا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ قُلْتُ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ

زہیر بن حرب، ابوبکر بن نضر ہاشم بن قاسم ورقاء بن عمر بشکری عبیداللہ بن ابی یزید حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تو میں نے آپ کے لئے پانی رکھا جب آپ ﷺ بیت الخلاء سے نکلے تو فرمایا یہ کس نے رکھا ہے صحابہ (رض) نے عرض کیا یا میں نے عرض کیا ابن عباس (رض) نے آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اسے دین کی فقاہت و سمجھ عطا فرما۔

Ibn Abbas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to privy and I placed for him water for ablution, When he came out he said: Who placed it here? And in a version of Zuhair they (the Companions) said, and in the version of Abu Bakr (RA) (the words are): I said: It is Ibn Abbas (who has done that), whereupon he (the Holy Prophet) said: May Allah grant him deep understanding of religion.

6369Sahih Muslimصحیح

سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ کَأَنَّ فِي يَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ وَلَيْسَ مَکَانٌ أُرِيدُ مِنْ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ إِلَيْهِ قَالَ فَقَصَصْتُهُ عَلَی حَفْصَةَ فَقَصَّتْهُ حَفْصَةُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَی عَبْدَ اللَّهِ رَجُلًا صَالِحًا

ابوربیع خلف بن ہشام ابوکامل جحدری حماد بن زید ابوربیع حماد بن زید ایوب نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میرے ہاتھ میں استبرق کا ایک ٹکڑا ہے اور جنت کے جس مکان کی طرف میں جانے کا ارادہ کرتا ہوں وہ اڑ کر اس جگہ پہنچ جاتا ہے پس میں نے اس کا پورا قصہ حضرت حفصہ (رض) سامنے بیان کیا پھر حضرت حفصہ (رض) نے نبی ﷺ سے بیان کیا تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرا خیال ہے کہ عبداللہ ایک نیک آدمی ہوں گے۔

Ibn Umar reported: I saw in a state of sleep as if I have in my hand a piece of silk cloth and there is no place in the Paradise where I intend to reach but that piece of cloth does not fly towards it. I made a mention of it to Hafsa (the sister of Ibn Umar) and Hafsa made a mention of it to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I find Abdullah b Umar a pious person.

6370Sahih Muslimصحیح

سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَی رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَی رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَکُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا وَکُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ کَأَنَّ مَلَکَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَی النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ کَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ کَقَرْنَيْ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ قَالَ فَلَقِيَهُمَا مَلَکٌ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ فَقَصَصْتُهَا عَلَی حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ کَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ قَالَ سَالِمٌ فَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِکَ لَا يَنَامُ مِنْ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم بن عمر حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی مبارک میں کوئی آدمی جو بھی خواب دیکھتا اسے رسول اللہ کے سامنے بیان کرتا اور میں غیر شدہ نوجوان تھا اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں میں مسجد میں سویا کرتا تھا پس میں نے نیند میں دیکھا گویا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور مجھے دوزخ کی طرح لے گئے تو وہ کنوئیں کی دو لکڑیوں کی طرح لکڑیاں بھی تھیں اور اس میں لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا پس میں نے (اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ ) میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں دہرانا شروع کردیا ان دو فرشتوں میں سے ایک اور فرشتہ ملا تو اس نے مجھ سے کہا تو خوف نہ کر پس میں نے حضرت حفصہ سے اس کا تذکرہ کیا تو حضرت حفصہ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا عبداللہ کتنا اچھا آدمی ہے کاش یہ اٹھ کر رات کو نماز پڑھے سالم نے کہا اس کے بعد حضرت عبداللہ (رض) رات کو تھوڑی دیر ہی سویا کرتے تھے۔

Ibn Umar reported that when a person saw anything in sleep during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) he narrated it to Allahs Messenger, and I also had a longing that I should also see in a dream something which I should narrate to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and I was at that time an unmarried young man. I was sleeping in the mosque during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) I saw in a dream as if two Angels have taken hold of me and they have carried me to the fire, and, lo, it was built like the easing of a well and had two pillars like those of a well; and, lo, there were people in it whom I knew and I cried out: I seek refuge with Allah from Hell-fire; I seek refuge with Allah from Hell-fire. Then another Angel joined the two others, and said unto me: You need not fear.I narrated this dream to Hafsa and she narrated it to Allahs Messenger, whereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Worthy is this man Abdullah, O that he would pray at night, and Salim added that Abdullah afterwards slept only but for a small part of the night.

6371Sahih Muslimصحیح

سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ خَالِدٍ خَتَنُ الْفِرْيَابِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ وَلَمْ يَکُنْ لِي أَهْلٌ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ کَأَنَّمَا انْطُلِقَ بِي إِلَی بِئْرٍ فَذَکَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، موسیٰ بن خالد ابواسحاق فزاری عبیداللہ بن عمر نافع ابن عمر حضرت ابن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ میں رات مسجد میں گزار کرتا تھا اور میری بیوی نہ تھی پس میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا کہ مجھے ایک کنوئیں کی طرف لے جایا گیا ہے باقی حدیث مبارکہ اسی طرح مذکور ہے۔

Ibn Umar (RA) reported: I used to spend nights in the mosque and by that time I had no wife and children. I saw in a dream as if I am being taken to a well. I made a mention of it to Allahs Messenger (may peacebe upon him). The rest of the hadith is the same.