Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 319 of 379

6372Sahih Muslimصحیح

سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَادِمُکَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِکْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس، حضرت ام سلیم (رض) سے روایت ہے کہ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ انس آپ ﷺ کا خادم ہے اللہ سے اس کے لئے دعا کردیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس کے مال اور اولاد میں کثرت و زیادتی کر جو تو اسے عطا کر اس میں برکت عطا فرما۔

Anas reported that Umm Sulaim said (to the Holy Prophet) Allahs Messenger, here is your servant Anas, invoke blessings of Allah upon him. Thereupon he (the Holy Prophet) said: O Allah, make an increase in his wealth, and progeny, and confer blessings upon him in everything Thou hast bestowed upon him.

6373Sahih Muslimصحیح

سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَادِمُکَ أَنَسٌ فَذَکَرَ نَحْوَهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار ابوداؤد شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ام سلیم (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ انس آپ ﷺ کا خادم ہے۔ باقی حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے۔

Anas reported (that his mother) Umm Sulaim said (to the Holy Prophet) Allahs Messenger, here is your servant Anas. The rest of the hadith is the same.

6374Sahih Muslimصحیح

سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا مِثْلَ ذَلِکَ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ہشام ابن زید اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been reported on the authority of Anas through another chain of transmitters.

6375Sahih Muslimصحیح

سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي فَقَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُکَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ فَدَعَا لِي بِکُلِّ خَيْرٍ وَکَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ أَنْ قَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِکْ لَهُ فِيهِ

زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم سلیمان بن ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اور اس وقت میں میری امی اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ وہاں کوئی بھی موجود نہ تھا تو میری والدہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ آپ ﷺ کا ادنیٰ سا خادم ہے اللہ سے اس کے لئے دعا مانگیں تو آپ ﷺ نے میر لئے ہر بھلائی کی دعا مانگی اور میرے لئے جو دعا مانگی اس کے آخر میں یہ کہا اے اللہ اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس میں اس کے لئے برکت فرما۔

Anas reportedAllahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) visited us and there was none else (in the house) but I, my mother and my mothers sister Umm Haram. My mother said to him: Allahs Messenger, here is a small servant of yours, invoke blessings of Allah upon him. And he invoked blessings for me (that I should be bestowed upon) every good and this was what he (said) at the end of what be supplicated for me: O Allah, make an increase in his wealth, and progeny, and cqnfer blessings (upon him) in (each one) of them.

6376Sahih Muslimصحیح

سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ جَائَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي أَتَيْتُکَ بِهِ يَخْدُمُکَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ قَالَ أَنَسٌ فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَکَثِيرٌ وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَی نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ

ابومعن رقاشی عمر بن یونس عکرمہ اسحاق حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ میری امی جان مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئیں اور تحقیق انہوں نے مجھے اپنے آدھے دوپٹے کی چادر بنادی اور آدھے کو مجھے اوڑھا دیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا انس ہے میں آپ ﷺ کے پاس آپ کی خدمت کرنے کے لئے پیش کرنے کو لائی ہوں آپ ﷺ اللہ سے اس کے لئے دعا مانگیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس کے مال اور اولاد میں زیادتی کر۔ انس (رض) نے کہا اللہ کی قسم میرا مال بہت کثیر ہے اور میری اولاد اور میری اولاد کی اولاد کی تعداد آج کل تقریبا ایک سو ہے۔

Anas reported: My mother Umm Anas came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And she prepared my lower garment out of the half of her headdress and (with the other half) she covered my upper body and said: Allahs Messenger, here is my son Unais; I have brought him to you for serving you. Invoke blessings of Allah upon him. Thereupon he (the Holy Prophet) said: O Allah, make an increase in his wealth, and progeny. Anas said: By Allah, my fortune is huge and my children, and grand-children are now more than one hundred.

6377Sahih Muslimصحیح

سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ فَقَالَتْ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهَا اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ

قتیبہ بن سعید، جعفر ابن سلیمان ابن عثان، مالک حضرت انس بن مالک (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گزرے تو میری والدہ ام سلیم نے آپ ﷺ کی آواز سنی تو عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان اے اللہ کے رسول یہ چھوٹا انس ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے تین دعائیں کیں ان میں سے دو دنیا میں دیکھ چکا ہوں اور تیسری کا آخرت میں امیدوار ہوں۔

Anas bin Malik (RA) said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) passed (by our house) that my mother Umm Sulaim listened to his voice and said: Allahs Messenger, let my father and mother be sacrificed for thee, here is Unais (and requested him to invoke blessings upon me). So Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) invoked three blessings upon me. I have seen (the results) of the two in this very world (in regard to wealth and progeny) and I hope to see (the result) of the third one in the Hereafter.

6378Sahih Muslimصحیح

سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَی عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ قَالَ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَی حَاجَةٍ فَأَبْطَأْتُ عَلَی أُمِّي فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ مَا حَبَسَکَ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ قَالَتْ مَا حَاجَتُهُ قُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ قَالَتْ لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَالَ أَنَسٌ وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُکَ يَا ثَابِتُ

ابوبکر بن نافع بہز حماد سلمہ ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا آپ ﷺ نے ہمیں سلام کیا پھر مجھے کسی کام کے لئے بھیجا پس میں اپنی والدہ کے پاس دیر سے گیا جب میں ان کے پاس پہنچا تو اس نے کہا تجھے کس چیز نے روکے رکھا میں نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کے لئے بھیج دیا تھا انہوں نے کہا آپ ﷺ کا کیا کام تھا میں نے کہا وہ راز کی بات ہے انہوں نے کہا تم رسول اللہ ﷺ کے راز کو کسی سے بھی بیان نہ کرنا انس (رض) نے کہا اللہ کی قسم اگر میں وہ بات کسی سے بیان کرتا تو اے ثابت تجھ سے بیان کردیتا۔

Anas reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to me as I was playing with playmates. He greeted and sent me on an errand and I made delay in going to my mother. When I came to her she said: What detained you? I said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent me on an errand. She said: What was the purpose? I said: It is something secret. Therupon she said: Do not then divulge the secret of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to anyone. Anas said: By Allah, if I were to divulge it to anyone, then, O Thabit, I would have divulged it to you.

6379Sahih Muslimصحیح

سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَسَرَّ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ

حجاج بن شاعر، عارم بن فضل معتمر ابن سلیمان حضرت انس (رض) بن مالک سے (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے ایک راز کی بات کی اور میں نے اس کے بعد کسی کو بھی اس کی خبر نہیں دی اور میرے والدہ ام سلیم نے بھی مجھ سے اس راز کے بارے میں سوال کیا لیکن میں نے انہیں بھی نہ بتایا۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) told me something secretly. I informed none about that and Umm Sulaim asked me about it, but I did not tell her even.

6380Sahih Muslimصحیح

سیدنا عبداللہ بن سلام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَيٍّ يَمْشِي إِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ

زہیر بن حرب، اسحاق بن عیسیٰ مالک ابی نضر حضرت عامر بن سعد (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زمین پر زندہ چلنے والوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کے علاوہ کسی کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ جنتی ہے۔

Amir bin Sad reported that he heard his father (Sad bin Abi Waqqas) say: never heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say unto one living and moving about that he was in Paradise except to Abdullah bin Salim.

6381Sahih Muslimصحیح

سیدنا عبداللہ بن سلام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ کُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فِي نَاسٍ فِيهِمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ وَدَخَلْتُ فَتَحَدَّثْنَا فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ إِنَّکَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ قَالَ رَجُلٌ کَذَا وَکَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُکَ لِمَ ذَاکَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ رَأَيْتُنِي فِي رَوْضَةٍ ذَکَرَ سَعَتَهَا وَعُشْبَهَا وَخُضْرَتَهَا وَوَسْطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَائِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِي ارْقَهْ فَقُلْتُ لَهُ لَا أَسْتَطِيعُ فَجَائَنِي مِنْصَفٌ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَالْمِنْصَفُ الْخَادِمُ فَقَالَ بِثِيَابِي مِنْ خَلْفِي وَصَفَ أَنَّهُ رَفَعَهُ مِنْ خَلْفِهِ بِيَدِهِ فَرَقِيتُ حَتَّی کُنْتُ فِي أَعْلَی الْعَمُودِ فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقِيلَ لِيَ اسْتَمْسِکْ فَلَقَدْ اسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تِلْکَ الرَّوْضَةُ الْإِسْلَامُ وَذَلِکَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ وَتِلْکَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَی وَأَنْتَ عَلَی الْإِسْلَامِ حَتَّی تَمُوتَ قَالَ وَالرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ

محمد بن مثنی، معاذ عبداللہ بن عون محمد بن سیرین حضرت قیس بن عباد (رض) سے روایت ہے کہ مدینہ میں میں کچھ لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا جن میں سے بعض رسول اللہ کے صحابہ بھی تھے پس ایک آدمی جس کے چہرے پر اللہ کے خوف کے آثار نمایاں تھے تو بعض لوگوں نے کہا یہ آدمی جنت والوں میں سے ہے یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے اس نے دو رکعتیں ادا کیں لیکن ان میں اختصار کیا پھر چل دیا میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا وہ اپنے گھر میں داخل ہوا اور میں بھی داخل ہوگیا پھر اس نے ہم سے گفتگو کی جب اس سے مانوسیت ہوگئی تو میں نے اس سے کہا جب آپ اس سے پہلے مسجد میں داخل ہوئے تو ایک آدمی نے اس اس طرح کہا انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ کسی کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ایسی بات کرے جس کے بارے میں علم نہیں رکھتا اور میں ابھی بتاتا ہوں کہ یہ کیوں ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک خواب دیکھا جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا میں نے اپنے خواب میں دیکھا اور پھر اسے اس کی وسعت پیداوار اور سرسبزی کو بیان کیا اور باغ کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون تھا اس کا نچلا حصہ زمین اور اوپر کا حصہ آسمانوں میں اور اس کی بلندی میں ایک حلقہ تھا پس مجھے کہا گیا کہ اس پر چڑھو میں نے اس سے کہا کہ میں تو چڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا پس میرے پاس ایک مِنصَف آیا ابن عون نے کہا مِنصَف خادم کو کہتے ہیں اس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے اٹھائے اور بیان کیا کہ اس نے اس کے پیچھے سے اپنے ہاتھ سے اسے اٹھایا پس میں چڑھ گیا یہاں تک کہ اس ستون کی بلندی تک پہنچ گیا۔ پس میں نے اس حلقہ کو پکڑ لیا پھر مجھے کہا گیا اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو پھر میں بیدار ہوگیا اور وہ حلقہ میرے ہاتھ میں ہی تھا میں نے یہ خواب نبی ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ باغ اسلام ہے اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ عروہ الوثقی یعنی مضبوط حلقہ ہے اور تیری موت اسلام پر ہی آئے گی کہا کہ وہ آدمی حضرت عبداللہ بن سلام (رض) تھے۔

Qais bin Ubadah reported: I was in the company of some persons, amongst whom some were the Companions of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in Madinah, that there came a person whose face depicted the fear (of Allah). Some people said: He is a person from amongst the people of Paradise; he is a person from amongst the people of Paradise. He observed two short rakahs of prayer and then went out. I followed him and he got into his house and I also got in and we began to converse with each other. And when he became familiar (with me) I said to Him: When you entered (the mosque) before (your entrance in the house) a person said so and so (that you are amongst the people of Paradise), whereupon he said: It is not meet for anyone to say anything which he does not know. I shall (now) tell you why they (say) this. I saw a dream during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and narrated it to him. I seemed to be in a garden [he described its vastness, its rich fructification and its verdure]; in the midst of it, there stood an iron pillar, with its base in the earth and its summit in the sky: and upon its summit there was a handhold. It was said to me: Climb up this (pillar). I said to him (visitant in the dream): I am unable to do it. Thereupon a helper came to me, and he (supported) me (by catching hold of my) garment from behind and thus helped me with his hand and so I climbed up till I was at the summit of the pillar, and grasped the handhold. It was said to me: Ho d it tightly. It was at this that I woke up when (the handhold) was in fthe grip) of my hand. I narrated it (the dream) to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereupon he said: That garden implies al-Islam and that pillar implies the pillar of Islam. And that handhold is the firmest faith (as refered to in the Quran). And you will remain attached to Islam until you shall die. And that man was Abdullah bin Salim.

6382Sahih Muslimصحیح

سیدنا عبداللہ بن سلام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ کُنْتُ فِي حَلَقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ وَابْنُ عُمَرَ فَمَرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالُوا هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُمْتُ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُمْ قَالُوا کَذَا وَکَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا کَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ إِنَّمَا رَأَيْتُ کَأَنَّ عَمُودًا وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَائَ فَنُصِبَ فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ فَقِيلَ لِيَ ارْقَهْ فَرَقِيتُ حَتَّی أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقَصَصْتُهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُوتُ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَی

محمد بن عمر بن عباد بن جبلہ ابی رواء حرمی بن عمارہ قرہ بن خالد بن محمد ابن سیرین حضرت قیس بن عباد (رض) سے روایت ہے کہ میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک اور ابن عمر (رض) بھی تشریف فرما تھے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) گزرے تو لوگوں نے کہا یہ اہل آدمی جنت میں سے ہے پس میں کھڑا ہوا اور اس سے کہا انہوں نے اس اس طرح کہا ہے اس نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ ان کے لئے مناسب نہ تھا کہ وہ ایسی بات کرتے جس کے بارے میں انہیں علم نہ تھا میں نے (خواب میں) دیکھا گویا کہ ایک ستون ہے جسے سرسبز باغ میں بنایا گیا ہے اور اس کے درمیان میں گاڑھ دیا گیا ہے اور سرے پر ایک حلقہ ہے اور اس کے نیچے ایک مصنف یعنی خدمت گزار کھڑا ہے پس مجھے کہا گیا کہ اس پر چڑھو پس میں چڑھا یہاں تک کہ اس حلقہ کو پکڑ لیا میں نے یہاں سارا قصہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عبداللہ اس حال میں فوت ہوگا کہ عروہ الوثقی اسلام کی مضبوط رسی کو پکڑنے والا ہوگا۔

Qais bin Ubaida reported: I was (sitting) in a company in which there were (besides others) Sad bin Malik and Ibn Umar that Abdullah bin Saliim happened to pass (by that side). They (the people sitting in that company) said: He is a person from amongst the dwellers of Paradise. I stood up and said to him: They say such and such (thing about you), whereupon he said: Hallowed be Allah, it is not meet for them to say (anything) of which They have no knowledge. Verily I saw as if a pillar had been raised in a green garden and there had been fixed at its (upper) end a handhold and there was a helper at its base. It was said to me: Climb up. So I climbed up and caught hold of the haildhold. I narrated (the contents of this dream) to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereupon he said: Abdullah would die in a state that he would be catching hold of the firmest handhold (he would die holding fast to the faith).

6383Sahih Muslimصحیح

سیدنا عبداللہ بن سلام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا فِي حَلَقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ قَالَ وَفِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَالَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا قَالَ فَلَمَّا قَامَ قَالَ الْقَوْمُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَی هَذَا قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأَتْبَعَنَّهُ فَلَأَعْلَمَنَّ مَکَانَ بَيْتِهِ قَالَ فَتَبِعْتُهُ فَانْطَلَقَ حَتَّی کَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ الْمَدِينَةِ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ قَالَ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي فَقَالَ مَا حَاجَتُکَ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَکَ لَمَّا قُمْتَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَی هَذَا فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَکُونَ مَعَکَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَسَأُحَدِّثُکَ مِمَّ قَالُوا ذَاکَ إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ لِي قُمْ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَإِذَا أَنَا بِجَوَادَّ عَنْ شِمَالِي قَالَ فَأَخَذْتُ لِآخُذَ فِيهَا فَقَالَ لِي لَا تَأْخُذْ فِيهَا فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ قَالَ فَإِذَا جَوَادُّ مَنْهَجٌ عَلَی يَمِينِي فَقَالَ لِي خُذْ هَاهُنَا فَأَتَی بِي جَبَلًا فَقَالَ لِيَ اصْعَدْ قَالَ فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَی اسْتِي قَالَ حَتَّی فَعَلْتُ ذَلِکَ مِرَارًا قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّی أَتَی بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَائِ وَأَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ فِي أَعْلَاهُ حَلْقَةٌ فَقَالَ لِيَ اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا قَالَ قُلْتُ کَيْفَ أَصْعَدُ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَائِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي قَالَ فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ قَالَ ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ قَالَ وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّی أَصْبَحْتُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ أَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِکَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ قَالَ وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِکَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَأَمَّا الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَائِ وَلَنْ تَنَالَهُ وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الْإِسْلَامِ وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّکًا بِهَا حَتَّی تَمُوتَ

قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، قتیبہ جریر، اعمش، سلیمان مسہر حضرت خرشہ بن حُر (رح) سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی مسجد میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس مجلس میں ایک بزرگ خوبصورت شکل و صورت والے بھی تھے جو عبداللہ بن سلام (رض) تھے اور انہوں نے لوگوں سے عمدہ باتیں کرنا شروع کردیں جب وہ اٹھ گئے تو لوگوں نے کہا جس آدمی کو یہ پسند ہو کہ وہ جنتی آدمی کو دیکھے اسے چاہئے کہ وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں اس کے پیچھے پیچھے جاؤں گا تاکہ اس کے گھر کا پتہ کرسکوں پس میں ان کے پیچھے چلا وہ چلتے رہے یہاں تک کہ مدینہ سے نکلنے کے قریب ہوئے پھر اپنے گھر میں داخل ہوگئے میں نے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی پھر فرمایا اے بھیجتے تجھے کیا کام ہے میں نے کہا میں نے لوگوں سے آپ کے بارے میں کہتے ہوئے سنا کہ جب آپ کھڑے ہوئے کہ جسے یہ بات پسندیدہ ہو کہ جنتی آدمی کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ انہیں دیکھ لے تو مجھے پسند آیا کہ میں آپ کے ساتھ ہی رہوں انہوں نے کہا اہل جنت کے بارے میں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور میں تمہیں بیان کرتا ہوں جس وجہ سے انہوں نے یہ کہا ہے اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے مجھے کہا کھڑا ہوجا میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس کے ساتھ چل پڑا مجھے راستہ میں اپنی بائیں طرف کچھ راہیں ملی جن میں میں نے جانا چاہا تو اس نے مجھے کہاں میں مت جاؤ کیونکہ یہ بائیں طرف کے راستے ہیں پھر دائیں طرف ایک راستہ نظر آیا تو اس نے مجھ سے کہا اس میں چلے جاؤ پھر وہ ایک پہاڑ پر لے چلا پھر مجھے سے کہا اس پر چڑھ جاؤ پس میں نے چڑھنا شروع کیا لیکن جب میں چڑھنے کا ارادہ کرتا تو سیرین کے بل گرپڑتا یہاں تک کہ مجھے ایک ستون کے پاس لایا جس کا (اوپر والا) سرا آسمان میں اور نچلا حصہ زمین میں تھا اور اس کی بلندی میں ایک حلقہ تھا تو اس نے مجھے کہا اس کے اوپر چڑھو میں نے کہا میں اس پر کیسے چڑھوں حالانکہ اس کا سرا تو آسمان میں ہے پس اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اوپر چڑھا دیا میں نے دیکھا کہ میں حلقہ کو پکڑے ہوئے کھڑا ہوں پھر اس نے اس ستون پر ایک ضرب ماری جس سے وہ گرگیا لیکن میں حلقہ کے ساتھ ہی لٹکا رہا یہاں تک کہ میں نے صبح کی تو نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو یہ سارا قصہ سنایا آپ ﷺ نے فرمایا وہ راستے جو تو نے اپنے طرف دیکھے وہ تو بائیں طرف (جہنم) والوں کے راستے تھے اور وہ راستے جو تو نے اپنی دائیں طرف دیکھے وہ دائیں طرف (جنت) والوں کے راستے تھے اور وہ پہاڑ شہداء کا مقام ہے جسے تم حاصل نہ کرسکو گے اور ستون اسلام کا ستون ہے اور حلقہ تو یہ اسلام کا حلقہ ہے اور تو مرتے دم تک اسلام کے حلقہ کو پکڑے رکھے گا۔

Kharasha bin Hurr reported: I was sitting in a circle in the mosque of Madinah and there was an old man, quite handsome. He was Abdullah bin Salim. He was telling good things to them (to the people sitting in that company). As he stood up (to depart) the people said: He who is desirous of looking at a person from amongst the people of Paradise should see him. I said: By Allah, I will follow him, and would try to know his residence. So I followed him and he walked on until he reached the outskirts of Madinah. He then entered his house. I sought permission from him to get in, and he granted me the permission, saying: My nephew, what is the need (that has brought you here)? I said to him: As you stood up, I heard people say about you: He who is desirous of seeing a person from among the people of Paradise should look at him. So I became desirous of accompanying you. He (Abdullah bin Salim) said: It is Allah Who knows best about the people of Paradise. I would, however, narrate to you as to why they said like it. (The story is) that while I was asleep (one night) there came to me a person (in the dream) who asked me to stand up. (So I stood up) and he caught hold of my hand and I walked along with him, and, lo, I found some paths on my left and I was about to set out upon them. Thereupon he said to me Do not set yourself on (them) for these are the paths of the leftists (denizens of Hell-fire). Then there were paths leading to the right side, whereupon he said: Set yourself on these paths. We came across a hill and he said to me: Climb up, and I attempted to climb up that I fell upon my buttocks. I made several attempts (but failed to succeed). He led until he came to a pillar (so high) that its upper end touched the sky and its base was in the earth. And there was a handhold at its upper end. He said to me Climb over it. I said: How can I climb upon it, as its upper end touches the sky? He cought hold of my hand and pushed me up and I found myself suspended with the handhold. He then struck the pillar and it fell down, but I remained attached to that handhold until it was morning (and the dream was thus over). I came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and narrated it to him. He said: So far as the paths which you saw on your left are concerned, these are paths of the leftists (denizens of Hell) and the paths which you saw on your right, these are the paths of the rightists (the dwellers of Paradise) and the mountain represents the destination of the martyrs which you would not be able to attain. The pillar implies the pillar of Islam. and so far as the handhold is concerned, it implies the handhold of Islam, and you would hold to it fastly until you would meet death.

6384Sahih Muslimصحیح

سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ کُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ کُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْکَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُکَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ

عمرو ناقد اسحاق بن ابراہیم، ابی عمر سفیان، عمرو سفیان، عیینہ زہری، سعید حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) حضرت حسان (رض) کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر کہہ رہے تھے پس انہوں نے (حضرت عمر (رض) کی طرف غصہ سے دیکھا تو انہوں نے کہا میں اس وقت بھی شعر کہتا تھا جبکہ آپ سے بہتر اس میں موجود ہوتے تھے پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی طرف متوجہ ہو کر کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری طرف سے جواب دو اے اللہ اس کی روح القدس کے ذریعہ نصرت و مدد فرما۔ ( ابوہریرہ (رض) نے کہا : اے تو جانتا ہے، جی ہاں ! (میں نے سنا ہے) ۔

Abu Hurairah (RA) reported that Umar happened to pass by Hassan as he was reciting verses in the mosque. He (Hadrat Umar) looked towards him (meaningfully), whereupon he (gassin) said: I used to recite (verses) when one better than you (the Holy Prophet) had been present (here). He then looked towards Abu Hurairah (RA) and said to him: I adjure you by Allah (to tell) if you had not heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: (Hassan), give a reply on my behalf; Allah I help him with Ruh-ul-Qudus. He ( Abu Hurairah (RA) ) said: By Allah, it is so (i. e. the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) actually said these words).

6385Sahih Muslimصحیح

سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ حَسَّانَ قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْشُدُکَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت ابن مسیب (رض) سے روایت ہے کہ حضرت حسان (رض) نے ایک حلقہ میں بیٹھے ہوئے حضرت ابوہریرہ (رض) سے کہا اے ابوہریرہ ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ باقی حدیث اسی طرح ذکر کی۔

Ibn Musayyib reported that Hassan said to a circle in which there was also Abu Hurairah (RA) : Abu Hurairah (RA) , I adjure you by Allah (to tell) whether you-had not heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying like this.

6386Sahih Muslimصحیح

سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْشُدُکَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، حسان بن ثابت انصاری حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن (رح) سے روایت ہے کہ اس نے حضرت حسان بن ثابت انصاری (رض) سے حضرت ابوہریرہ (رض) کو گواہ بناتے ہوئے سنا انہوں نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں تو نے نبی ﷺ سے سنا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے حسان رسول اللہ کی طرف سے جواب دے اے اللہ اس کی روح القدس کے ذریعہ نصرت فرما۔ ابوہریرہ (رض) نے کہا ہاں۔

Abdul Rahman reported that he heard Hassin bin Thabit al-Ansari call Abu Hurairah (RA) to bear witness by saying: I adjure you by Allah if you had not heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying: Hassin, give a reply on behalf of the Messenger of Allah. O Allah, help him with Ruh-ul-Qudus. Abu Hurairah (RA) said: Yes, it is so.

6387Sahih Muslimصحیح

سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَکَ

عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، عدی ابن ثابت، براء بن عازب سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت حسان بن ثابت (رض) کو فرماتے ہوئے سنا ان کی ہجو کرو اور جبرائیل (علیہ السلام) بھی تیرے ساتھ ہیں۔

Al-Bara bin Azib (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Hassan bin Thabit, write satire (against the non-believers) ; Gabriel (علیہ السلام) is with you.

6388Sahih Muslimصحیح

سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

زہیر بن حرب، عبدالرحمن ابوبکر بن نافع غندر ابن بشار محمد بن جعفر عبدالرحمن شعبہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.

6389Sahih Muslimصحیح

سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ کَانَ مِمَّنْ کَثَّرَ عَلَی عَائِشَةَ فَسَبَبْتُهُ فَقَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي دَعْهُ فَإِنَّهُ کَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام، حسان بن ثابت، حضرت عروہ (رض) سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت (رض) نے عائشہ (رض) کے متعلق باتیں کی تھیں تہمت والے قصہ میں میں نے انہیں برا بھلا کہا تو سیدہ عائشہ (رض) نے کہا اے میرے بھانجے انہیں چھوڑ دو کیونکہ یہ نبی ﷺ کی مدافعت کرتے تھے۔

Hisham reported on the authority of his father that Hassan bin Thabit talked much about Aisha. I scolded him, whereupon she said: My nephew, leave him for he defended Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

6390Sahih Muslimصحیح

سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

عثمان بن ابی شیبہ عبدہ ہشام اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.

6391Sahih Muslimصحیح

سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ فَقَالَ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَکِنَّکَ لَسْتَ کَذَلِکَ قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ يَدْخُلُ عَلَيْکِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَقَالَتْ فَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنْ الْعَمَی إِنَّهُ کَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

بشر بن خالد محمد بن جعفر، شعبہ، سلیمان ضحی حضرت مسروق (رح) سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے پاس حضرت حسان (رض) شعر کہہ رہے تھے اپنے تغزل آمیز شعر انہیں سنا رہے تھے تو کہا سیدہ عائشہ پاک دامن اور عقلمند ہیں اور ان پر کسی شک کی بنا پر تہمت نہیں لگائی جاسکتی اور وہ اس حال میں صبح کرتی ہیں کہ ناواقف عورتوں کے گوشت سے بھوکی ہوتی ہیں۔ تو سیدہ عائشہ (رض) نے ان سے کہا لیکن تم تو ایسے نہیں ہو۔ مسروق (رح) نے کہا میں نے ان سے کہا آپ انہیں اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں حالا ن کہ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ اور جس نے ان میں سے (بہتان) میں بڑا حصہ لیا اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے تو انہوں نے کہا اس سے بڑا عذاب کیا ہوگا کہ وہ (حسان (رض) نابینا ہوگئے ہیں یہ وہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی (کفار کی طرف سے) مدافعت کرتے تھے یا ان کی ہجو کرتے تھے۔

Masruq reported: I visited Aisha when Hassin was sitting there and reciting verses from his compilation: She is chaste and prudent. There is no calumny against her and she rises up early in the morning without eating the meat of the un- mindful. Aisha said: But you are not so. Masruq said: I said to her: Why do you permit him to visit you, whereas Allah has said:" And as for him among them who took upon himself the main part thereof, he shall have a grievous punishment" (XXIV. ll)? Thereupon she said: What tornient can be more severe than this that he has become blind? He used to write satire as a rebuttal on behalf of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .