سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ قَالَتْ کَانَ يَذُبُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ حَصَانٌ رَزَانٌ
ابن مثنی ابن ابی عدی، شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ سیدہ عائشہ (رض) نے کہا وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دیتے تھے اور اس میں شعر مذکورہ نہیں۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ حَسَّانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي أَبِي سُفْيَانَ قَالَ کَيْفَ بِقَرَابَتِي مِنْهُ قَالَ وَالَّذِي أَکْرَمَکَ لَأَسُلَّنَّکَ مِنْهُمْ کَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنْ الْخَمِيرِ فَقَالَ حَسَّانُ وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُکَ الْعَبْدُ قَصِيدَتَهُ هَذِهِ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن زکریا، ہشام بن عروہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حسان (رض) نے کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے ابوسفیان کے بارے میں کچھ کہنے کی اجازت دیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کے ساتھ میری قرابت کا لحاظ کیسے کرو گے حسان (رض) نے عرض کیا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ ﷺ کو معزز و مکرم بنایا میں آپ ﷺ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے میں سے بال کو نکال لیا جاتا ہے حسان نے کہا اور بیشک خاندان بنو ہاشم میں سے بنت مخزوم کی اولاد ہی عظمت و بزرگی والی ہے۔ ابوسفیان ! تیرا والد تو غلام تھا جیسے بیان کیا گیا۔
Aisha reported that Hassin said: Allahs Messenger, permit me to write satire against Abu Sufyan (RA) , whereupon he said: How can it be because I am also related to him? Thereupon he (Hassan) said: By Him Who has honoured you. I shall draw you out from them (their family) just as hair is drawn out from the fermented (flour). Thereupon Hassan said: The dignity and greatness belongs to the tribe of Bint Makhzum from amongst the tribe of Hisham, whereas your father was a slave.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَائِ الْمُشْرِکِينَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبَا سُفْيَانَ وَقَالَ بَدَلَ الْخَمِيرِ الْعَجِينِ
عثمان بن ابی شیبہ عبدہ ہشام بن عروہ حسان بن ثابت (رض) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت نے نبی ﷺ سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت طلب کی اس سند میں ابوسفیان کا نام ذکر نہیں کیا اور خمیر کی جگہ عجین کہا ہے۔
Urwa reported on the same chain of transmitters that Hassan b. Thabit sought permission from Allahs Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) to satirise against the polytheists, but he did not mention Abu Sufyan. And instead of the word al- Khamir, the word al-Ajin was used.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اهْجُوا قُرَيْشًا فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ فَأَرْسَلَ إِلَی ابْنِ رَوَاحَةَ فَقَالَ اهْجُهُمْ فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يُرْضِ فَأَرْسَلَ إِلَی کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ حَسَّانُ قَدْ آنَ لَکُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَی هَذَا الْأَسَدِ الضَّارِبِ بِذَنَبِهِ ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يُحَرِّکُهُ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْيَ الْأَدِيمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَعْجَلْ فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ أَعْلَمُ قُرَيْشٍ بِأَنْسَابِهَا وَإِنَّ لِي فِيهِمْ نَسَبًا حَتَّی يُلَخِّصَ لَکَ نَسَبِي فَأَتَاهُ حَسَّانُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَخَّصَ لِي نَسَبَکَ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَأَسُلَّنَّکَ مِنْهُمْ کَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنْ الْعَجِينِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُکَ مَا نَافَحْتَ عَنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَی وَاشْتَفَی قَالَ حَسَّانُ هَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ وَعِنْدَ اللَّهِ فِي ذَاکَ الْجَزَائُ هَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا تَقِیَّا رَسُولَ اللَّهِ شِيمَتُهُ الْوَفَائُ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَائُ ثَکِلْتُ بُنَيَّتِي إِنْ لَمْ تَرَوْهَا تُثِيرُ النَّقْعَ مِنْ کَنَفَيْ کَدَائِ يُبَارِينَ الْأَعِنَّةَ مُصْعِدَاتٍ عَلَی أَکْتَافِهَا الْأَسَلُ الظِّمَائُ تَظَلُّ جِيَادُنَا مُتَمَطِّرَاتٍ تُلَطِّمُهُنَّ بِالْخُمُرِ النِّسَائُ فَإِنْ أَعْرَضْتُمُو عَنَّا اعْتَمَرْنَا وَکَانَ الْفَتْحُ وَانْکَشَفَ الْغِطَائُ وَإِلَّا فَاصْبِرُوا لِضِرَابِ يَوْمٍ يُعِزُّ اللَّهُ فِيهِ مَنْ يَشَائُ وَقَالَ اللَّهُ قَدْ أَرْسَلْتُ عَبْدًا يَقُولُ الْحَقَّ لَيْسَ بِهِ خَفَائُ وَقَالَ اللَّهُ قَدْ يَسَّرْتُ جُنْدًا هُمْ الْأَنْصَارُ عُرْضَتُهَا اللِّقَائُ لَنَا فِي کُلِّ يَوْمٍ مِنْ مَعَدٍّ سِبَابٌ أَوْ قِتَالٌ أَوْ هِجَائُ فَمَنْ يَهْجُو رَسُولَ اللَّهِ مِنْکُمْ وَيَمْدَحُهُ وَيَنْصُرُهُ سَوَائُ وَجِبْرِيلٌ رَسُولُ اللَّهِ فِينَا وَرُوحُ الْقُدُسِ لَيْسَ لَهُ کِفَائُ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی خالد بن یزید سعید بن ابی ہلال عمارہ بن غزیہ محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ بن عبدالرحمن سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریش کی ہجو کرو کیونکہ یہ انہیں تیروں کی بوچھاڑ سے بھی زیادہ سخت محسوس ہوتی ہے آپ ﷺ نے ابن رواحہ کی طرف پیغام بھیجا تو فرمایا ان کی ہجو کرو انہوں نے ہجو بیان کی لیکن آپ ﷺ خوش نہ ہوئے پھر حضرت کعب بن مالک (رض) کی طرف پیغام بھیجا پھر حسان بن ثابت کو بلوایا جب حسان (رض) آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس دم ہلاتے ہوئے شیر کو تم میری طرف چھوڑ دو پھر اپنی زبان کو نکالا اور اسے حرکت دینا شروع کردیا اور عرض کیا اس ذات کی قسم ! جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں انہیں اپنی زبان سے چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا جس طرح چمڑے کو چیر دیا جاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جلدی مت کرو بیشک ابوبکر (رض) قریش کے نسب کو خوب جانتے ہیں اور تیرا نسب قریش کے نصب سے بالکل واضح کردیں گے۔ پس حضرت حسان (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور پھر واپس گئے تو عرض کیا اے اللہ کے رسول تحقیق انہوں نے مجھے آپ ﷺ کا نسب واضح کردیا ہے اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے میں آپ ﷺ کو اس سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے سیدہ عائشہ (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت حسان کو فرماتے ہوئے سنا جب تک اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مدافعت کرتا رہے گا روح القدس برابر تیری نصرت و مدد کرتا رہے گا اور کہتی ہیں میں نے رسول اللہ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ حسان نے کفار کی ہجو بیان کر کے مسلمانوں کو شفاء یعنی خوشی دی اور کفار کو بیمار کردیا ہے حسان نے کہا۔ تو نے محمد کی ہجو کی ہے ان کی طرف سے میں جواب دیتا ہوں اور اس میں اللہ ہی کے پاس جزا اور بدلہ ہوگا تو نے محمد کی ہجو کی جو نیک اور دین حنیف کے مطابق تقوی اختیار کرنے والے اللہ کے رسول ہیں وعدہ وفا کرنا ان کی صفت ہے بیشک میرے باپ اور میری ماں اور میری عزت محمد ﷺ کو تم سے بچانے کے لئے صدقہ اور قربان ہیں میں اپنے آپ پر آہ وزاری کروں اگر تم نہ دیکھو اس کو کہ کداء کے دونوں طرف سے غبار کو اڑا دے گا وہ گھوڑے جو باگوں پر زور کریں اپنی قوت و طاقت سے اوپر چڑھتے ہوئے ان کے کندھوں پر خون کے پیاسے نیزے ہیں ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کے نتھنوں کو عورتیں اپنے دوپٹوں سے صاف کریں گی اگر تم ہم سے رو گردانی و اعراض کرو تو ہم عمرہ کریں گے اور فتح ہوجانے سے پردہ اٹھ جائے گا ورنہ صبر کرو اس دن کی مار کے لئے جس دن اللہ جسے چاہے گا عزت عطا کرے گا اور اللہ نے فرمایا ہے تحقیق میں نے اپنا بندہ بھیجا ہے جو حق بات کہتا ہے جس میں کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے اور اللہ نے کہا ہے کہ میں نے ایک لشکر تیار کردیا ہے اور انصار ہیں کہ انکا مقصد صرف دشمن سے مقابلہ ہے وہ ہر دن کسی نہ کسی تیاری میں ہے کبھی گالیاں دی جاتی ہیں یا لڑائی یا ہجو ہے۔ پس تم میں سے جو بھی رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرے یا آپ ﷺ کی تعریف کرے اور آپ ﷺ کی مدد کرے سب برابر ہے ہم میں اللہ کا پیغام لانے والے جبرائیل و روح القدس موجود ہیں جن کا کوئی ہمسر اور برابر کرنے والا نہیں ہے۔
Aisha reported that Allahs Messenger (may peace be upon him) said. Satirise against the (non-believing amongst the) Quraish, for (the satire) is more grievous to them than the hurt of an arrow. So he (the Holy Prophet) sent (someone) to Ibn Rawiha and asked him to satirise against them, and he composed a satire, but it did not appeal to him (to the Holy Prophet). He then sent (someone) to Kab bin Malik (to do the same, but what he composed did not appeal to the Holy Prophet). He then sent one to Hassan bin Thabit. As he got into his presence, Hassan said: Now you have called for this lion who strikes (the enemies) with his tail. He then brought out his tongue and began to move it and said: By Him Who has sent you with Truth, I shall tear them with my tongue as the leather is torn. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Dont be hasty; (let) Abu Bakr (RA) who has the best know- ledge of the lineage of the Quraish draw a distinction for you in regard to my lineage, as my lineage is the same as theirs. Hassan then came to him (Abu Bakr) and after making inquiry (in regard to the lineage of the Holy Prophet) came back to him (the holy Prophet) and said: Allahs Messenger, he (Abu Bakr) has drawn a distinction in vour lineage (and that of the Quraish) By Him Who has sent you with Truth, I shall draw out from them (your name) as hair is drawn out from the flour. Aisha said: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying to Hassin: Verily Ruh-ul- Qudus would continue to help you so long as you put up a defence on behalf of Allah and His Messenger. And she said: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying: Hassan satirised against them and gave satisfaction to the (Muslims) and disquieted (the non-Muslims).
You satirised Muhammad, but I replied on his behalf,
And there is reward with Allah for this.
You satirised Muhammad. Virtuous, righteous,
The Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whose nature is truthfulness.
So verily my father and his father and my honour
Are a protection to the honour of Muhammad;
May I lose my dear daughter, if you dont see her,
Wiping away the dust from the two sides of Kada,
They pull at the rein, going upward;
On their shoulders are spears thirsting (for the blood of the enemy) ;
our steeds are sweating-our women wipe them with their mantles.
If you had not interfered with us, we would have performed the Umrah,
And (then) there was the Victory, and the darkness cleared away.
Otherwise wait for the fighting on the day in which Allah will honour whom He pleases.
And Allah said: I have sent a servant who says the Truth in which there is no ambiguity;
And Allah said: I have prepared an army-they are the Ansar whose object is fighting (the enemy),
There reaches every day from Maadd abuse, or fighting or satire;
Whoever satirises the Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from amongst you, or praises him and helps it is all the same,
And Gabriel (علیہ السلام), the Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is among us, and the Holy Spirit who has no match.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي کَثِيرٍ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ کُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَی الْإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِکَةٌ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَکْرَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَی الْإِسْلَامِ فَتَأْبَی عَلَيَّ فَدَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيکَ مَا أَکْرَهُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جِئْتُ فَصِرْتُ إِلَی الْبَابِ فَإِذَا هُوَ مُجَافٌ فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ فَقَالَتْ مَکَانَکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَائِ قَالَ فَاغْتَسَلَتْ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَفَتَحَتْ الْبَابَ ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَأَنَا أَبْکِي مِنْ الْفَرَحِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ قَدْ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعْوَتَکَ وَهَدَی أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَقَالَ خَيْرًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَی عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيْنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَکَ هَذَا يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ وَأُمَّهُ إِلَی عِبَادِکَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْ إِلَيْهِمْ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا خُلِقَ مُؤْمِنٌ يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي
عمرو ناقد عمرو بن یونس یمامی عکرمہ عمار ابی کثیر یزید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ مشرکہ تھیں میں نے ایک دن انہیں دعوت دی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ایسے الفاظ مجھے سنائے جنہیں میں گورا نہ کرتا تھا میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ میں رو رہا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ انکار کرتی تھی میں نے آج انہیں دعوت دی تو اس نے ایسے الفاظ آپ ﷺ کے بارے میں مجھے سنائے جنہیں (سننا) مجھے گوارا نہ تھا آپ ﷺ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ابوہریرہ (رض) کی والدہ کو ہدایت عطا فرمائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ابوہریرہ (رض) کی والدہ کو ہدایت عطا فرما میں نبی ﷺ کی دعا لے کر خوشی سے نکلا جب میں آیا اور دروازہ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بند کیا ہوا ہے پس میری والدہ نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو کہا اے ابوہریرہ اپنی جگہ پر رک جاؤ اور میں نے پانی گرنے کی آواز سنی پس اس نے غسل کیا اور اپنی قمیض پہنی اور اپنا دوپٹہ اوڑھتے ہوئے جلدی سے باہر آئیں اور دروازہ کھولا پھر کہا اے ابوہریرہ (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ) میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا اور میں خوشی سے رو رہا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! خوشخبری ہو اللہ نے آپ ﷺ کی دعا کو قبول فرما لیا اور ابوہریرہ (رض) کی والدہ کو ہدایت عطا فرما دی پس آپ ﷺ نے اللہ عزوجل کی تعریف اور اس کی صفت بیان کی اور کچھ بھلائی کے جملے ارشاد فرمائے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ میری اور میری والدہ کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور ہمارے دلوں میں ان کی محبت پیدا فرما دے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! اپنے بندوں کے ہاں محبوب بنا دے اور مؤمنین کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے اور کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرا ذکر سنایا مجھے دیکھا ہوا اور اس نے مجھ سے محبت نہ کی ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported: I invited my mother, who was a polytlieist, to Islam. I invited her one day and she said to me something about Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which I hated. I came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) weeping and said: Allahs Messenger, I invited my mother to Islam but she did not accept (my invitation). I invited her today but she said to me something which I did not like. (Kindly) supplicate Allah that He may set the mother of Abu Hurairah (RA) right. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O Allah, set the mother of Abu Hurairah (RA) on the right path. I came out quite pleased with the supplication of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and when I came near the door it was closed from within. My mother heard the noise of my footsteps and she said: Abu Hurairah (RA) , just wait, and I heard the noiee of falling of water. She took a bath and put on the shirt and quickly covered her head with a headdress and opened the door and then said: Abu Hurairah (RA) , I bear witness to the fact that there is no god but Allah and Mubammad is His bondsman and His Messenger. He ( Abu Hurairah (RA) ) said: I went back to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and (this time) I was shedding the tears of joy. I said: Allahs Messenger, be happy, for Allah has responded to your supplication and He has set on the right path the mother of Abu Hurairah (RA) . He (the Holy Prophet) praised Allah, and extolled Him and uttered good words. I said: Allahs Messenger, supplicate to Allah so that He may instil love of mine and that of my mother too in the believing servants and let our hearts be filled with their love, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O Allah, let there be love of these servants of yours, i. e. Abu Hurairah (RA) and his mother, in the hearts of the believing servants and let their hearts be filled with the love of the believing servants. ( Abu Hurairah (RA) said: This prayer) was so well granted by Allah that no believer was ever born who heard of me and who saw me but did not love me.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا إِنَّکُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُکْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ کُنْتُ رَجُلًا مِسْکِينًا أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مِلْئِ بَطْنِي وَکَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَکَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمْ الْقِيَامُ عَلَی أَمْوَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ فَلَنْ يَنْسَی شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي فَبَسَطْتُ ثَوْبِي حَتَّی قَضَی حَدِيثَهُ ثُمَّ ضَمَمْتُهُ إِلَيَّ فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان، زہیر سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت اعرج (رح) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ تم خیال کرتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے کثرت کے ساتھ احادیث روایت کرتا ہے اور اللہ ہی وعدہ کی جگہ ہے میں غریب و مسکین آدمی تھا اور میں رسول اللہ کی خدمت میں اپنے پیٹ بھرنے پر کیا کرتا تھا اور مہاجرین کو بازار کے معاملات میں مشغولیت رہتی تھی اور انصار اپنے اموال کی حفاظت میں مصروف رہتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اپنے کپڑے کو پھیلائے گا وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات کبھی بھی نہ بھلائے گا پس میں نے اپنا کپڑا پھیلا دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی حدیث پوری کی پھر میں نے اس کپڑے کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اس میں سے کوئی بھی حدیث نہ بھولا جو آپ ﷺ سے سن چکا تھا۔
Al-Araj reported that he heard Abu Hurairah (RA) as saying: You are under the impression that Abu Hurairah (RA) transmits so many ahadith from Allahs Messenger (may peace up upon him) ; (bear in mind) Allah is the great Reckoner. I was a poor man and I served Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) being satisfied with bare subsistence, whereas the immigrants remained busy with transactions in the bazar; while the Ansar had been engaged in looking after their properties. (He further reported) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who spreads the cloth would not forget anything that he would hear from me. I spread my cloth until he narrated something. I then pressed it against my (chest), so I never forgot anything that I heard from him.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مَعْنٌ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ مَالِکًا انْتَهَی حَدِيثُهُ عِنْدَ انْقِضَائِ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِهِ الرِّوَايَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ إِلَی آخِرِهِ
عبداللہ بن جعفر بن یحییٰ بن خالد، مالک بن انس، عبد بن حمید، عبدالرزاق اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ یہ حدیث ابوہریرہ (رض) کے قول پر پوری ہوجاتی ہے اور اس میں نبی ﷺ کا قول اپنے کپڑے کو جو پھیلائے گا سے آخر حدیث تک مذکور نہیں ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira but with the variation that the hadith transmitted on the authority of Malik conclude with the words of Abu Huraira and there is no mention of a transmission of these from Allahs Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ):
" who spreads his cloth," to the end.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَلَا يُعْجِبُکَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَائَ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِکَ وَکُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَکْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ کَسَرْدِکُمْ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی ابن وہب، یونس ابن شہاب عروہ بن زبیر عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ کیا تم حضرت ابوہریرہ (رض) پر تعجب نہیں کرتے وہ آئے اور میرے حجرہ کے ایک طرف بیٹھ کر مجھے رسول اللہ ﷺ سے مروی حدیثیں سنانے لگے اور میں تسبیح کر رہی تھی اور میری تسبیح پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اٹھ کر چلے گئے اور اگر میں ان کو پالیتی تو تردید کرتی کہ رسول اللہ تمہاری طرح مسلسل احادیث بیان نہ کرتے تھے
Aisha reported:
Dont you feel surprised at Abu Huraira? He came (one day) and sat beside the nook of my apartment and began to narrate (the hadith of Allahs Apostle). I was hearing while I was engaged in extolling Allah (reciting Subhan Allah) constantly. He stood up before I finished my repetition of Subhan Allah. if I were to meet him I would have warned him in stern words that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) did not speak so quickly as you talk.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدْ أَکْثَرَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ وَيَقُولُونَ مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ لَا يَتَحَدَّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ وَسَأُخْبِرُکُمْ عَنْ ذَلِکَ إِنَّ إِخْوَانِي مِنْ الْأَنْصَارِ کَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَرَضِيهِمْ وَإِنَّ إِخْوَانِي مِنْ الْمُهَاجِرِينَ کَانَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَکُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مِلْئِ بَطْنِي فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَيُّکُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ فَيَأْخُذُ مِنْ حَدِيثِي هَذَا ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَی صَدْرِهِ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْسَ شَيْئًا سَمِعَهُ فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ حَتَّی فَرَغَ مِنْ حَدِيثِهِ ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَی صَدْرِي فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِکَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ وَلَوْلَا آيَتَانِ أَنْزَلَهُمَا اللَّهُ فِي کِتَابِهِ مَا حَدَّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا إِنَّ الَّذِينَ يَکْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنْ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَی إِلَی آخِرِ الْآيَتَيْنِ و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّکُمْ تَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُکْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
ابن مسیب (رض) نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ بیشک ابوہریرہ (رض) کثرت کے ساتھ احادیث روایت کرتا ہے اور اللہ ہی وعدہ کی جگہ ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس کی احادیث روایت نہیں کرتے میں ابھی تمہیں اس بارے میں خبر دوں گا میرے انصاری بھائیوں کو زمین (کھیتی باڑی) کی مصروفیت تھی اور میرے مہاجرین بھائی بازار اور تجارت میں مشغول تھے اور میں نے اپنے آپ کو پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لازم کرلیا تھا جب وہ غائب ہوتے تو میں حاضر ہوتا تھا جب وہ بھول جاتے میں یاد کرتا تھا اور ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے کپڑے کو پھیلائے گا وہ میری ان احادیث کو لے لے گا پھر انہیں اپنے سینہ میں جمع کرلے گا پھر وہ آپ ﷺ سے سنی ہوئی کوئی بات بھی کبھی نہ بھلائے پس میں نے اپنی چادر کو بچھا دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی بات سے فارغ ہوگئے اور پھر میں نے اسے سمیٹ کر اپنے سینہ سے چمٹا لیا اور اس کے بعد آج تک میں کوئی حدیث نہ بھولا جو آپ ﷺ نے مجھ سے بیان کی اور اگر اللہ نے اپنی کتاب میں یہ دو آیات مبارکہ نہ نازل کی ہوتیں تو میں کبھی بھی کوئی حدیث روایت نہ کرتا ( إِنَّ الَّذِينَ يَکْتُمُونَ ) بیشک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ہماری نشانیاں اور ہدایت کی باتیں جو ہم نے اتاری ہیں آخر تک عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، سعید بن مسیب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ کثرت کے احادیث روایت کرتے ہیں باقی حدیث گزر چکی۔
Ibn Shihab transmitted on the authority of Ibn Musayyib that Abu Huraira said:
People say that Abu Huraira transmits so many ahadith, whereas Allah is the Reckoner, and they say: How is it with Muhajirs and the Ansar that they do not narrate ahadith like him (like Abu Huraira)? Abu Huraira said: I tell you that my brothers from Ansar remained busy with their lands and my brothers Muhajirs were busy in transactions in the bazars, but I always kept myself attached to Allahs Messenger (ﷺ) with bare subsistence. I remained present (in the company of the Holy Prophet), whereas they had been absent. I retained in my mind (what the Prophet said), whereas they forgot it. One day Allahs Messenger (ﷺ) said: He who amongst you spreads the cloth and listens to my talk and would then press it against his chest would never forget anything heard from me. So I spread my mantle and when he had concluded his talk I then pressed it against my chest and so I never forgot after that day anything that he (the Holy Prophet) said. And if these two verses would not have been revealed in the Book I would have never transmitted anything (to anybody):" Those who conceal the clear evidence and the guidance that We revealed" (ii. 159) tip to the last verse.
حاطب بن ابی بلتعہ (رض) اور اہل بدر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ وَهُوَ کَاتِبُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ ائْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا کِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَعَادَی بِنَا خَيْلُنَا فَإِذَا نَحْنُ بِالْمَرْأَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْکِتَابَ فَقَالَتْ مَا مَعِي کِتَابٌ فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَی نَاسٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ مَا هَذَا قَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ قَالَ سُفْيَانُ کَانَ حَلِيفًا لَهُمْ وَلَمْ يَکُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا أَکَانَ مِمَّنْ کَانَ مَعَکَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِکَ مِنْ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَلَمْ أَفْعَلْهُ کُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيکَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَی أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِيَائَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَکْرٍ وَزُهَيْرٍ ذِکْرُ الْآيَةِ وَجَعَلَهَا إِسْحَقُ فِي رِوَايَتِهِ مِنْ تِلَاوَةِ سُفْيَانَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر عمرو اسحاق سفیان بن عیینہ، عمرو حسن بن محمد عبیداللہ بن ابی رافع علی حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، زبیر اور مقداد کو بھیجا اور فرمایا کہ خاخ باغ کی طرف جاؤ وہاں ایک اونٹ سوار عورت ملے گی جس کے پاس خط ہوگا پس تم وہ خط اس سے لے لینا۔ پس گھوڑے دوڑاتے ہوئے چل پڑے پس جب تم عورت کے پاس پہنچے تو اس سے کہا خط نکالو اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ہم نے کہا خط نکال دے ورنہ اپنے کپڑے اتار۔ پس اس نے وہ خط اپنے سر کی میں مینڈھیوں سے نکال کر دے دیا ہم وہ خط لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو اس میں یہ لکھا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ کے مشرکین لوگوں کی طرف اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے بعض معاملات کی خبر دی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا اے حاطب یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے متعلق جلدی میں کوئی فیصلہ نہ کریں میں قریش سے ملا ہوا یعنی ان کا حلیف آدمی تھا سفیان (رح) نے کہا کہ وہ مشرکین کا حلیف تھا لیکن ان کے خاندان سے نہ تھا اور جو آپ ﷺ کے ساتھ مہاجرین میں سے صحابہ ہیں ان کی وہ ان رشتہ داریاں ہیں اور انہی رشتہ داریوں کی وجہ سے وہ ان کے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے پس میں نے پسند کیا کہ ان کے ساتھ میرا نسبی تعلق تو ہے نہیں کہ میں ان پر ایک احسان ہی کر دوں جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں گے اور میں نے ایسا نہ تو کفر کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اپنے دین سے مرتد ہونے کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام قبول کرنے کے بعد کفر پر راضی رہنے کی وجہ سے تو نبی ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ ﷺ نے فرمایا یہ غزوہ بدر میں شریک ہوگیا ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے ( آئندہ) حالات سے واقفیت کے باوجود فرمایا ہے تم جو چاہو عمل کرو تحقیق میں نے تمہیں معاف کردیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَا ءَ ) 66 ۔ الممتحنہ : 1) اے ایمان والوں میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔
Ubaidullah bin Rafi, who was the scribe of All, reported: I heard Ali (RA) as saying: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent me and Zubair and Miqdad saying: Go to the garden of, Khakh [it is a place between Madinah and Makkah at a distance of twelve miles from Madinah] and there you will find a woman riding a camel. She would be in possession of a letter, which you must get from her. So we rushed on horses and when we met that woman, we asked her to deliver that letter to us. She said: There is no letter with me. We said: Either bring out that letter or we would take off your clothes. She brought out that letter from (the plaited hair of) her head. We delivered that letter to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in which Hatib bin Abu Baltaa had informed some people amongst the polytheists of Makkah about the affairs of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Hatib, what is this? He said: Allahs messenger, do not be hasty in judging my intention. I was a person attached to the Quraish. Sufyan said: He was their ally but had no relationship with them. (Hatib further said): Those who are with you amongst the emigrants have blood-relationship with them (the Quraish) and thus they would protect their families. I wished that when I had no blood-relationship with them I should find some supporters from (amongst them) who would help my family. I have not done this because of any unbelief or apostasy and I have no liking for the unbelief after I have (accepted) Islam. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: You have told the truth. Umar said: Allahs Messenger, permit me to strike the neck of this hypocrite. But he (the Holy Prophet) said: He was a participant in Badr and you little know that Allah revealed about the people of Badr: Do what you like for there is forgiveness for you. And Allah, the Exalted and Glorious, said:" O you who believe, do not take My enemy and your enemy for friends" (lx. 1). And there is no mention of this verse in the hadith transmitted on the authority of Abu Bakr (RA) and Zubair and Ishaq has in his narration made a mention of the recitation of this verse by Sufyan.
حاطب بن ابی بلتعہ (رض) اور اہل بدر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ کُلُّهُمْ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَکُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنْ الْمُشْرِکِينَ مَعَهَا کِتَابٌ مِنْ حَاطِبٍ إِلَی الْمُشْرِکِينَ فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل اسحاق بن ابراہیم، عبداللہ بن ادریس رفاعہ بن ہیثم واسطی خلاد بن عبداللہ حصین سعد بن عیبدہ ابوعبدالرحمن سلمی علی حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، ابومرثد غنوی اور زبیر بن عوام کو بھیجا اور ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ یہاں تک کہ تم باغ خاخ میں پہنچو وہاں مشرکین میں سے ایک عورت ہوگی جس کے پاس حاطب کی طرف سے مشرکین کے نام ایک خط ہوگا باقی حدیث گزر چکی۔
Ali reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent me and Abu Marthad al-Ghitnavi and Zubair bin Awwam and we were all riders, and he said: Ride on until you reach the garden of Khakh for there is a woman amongst the polytheists and there is a letter with her sent by Hatib to the polytheists; the rest of the hadith is the same.
حاطب بن ابی بلتعہ (رض) اور اہل بدر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَائَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْکُو حَاطِبًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابی زبیر جابر، عبد حاطب حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت حاطب (رض) کا ایک غلام رسول اللہ کی خدمت میں حاطب کی شکایت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! حاطب تو جہنم میں داخل ہوجائے گا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے جھوٹ کہا وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا۔
Jabir reported that a slave of Hatib came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) complaining against Hatib and said: Hatib will definitely go to Hell. (But) Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: You tell a lie; he would not get into that for he had taken part in Badr and in (the expedition of) Hudaibiya.
اصحاب شجرہ یعنی بیعت رضوان میں شریک (صحابہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَائَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا قَالَتْ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْتَهَرَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا
ہارون بن عبداللہ حجاج بن محمد ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت ام مبشر سے روایت ہے کہ اس نے نبی ﷺ کو سیدہ حفصہ (رض) سے فرماتے ہوئے سنا انشاء اللہ اصحاب شجرہ میں سے کوئی ایک بھی جہنم میں داخل نہ ہوگا جنہوں نے اس درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیوں نہیں تو آپ ﷺ نے انہیں جھڑکا تو سیدہ حفصہ (رض) نے عرض کیا (وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُهَا) یعنی تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر پیش نہ کیا جائے تو نبی ﷺ نے فرمایا تحقیق اللہ رب العزت نے فرمایا (ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا) پھر ہم پرہیز گاروں کو نجات دے دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل اس میں چھوڑ دیں گے۔
Umm Mubashshir reported that she heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying in presence of Hafsa: God willing, the people of the Tree would never enter the fire of Hell one amongst those who owed allegiance under that. She said: Allahs Messenger, why not? He scolded her. Hafsa said: And there is none amongst you but shall have to pass over that (narrow Bridge). Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Allah, the Exalted and Glorious, has said: We would rescue those persons who are God-conscious and we would leave the tyrants to their fate there (xix. 72).
سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا ابو عامر اشعری (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلَا تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْشِرْ فَقَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ أَکْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَبِي مُوسَی وَبِلَالٍ کَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ فَقَالَ إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَی فَاقْبَلَا أَنْتُمَا فَقَالَا قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَائٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَی وُجُوهِکُمَا وَنُحُورِکُمَا وَأَبْشِرَا فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَتْهُمَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَائِ السِّتْرِ أَفْضِلَا لِأُمِّکُمَا مِمَّا فِي إِنَائِکُمَا فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَة
ابوعامر ابوکریب ابی اسماہ ابوعامر ابواسامہ برید جدہ ابوبردہ حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس حاضر تھا اس حال میں کہ آپ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام جعرانہ پر قیام پذیر تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال (رض) بھی تھے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی نے حاضر ہو کر عرض کیا اے محمد ﷺ آپ مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کریں گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا خوشخبری ہو تو اس اعرابی نے آپ ﷺ سے کہا کیا آپ ﷺ نے مجھے کثرت کے ساتھ کہا تو خوش ہوجاؤ تو رسول اللہ ﷺ حضرت ابوموسی اور بلال کی طرف غصہ کی حالت میں متوجہ ہوئے اور فرمایا یہ وہ آدمی ہے جس نے بشارت کو رد کردیا ہے تم دونوں قبول کرلو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم نے قبول کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اس میں اپنے ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی بھی کی پھر فرمایا اس میں سے تم دونوں پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر انڈیل لو اور خوش ہوجاؤ پس انہوں نے پیالہ لے کر اسی طرح کیا جو انہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا پھر انہیں پردہ کے پیچھے سے ام سلمہ (رض) نے آواز دی کہ اپنی والدہ کے لئے بھی اپنے برتنوں سے بچا لینا پس انہوں نے انہیں بھی اس سے بچا ہوا دے دیا۔
Abu Musa reported: I was in the company of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as he had been sitting in Jirana (a place) between Makkah and Madinah and Bilal (RA) was also there, that there came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a desert Arab, and he said: Muhammad, fulfill your promise that you made with me. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Accept glad tidings. Thereupon the desert Arab said: You shower glad tidings upon me very much; then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) turned towards Abu Musa and Bilal (RA) seemingly in a state of annoyance and said: Verily he has rejected glad tidings but you two should accept them. We said: Allahs Messenger, we have readily accepted them. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called for a cup of water and washed his hands in that and face too and put the saliva in it and then said: Drink out of it and pour it over your faces and over your chest and gladden yourselves. They took hold of the cup and did as Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had commanded them to do. Thereupon Umm Salamah called from behind the veil: Spare some water in your vessel for your mother also, and they also gave some water which had been spared for her.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا ابو عامر اشعری (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَی جَيْشٍ إِلَی أَوْطَاسٍ فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَقُتِلَ دُرَيْدٌ وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ أَبُو مُوسَی وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ قَالَ فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُکْبَتِهِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي جُشَمٍ بِسَهْمٍ فَأَثْبَتَهُ فِي رُکْبَتِهِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَنْ رَمَاکَ فَأَشَارَ أَبُو عَامِرٍ إِلَی أَبِي مُوسَی فَقَالَ إِنَّ ذَاکَ قَاتِلِي تَرَاهُ ذَلِکَ الَّذِي رَمَانِي قَالَ أَبُو مُوسَی فَقَصَدْتُ لَهُ فَاعْتَمَدْتُهُ فَلَحِقْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي وَلَّی عَنِّي ذَاهِبًا فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ أَلَا تَسْتَحْيِي أَلَسْتَ عَرَبِيًّا أَلَا تَثْبُتُ فَکَفَّ فَالْتَقَيْتُ أَنَا وَهُوَ فَاخْتَلَفْنَا أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَی أَبِي عَامِرٍ فَقُلْتُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ صَاحِبَکَ قَالَ فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ فَنَزَعْتُهُ فَنَزَا مِنْهُ الْمَائُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي انْطَلِقْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ يَقُولُ لَکَ أَبُو عَامِرٍ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ وَاسْتَعْمَلَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَی النَّاسِ وَمَکَثَ يَسِيرًا ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي بَيْتٍ عَلَی سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ وَقَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنْبَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ وَقُلْتُ لَهُ قَالَ قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ حَتَّی رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ کَثِيرٍ مِنْ خَلْقِکَ أَوْ مِنْ النَّاسِ فَقُلْتُ وَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاسْتَغْفِرْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا کَرِيمًا قَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِحَدَاهُمَا لِأَبِي عَامِرٍ وَالْأُخْرَی لِأَبِي مُوسَی
عبداللہ بن براء، ابوعامر اشعری ابوکریب محمد بن علاء، ابی عامر ابواسامہ یزید حضرت ابوبردہ (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ابوعامر (رض) کو ایک لشکر کے ہمراہ طاؤس کی طرف بھیجا پس درید بن صمہ سے ان کا مقابلہ ہوا تو درید کا قتل روک دیا گیا اور اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست سے دوچار کیا ابوموسی نے کہا مجھے بھی ابوعامر کے ہمراہ بھیجا تھا پس ابوعامر کے گھٹنے میں تیر مارا گیا جو کہ بنو جشم کے ایک آدمی نے پھینکا تھا اور وہ تیر آ کر ان کے گھٹنے میں چبھ گیا میں ان کی طرف بڑھا تو میں نے کہا اے چچا جان آپ کو کس نے تیر مارا ہے تو ابوعامر نے اشارہ کے ذریعہ ابوموسی کو بتایا کہ وہ جسے تم دیکھ رہے ہو وہ میرا قاتل ہے اور اسی نے مجھے تیر مارا ہے ابوموسی نے کہا میں اسے (مارنے) کے ارادہ سے چل دیا اور اسے جا پہنچا پس اس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کردیا میں بھی اس کے پیچھے چل دیا اور اسے کہنا شروع کردیا کیا تجھے حیاء نہیں آتی کیا تو عربی نہیں ہے کیا تو نہیں ٹھہرے گا وہ رک گیا پھر میرا اور اس کا مقابلہ ہوا پس اس نے بھی وار کیا اور میں نے بھی وار کیا بالآخر میں نے اسے قتل کردیا ہے اس نے کہا یہ تیر نکالو میں نے اسے نکالا تو اس کی جگہ سے پانی نکلنا شروع ہوگیا تو انہوں نے کہا اے بھیجتے رسول اللہ ﷺ کی طرف جا اور آپ کو میری طرف سے سلام عرض کر اور آپ سے عرض کر کہ ابوعامر آپ سے عرض کرتا ہے کہ میرے لئے مغفرت طلب فرمائیں اور ابوعامر نے مجھے لوگوں پر امیر مقرر کردیا پھر وہ تھوڑی ہی دیر کے بعد شہید ہوگئے پس جب میں نبی ﷺ کی طرف لوٹا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ گھر میں بان کی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے جس پر بستر نہ تھا اس وجہ سے چارپائی کے نشانات آپ ﷺ کے پہلؤوں اور کمر پر نمایاں تھے پس میں نے آپ ﷺ کو اپنی اور ابوعامر کی خبر دی اور آپ ﷺ سے عرض کیا ابوعامر (رض) نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ آپ ﷺ میرے لئے دعائے مغفرت فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور اس سے وضو فرمایا پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے اللہ عبید ابوعامر کی مغفرت فرما یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر فرمایا اے اللہ اسے قیامت کے دن اپنی اکثر مخلوق یا لوگوں سے بلندی و عظمت عطا فرما میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اور میرے لئے بھی دعائے مغفرت فرما دیں تو نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہوں کو معاف فرما دے اور اسے قیامت کے دن معزز جگہ میں داخل فرما ابوبردہ نے کہا ان میں ایک دعا ابوعامر اور دوسری دعا ابوموسی کے لئے کی گئی۔
Abu Burda reported on the authority of his father that when Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had been free from the Battle of Hunain, he sent Abu Amir as the head of the army of Autas. He had an encounter with Duraid bin as_Simma. Duraid was killed and Allah gave defeat to his friends. Abu Musa said: He (the Holy Prophet) sent me along with Abu Amir and Abu Amir received a wound in his knee from the arrow, (shot by) a person of Bani Jusham. It stuck in his knee. I went to him and said: Uncle, who shot an arrow upon you? Abu Amir pointed out to Abu Musa and said: Verily that one who shot an arrow upon me in fact killed me. Abu Musa said: I followed him with the determination to kill him and overtook him and when he saw me he turned upon his heels. I followed him and I said to him: Dont you feel ashamed (that you run), arent you an Arab? Why dont you stop? He stopped and I had an encounter with him and we exchanged the strokes of (swords). I struck him with the sword and killed him. Then I came back to Abu Amir and said: Verily Allah has killed the one who killed you. And he said: Now draw out this arrow. I drew out the arrow and there came out from that (wound) water. Abu Amir said: My nephew, go to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and convey my greetings to him and tell him that Abu Amir begs you to ask forgiveness for him. And Abu Amir appointed me as the chief of the people and he died after a short time. When I came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) I visited him and he had been lying on the cot woven by strings and there was (no) bed over it and so there had been marks of the strings on the back of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and on his sides. I narrated to him what had happened to us and narrated to him about Abu Amir and said to him that he had made a request to the effect that forgiveness should be sought for him (from Allah). Thereupon Allahs Messenger (may peace be. upon him) called for water and performed ablution with it. He then lifted his hands and said. O Allah, grant pardon to Thy servant Abu Amir. (The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had raised his hands so high for supplication) that I saw the whiteness of his armpits. He again said: O Allah, grant him distinction amongst the majority of Thine created beings or from amongst the people. I said: Allahs Messenger, ask forgiveness for me too. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Allah, forgive the sins of Abdullah bin Qais (RA) (Abu Musa Ashari) and admit him to an elevated place on the Day of Resurrection. Abu Burda said: One prayer is for abu Amir and the other is tor Abu Musa.
اشعری (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الْأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ وَإِنْ کُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَکِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَکُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ
ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ برید حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اشعری حضرات جب رات کے وقت گھروں کی طرف قرآن مجید پڑھتے ہوئے آتے ہیں تو میں ان کی آوازوں کو پہچان لیتا ہوں اور ان کے گھروں کو رات کے وقت قرآن پڑھنے کی آواز سے پہچان لیتا ہوں حالانکہ دن میں ان کے گھروں کو نہیں دیکھا جب وہ دن کے وقت اترتے ہیں اور ان میں سے ایک آدمی حکیم ہے جب وہ کافروں کے سواروں یا دشمنوں سے مقابلہ کرتا ہے تو انہیں کہتا ہے میرے ساتھی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو۔
Abu Musa reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I recognise the voice of the Asharites while they recite the Quran as they arrive during the night and I also recognise their station from the recital of the Quran during the night time, although I have not seen their encampments as they encamp during the day time. And there is a person amongst them, Hakim; when he encounters the horsemen or the enemies he says to them: My friends command you to wait for them.
اشعری (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا کَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَائٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ
ابوعامر اشعری ابوکریب ابی اسامہ ابوعامر ابواسامہ برید بن عبداللہ بن جدہ حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک اشعری حضرت جب جہاد میں محتاج ہوجاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کے لئے کھانا کم پڑجاتا ہے تو اپنے پاس موجود سب کچھ ایک کپڑے میں جمع کرلیتے ہیں پھر اسے آپس میں ایک برتن میں برابر برابر تقسیم کرلیتے ہیں وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔
Abu Musa reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When the Asharites run short of provisions in the campaigns or run short of food for their children in Madinah they collect whatever is with them in the cloth and then partake equally from one vessel. They are from me and I am from them.
سیدنا ابوسفیان بن حرب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَی أَبِي سُفْيَانَ وَلَا يُقَاعِدُونَهُ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ثَلَاثٌ أَعْطِنِيهِنَّ قَالَ نَعَمْ قَالَ عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أُزَوِّجُکَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ کَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّی أُقَاتِلَ الْکُفَّارَ کَمَا کُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَلَوْلَا أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِکَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَاهُ ذَلِکَ لِأَنَّهُ لَمْ يَکُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ نَعَمْ
عباس بن عبدالعظیم عنبر احمد بن جعفر معقری نضر ابن محمد یمامی عکرمہ ابوزمیل حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مسلمان نہ تو ابوسفیان کی طرف دیکھتے تھے اور نہ ہی ان کے پاس بیٹھتے تھے۔ تو ابوسفیان (رض) نے نبی ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے نبی تین باتیں مجھے عطا فرمائیں آپ نے فرمایا : جی ہاں ! بتاؤ۔ عرض کیا : میری بیٹی ام حبیبہ بنت ابوسفیان اہل عرب سے حسین و جمیل ہیں میں اس کا نکاح آپ ﷺ سے کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا : بہتر عرض کیا اور معاویہ (رض) کو اپنے لئے کاتب مقرر کرلیں آپ ﷺ نے فرمایا : بہتر آپ ﷺ مجھے حکم دیں کہ میں کفار سے لڑتا رہوں جیسا کہ میں مسلمانوں سے لڑتا تھا آپ ﷺ نے فرمایا بہتر ابوزمیل نے کہا اگر یہ خود نبی ﷺ سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کرتے تو آپ ﷺ یہ کام نہ فرماتے کیونکہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ ﷺ سے جس بھی چیز کا مطالبہ کیا جاتا تو آپ ﷺ اس کے جواب میں ہاں ہی فرماتے تھے۔
Ibn Abbas (RA) reported that the Muslims neither looked to Abu Sufyan (RA) (with respect) nor did they sit in his company. he ( Abu Sufyan (RA) ) said to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Allahs Apostle, confer upon me three things. He replied in the affirmative. He (further) said: I have with me the most handsome and the best (woman) Umm Habiba, daughter of Abu Sufyan (RA) ; marry her, whereupon he said: Yes. And he again said: Accept Muawiyah to serve as your scribe. He said: Yes. He again said: Make me the commander (of the Muslim army) so that I should fight against the unbelievers as I fought against the Muslims. He said: Yes. Abu Zumnail said: If he had not asked for these three things from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , he would have never conferred them upon him, for it was (his habit) to accede to everybodys (earnest) request.
سیدنا جعفر بن ابوطالب (رض) اور سیدہ اسماء بنت عمیس (رض) اور کشتی والوں کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ إِمَّا قَالَ بِضْعًا وَإِمَّا قَالَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ أَوْ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي قَالَ فَرَکِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَی النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ فَقَالَ جَعْفَرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا هَاهُنَا وَأَمَرَنَا بِالْإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّی قَدِمْنَا جَمِيعًا قَالَ فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا أَوْ قَالَ أَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا لِأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ قَالَ فَکَانَ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ نَحْنُ سَبَقْنَاکُمْ بِالْهِجْرَةِ
عبداللہ بن براء، اشعری محمد بن علاء، ہمدانی ابواسامہ برید حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے روانہ ہونے کی خبر پہنچی تو ہم یمن میں تھے پس ہم آپ ﷺ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے روانہ ہوگئے میں اور میرے دو بھائی تھے اور میں ان دونوں سے چھوٹا تھا ان میں سے ایک کا نام ابوبردہ اور دوسرے کا نام ابورہم تھا ہمارے ساتھ چند آدمی یا کہا ترپن یا باون آدمی ہمارے قبیلہ کے بھی تھے پس ہم کشتی میں سوار ہوئے ہمیں ہماری کشتی نے حبشہ میں نجاشی کے پاس جا چھوڑا پس ہمیں اس کے پاس سیدنا جعفر (رض) نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں قیام کرنے کا حکم دیا ہے تم بھی ہمارے ساتھ رہو پس ہم ان کے ساتھ ٹھہر گئے یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے ہو کر آئے پھر ہم رسول اللہ ﷺ سے اس وقت ملے جب خبیر فتح ہوچکا تھا تو آپ ﷺ نے ہمارے لئے حصہ مقرر کیا یا ہمیں بھی خیبر سے عطا کیا اور فتح خیبر میں شریک لوگوں کے علاوہ غائب لوگوں میں سے کسی کو بھی اس کے مال غنیمت میں سے کچھ بھی عطا نہیں کیا تھا اور ہماری کشتی والوں کو بھی حضرت جعفر (رض) اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ فتح خیبر میں شریک لوگوں کے ساتھ تقسیم غنیمت میں حصہ عطا فرمایا پس لوگوں میں بعض نے ہمیں یعنی کشتی والوں سے کہا ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت کی۔
Abu Musa reported: We were in Yemen when we heard of the migration of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . We also set out as immigrants to him. And I was accompanied by two brothers of mine, I being the youngest of them; one of them was Abu Burda and the other one was Abu Ruhm, and there were some other persons with them. Some say they were fifty-three or fifty-two persons of my tribe. We embarked upon a boat, and the boat sailed away to the Negus of Abyssinia. There we met Jafar bin Abu Talib and his companions. Jafar said: Allalls Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has sent us here and has commanded us to stay here and you should also stay with us. So we stayed with him and we came back (to Madinah) and met Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when Khaibar had been conquered. He (the Holy Prophet) allocated a share to us and in the ordinary course he did not allocate the share to one who had been absent on the occasion of the conquest of Khaibar but conferred (a share) upon him only who had been present there with him. He, however, made an exception for the people of the boat, viz. for Jafar and his companions. He allocated a share to them, and some persons from amongst the people said to us, viz. the people of the boat: We have preceded you in migration.
سیدنا جعفر بن ابوطالب (رض) اور سیدہ اسماء بنت عمیس (رض) اور کشتی والوں کے فضائل کے بیان میں
قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَيْسٍ وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا عَلَی حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً وَقَدْ کَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَی النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَی حَفْصَةَ وَأَسْمَائُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَی أَسْمَائَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ فَقَالَتْ أَسْمَائُ نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ سَبَقْنَاکُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْکُمْ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ کَلِمَةً کَذَبْتَ يَا عُمَرُ کَلَّا وَاللَّهِ کُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَکُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَکُمْ وَکُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَائِ الْبُغَضَائِ فِي الْحَبَشَةِ وَذَلِکَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّی أَذْکُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ کُنَّا نُؤْذَی وَنُخَافُ وَسَأَذْکُرُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ وَ وَاللَّهِ لَا أَکْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَی ذَلِکَ قَالَ فَلَمَّا جَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْکُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَکُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَی وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنْ الدُّنْيَا شَيْئٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقَالَتْ أَسْمَائُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَی وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي
اسماء بنت عمیس حفصہ (رض) حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ حضرت اسماء (رض) کی خدمت میں جو ہمارے ساتھ آئی تھیں وہ زوجہ نبی ﷺ کی خدمت میں ملاقات کرنے لئے حاضر ہوئیں اور اس نے مہاجرین کے ساتھ نجاشی کی طرف ہجرت کی تھی پس حضرت عمر (رض) سیدہ حفصہ (رض) کے پاس آئے اور ان کے پاس حضرت اسماء (رض) کو دیکھا تو کہا یہ کون ہے ؟ سید حفصہ (رض) نے کہا اسماء بنت عمیس (رض) ۔ حضرت عمر (رض) نے کہا یہ حبشہ بحریہ ہے اسماء (رض) نے کہا ہاں تو حضرت عمر (رض) نے کہا ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہم تم سے زیادہ رسول اللہ کے حقدار ہیں وہ ناراض ہوگئیں اور ایک بات کہی کہ اے عمر آپ نے غلط کہا ہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم تم رسول اللہ کے ساتھ تھے جو تمہارے بھوکوں کو کھلاتے اور تمہارے جاہلوں کو نصیحت کرتے تھے اور ہم ایسے علاقے میں تھے جو دور دراز اور دشمن ملک حبشہ میں تھے اور وہاں صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لئے تھے اللہ کی قسم میں اس وقت تک نہ کوئی کھانا کھاؤں گی اور نہ پینے کی کوئی چیز پیوں گی جب تک آپ کی کہی بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے نہ کرلوں اور ہمیں تکلیف دی جاتی تھی اور ڈرایا جاتا تھا میں عنقریب رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کروں گی اور آپ ﷺ سے اس بارے میں سوال کروں گی اور اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی نہ بےراہ چلوں گی اور نہ ہی اس پر کوئی زیادتی کروں گی جب نبی ﷺ تشریف لائے تو اسماء نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ حضرت عمر (رض) نے اس اس طرح کہا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ تم سے زیادہ میرے (قرب کے) حقدار نہیں اس نے اس کے ساتھیوں نے ایک مرتبہ ہجرت کی تمہارے اور کشتی والوں کے لئے دو ہجرتیں ہیں اسماء نے کہا تحقیق میں نے ابوموسی اور کشتی والوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس گروہ در گروہ آتے اور وہ یہ حدیث سنتے تھے دنیا کی کوئی چیز انہیں اس سے زیادہ خوش کرنے والی اور اس فرمان نبی ﷺ سے زیادہ عظمت والی ان کے ہاں نہ تھی۔ سیدہ نے کہا میں نے ابوموسی کو دیکھا کہ وہ یہ حدیث مجھ سے بار بار دہرایا کرتے تھے۔
Asma bint Umais who had migrated to Abyssinia and had come back along with them (along with immigrants) visited Hafsa, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (Accordingly), Umar had been sitting with her (Hafsa). As Umar saw Asma, he said: Who is she? She (Hafsa) said: She is Asma, daughter of Umais. He said: She is an Abyssinian and a sea-woman. Asma said: Yes, it is so. Thereupon Umar said: We preceded you in migration and so we have more right to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as compared with you. At this she felt annoyed and said: Umar, you are not stating the fact; by Allah, you had the privilege of being in the company of the Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who fed the hungry among you and instructed the ignorant amongst you, whereas we had been far (from here) in the land of Abyssinia amongst the enemies and that was all for Allah and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and, by Allah, I would never take food nor take water unless I make a mention to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of what you have said. We remained in that country in constant trouble and dread and I shall talk about it to Allahs Messenger (way peace be upon him) and ask him (about it). By Allah, I shall not tell a lie and deviate (from the truth) and add anything to that. So, when Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came, she said: Allahs Apostle, Umar says so and so. Upon this Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: His right is not more than yours, for him and his companions there is one migration, but for you, i. e. for the people of the boat, there are two migrations. She said: I saw Abu Musa and the people of the boat coming to me in groups and asking me about this hadith, because there was nothing more pleasing and more significant for them than this. Abu Burda reported that Asma said: I saw Abu Musa, asking me to repeat this hadith to him again and again.