Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 321 of 379

6412Sahih Muslimصحیح

سیدنا سلیمان، صہیب اور بلال (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَتَی عَلَی سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلَالٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا قَالَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ لَعَلَّکَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ کُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّکَ فَأَتَاهُمْ أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُکُمْ قَالُوا لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ يَا أَخِي

محمد بن حاتم، بہز حماد بن سلمہ ثابت معاویہ بن قرہ عابد بن عمرو ابوسفیان، سلمان صہیب (رض) بلال (رض) حضرت عائذ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان، سیدنا سلمان، صہیب اور بلال (رض) کے پاس آئے کچھ لوگ بھی ان کے پاس موجود تھے تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردنوں میں اپنی جگہ پر نہیں پہنچی ہیں تو حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کیا تم قریش کے اس شیخ اور ان کے سردار کے بارے میں ایسے کہتے ہو ؟ پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس بات کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر شاید تو نے ان کو ناراض کردیا ہو اگر تو نے انہیں ناراض کردیا ؟ تو تیرا رب تجھ پر ناراض ہوجائے گا پھر ابوبکر ان کے پاس آئے تو کہا اے میرے بھائیوں میں نے تمہیں ناراض کردیا انہوں نے کہا نہیں اے میرے بھائی اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔

Aidh bin Amr reported that Abu Sufyan (RA) came to Salman, Suhaib and Bilal (RA) in the presence of a group of persons. They said: By Allah, the sword of Allah did not reach the neck of the enemy of Allah as it was required to reach. Thereupon Abu Bakr (RA) said: Do you say this to the old man of the Quraish and their chief? Then he came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be uponhim) and informed him of this. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Abu Bakr, you have perhaps annoyed them and if you annoyed them you have in fact annoyed your Lord. So Abu Bakr (RA) came to them and said: O my brothers, I have annoyed you. They said: No, our brother, may Allah forgive you

6413Sahih Muslimصحیح

سیدنا سلیمان، صہیب اور بلال (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فِينَا نَزَلَتْ إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا بَنُو سَلِمَةَ وَبَنُو حَارِثَةَ وَمَا نُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، احمد بن عبدہ اسحاق سفیان، عمرو، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ (اِذْ ھَمَّتْ طَّا ى ِفَتٰنِ مِنْكُمْ ) 3 ۔ آل عمران : 122) ہمارے بارے میں یعنی بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آیت کریمہ نازل نہ ہوتی کیونکہ اللہ عزوجل نے واللہ ولیہما فرما دیا ہے۔ (یعنی ان دو جماعتوں کا مددگار اللہ ہے) ۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that it was concerning them (the Ansar) that this verse was revealed, that when the two groups amongst you were about to lose heart and Allah was the Guardian of them both. This concerned Banu Salama and Banu Haritha and we did not like that Allah, the Exalted and Glorious, should not have revealed this verse for the fact that Allah (gave an assurance) of being the Guardian of both.

6414Sahih Muslimصحیح

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، قتادہ، نضر بن انس، حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ انصار کی اور انصار کے بیٹوں کی اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فرما۔

Zaid bin Arqam reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O Allah,, grant forgiveness to the Ansar, the offspring of the Ansar and the offspring of the offspring of the Ansar.

6415Sahih Muslimصحیح

انصار کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، حضرت شعبہ (رض) اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Shulba with the same chain of transmitters.

6416Sahih Muslimصحیح

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لِلْأَنْصَارِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ لَا أَشُکُّ فِيهِ

ابومعن رقاشی عمر بن یونس عکرمہ ابن عمار اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے لئے اور انصار کی اولاد کے لئے اور انصار کے غلاموں کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی۔

Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sought forgiveness for the Ansar and he said: I think (he also sought forgiveness) for the children of the Ansar and the slaves and the freed men of the Ansar. I have no doubt about it.

6417Sahih Muslimصحیح

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی صِبْيَانًا وَنِسَائً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا فَقَالَ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیر اسماعیل عبدالعزیز ابن صہیب حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کچھ بچوں اور کچھ عورتوں کو ایک شادی میں سے آتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے نبی ﷺ سیدھے کھڑے ہوگئے اور پھر فرمایا اللہ کی قسم ! اے انصار تم مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو اللہ کی قسم ! اے انصار تم مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو۔

Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw children and women of the Ansar coming back from a wedding feast. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood up motionless (as a mark of respect) and said: O Allah, (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people, (and said: O Allah (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people. And he meant Ansar.

6418Sahih Muslimصحیح

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا جَائَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّکُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار غندر ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، ہشام بن زید حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو رسول اللہ ﷺ اس عورت کی (بات سننے کیلئے) علیحدگی میں ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم لوگوں میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو (آپ ﷺ نے یہ بات) تین مرتبہ فرمائی۔

Anas bin Malik (RA) reported that a woman from the Ansar came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood aside with her and said: By Him in Whose Hand is my life, you are dearest to me amongst the people. He repeated it thrice.

6419Sahih Muslimصحیح

انصار کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن ادریس، حضرت شعبہ (رض) اس سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been reported on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.

6420Sahih Muslimصحیح

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْأَنْصَارَ کَرِشِي وَعَيْبَتِي وَإِنَّ النَّاسَ سَيَکْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، جضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار کے لوگ میرے بااعتماد اور مخصوص لوگوں میں سے ہیں اور لوگ تو بڑھتے چلے جائیں گے لیکن یہ کم ہوتے چلے جائیں گے لہذا ان کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کی خطاؤں کو معاف کردو۔

Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The Ansar are my family and my trusted friends. and the people would increase in number whereas they (the Ansar) would become less and less, so appreciate the deeds of those from amongst them who do good and overlook their failings.

6421Sahih Muslimصحیح

انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ فَقَالَ سَعْدٌ مَا أَرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا فَقِيلَ قَدْ فَضَّلَکُمْ عَلَی کَثِيرٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ حضرت ابواسید (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار کے گھرانوں میں سے بہترین گھرانہ بنی نجار کا گھرانہ ہے پھر بن عبدالاشہل کا پھر نبو حارث بن خزرج کا پھر بنو ساعدہ کا اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے حضرت سعد کہتے ہیں کہ میرے خیال میں رسول اللہ ﷺ نے دوسرے لوگوں کو ہم پر فضیلت عطا فرمائی ہے تو ان سے لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺ کو بھی تو بہت سوں پر فضیلت دی گئی ہے۔

Abu Usaid reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The worthiest clans of the Ansar are Banu Najjar, thereafter Banu al-Ashhal; thereafter Banu Harith bin Banu Khazraj; thereafter Banu Saidah and there is goodness in all clans of the Ansar. Sad said: I see that he (the Holy Prophet) has placed others above us. It was said to (him): He has placed you above many others.

6422Sahih Muslimصحیح

انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانے کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ

محمد بن مثنی، ابوداؤد شعبہ، قتادہ، انس، حضرت ابوسعید انصاری (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایایت نقل کی ہے۔

Abu Usaid Ansari has reported this hadith through another chain of transmitters. When the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was marching towards Badr in order

6423Sahih Muslimصحیح

انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْکُرُ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَ سَعْدٍ

قتیبہ بن رمح لیث، بن سعد قتیبہ عبدالعزیز ابن محمد ابن مثنی ابن ابی عمر عبدالوہاب ثقفی یحییٰ بن سعید حضرت انس (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے سوائے اس کے کہ اس میں حضرت سعد کے قول کا ذکر نہیں کیا گیا۔

Anas reported a hadith like this from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) but he has made no mention in the hadith of the words of Sad.

6424Sahih Muslimصحیح

انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُسَيْدٍ خَطِيبًا عِنْدَ ابْنِ عُتْبَةَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ وَدَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَدَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ وَدَارُ بَنِي سَاعِدَةَ وَاللَّهِ لَوْ کُنْتُ مُؤْثِرًا بِهَا أَحَدًا لَآثَرْتُ بِهَا عَشِيرَتِي

محمد بن عباد محمد بن مہران رازی ابن عباد حاتم ابن اسماعیل عبدالرحمن بن حمیدا براء، ہیم بن محمد بن طلحہ ابا اسید حضرت ابراہیم بن محمد بن طلحہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت اسید سے ابن عتبہ کے پاس سنا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار کے گھرانوں میں سے بہترین گھرانہ بنی نجار کا گھرانہ ہے اور بنی عبدالاشہل اور بنی حارث بن خزرج اور بنی ساعدہ کا گھرانہ ہے اللہ کی قسم اگر میں ان انصار پر کسی کو ترجیح دیتا تو اپنے خاندان کو ترجیح دیتا۔

Ibrahim bin Muhammad bin Talha reported: I heard Abu Sald delivering an address in the presence of Abu Utba that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The worthiest settlements of the Ansar are those of Banu Najjar, then of Banu Abu al-Ashhal and then of Banu Harith and then of Banu Khazraj and then of the clan of Banu Saidah, and if I were to give preference to anyone besides them I would have given preference to my relatives.

6425Sahih Muslimصحیح

انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ شَهِدَ أَبُو سَلَمَةَ لَسَمِعَ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ يَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو أُسَيْدٍ أُتَّهَمُ أَنَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کُنْتُ کَاذِبًا لَبَدَأْتُ بِقَوْمِي بَنِي سَاعِدَةَ وَبَلَغَ ذَلِکَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَوَجَدَ فِي نَفْسِهِ وَقَالَ خُلِّفْنَا فَکُنَّا آخِرَ الْأَرْبَعِ أَسْرِجُوا لِي حِمَارِي آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَلَّمَهُ ابْنُ أَخِيهِ سَهْلٌ فَقَالَ أَتَذْهَبُ لِتَرُدَّ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمُ أَوَ لَيْسَ حَسْبُکَ أَنْ تَکُونَ رَابِعَ أَرْبَعٍ فَرَجَعَ وَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ وَأَمَرَ بِحِمَارِهِ فَحُلَّ عَنْهُ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، مغیرہ بن عبدالرحمن ابی زناد ابوسلمہ حضرت ابواسید انصاری (رض) گواہی دتیے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار کے گھرانوں میں بہترین گھرانہ نبی نجار کا گھرانہ ہے پھر بنی عبدالاشہل پھر بنو حارث بن خزرج پھر بنو ساعدہ کا اور انصار کے سب گھرانوں میں خیر ہے حضرت ابوسلمہ (رض) کہتے ہیں کہ حضرت ابواسید (رض) نے فرمایا کیا میں رسول اللہ پر تہمت لگا سکتا ہوں ؟ (یعنی میں رسول اللہ ﷺ کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں کرسکتا) اگر میں جھوٹا ہوتا تو پہلے میں اپنی قوم نبی ساعدہ کا نام لیتا یہ بات حضرت سعد بن عبادہ تک پہنچی تو انہیں (یہ بات سن کر) افسوس ہوا اور کہنے لگے کہ ہم چاروں گھرانوں کے آخر میں ہوگئے تم لوگ میرے گدھے پر زین کسو میں رسول اللہ کی خدمت میں جاتا ہوں آپ ﷺ سے بات کرتا ہوں حضرت سہل کے بھیجتے نے کہا کیا آپ رسول اللہ کی بات رد کرنے کے لئے جا رہے ہیں حالانکہ رسول اللہ تو زیادہ جانتے ہیں کیا آپ کے لئے (یہ سعادت) کافی نہیں ہے تم چار میں سے چوتھے نمبر پر ہو پھر حضرت سعد واپس لوٹ پڑے اور فرمانے لگے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں اور انہوں نے اپنے گدھے سے زین کھولنے کو حکم دے دیا۔

Abu Usaid Ansar reported: I bear witness to the fact that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The best settlements of the Ansar are of those of Banu Najjar, then of Banu Abu al-Aslihal and then of Banu Harith bin Khazraj, then of Banu Saida and there is in every settlement of the Ansar good. Abu Salama reported that Abu Usaid said: Can I tell a Iie about Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? And if I were a liar, I would have started with my tribe Banu Saida. This was conveyed to Sad bin Ubida and he found (rankling) in his mind and said: We have been left behind (in the sense) that we have been (mentioned) last of the four. He (Sad) sid: Saddle my pony so that I should go to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . His nephew saw him and said: Are you going to contradict (the order of) precedence set by Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereas Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has the best knowledge of it? Is it not sufficient for you that you are the fourth amongst the four (best tribes of the Ansar)? So he returned and said: Allah and His Messenger know best, and he commanded that his pony should be unsaddled.

6426Sahih Muslimصحیح

انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍحَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ الْأَنْصَارِ أَوْ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ فِي ذِکْرِ الدُّورِ وَلَمْ يَذْکُرْ قِصَّةَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

عمرو بن علی بن بحر ابوداؤد حرب بن شداد یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت اسید انصاری (رض) بیان فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے بہترین انصار یا فرمایا انصار کا بہترین گھرانہ اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی لیکن اس میں حضرت سعد بن عبادہ (رض) کے واقعہ کا ذکر نہیں ہے۔

Abu Usaid Ansari reported that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The worthiest of the Ansar or the worthiest of the settlements and the clans of Ansar; the rest of the hadith is the same, but there is no mention of the story of Sad bin Ubida (RA) .

6427Sahih Muslimصحیح

انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ عَظِيمٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ أُحَدِّثُکُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ قَالُوا ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ فِي کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مُغْضَبًا فَقَالَ أَنَحْنُ آخِرُ الْأَرْبَعِ حِينَ سَمَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَهُمْ فَأَرَادَ کَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهِ اجْلِسْ أَلَا تَرْضَی أَنْ سَمَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَارَکُمْ فِي الْأَرْبَعِ الدُّورِ الَّتِي سَمَّی فَمَنْ تَرَکَ فَلَمْ يُسَمِّ أَکْثَرُ مِمَّنْ سَمَّی فَانْتَهَی سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ عَنْ کَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمرو ناقد عبد بن حمید یعقوب ابن ابراہیم، بن سعد ابوصالح ابن شہاب ابوسلمہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت میں تشریف فرما تھے آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں انصار کا بہترین گھرانہ نہ بتاؤں ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جی ہاں (بتائیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی عبدالاشہل۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول پھر کونسا گھرانہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر بنو نجار کا گھرانہ صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول پھر کون سا گھرانہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر بنو حارث بن خزرج کا گھرانہ۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول پھر کونسا گھرانہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا پھر بنی ساعدہ کا گھرانہ۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا پھر کونسا گھرانہ اے اللہ کے رسول ؟ آپ ﷺ نے فرمایا انصار کے سب گھروں میں خیر ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ (رض) غصے میں کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ کیا ہم چاروں کے آخر میں ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے ان کے گھرانے کا نام لیا تو انہوں نے رسول اللہ کے فرمان پر اعتراض کرنا چاہا تو ان کی قسم کے آدمیوں نے ان سے کہا بیٹھ جاؤ کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہارے گھرانے کا نام چار گھرانوں میں لیا ہے اور بہت سے گھرانے ایسے ہیں کہ آپ ﷺ نے ان کو چھوڑ دیا اور ان کا نام نہیں لیا۔ تو حضرت سعد بن عبادہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے بات کرنے سے رک گئے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying in a large gathering of the Muslims: Should I not tell you of the best clans of the Ansar? They said: Allahs Messenger, (kindly) do this. Thereupon Allahs Messenger said: That is Banu Abdul Ashhal. They said: Allahs Messenger, then next? He said: Banu Najjar. They again said: Allahs Messenger, then next? He said: Then of Banu Harith bin Khazraj. They then said: Allahs Messenger, then next? He said. Then of Banu Saida. They said: Allahs Messenger, then next? He said: There is good in all the clans of the Ansar. It was upon this that Sad bin Ubida stood up in annoyance and said: Are we the last of the four as Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has determined (the order of precedence) of their clans? He decided to talk with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on this issue, but the people Of his tribe said to him: Be seated, are you not happy with this that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has mentioned your clan as one of the four (best) clans and those whom he left and did not mention (the order of their precedence) are more than those whom he mentioned? And Sad bin Ubadah dropped the idea of talking to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (on this issue).

6428Sahih Muslimصحیح

انصار سے اچھا سلوک کرنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عَرْعَرَةَ وَاللَّفْظُ لِلْجَهْضَمِيِّ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ فِي سَفَرٍ فَکَانَ يَخْدُمُنِي فَقُلْتُ لَهُ لَا تَفْعَلْ فَقَالَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ الْأَنْصَارَ تَصْنَعُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا آلَيْتُ أَنْ لَا أَصْحَبَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا خَدَمْتُهُ زَادَ ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِمَا وَکَانَ جَرِيرٌ أَکْبَرَ مِنْ أَنَسٍ وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ أَسَنَّ مِنْ أَنَسٍ

نصر بن علی محمد بن مثنی ابن بشار ابن عرعرہ حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کے ساتھ ایک سفر میں نکلا وہ میری خدمت کرتے تھے میں نے ان سے عرض کیا آپ ایسے نہ کریں تو انہوں نے فرمایا میں نے انصار کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرتے دیکھا تو میں نے قسم کھائی کہ میں جب بھی انصار سے کسی کے ساتھ ہوں گا تو میں اس کی خدمت کروں گا۔ ابن اعمش اور ابن بشار نے اپنی روایات میں یہ الفاظ زائد کئے ہیں کہ حضرت جریر (رض) حضرت انس (رض) سے بڑے تھے۔

Anas bin Malik (RA) reported: I set out along with Jabrir bin Abdullah al-Bajali on a journey and he used to serve me. I said to him: Dont do that. Thereupon he said: I have seen Ansar doing this with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I swore by Allah whenever I accompany any one of the Ansar, I would serve him and Ibn Muthanni, and Ibn Bashshir made this addition in their narrations: Jarir was older than Anas, and Ibn Bashshir said: He was of a more advanced age as compared with Anas. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) invoked blessings for the tribes of Ghifar and Aslam.

6429Sahih Muslimصحیح

قبیلہ غفار واسلم کے لئے نبی ﷺ کی دعا کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ

ہداب بن خالد ازدی سلیمان بن مغیرہ حمید بن ہلال عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قبیلہ غفار کی اللہ نے مغفرت فرما دی اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔

Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Go to your people and say that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) says: Ghifar (is a tribe) to whom Allah granted pardon, and Aslam (is the tribe) to whom Allah granted safety.

6430Sahih Muslimصحیح

قبیلہ غفار واسلم کے لئے نبی ﷺ کی دعا کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتِ قَوْمَکَ فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا

عبیداللہ بن عمر قواریری محمد بن مثنی، ابن بشار ابن مہدی ابن مثنی عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، ابوعمران جونی عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا تو اپنی قوم کے پاس جا اور ان سے کہہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا اور قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرما دی۔

Abu Dharr (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: To the tribe of Aslam Allah has granted safety and to the tribe of Ghifar Allah has granted pardon.

6431Sahih Muslimصحیح

قبیلہ غفار واسلم کے لئے نبی ﷺ کی دعا کے بیان میں

حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن مثنی، ابن بشار ابوداؤد حضرت شعبہ (رض) اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔

This hadith has been reported on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.