نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَکَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِکَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ مَا هَذَا الَّذِي سَارَّکِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَکَيْتِ ثُمَّ سَارَّکِ فَضَحِکْتِ قَالَتْ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ فَبَکَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِکْتُ
منصور بن ابی مزاحم ابراہیم، ابن سعد عروہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں ان سے کوئی بات فرمائی تو وہ رو پڑیں پھر آپ ﷺ نے ان کے کان میں ان سے کوئی بات فرمائی تو وہ ہنس پڑیں سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا کہ تمہارے کان میں رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا جس کی وجہ سے تم رو پڑیں پھر آپ ﷺ نے کچھ فرمایا تو تم ہنس پڑیں حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ پہلے آپ نے میرے کان میں خبر دی کہ میری موت قریب ہے تو میں رو پڑی پھر آپ ﷺ نے میرے کان میں مجھے خبر دی کہ تو سب سے پہلے میرے گھر والوں میں سے میرا ساتھ دے گی تو پھر میں ہنس پڑی۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called his daughter Fatima (during his last illness). He said. to her something secretly and she wept. He again said to her something secretly and she laughed. Aisha further reported that she said to Fatima: What is that which Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to you secretly and you wept and then said to you something secretly and you laughed? Thereupon she said: He informed me secretly of his death and so I wept. He then again informed me secretly that I would be the first amongst the members of his family to follow him and so I laughed.
نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا فَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَکَتْ بُکَائً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَی جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِکَتْ فَقُلْتُ لَهَا خَصَّکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ ثُمَّ أَنْتِ تَبْکِينَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا مَا قَالَ لَکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا کُنْتُ أُفْشِي عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ عَزَمْتُ عَلَيْکِ بِمَا لِي عَلَيْکِ مِنْ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِي مَا قَالَ لَکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْمَرَّةِ الْأُولَی فَأَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ کَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ فِي کُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّهُ عَارَضَهُ الْآنَ مَرَّتَيْنِ وَإِنِّي لَا أُرَی الْأَجَلَ إِلَّا قَدْ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَإِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَکِ قَالَتْ فَبَکَيْتُ بُکَائِي الَّذِي رَأَيْتِ فَلَمَّا رَأَی جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ أَمَا تَرْضَيْ أَنْ تَکُونِي سَيِّدَةَ نِسَائِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَائِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَالَتْ فَضَحِکْتُ ضَحِکِي الَّذِي رَأَيْتِ
ابوکامل جحدری فضیل بن حسین ابوعوانہ، فراس عامر مسروق، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ساری ازواج مطہرات (رض) آپ ﷺ کے پاس موجود تھیں ان میں سے کوئی بھی زوجہ مطہرہ غیر حاضر نہیں تھی تو اسی دوران حضرت فاطمہ تشریف لائیں اور حضرت فاطمہ کا چلنے کا انداز رسول اللہ کے چلنے کی طرح تھا تو جب آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو دیکھا تو آپ نے ان کو خوش آمدید اے میری بیٹی فرمایا پھر آپ نے حضرت فاطمہ کو اپنی دائیں یا اپنی بائیں طرف بٹھا لیا پھر آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ کے کان میں خاموشی سے کوئی بات فرمائی تو وہ بہت سخت رونے لگی تو جب آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ کا یہ حال دیکھا تو پھر دوبارہ آپ ﷺ نے ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنس پڑیں (سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ) میں نے فاطمہ (رض) سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے ہٹ کر تجھ سے کیا خاص باتیں کی ہیں پھر تم رو پڑیں پھر جب رسول اللہ کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا ہے ؟ حضرت فاطمہ کہنے لگیں کہ میں رسول اللہ کا راز فاش نہیں کروں گی سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہ وفات پا گئے تو میں نے حضرت فاطمہ کو اس حق کی قسم دی جو میرا ان پر تھا کہ مجھ سے وہ بات بیان کرو جو رسول اللہ ﷺ نے تم سے فرمائی حضرت فاطمہ کہنے لگی کہ اب میں بیان کروں گی وہ یہ کہ جس وقت آپ ﷺ نے میرے کان میں پہلی مرتبہ بات بیان فرمائی کہ حضرت جبریئل (علیہ السلام) ہر سال میرے ساتھ ایک یا دو مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور اس مرتبہ حضرت جبریئل نے دو مرتبہ دور کیا ہے جس کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ موت کا وقت قریب ہوگیا ہے پس تو اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر کیونکہ میں تیرے لئے بہترین پیش خیمہ ہوں میں رو پڑی جس طرح کہ تو نے مجھے روتے ہوئے دیکھا ہے تو پھر آپ نے دوبارہ میرے کان میں جو بات فرمائی (وہ یہ ہے کہ) اے فاطمہ ! کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہوجاتی کہ تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو حضرت فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں ہنس پڑی جس طرح کہ آپ ﷺ نے مجھے ہنستے ہوئے دیکھا تھا۔
Aisha reported: We, the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , were with him (during his last illness) and none was absent therefrom that Fatima, who walked after the style of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , came there, and when he saw her he welcomed her saying: You are welcome, my daughter. He their made her sit on his right side or on his left side. Then he said something secretly to her and she wept bitterly and when he found her (plunged) in grief he said to her something secretly for the second time and she laughed. I (Aisha) said to her: Allahs Messenger has singled you amongst the women (of the family) for talking (to you something secretly) and you wept. When Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recovered from illness, I said to her. What did Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say to you? Thereupon she said: I am not going to disclose the secret of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . When Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died, I said to her: I adjure you by the right that I have upon you that you should narrate to me what Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to you. She said: Yes, now I can do that (so listen to it). When he talked to me secretly for the first time he informed me that Gabirel was in the habit of reciting the Quran along with him once or twice every year, but this year it had been twice and so he perceived his death quite near, so fear Allah and be patient (and he told me) that he would be a befitting forerunner for me and so I wept as you saw me. And when he saw me in grief he talked to me secretly for the second time and said: Fatima, are you not pleased that you should be at the head of the believing women or the head of this Umma? I laughed and it was that laughter which you saw.
نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعَ نِسَائُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةً فَجَائَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي کَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَکَتْ فَاطِمَةُ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِکَتْ أَيْضًا فَقُلْتُ لَهَا مَا يُبْکِيکِ فَقَالَتْ مَا کُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَکَتْ أَخَصَّکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ دُونَنَا ثُمَّ تَبْکِينَ وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ مَا کُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ إِنَّهُ کَانَ حَدَّثَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ کَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ کُلَّ عَامٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ فِي الْعَامِ مَرَّتَيْنِ وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّکِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَکِ فَبَکَيْتُ لِذَلِکَ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي فَقَالَ أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَکُونِي سَيِّدَةَ نِسَائِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَائِ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَضَحِکْتُ لِذَلِکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابی زکریا، فراس عامر مسروق، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی تمام عورتیں اکٹھی ہوئی ان میں سے کوئی زوجہ مطہرہ بھی غائب نہیں تھی تو اسی دوران حضرت فاطمہ (رض) آئیں ان کے چلنے کا انداز رسول اللہ کے چلنے کے انداز جیسا تھا آپ نے فرمایا اے میری بیٹی خوش آمدید حضرت فاطمہ کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھا لیا پھر آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ (رض) کے کان میں کوئی بات فرمائی تو حضرت فاطمہ رو پڑیں پھر آپ نے اس طرح حضرت فاطمہ کے کان میں کوئی بات فرمائی تو پھر وہ ہنس پڑیں میں نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ کس وجہ سے روئیں تو حضرت فاطمہ فرمانے لگیں کہ میں رسول اللہ کا زار فاش نہیں کروں گی میں نے کہا میں نے آج کی طرح کی کبھی ایسی خوشی نہیں دیکھی کہ جو رنج والم سے اس قدر قریب ہو پھر میں نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے علیحدہ ہو کر تجھ سے خاص بات فرمائی ہے پھر تم رو پڑی ہو اور میں نے حضرت فاطمہ سے اس بات کے بارے میں پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا ہے حضرت فاطمہ فرمانے لگیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز فاش نہیں کرنے والی ہوں یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا تو وہ کہنے لگیں کہ آپ نے مجھ سے بیان فرمایا تھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر سال میرے ساتھ ایک مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور اس مرتبہ دو مرتبہ دور کیا ہے میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے اور تو میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی اور میں تیرے لئے بہترین پیش خیمہ ہوں گا اس وجہ سے میں رو پڑی پھر آپ نے میرے کان میں فرمایا : (اے فاطمہ ! ) کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تو مومن عورتوں کی سردار ہے یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہے تو پھر میں ہنس پڑی۔
Aisha reported that all the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had gathered (in her apartment) during the days of his (Prophets) last illness and no woman was left behind that Fatima, who walked after the style of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , came there. He welcomed her by saying: You are welcome, my daughter, and made her sit on his right side or on his left side, and then talked something secretly to her and Fitima wept. Then he talked something secretly to her and she laughed. I said to her: What makes you weep? She said; I am not going to divulge the secret of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I (Aisha) said: I have not seen (anything happening) like today, the happiness being more close to grief (as I see today) when she wept. I said to her: Has Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) singled you out for saying something leaving us aside? She then wept and I asked her what he said, and she said: I am not going to divulge the secrets of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And when he died I again asked her and she said that he (the Holy Prophet) told her: Gabriel (علیہ السلام) used to recite the Quran to me once a year and for this year it was twice and so I perceived that my death had drawn near, and that I (Aisha) would be the first amongst the members of his family who would meet him (in the Hereafter). He shall be my good forerunner and it made me weep. He again talked to me secretly (saying): Arnt you pleased that you should be the sovereign amongst the believing women or the head of women of this Umma? And this made me laugh.
ام المومنیں حضرت ام سلمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ الْمُعْتَمِرِ قَالَ ابْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ لَا تَکُونَنَّ إِنْ اسْتَطَعْتَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ السُّوقَ وَلَا آخِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْهَا فَإِنَّهَا مَعْرَکَةُ الشَّيْطَانِ وَبِهَا يَنْصِبُ رَايَتَهُ قَالَ وَأُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَی نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ مَنْ هَذَا أَوْ کَمَا قَالَ قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّی سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ خَبَرَنَا أَوْ کَمَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
عبدالاعلی بن حماد محمد بن عبدالاعلی قیسی معتمر ابن حمد معتمر بن سلیمان حضرت سلمان (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ اگر تجھ سے ہو سکے تو تو سب سے پہلے بازار میں داخل نہ ہو اور نہ ہی سب کے بعد بازار سے نکل کیونکہ بازار شیطان کا معرکہ ہے اور اس جگہ اس کا جھنڈا گاڑھا ہوا ہوتا ہے حضرت سلمان (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے اور حضرت ام سلمہ (رض) آپ ﷺ کے پاس تھیں راوی کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ سے باتیں کرنے لگے پھر کھڑے ہوئے تو اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت ام سلمہ (رض) سے پوچھا کہ یہ کون تھے ؟ حضرت ام سلمہ (رض) نے عرض کیا کہ یہ حضرت دحیہ کلبی (رض) تھے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میں تو انہیں حضرت دحیہ کلبی ہی سمجھتی رہی یہاں تک کہ میں نے اللہ کے نبی کا خطبہ سنا آپ ﷺ ہماری خبر ان سے بیان فرما رہے تھے راوی حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوعثمان (رض) سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے انہوں نے فرمایا حضرت اسامہ بن زید (رض) سے۔
Salman reported: In case it lies in your power dont be one to enter the bazar first and the last to get out of that because there is a bustle and the standard of Satan is set there. He said: I was informed that Gabriel (علیہ السلام) (RA) came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and there was with him Umm Salamah and he began to talk with him. He then stood up, whereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to Umm Salamahh (RA) : (Do you know) who was he and what did he say? She said: He was Dihya (Kalbi). He reported Umm Salamah having said: By Allah, I did not deem him but only he (Dihya) until I heard the address of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) informing him about us. He (the narrator) said: I said to Uthman: From whom did you hear it? He said: From Usama bin Zaid.
ام المومنین حضرت زینب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی السِّينَانِيُّ أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعُکُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُکُنَّ يَدًا قَالَتْ فَکُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا قَالَتْ فَکَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ لِأَنَّهَا کَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَصَدَّقُ
محمود بن غیلان ابواحمد فضل بن موسیٰ سیانی طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ ام المومنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی کہ جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہوں گے تو ساری ازواج مطہرات (رض) اپنے اپنے ہاتھ ناپنے لگیں تاکہ پتہ چلے کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم سب میں سے زیادہ لمبے ہاتھ حضرت زینب (رض) کے تھے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرتی اور صدقہ خیرات دیتی تھیں۔
Aisha, the Mother of the Faithful, reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who has the longest hands amongst you would meet me most immediately. She farther said: They (the wives of Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to measure the hands as to whose hand was the longest and it was the hand of Zainab that was the longest amongst them, as she used to work with her hand and spend (that income) on charity.
حضرت ام ایمن (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أُمِّ أَيْمَنَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَنَاوَلَتْهُ إِنَائً فِيهِ شَرَابٌ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَصَادَفَتْهُ صَائِمًا أَوْ لَمْ يُرِدْهُ فَجَعَلَتْ تَصْخَبُ عَلَيْهِ وَتَذَمَّرُ عَلَيْهِ
ابوکریب محمد بن علاء ابواسامہ سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت اُمِّ ایمن کی طرف تشریف لے گئے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چل پڑا حضرت ام ایمن ایک برتن میں شربت لے کر آئیں حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ روزہ کی حالت میں تھے یا آپ ﷺ نے ویسے ہی اسے واپس لوٹا دیا تو حضرت ام ایمن آپ ﷺ پر چلانے لگیں اور آپ ﷺ پر غصہ ہونے لگیں۔
Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went to Umm Aiman and I went along with him and she served him a drink in a vessel and he reported that the narrator said: I do not know whether it was because of the fasting (or for any other reason) that he (the Holy Prophet) refused to accept that. She raised her voice and showed annoyance to him.
حضرت ام ایمن (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا کَمَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَکَتْ فَقَالَا لَهَا مَا يُبْکِيکِ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَا أَبْکِي أَنْ لَا أَکُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَکِنْ أَبْکِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدْ انْقَطَعَ مِنْ السَّمَائِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَی الْبُکَائِ فَجَعَلَا يَبْکِيَانِ مَعَهَا
زہیر بن حرب، عمرو بن عاصم، کلابی سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ کی وفات کے بعد حضرت عمر (رض) سے فرمایا کہ ہمارے ساتھ حضرت ام ایمن کی طرف چلو تاکہ ہم ان کی زیارت کریں جس طرح کہ رسول اللہ ان کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے تو جب ہم حضرت ام ایمن کی طرف پہنچے تو وہ رونے لگ گئیں دونوں حضرات نے حضرت ام ایمن سے فرمایا آپ کیوں روتی ہیں جو اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول اللہ کے لئے بہتر ہے حضرت ام ایمن کہنے لگیں کہ میں اس وجہ سے نہیں روتی کہ میں یہ نہیں جانتی کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لئے بہتر ہے بلکہ میں اس وجہ سے روتی ہوں کہ آسمان سے وحی آنی منقطع ہوگئی حضرت ام ایمن کے یہ کہنے سے ان دونوں حضرات کو بھی رونا آگیا اور پھر یہ دونوں حضرات بھی حضرت ام ایمن کی ساتھ رونے لگ گئے۔
Anas reported that after the death of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Abu Bakr (RA) said to Umar (RA) : Let us visit Umm Aiman as Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to visit her. As we came to her, she wept. They ( Abu Bakr (RA) and Umar) said to her: What makes you weep? What is in store (in the next world) for Allahs-Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is better than (this worldly life). She said: I weep not because I am ignorant of the fact that what is in store for Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (in the next world) is better than (this world), but I weep because the revelation which came from the Heaven has ceased to come. This moved both of them to tears and they began to weep along with her.
حضرت انس بن مالک کی والدہ ام سلیم اور حضرت بلال (رضی اللہ عنہم) کی فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ عَلَی أَحَدٍ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِهِ إِلَّا أُمِّ سُلَيْمٍ فَإِنَّهُ کَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِکَ فَقَالَ إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي
حسن حلوانی عمرو بن عاصم، ہمام اسحاق بن عبداللہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات (رض) میں سے حضرت ام سلیم (رض) کے علاوہ کسی کے ہاں نہیں جایا کرتے تھے آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے ان پر بڑا رحم آتا ہے ان کا بھائی میرے ساتھ مارا گیا۔
Anas reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not enter the house of any woman except that of his wives and that of Umm Sulaim. He used to visit her. It was said to him why it was so, whereupon he said: I feel great compassion for her. Her brother was killed while he was with me.
حضرت انس بن مالک کی والدہ ام سلیم اور حضرت بلال (رضی اللہ عنہم) کی فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذِهِ الْغُمَيْصَائُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ
ابن ابی عمر بشر ابن سری حماد بن سلمہ ثابت، حضرت انس (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں کسی کے چلنے کی آواز سنی میں نے کہا یہ کون ہے وہاں والوں نے مجھے بتایا کہ یہ غمیصاء بنت ملحان حضرت انس کی والدہ ہیں۔
Anas reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I entered Paradise and heard the noise of steps. I said: Who is it? They said: She is Ghumaisa, daughter of Milhan, the mother of Anas bin Malik (RA).
حضرت انس بن مالک کی والدہ ام سلیم اور حضرت بلال (رضی اللہ عنہم) کی فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ ثُمَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي فَإِذَا بِلَالٌ
ابوجعفر محمد بن فرج زید ابن حباب عبدالعزیز بن ابوسلمہ محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے ابو طلحہ کی بیوی کو وہاں دیکھا پھر میں نے اپنے آگے چلنے والے کی آواز سنی دیکھا تو وہ حضرت بلال (رضی اللہ عنہ) ہیں۔
Jabir bin Abdullah reported: I was shown Paradise and I saw the wife of Abu Talha (i. e. Umm Sulaim) and I heard the noise of steps before me and, lo, it was that of Bilal (RA) .
ابا طلحہ انصار کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّی أَکُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ قَالَ فَجَائَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَائً فَأَکَلَ وَشَرِبَ فَقَالَ ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا کَانَ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِکَ فَوَقَعَ بِهَا فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ فَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَاحْتَسِبْ ابْنَکَ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ تَرَکْتِنِي حَتَّی تَلَطَّخْتُ ثُمَّ أَخْبَرْتِنِي بِابْنِي فَانْطَلَقَ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا کَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَکَ اللَّهُ لَکُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِکُمَا قَالَ فَحَمَلَتْ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَی الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ فَاحْتُبِسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ إِنَّکَ لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِکَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَدْ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَی قَالَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي کُنْتُ أَجِدُ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعُهُ أَحَدٌ حَتَّی تَغْدُوَ بِهِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ احْتَمَلْتُهُ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيسَمٌ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ قُلْتُ نَعَمْ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ قَالَ وَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلَاکَهَا فِي فِيهِ حَتَّی ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا إِلَی حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ قَالَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
محمد بن حاتم، بن میمون بہز سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوطلحہ (رض) کا ایک بیٹا جو کہ حضرت ام سلیم سے تھا فوت ہوگیا تو حضرت ام سلیم نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ابوطلحہ کو اس کے بیٹے کی خبر نہ بیان کرنا بلکہ میں خود ان سے بات کروں گی۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ پھر حضرت ابوطلحہ آئے تو ام سلیم ان کے سامنے شام کا کھانا لائیں انہوں نے کھانا کھایا اور پیا پھر ام سلیم نے ان کے لئے خوب بناؤ سنگھار کیا یہاں تک کہ حضرت ابوطلحہ نے ام سلیم سے ہم بستری کی تو جب حضرت ابوطلحہ نے دیکھا کہ وہ خوب سیر ہوگئے ہیں اور ان کے ساتھ صحبت بھی کرلی ہے تو پھر حضرت ام سلیم کہنے لگیں اے ابوطلحہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کچھ لوگ کسی کو کوئی چیز ادھار دے دیں پھر وہ لوگ اپنی چیز واپس مانگیں تو کیا وہ ان کو واپس کرنے سے روک سکتے ہیں ؟ حضرت ابوطلحہ (رض) نے کہا نہیں حضرت ام سلیم (رض) کہنے لگیں کہ میں آپ کو آپ کے بیٹے کی وفات کی خبر دیتی ہوں حضرت ابوطلحہ غصے میں ہوئے کہ تو نے مجھے بتایا کیوں نہیں یہاں تک کہ جب میں آلودہ ہوا پھر تو نے مجھے میرے بیٹے کی خبر دی پھر حضرت ابوطلحہ چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آگئے اور آپ ﷺ کو اس چیز کی خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری گزری رات میں برکت عطا فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت ام سلیم حاملہ ہوگئیں رسول اللہ ﷺ کسی سفر میں تھے اور حضرت ام سلیم بھی آپ کے ساتھ تھیں اور رسول اللہ ﷺ جب سفر سے واپس مدینہ منورہ آئے تھے تو رات کو مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوتے تھے جب لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیم کو درد زہ شروع ہوگیا اور حضرت ابوطلحہ ان کے پاس ٹھہر گئے اور رسول اللہ ﷺ چل پڑے حضرت ابوطلحہ کہنے لگے اے میرے پروردگار تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے رسول ﷺ کے ساتھ نکلنا پسند ہے جب آپ ﷺ نکلیں اور مجھے آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہونا پسند ہے جب آپ ﷺ داخل ہوں (اے پروردگار ! ) تو جانتا کہ جس کی وجہ سے میں رک گیا ہوں۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ حضرت ام سلیم کہنے لگیں اے ابوطلحہ مجھے اب اس طرح درد نہیں ہے جس طرح پہلے درد تھی چلو ہم بھی چلتے ہیں حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ جس وقت وہ دونوں مدینہ میں آگئے تو پھر حضرت ام سلیم کو وہی درد زہ شروع ہوگئی پھر ایک بچہ پیدا ہوا۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے کہا اے انس کوئی اس بچے کو دودھ نہ پلائے یہاں تک کہ جب صبح ہوگئی تو اسے رسول ﷺ کی خدمت میں لے کے جانا پھر جب صبح ہوئی تو میں نے اس بچے کو اٹھایا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف چل پڑا۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں اونٹوں کو داغ دینے کا آلہ ہے تو جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا شاید کہ یہ بچہ حضرت ام سلیم نے جنا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں تو پھر آپ ﷺ نے وہ آلہ اپنے ہاتھ سے رکھ دیا اور میں نے وہ بچہ رسول اللہ ﷺ کی گود میں ڈال دیا گود میں ڈال دیا اور رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی عجوہ کھجور منگوائی اور پھر اسے اپنے منہ میں چبایا یہاں تک کہ جب وہ نرم ہوگئی تو وہ اس بچے کے منہ میں ڈالی بچہ اس کو چوسنے لگا حضرت انس کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیکھو انصار کو کھجور سے کس قدر محبت ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔
Anas reported that the son of Abu Talha who was born of Umm Sulaim died. She (Umm Sulaim) said to the members of her family: Do not narrate to Abu Talha about his son until I narrate it to him. Abu Talha came (home) ; she presented to him the supper. He took it and drank water. She then embellished herself which she did not do before. He (Abu Talha) had a sexual intercourse with her and when she saw that he was satisfied after sexual intercourse with her, she said: Abu Talha, if some people borrow something from another family and then (the members of the family) ask for its return, would they resist its return? He said: No. She said: I inform you about the death of your son. He was annoyed, and said: You did not inform me until I had a sexual intercourse with you and you later on gave me information about my son. He went to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and informed him what had happened. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: May Allah bless both of you in the night spent by you! He (the narrator) said: She became pregnant. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was in the course of a journey and she was along with him and when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came back to Madinah from the journey he did not enter (his house) (during the night). When the people came near Madinah, she felt the pangs of delivery. He (Abu Talha) remained with her and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) proceeded on. Abu Talha said: O Lord, you know that I love to go along with Allahs Messenger when he goes out and enter along with him when he enters and I have been detained as Thou seest. Umm Sulaim said: Abu Talha, I do not feel (so much pain) as I was feeling formerly, so better proceed on. So we proceeded on and she felt the pangs of delivery as they reached (Madinah) and a child was born and my mother said to me: Anas, none should suckle him until you go to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) tomorrow morning. And when it was morning I carried him (the child) and went along with him to Allahs Messenger (may peace beupon him). He said: I saw that he had in his hand the instrument for the cauterisation of the camels. When he saw me. he said: This is, perhaps, what Umm Sulaim has given birth to. I said: Yes. He laid down that instrument on the ground. I brought that child to him and placed it in his lap and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked Ajwa dates of Madinah to be brought and softened them in his month. When these had become palatable he placed them in the mouth of that child. The child began to taste them. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: See what love the Ansar have for dates. He then wiped his face and named him Abdullah.
ابا طلحہ انصار کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ
احمد بن حسن بن خراش عمرو بن عاصم، سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ (رض) کا ایک بیٹا فوت ہوگیا مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.
بلال (رض) کے فضائل کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَی عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَکَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْفَعَةً فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْکَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ قَالَ بِلَالٌ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَی عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَا أَتَطَهَّرُ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِکَ الطُّهُورِ مَا کَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ
عبید بن ییش محمد بن علاء ہمدانی ابواسامہ ابی حبان محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی ابوحیان تیمی یحییٰ بن سعید ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال (رض) سے صبح کی نماز کے وقت فرمایا اے بلال تو مجھ سے وہ عمل بیان کر جو تو نے اسلام میں کیا ہو اور جس کے نفع کی تجھے زیادہ امید ہو کیونکہ آج رات میں نے جنت میں اپنے سامنے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے۔ حضرت بلال (رض) نے عرض کیا میں نے اسلام میں کوئی ایسا عمل نہیں کیا کہ جس کے نفع کی مجھے زیادہ امید ہو سوائے اس کے کہ جب بھی میں رات یا دن کے وقت کامل طریقے سے وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جس قدر اللہ نے میرے مقدر میں لکھا ہوتا ہے نماز پڑھ لیتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to Bilal (RA) : Bilal (RA) , narrate to me which act at the time of morning prayer you did in Islam for which you hope to receive good reward, for I heard during the night the sound of your steps before me in Paradise. Bilal (RA) said: I did not do any act in Islam for which I hope to get any benefit but this that when I perform complete ablution during the night or day I observe prayer with that purification what Allah has ordained for me to pray.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ قَالَ سَهْلٌ وَمِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ عَلَی الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِي أَنْتَ مِنْهُمْ
منجاب بن حارث تمیمی سہل بن عثمان عبداللہ بن عامر بن زرارہ حضرمی سوید بن سعید ولید بن سجاع سہل منجاب علی بن مسہر، اعمش، ابراہیم، علقمہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت (لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْ ا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ) 5 ۔ المائدہ : 93) جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے انہیں اس بات پر کوئی گناہ نہیں ہے جو وہ کھاچکے ہیں ایمان اور پرہیز کے ساتھ آخر آیت تک نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا کیا تم ان میں سے ہو۔
Abdullah reported that when this verse was revealed:" There is no harm on persons who believe and perform good acts, what they had eaten (formerly) when they avoided it (now) and they affirmed their faith" (v. 93) up to the end. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to me: You are one amongst them.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَکُنَّا حِينًا وَمَا نُرَی ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ کَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ و
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، محمد بن رافع ابن رافع اسحاق یحییٰ بن آدم بن ابی زائدہ ابواسحاق اسود بن بزید حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے تھے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور ان کی والدہ کا کثرت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے گھر آنے جانے اور ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہم انہیں رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت ہی سے سمجھتے تھے۔
Abu Musa reported: When I and my brother came from Yemen we used to consider Ibn Masud and his mother amongst the members of the household of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) because of their visiting them frequently and staying there for long (periods of) time.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْأَسْوَدَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی يَقُولُا لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور ابراہیم، بن یوسف اسحاق اسود حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ تحقیق میں اور میرا بھائی یمن سے آئے تھے باقی حدیث اسی طرح مذکور ہے۔
The above hadith is narrated likewise through another chain of transmitters.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرَی أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَوْ مَا ذَکَرَ مِنْ نَحْوِ هَذَا
زہیر بن حرب، محمد بن مثنیابن بشار عبدالرحمن سفیان ابواسحاق اسود حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے حضرت عبداللہ کو اہل بیت سے ہی تصور کرتا تھا یا اسی طرح ذکر کیا۔
Abu Musa (RA) reported: I came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and thought that Abdullah was amongst the members of the family, or like that.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ قَالَ شَهِدْتُ أَبَا مُوسَی وَأَبَا مَسْعُودٍ حِينَ مَاتَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَتُرَاهُ تَرَکَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ فَقَالَ إِنْ قُلْتَ ذَاکَ إِنْ کَانَ لَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا
محمد بن مثنی ابن بشار ابن مثنی محمد بن جعفر، سعبہ ابواسحاق، حضرت ابوالاحوص (رح) سے روایت ہے کہ میں نے ابن مسعود کے انتقال کے وقت حضرت ابوموسی اور حضرت ابومسعود (رض) کے پاس گیا تو ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا تمہارا کیا خیال ہے کہ (حضرت ابن مسعود (رض) نے اپنے بعد اپنے جیسا کوئی آدمی چھوڑا ہے تو دوسرے نے کہا اگر تم نے یہ کہا ہے تو ان کی عظمت یہ تھی کہ جب ہم کو روک دیا جاتا تو ان کے لئے اجازت دے دی جاتی تھی اور ہم جب غائب ہوجاتے تو یہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھے۔
Abu Ishaq reported that he heard Abul-Ahwas say: I was along with Abu Musa and Abu Masud as Ibn Masud died and one of them said to the other: Do you find one like him besides him? Thereupon he said: Do you say this (no one can be his rival)? He was admitted (to the company of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) whereas we were detained and he had been present in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) whereas we had been absent.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ کُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَی مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالُ أَبُو مَسْعُودٍ مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَکَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ فَقَالَ أَبُو مُوسَی أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاکَ لَقَدْ کَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا
ابوکریب محمد بن علاء، یحییٰ بن آدم قطبہ بن عبدالعزیز اعمش، مالک بن حارث حضرت ابوالاحوص (رح) سے روایت ہے کہ ہم ابوموسی (رض) کے گھر میں حضرت عبداللہ (رض) کے چند ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھے اور وہ قرآن مجید دیکھ رہے تھے عبداللہ کھڑے ہوگئے تو ابومسعود (رض) نے کہا میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد ان کھڑے ہونے والے سے بڑھ کر زیادہ اللہ کی نازل کردہ آیات کے بارے میں علم رکھنے والے کسی کو چھوڑا ہو تو ابوموسی نے کہا اگر تم نے ایسی بات کہی ہے تو ان کا حال تو یہ تھا کہ جب ہم غائب ہوتے تھے تو یہ حاضر رہتے تھے اور جب ہمیں حاضر ہونے سے روک دیا جاتا تو انہیں اجازت دی جاتی تھی۔
Abu Ahwas reported: We were in the house of Abu Musa along with some of the companions of Abdullah and they were looking at the Holy Book. Abdullah stood up, whereupon Abu Masud said: I do not know whether Allahs Messenger, (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has left after him one having a better knowledge (of Islam) than the man who is standing. Abu Musa said: If you say this, that is correct, because he had been present when we had been absent and he was permitted when we were detained.
سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا مُوسَی فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللَّهِ وَأَبَا مُوسَی ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ وَأَبِي مُوسَی وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ قُطْبَةَ أَتَمُّ وَأَکْثَرُ
قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسیٰ شیبان اعمش، مالک بن حارث ابی احوص ابوموسی عبداللہ ابوکریب محمد بن ابی عبیدہ ابی اعمش، زید بن وہب، حذیفہ ان دو اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ حضرت زید بن وہب (رض) سے روایت ہے کہ میں حضرت حذیفہ اور ابوموسی (رض) کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے۔
Zaid bin Wahab reported: I was sitting along with Hudhaifa and Abu Musa, and the rest of the hadith is the same.