سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ وَجَدْتُ فِي کِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَفَقَّدُ يَقُولُ أَيْنَ أَنَا الْيَوْمَ أَيْنَ أَنَا غَدًا اسْتِبْطَائً لِيَوْمِ عَائِشَةَ قَالَتْ فَلَمَّا کَانَ يَوْمِي قَبَضَهُ اللَّهُ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی اسامہ ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں آج کہاں ہوں اور کل کہاں ہوں گا یہ خیال کرتے ہوئے کہ عائشہ (رض) کے دن کی بارے میں ابھی دیر ہے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر جب میرا دن ہوا تو اللہ نے آپ ﷺ کو میرے سینے اور حق کے درمیان وفات دے دی (یعنی اس حال میں آپ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوئے کہ آپ کا زر مبارک حضرت عائشہ (رض) کے سینے سے لگا ہؤا تھا) ۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) during his last illness) inquired: Where I would be tomorrow, where I would be tomorrow (thinking, that the turn of Aisha was not very near) and when it was my turn, Allah called him to his Heavenly Home and his head was between my neck and chest.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَهُوَ مُسْنِدٌ إِلَی صَدْرِهَا وَأَصْغَتْ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، قری ہشام عباد بن عبداللہ بن زبیر سیدہ عائشہ (رض) خبر دیتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ اپنی وفات سے قبل اس حال میں آرام فرما رہے تھے کہ آپ ﷺ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے میں نے آپ ﷺ کی طرف توجہ کی تو آپ فرما رہے تھے (اللَّهُمَّ اغْفِرْلِي وَارْحَمْنِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ ) اے اللہ میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے رفیق اعلی سے ملا دے۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at the time of breathing his last was reclining against her chest and she was leaning over him and listening to him as he was saying: O Allah, grant me pardon, show mercy to me, enjoin me to companions (on High).
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شبیہ ابوکریب ابواسامہ ابن نمیر، ابواسحاق بن ابراہیم، عبدہ بن سلیمان حضرت ہشام (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّی يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَائِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِيقًا قَالَتْ فَظَنَنْتُهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ
محمد بن مثنی، ابن بشار ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، بن سعد بن ابراہیم، عروہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں آپ ﷺ سے سنا کرتی تھی کہ کوئی نبی اس وقت تک فوت نہیں ہوتا جب تک کہ اسے دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کے بارے میں اختیار نہ دے دیا جاتا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر میں نے نبی ﷺ سے آپ کے مرض وفات میں سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے ( مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَائِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِيقًا) یعنی ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے نیبوں میں سے اور صدیقیں اور شہداء میں سے اور نیک لوگوں میں سے اور یہ سارے بہترین رفیق ہیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر میں اسی وقت سمجھ گئی کہ آپ ﷺ کو اختیار دے دیا گیا ہے۔
Aisha reported: I heard that never a prophet dies until he is given an option to opt the life of (this) world or that of the Hereafter. She further said: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say in his last illness in which he died. I heard him saying in gruffness of the voice: Along with those persons upon whom Allah bestowed favours from amongst the Apostles, the testifiers of truth, the martyrs, the pious and goodly company are they (iv. 69). (It was on bearing these words) that I thought that he had been given choice (and he opted to live with these pious persons in the Paradise).
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شبیہ وکیع، عبیداللہ بن معاذ، ابی شعبہ حضرت سعد (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Sad with the same chain of transmitters.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فِي رِجَالٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّی يُرَی مَقْعَدُهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَی فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَی السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَی قَالَتْ عَائِشَةُ قُلْتُ إِذًا لَا يَخْتَارُنَا قَالَتْ عَائِشَةُ وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي کَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّی يَرَی مَقْعَدَهُ مِنْ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَکَانَتْ تِلْکَ آخِرُ کَلِمَةٍ تَکَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَی
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابن سعد ابی جدی عقیل بن خالد ابن شہاب سعید بن مسیب عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ (رض) نبی کی زوجہ مطہرہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ اس حال میں کہ آپ تندرست تھے فرماتے ہیں کہ کوئی نبی اس وقت تک اس دنیا سے رخصت نہیں ہوتا جب تک کہ اسے جنت میں اس کا مقام نہ دکھا دیا جائے پھر اختیار نہ دے دیا جائے سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ کے وصال کا وقت آگیا تو آپ ﷺ کے سر مبارک میری ران پر تھا آپ ﷺ پر کچھ دیر غشی طاری رہی پھر افاقہ ہوا اور آپ نے اپنی نگاہ چھت کی طرف کی پھر فرمایا اے اللہ مجھے رفیق اعلی سے ملا دے سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اس وقت میں نے کہا اب آپ ﷺ ہمیں اختیار نہیں فرمائیں گے اور مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو آپ ﷺ نے ہمیں صحت و تندرستی کی حالت میں بیان فرمائی تھی کہ کسی نبی کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی گئی جب تک کہ اسے جنت میں اس کا مقام نہ دکھا دیا جائے پھر اسے اختیار نہ دے دیا جائے سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو بات فرمائی اس کا آخری کلمہ یہ تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا (اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَی) اے اللہ مجھے رفیق اعلی سے ملا دے۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported that he used to say: Never a prophet dies in a state that he is not made to see his abode in Paradise, and then given a choice. Aisha said that when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was about to leave the world, his head was over her thigh and he had fallen into swoon three times. When he felt relief his eyes were fixed at the ceiling. He then said: O Allah, along with the high companions (i. e. along with the Apostles who live in the most elevated place of the Paradise). (On hearing these words), I then said (to myself) He is not going to opt us and I remembered a hadith which he had narrated to us as he was healthy and in which he said: No prophet dies until he sees his abode in Paradise, he is then given a choice. Aisha said: These were the last words which Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) spoke (the words are): O Allah, with companions on High.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتْ الْقُرْعَةُ عَلَی عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا کَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ مَعَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ أَلَا تَرْکَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْکَبُ بَعِيرَکِ فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ قَالَتْ بَلَی فَرَکِبَتْ عَائِشَةُ عَلَی بَعِيرِ حَفْصَةَ وَرَکِبَتْ حَفْصَةُ عَلَی بَعِيرِ عَائِشَةَ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ فَسَلَّمَ ثُمَّ سَارَ مَعَهَا حَتَّی نَزَلُوا فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَغَارَتْ فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَهَا بَيْنَ الْإِذْخِرِ وَتَقُولُ يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي رَسُولُکَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، ابی نعیم عبد ابونعیم عبدالواحد بن ایمن ابن ابی ملیکہ قاسم بن محمد سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب (کسی سفر وغیرہ کے لئے) تشریف لے جاتے تو آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات (رض) کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ایک مرتبہ قرعہ میرے اور حضرت حفصہ (رض) کے نام نکلا تو ہم دونوں اکٹھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلیں اور رسول اللہ ﷺ جب رات کو سفر کرتے تھے تو سیدہ عائشہ (رض) کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلتے تھے حضرت حفصہ (رض) مجھ سے کہنے لگیں کیا آج کی رات تو میرے اونٹ پر سوار نہیں ہوجاتی اور میں تیرے اونٹ پر سوار ہوجاؤں تو بھی دیکھے اور میں بھی دیکھوں گی سیدہ عائشہ (رض) نے کہا کیوں نہیں تو حضرت عائشہ (رض) حضرت حفصہ (رض) کے اونٹ پر سوار ہوگئیں اور حضرت حفصہ (رض) حضرت عائشہ (رض) کے اونٹ پر سوار ہیں آپ ﷺ نے سلام کیا پھر حضرت حفصہ (رض) کے ساتھ ہی سوار ہو کر چل پڑے یہاں تک کہ ایک جگہ اترے سیدہ عائشہ (رض) نے آپ ﷺ کو نہ پایا تو انہیں غیرت آئی پھر جب وہ اتریں تو اپنے پاؤں اذخر گھاس میں مارنے لگیں اور کہنے لگیں اے پروردگار مجھ پر بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے وہ تیرے رسول اللہ ﷺ ہیں اور میں انہیں کچھ کہنے کی طاقت نہیں رکھتی۔
Aisha reported that when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) set ont on a journey, he used to cast lots amongst his wives. Once this lot came out in my favour and that of Hafsa. They (Hafsi, and Aisha) both went along with him and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to travel (on camel) when it was night along with Aisha and talked with her. Hafsa said to Aisha: Would you like to ride upon my camel tonight and allow me to ride upon your camel and you would see (what you do not generally see) and I would see (what I do not see) generally? She said: Yes. So Aisha rode upon the camel of Hafsa and Hafsa rode upon the camel of Aisha and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came near the camel of Aisha. (whereas) Hafsa had been riding over that. He greeted her and then rode with her until they came down. She (Aisha) thus missed (the company of the Holy Prophet) and when they sat down, Aisha felt jealous. She put her foot in the grass and said: O Allah, let the scorpion sting me or the serpent bite me. And so far as thy Messenger is concerned, I cannot say anything about him.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب سلیمان ابن بلال عبداللہ بن عبدالرحمن، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسا کہ ثرید کھانے کی فضیلت تمام کھانوں پر۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The excellence of Aisha over women is like the excellence of Tharid over all other foods.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن حجر اسماعیل یعنون بن جعفر قتیبہ عبدالعزیز ابن محمد عبداللہ بن عبدالرحمن، حضرت انس (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے لیکن ان دونوں روایتوں میں سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے الفاظ نہیں ہیں اور اسماعیل کی روایت میں أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ کے الفاظ ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through other chains of transmitters.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ وَيَعْلَی بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْکِ السَّلَامَ قَالَتْ فَقُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان یعلی بن عبید زکریا، شعبی، ابوسلمہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے سیدہ عائشہ (رض) سے فرما حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تجھے سلام کہتے ہیں سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا میں نے عرض کیا وعلیہ السلام و (رح) یعنی جبریئل (علیہ السلام) پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to her: Gabriel (علیہ السلام) offered you greetings and I said: So there should be peace and mercy of Allah upon him.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا
اسحاق بن ابراہیم، زکریا، ابی زئداہ عامر ابوسملہ بن عبدالرحمن سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے مذکورہ حدیثوں کی طرح فرمایا۔
This hadith has been narrated on the authority of Aisha through another chain of transmitters.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
اسحاق بن ابراہیم، اسباط بن محمد، حضرت زکریا سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Zakriyya through another chain of transmitters.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْکِ السَّلَامَ قَالَتْ فَقُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَتْ وَهُوَ يَرَی مَا لَا أَرَی
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن سیدہ عائشہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں تجھے سلام کہتے ہیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں میں نے کہا وعلیہ السلام و (رح) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ وہ دیکھتے ہیں کہ جو میں نہیں دیکھتی۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Aisha, here is Gabriel (علیہ السلام) offering you greetings. She said: 1 made a reply: Let there be peace and blessings of Allah upon him, and added: He sees what I do not see.
حدیث ام زرع کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ کِلَاهُمَا عَنْ عِيسَی وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ جَلَسَ إِحْدَی عَشْرَةَ امْرَأَةً فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَکْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا قَالَتْ الْأُولَی زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَی رَأْسِ جَبَلٍ وَعْرٍ لَا سَهْلٌ فَيُرْتَقَی وَلَا سَمِينٌ فَيُنْتَقَلَ قَالَتْ الثَّانِيَةُ زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ إِنْ أَذْکُرْهُ أَذْکُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ قَالَتْ الثَّالِثَةُ زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْکُتْ أُعَلَّقْ قَالَتْ الرَّابِعَةُ زَوْجِي کَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرَّ وَلَا قُرَّ وَلَا مَخَافَةَ وَلَا سَآمَةَ قَالَتْ الْخَامِسَةُ زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ قَالَتْ السَّادِسَةُ زَوْجِي إِنْ أَکَلَ لَفَّ وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ وَإِنْ اضْطَجَعَ الْتَفَّ وَلَا يُولِجُ الْکَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ قَالَتْ السَّابِعَةُ زَوْجِي غَيَايَائُ أَوْ عَيَايَائُ طَبَاقَائُ کُلُّ دَائٍ لَهُ دَائٌ شَجَّکِ أَوْ فَلَّکِ أَوْ جَمَعَ کُلًّا لَکِ قَالَتْ الثَّامِنَةُ زَوْجِي الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ قَالَتْ التَّاسِعَةُ زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنْ النَّادِي قَالَتْ الْعَاشِرَةُ زَوْجِي مَالِکٌ وَمَا مَالِکٌ مَالِکٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِکَ لَهُ إِبِلٌ کَثِيرَاتُ الْمَبَارِکِ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِکُ قَالَتْ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ فَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي فَبَجَحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُکُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ کَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْئُ کِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا قَالَتْ خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا کَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَکَحَهَا فَنَکَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَکِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ کُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا قَالَ کُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَکِ فَلَوْ جَمَعْتُ کُلَّ شَيْئٍ أَعْطَانِي مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُنْتُ لَکِ کَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ
علی بن حجر سعد احمد بن حباب عیسیٰ ابن حجر عیسیٰ بن یونس، ہشام بن عروہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ گیارہ عورتیں آپس میں یہ معاہدہ کر کے بیٹھیں کہ اپنے اپنے خاوندوں کا پورا پورا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپائیں ان میں سے پہلی عورت نے کہا کہ میرا خاوند ناکارہ پتلے دبلے اونٹ کی طرح ہے اور گوشت بھی سخت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پہ رکھا ہوا ہو کہ نہ تو پہاڑ کا راستہ آسان ہو کہ جس کی وجہ سے اس پر چڑھنا ممکن ہو اور نہ ہی وہ گوشت ایسا ہو کہ بڑی دقت اٹھا کر اسے اتارنے کی کوشش کی جائے۔ دوسری عورت نے کہا میں اپنے خاوند کی کیا خبر بیان کروں مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر میں اس کے عیب ذکر کرنا شروع کر دوں تو کسی عیب کا ذکر نہ چھوڑوں (یعنی سارے ہی عیب بیان کردوں) اور اگر ذکر کروں تو اس کے ظاہری اور باطنی سارے عیب ذکر کر ڈالوں۔ تیسری عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند لم ڈھینگ اگر میں کسی بات میں بول پڑوں تو مجھے طلاق ہوجائے اور اگر خاموش رہوں تو لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت نے کہا میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح ہے نہ گرم نہ سرد نہ اس سے کسی قسم کا ڈر اور رنج۔ پانچویں عورت نے کہا میرا خاوند جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہ چیتا بن جاتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر بن جاتا ہے اور گھر میں جو کچھ ہوتا ہے اور اس بارے میں پوچھ گچھ نہیں کرتا۔ چھٹی عورت نے کہا میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب ہڑپ کرجاتا ہے اور اگر پیتا ہے تو سب چڑھا جاتا ہے اور جب لیٹتا ہے تو اکیلا ہی کپڑے میں لیٹ جاتا ہے میری طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا تاکہ میری پراگندی کا علم ہو۔ ساتویں عورت نے کہا میرا خاوند ہمبستری سے عاجز نامرد اور اس قدر بیوقوف ہے کہ وہ بات بھی نہیں کرسکتا دنیا کی ہر بیماری اس میں ہے اور سخت مزاج ایسا کہ میرا سر پھوڑ دے یا میرا جسم زخمی کر دے یا دونوں کر ڈالے۔ آٹھویں عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند خوشبو میں زعفران کی طرح مہکتا ہے اور چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے۔ نویں عورت نے کہا میرا خاوند بلند شان والا دراز قد والا بڑا ہی مہمان نواز اس کا گھر مجلس اور دارالمشور کے قریب ہے۔ دسویں عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند مالک ہے اور میں مالک کی کیا شان بیان کروں کہ اس کے اونٹ اس قدر زیادہ ہیں جو مکان کے قریب بٹھائے جاتے ہیں چراگاہ میں کم ہی چرتے ہیں وہ اونٹ باجے کی آواز سنتے ہیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ ہلاکت کا وقت قریب آگیا ہے۔ گیارہویں عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند ابوزرع ہے میں ابوزرع کی کیا شان بیان کروں کہ زیوروں سے اس نے میرے کان جھکا دئے اور چربی سے میرے بازو بھر دئیے اور مجھے ایسا خوش رکھتا ہے کہ خود پسندی میں میں اپنے آپ کو بھولنے لگی مجھے اس نے ایک ایسے غریب گھرانے میں پایا تھا کہ جو بڑی مشکل سے بکریوں پر گزر اوقات کرتے تھے اور پھر مجھے اپنے خوشحال گھرانے میں لے آیا کہ جہاں گھوڑے اونٹ کھیتی باڑی کے بیل اور کسان موجود تھے اور وہ مجھے کسی بات پر نہیں ڈانٹتا تھا میں دن چڑھے تک سوتی رہتی اور کوئی مجھے جگا نہیں سکتا تھا اور کھانے پینے میں اس قدر فراخی کہ میں خوب سیر ہو کر چھوڑ دیتی ابوزرع کی ماں بھلا اس کی کیا تعریف کروں اس کے بڑے بڑے برتن ہر وقت بھرے کے بھرے رہتے ہیں اس کا گھر بڑا کشادہ ہے اور ابوزرع کا بیٹا بھلا اس کے کیا کہنے کہ وہ کبھی ایسا دبلا پتلا چھریرے جسم والا کہ اس کے سونے کی جگہ (خواب گاہ) نرم و نازک جیسے تلوار کی میان، بکری کے بچے کی ایک دست اس کا پیٹ بھرنے کے لئے کافی ابوزرع کی بیٹی کہ اس کو کیا کہنے کہ وہ اپنی ماں کی تابعدار باپ کی فرمانبردار موٹی تازی سوکن کی جلن تھی ابوزرع کی باندی کا بھی کیا کمال بیان کروں کہ گھر کی بات وہ کبھی باہر جا کر نہیں کہتی تھی کھانے کی چیز میں بغیر اجازت کے خرچ نہیں کرتی تھی اور گھر میں کوڑا کرکٹ جمع نہیں ہونے دیتی تھی بلکہ گھر صاف ستھرا رکھتی تھی ایک دن صبح جبکہ دودھ کے برتن بلوائے جا رہے تھے ابوزرع گھر سے نکلے راستے میں ایک عورت پڑی ہوئی ملی جس کی کمر کے نیچے چیتے کی طرح دو بچے دو اناروں (یعنی اس کے پستانوں) سے کھیل رہے تھے پس وہ عورت اسے کچھ ایسی پسند آگئی کہ اس نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت سے نکاح کرلیا پھر میں نے بھی ایک شریف سردار سے نکاح کرلیا جو کہ شہسوار ہے اور سپہ سالار ہے اس نے مجھے بہت سی نعمتوں سے نوزا اور ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا اس نے مجھے دیا اور یہ بھی اس نے کہا کہ اے ام زرع خود بھی کھا اور اپنے میکے میں بھی جو کچھ چاہے بھیج دے لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں اس کی ساری عطاؤں کو اکٹھا کرلوں تو پھر بھی وہ ابوزرع کی چھوٹی سے چھوٹی عطا کے برابر نہیں ہوسکتی سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ سارا قصہ سنا کر) مجھ سے فرمایا : (اے عائشہ ! ) میں بھی تیرے لئے اسی طرح سے ہوں جسطرح کہ ابوزرع ام زرع کے لئے ہے۔
Aisha reported that (one day) there sat together eleven women making an explicit promise amongst themselves that they would conceal nothing about their spouses. The first one said: My husband is a sort of the meat of a lean camel placed at the top of a hill, which it is difficult to climb up, nor (the meat) is good enough that one finds in oneself the urge to take it away (from the top of that mountain).
The second one said: My husband (is so bad) that I am afraid I would not be able to describe his faults-both visible and invisible completely.
The third one said: My husband is a long-statured fellow (i. e. he lacks intelligence). If I give vent to my feelings about him, he would divorce me, and if I keep quiet I would be made to live in a state of suspense (neither completely abandoned by him nor entertained as wife).
The fourth one said: My husband is like the night of Tihama (the night of Hijaz and Makkah), neither too cold nor hot, neither there is any fear of him nor grief.
The fifth one said: My husband is (like) a leopard as he enters the house, and behaves like a lion when he gets out, and he does not ask about that which he leaves in the house.
The sixth one said: So far as my husband is concerned, he eats so much that nothing is left back and when he drinks he drinks that no drop is left behind. And when he lies down he wraps his body and does not touch me so that he may know my grief.
The seventh one said: My husband is heavy in spirit, having no brightness in him, impotent, suffering from all kinds of conceivable diseases, heaving such rough manners that he may break my head or wound my body, or may do both.
The eighth one said: My husband is as sweet as the sweet-smelling plant, and as soft as the softness of the hare.
The ninth one said: My husband is the master of a lofty building, long-statured, having heaps of ashes (at his door) and his house is near the meeting place and the inn.
The tenth one said: My husband is Malik, and how fine Malik is, much above appreciation and praise (of mine). He has many folds of his camel, more in number than the pastures for them. When they (the camels) hear the sound of music they become sure that they are going to be slaughtered.
The eleventh one said: My husband is Abu Zara. How fine Abu Zara is! He has suspended in my ears heavy ornaments and (fed me liberally) that my sinews and bones are covered with fat. So he made me happy. He found me among the shepherds living in the side of the mountain, and he made me the owner of the horses, camels and lands and heaps of grain and he finds no fault with me. I sleep and get up in the morning (at my own sweet will) and drink to my hearts content. The mother of Abu Zara, how fine is the mother of Abu Zara! Her bundles are heavily packed (or receptacles in her house are filled to the brim) and the house quite spacious. So far as the son of Abu Zara is concerned, his bed is as soft as a green palm-stick drawn forth from its bark, or like a sword drawn forth from its scabbard, and whom just an arm of a lamb is enough to satiate. So far as the daughter of Abu Zara is concerned, how fine is the daughter of Abu Zara, obedient to her father, obedient to her mother, wearing sufficient flesh and a source of jealousy for her co-wife. As for the slave-girl of Abu Zara, how fine is she; she does not disclose our affairs to others (outside the four walls of the house). She does not remove our wheat, or provision, or take it forth, or squander it, but she preserves it faithfully (as a sacred trust). And she does not let the house fill with rubbish. One day Abu Zara went out (of his house) when the milk was churned in the vessels, that he met a woman, having two children like leopards playing with her pomegranates (chest) under her vest. He divorced me (Umm Zara) and married that woman (whom Abu Zara) met on the way. I (Umm Zara) later on married another person, a chief, who was an expert rider, and a fine archer: he bestowed upon me many gifts and gave me one pair of every kind of animal and said: Umm Zara, make use of everything (you need) and send forth to your parents (but the fact) is that even if I combine all the gifts that he bestowed upon me, they stand no comparison to the least gift of Abu Zara.
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to me: I am for you as Abu Zara was for Umm Zara.
حدیث ام زرع کے ذکر کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ عَيَايَائُ طَبَاقَائُ وَلَمْ يَشُکَّ وَقَالَ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ وَقَالَ وَصِفْرُ رِدَائِهَا وَخَيْرُ نِسَائِهَا وَعَقْرُ جَارَتِهَا وَقَالَ وَلَا تَنْقُثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا وَقَالَ وَأَعْطَانِي مِنْ کُلِّ ذَابِحَةٍ زَوْجًا
حسن بن علی حلوانی موسیٰ بن اسماعیل سعید بن سلمہ ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس وقت میں معمولی لفظوں کا رد و بدل ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Hisham bin Urwa but with a slight variation of wording.
نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْکِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَا آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ إِلَّا أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْکِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا
احمد بن عبداللہ بن یونس قتیبہ بن سعید، لیث، بن سعد ابن یونس لیث، عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ قرشی تیمی مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب سے کرنے کی اجازت مانگی تو میں ان کو اجازت نہیں دوں گا پھر (آپ نے فرمایا) میں ان کو اجازت نہیں دوں گا، پھر (آپ نے فرمایا) میں ان کو اجازت نہیں دوں گا مگر یہ کہ ابوطالب کے بیٹے علی میری بیٹی کو طلاق دینا پسند کریں اور ان کی بیٹی سے نکاح کریں کیونکہ میری بیٹی میرا ایک ٹکڑا ہے مجھے شک میں ڈالتا ہے جو کہ اسے شک میں ڈالتا ہے تکلیف دیتی ہے مجھے وہ چیز کہ جو اسے تکلیف دیتی ہے۔
Miswar bin Makhramali reported that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say, as he sat on the pulpit: The sons of Hisham bin Mughira have asked my permission to marry their daughter with Ali Ibn Abi Talib (RA) (that refers to the daughter of Abu Jahl for whom All had sent a proposal for marriage). But I would not allow them, I would not allow them, I would not allow them (and the only alternative possible is) that Ali should divorce my daughter (and then marry their daughter), for my daughter is part of me. He who disturbs her in fact disturbs me and he who offends her offends me.
نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا
ابومعمر، اسماعیل بن ابراہیم، ہذلی سفیان، عمرو ابن ابی ملیکہ حضرت مسورہ بن مخرمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فاطمہ (رض) میرا ٹکڑا ہے مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز کہ جو اسے تکلیف دیتی ہے۔
Miswar bin Makhramah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Fatima is a part of me. He in fact tortures me who tortures her.
نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا قَالَ لَهُ هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي وَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَأَوْفَى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا
احمد بن حنبل، یعقوب بن ابراہیم، ابی ولید بن کثیر، محمد بن عمرو بن حلحلہ دولی، ابن شہاب، علی بن حسین (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ جس وقت حضرت حسین کی شہادت کے بعد مدینہ منورہ میں یزید بن معاویہ کے پاس آئے تو ان سے حضرت مسور بن مخرمہ نے ملاقات کی اور اس سے کہنے لگے اگر آپ کو مجھ سے کوئی ضرورت ہو تو آپ مجھے حکم کریں انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ نہیں (یعنی مجھے آپ سے کوئی کام نہیں) ، حضرت مسور بن مخرمہ نے اس سے کہا کہ کیا آپ مجھے رسول اللہ کی تلوار عنایت کردیں گے (محفوظ کرنے کی خاطر) کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں لوگ زبردستی آپ سے (یہ تلوار) چھین نہ لیں اللہ کی قسم ! اگر آپ وہ تلوار مجھے عنایت کردیں گے تو جب تک میری جان میں جان ہے اس تلوار کو مجھ سے کوئی نہیں لے سکے گا۔ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے حضرت فاطمہ (رض) کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا اور میں ان دنوں جوان ہوچکا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا فاطمہ (میرے جسم) کا ایک ٹکڑا ہے اور مجھ ڈر ہے کہ کہیں ان کے دین میں کوئی فتنہ نہ ڈال دیا جائے راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اپنے ایک داماد جو کہ عبد الشمس کی اولاد میں سے تھا اس سے ذکر فرمایا اور ان کی دامادی کی خوب تعریف بیان کی اور آپ ﷺ نے فرمایا انہوں نے مجھ سے جو بات بیان کی سچی بیان کی اور انہوں نے مجھ سے جو وعدہ کیا تو اسے پورا کیا اور میں کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتا اور نہ ہی کسی حرام کو حلال کرتا ہوں لیکن اللہ کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ہی جگہ کبھی بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔
(Imam Zain-ul-Abidin) Ali bin Husain reported that when they came to Madinah from Yazid bin Muawiyah after the martyrdom of Husain bin Ali (RA) Miswar bin Makhramah met him and said to him: Is there any work for me which you ask me to do? I said to him: No. He again said to me: Would you not give me the sword of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for I fear that the people may snatch it from you? By Allah, if you give that to me, no one would be able to take it away, so long as there is life in me. Verily Ali Ibn Abi Talib (RA) sent a proposal of marriage to the daughter of Abu Jahl in spite of (the fact that his wife) Fatima (had been living in his house). Thereupon I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say while addressing the people on the pulpit. I was adolescing in those days. He said: Fatima is a part of me and I fear that she may be put to trial in regard to religion. He then made a mention of his son-in law who had been from the tribe of Abd Shams and praised his behaviour as a son-in-law and said: Whatever he said to me he told the truth and whatever he promised he fulfilled it for me. I am not going to declare forbidden what is lawful and make lawful what is forbidden, but, by Allah, the daaghter of Allahs Messenger and the daughter of the enemy of Allah can never be combined at one place.
نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِکَ فَاطِمَةُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ قَوْمَکَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّکَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِکَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاکِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ قَالَ الْمِسْوَرُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَنْکَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَةٌ مِنِّي وَإِنَّمَا أَکْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا قَالَ فَتَرَکَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، علی بن حسین حضرت مسور بن مخرمہ (رض) خبر دیتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا حالانکہ حضرت علی (رض) کے پاس رسول اللہ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) تھیں تو جب حضرت فاطمہ نے یہ بات سنی تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئیں اور عرض کرنے لگیں کہ آپ ﷺ کی قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ بیٹیوں کے لئے غصے میں نہیں آتے اور علی (رض) ہیں جو کہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ مسور (رض) کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ کھڑے ہوئے تو میں نے آپ ﷺ سے سنا جس وقت کہ آپ ﷺ نے تشہد پڑھا پھر آپ نے فرمایا اما بعد میں نے ابوالعاص بن ربیع (رض) سے اپنی بیٹی زینب کا نکاح کردیا اس نے جو بات مجھ سے بیان کی سچ بیان کی اور حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) محمد ﷺ کی بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور میں اس بات کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ لوگ اس کے دین پر کوئی آفت لائیں اللہ کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کی دشمن کی بیٹی کبھی ایک آدمی کے پاس اکٹھی نہ ہوں گی راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے تو نکاح کا پیغام چھوڑ دیا۔
Ali bin Husain reported that Miswar bin Makhramah informed him that Ali Ibn Abi Talib (RA) sent the proposal of marriage to the daughter of Abu Jahl as he had Fatima, the daughter of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , (as his wife). When Fatima heard about it, she came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: The people say that you never feel angry on account of your daughters and now Ali is going to marry the daughter of Abu Jahl. Makhramah said: Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) rose up and I heard him reciting Tashahhud and say: Now to the point. I gave a daughter of mine (Zainab) to Abul-As bin Rabi, and he spoke to me and spoke the truth. Verily Fatima, the daughter of Muhammad, is a part of me and I do not approve that she may be put to any trial and by Allah, the daughter of Allahs Messenger cannot be combined with the daughter of Gods enemy (as the co-wives) of one person. Thereupon Ali gave up (the idea of his intended) marriage.
نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابومعن رقاشی وہب ابن جریر، نعمان ابن راشد، حضرت زہری (رض) اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.