ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُرَّةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَلَ مِنْ الرِّجَالِ کَثِيرٌ وَلَمْ يَکْمُلْ مِنْ النِّسَائِ غَيْرُ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ وَآسِيَةَ امْرَأَةِ فِرْعَوْنَ وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَی سَائِرِ الطَّعَامِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب وکیع، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن معاذ عنبری ابی شعبہ، عمرو بن مروہ حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مردوں میں سے بہت سے مرد کامل ہوئے ہیں اور عورتوں میں سے کوئی عورت بھی کامل نہیں ہوئی سوائے حضرت مریم بنت عمران اور حضرت آسیہ فرعون کی بیوی کے سیدہ عائشہ (رض) کی فضیلت تمام عورتوں پر اس طرح ہے جس طرح کہ ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے۔
Abu Musa reported Allalis Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There are many persons amongst men who are quite perfect but there are not perfect amongst women except Mary, daughter of Imran, Asiya wife of Pharaoh, and the excellence of Aisha as compared to women is that of Tharid over all other foods.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَی جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْکَ مَعَهَا إِنَائٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَإِذَا هِيَ أَتَتْکَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ وَلَمْ يَقُلْ فِي الْحَدِيثِ وَمِنِّي
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن نمیر، ابن فضیل عمارہ ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ حضرت خدیجہ (رض) ہیں آپ ﷺ کے پاس جو ایک برتن لے کر آئیں ہیں اس برتن میں سالن ہے یا کھانا ہے یا پینے کی کوئی چیز (شربت وغیرہ) تو جب وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ ان کو اپنے پروردگار عزوجل کی طرف سے اور میری طرف سے سلام فرمائیں اور ان کو جنت میں ایک ایسے محل کی خوشخبری دے دیں کہ جو خول دار موتیوں کا بنا ہوا ہے جس محل میں نہ کسی قسم کی گونج ہوگی اور نہ کسی قسم کی کوئی تکلیف ہوگی۔
Abu Hurairah (RA) reported that Gabriel (علیہ السلام) came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, lo. Khadija (RA) is coming to you with a vessel of seasoned food or drink. When she comes to you, offer her greetings from her Lord, the Exalted and Glorious, and on my behalf and give her glad tidings of a palace of jewels in Paradise wherein there is no noise and no toil. This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters with a slight variation of wording.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ قَالَ نَعَمْ بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی محمد بن بشر حضرت اسماعیل سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ (رض) کو جنت میں ایک گھر کی خوشخبری دی ہے انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں آپ نے حضرت خدیجہ (رض) کو جنت میں ایک خول دار موتیوں کے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دی ہے جس گھر میں نہ کسی قسم کا شور ہوگا اور نہ ہی کوئی تکلیف۔
Ismail reported: I said to Abdullah bin Abi Aufa: Did Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) give glad tidings of Paradise to Khadija? He said: Yes. He did give glad tidings to her of a palace of jewels in Paradise wherein there would be no noise and no toil.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَجَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسحاق بن ابراہیم، معتمر بن سلیمان جریر، ابن ابی عمر سفیان، اسماعیل بن ابی خالد، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been narrated on the a tliority of Ibn Abi Aufa through other chains of transmitters.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ
عثمان بن ابی شیبہ عبدہ ہشام بن عروہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ بنت خویلد (رض) کو جنت میں ایک گھر کی خوشخبری عطا فرمائی ہے۔
Aisha reported that Allalis, Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave grid tidings to Khadija (RA) int Khuwailid of a palace in Paradise.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَی امْرَأَةٍ مَا غِرْتُ عَلَی خَدِيجَةَ وَلَقَدْ هَلَکَتْ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي بِثَلَاثِ سِنِينَ لِمَا کُنْتُ أَسْمَعُهُ يَذْکُرُهَا وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ فِي الْجَنَّةِ وَإِنْ کَانَ لَيَذْبَحُ الشَّاةَ ثُمَّ يُهْدِيهَا إِلَی خَلَائِلِهَا
ابوکریب محمد علاء، ابواسامہ، ہشام سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کسی عورت پر اس قدر رشک نہیں کیا جس قدر کہ میں نے حضرت خدیجہ (رض) پر رشک کیا اور حضرت خدیجہ میری شادی سے تین سال پہلے وفات پاچکی تھیں کہ جب آپ ﷺ حضرت خدیجہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے اور آپ ﷺ کو آپ کے پروردگار نے حکم فرمایا کہ حضرت خدیجہ (رض) کو جنت میں خولدار موتیوں سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دے دو اور جب بھی بکری ذبح کرتے تھے تو حضرت خدیجہ (رض) کی سہلیوں کو گوشت بھیجا کرتے تھے۔
Aisha reported: Never did I feel jealous of any woman as I was jealous of Khadija. She had died three years before he (the Holy Prophet) married me. I often heard him praise her, and his lord, the Exalted and Glorious, had commanded him to give her the glad tidings of a palace of jewels in Paradise: and whenever he slaughtered a sheep he presented (its meat) to her female companions.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَی نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا عَلَی خَدِيجَةَ وَإِنِّي لَمْ أُدْرِکْهَا قَالَتْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَبَحَ الشَّاةَ فَيَقُولُ أَرْسِلُوا بِهَا إِلَی أَصْدِقَائِ خَدِيجَةَ قَالَتْ فَأَغْضَبْتُهُ يَوْمًا فَقُلْتُ خَدِيجَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ رُزِقْتُ حُبَّهَا
سہل بن عثمان حفص بن عیاث ہشام بن عروہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی پر رشک نہیں کیا سوائے حضرت خدیجہ (رض) کے اور میں نے حضرت خدیجہ (رض) کو نہیں پایا سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ ﷺ فرماتے کہ اس کا گوشت حضرت خدیجہ (رض) کی سہیلیوں کو بھیج دو سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں ایک دن غصہ میں آگئی اور میں نے کہا خدیجہ خدیجہ ہی ہو رہی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حضرت خدیجہ (رض) کی محبت مجھے عطا کی گئی ہے۔
Aisha reported: Never did I feel jealous of the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) but in case of Khadija, although I did no, (have the privilege to) see her. She further added that whenever Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) slaughtered a sheep, he said: Send it to the companions of Khadija (RA) I annoyed him one day and said: (It is) Khadija (RA) only who always prevails upon your mind. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Her love had been nurtured in my heart by Allah Himself.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ إِلَی قِصَّةِ الشَّاةِ وَلَمْ يَذْکُرْ الزِّيَادَةَ بَعْدَهَا
زہیر بن حرب، ابوکریب ابومعاویہ، حضرت ہشام اس سند کے ساتھ ابواسامہ کی حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں لیکن اس میں بکری کے واقعہ تک کا ذکر نہیں اور اس کے بعد کی زیادتی کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Usama up to the slaughtering of a sheep, but he. did not make mention of the subsequent words.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا غِرْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا غِرْتُ عَلَی خَدِيجَةَ لِکَثْرَةِ ذِکْرِهِ إِيَّاهَا وَمَا رَأَيْتُهَا قَطُّ
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا کہ میں نے حضرت خدیجہ (رض) پر رشک کیا ہے کیونکہ نبی ﷺ ان کا کثرت سے ذکر کرتے تھے اور میں ان کو کبھی بھی نہیں دیکھا۔
Aisha reported: Never did I feel jealous of any wife amongst the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as I feel in case of Khadija (RA) (though I had never seen her), for he praised her very often.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمْ يَتَزَوَّجْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی خَدِيجَةَ حَتَّی مَاتَتْ
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت خدیجہ (رض) پر (دوسری) شادی نہیں کی یہاں تک کہ حضرت خدیجہ (رض) کا انتقال ہوگیا۔
Aisha reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not marry any other woman till her (Khadijas) death.
ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاحَ لِذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ فَغِرْتُ فَقُلْتُ وَمَا تَذْکُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ حَمْرَائِ الشِّدْقَيْنِ هَلَکَتْ فِي الدَّهْرِ فَأَبْدَلَکَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا
سوید بن سعید علی بن مسہر، ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت خدیجہ کی بہن حضرت ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ کو حضرت خدیجہ کا اجازت مانگنا یاد آگیا تو آپ ﷺ اس کی وجہ سے خوش ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ یہ تو ہالہ بنت خویلد ہیں مجھے یہ دیکھ کر رشک آگیا میں نے عرض کیا آپ ﷺ قریش کی بوڑھی عورتوں میں سے ایک بھاری گا لوں والی عورت کو یاد کرتے ہیں جس کی پنڈلیاں باریک تھیں اور ایک لمبی مدت ہوئی وہ انتقال کر چکیں تو اللہ پاک نے آپ ﷺ کو ان سے بہتر بدل عطا فرمایا۔
Aisha reported that Hala bin Khuwailid (sister of Khadija) sought permission from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to see him and he was reminded of Khadijas (manner of) asking leave to enter and (was overwhelmed) with emotions thereby and said: O Allah, it is Hala, daughter of Khuwailid, and I felt jealous and said: Why do you remember one of those old women of the Quraish with gums red and who is long dead-while Allah has given you a better one in her stead?
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيتُکِ فِي الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَيَالٍ جَائَنِي بِکِ الْمَلَکُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُکَ فَأَکْشِفُ عَنْ وَجْهِکِ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَأَقُولُ إِنْ يَکُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ
خلف بن ہشام ابوربیع حماد بن زید ابی ربعی حماد ہشام سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اے عائشہ) تو مجھے تین رات تک خواب میں دکھائی گئی ایک فرشتہ سفید ریشم کے ٹکڑے میں تجھے میرے پاس لایا اور وہ مجھ سے کہنے لگا یہ آپ ﷺ کی بیوی ہے میں نے اس کا چہرہ کھولا تو وہ تو ہی نکلی تو میں نے کہا اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خواب ہے تو اس طرح ضرور ہوگا۔
Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: I saw you in a dream for three nights when an angel brought you to me in a silk cloth and he said: Here is your wife, and when I removed (the cloth) from your face, lo, it was yourself, so I said: If this is from Allah, let Him carry it out.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابن نمیر، ابن ادریس ابوکریب ابواسامہ حضرت ہشام (رض) اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ وَجَدْتُ فِي کِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا کُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا کُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَی قَالَتْ فَقُلْتُ وَمِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِکَ قَالَ أَمَّا إِذَا کُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّکِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا کُنْتِ غَضْبَی قُلْتِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَکَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی اسامہ ہشام ابوکریب محمد علاء، ابواسامہ ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں جانتا ہوں جس وقت کہ تُو مجھ سے راضی ہوتی ہے تو تُو کہتی ہے کہ محمد کے رب کی قسم ! اور جب تُو غصہ ہوتی ہے تو کہتی ہے ابراہیم کے رب کی قسم۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا بیشک اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم میں تو صرف آپ کا نام مبارک ہی چھوڑتی ہوں
Aisha reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to me: I can well discern when you are pleased with me and when you are annoyed with me. I said: How do you discern it? Thereupon be said: When you are pleased with me you say;" No, by the Lord of Muhammad," and when you are annoyed with me, you say:" No, by the Lord of Ibrahim." I said: Allahs Messenger, by Allah, I in fact leave your name (when I am annoyed with you).
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
ابن نمیر، عبدہ حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے اس سند کے ساتھ ابراہیم کے رب کی قسم تک کا قول ذکر ہے اور اس کے بعد کا جملہ ذکر نہیں کیا
This hadith has been reported on the authority of Hishim bin Urwa with the same chain of transmitters up to the words:" No, by the Lord of Ibrahim," and he did not make mention of what follows subsequently.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا کَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ وَکَانَتْ تَأْتِينِي صَوَاحِبِي فَکُنَّ يَنْقَمِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ
یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن محمد بن ہشام ابن عروہ حضرت صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں وہ فرماتی ہیں کہ میرے پاس میری سہیلیاں آیا کرتی تھیں تو جب وہ رسول اللہ کو دیکھتیں تو غائب ہوجاتیں تھیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کو میری طرف بھیج دیا کرتے تھے۔
Aisha reported that she used to play with dolls in the presence of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and when her playmates came to her they left (the house) because they felt shy of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereas Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent them to her.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ کُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ فِي بَيْتِهِ وَهُنَّ اللُّعَبُ
ابوکریب ابواسامہ، زہیر بن حرب، جریر، ابن نمیر، محمد بن بشر حضرت ہشام اس سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں کہ جریر کی روایت میں ہے انہوں نے کہا کہ میں آپ ﷺ کے گھر میں گڑیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں اور وہی کھیل تھے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters with a slight variation of wording.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّاسَ کَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِذَلِکَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوکریب، عبدہ، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ لوگ (یعنی صحابہ (رض) تحفے تحائف بھیجنے کے لئے میری باری کا انتظار کیا کرتے تھے (یعنی آپ ﷺ کی جس دن میرے ہاں باری ہوتی تھی اس دن صحابہ (رض) تحفے بھیجا کرتے تھے) ۔ اور وہ اس سے رسول اللہ ﷺ کی خوشنودی چاہتے تھے۔
Aisha reported that people sent their gifts when it was the turn of Aisha seeking thereby the pleasure of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ مَعِي فِي مِرْطِي فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَکَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْکَ يَسْأَلْنَکَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَنَا سَاکِتَةٌ قَالَتْ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ بُنَيَّةُ أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ فَقَالَتْ بَلَی قَالَ فَأَحِبِّي هَذِهِ قَالَتْ فَقَامَتْ فَاطِمَةُ حِينَ سَمِعَتْ ذَلِکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَتْ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُنَّ بِالَّذِي قَالَتْ وَبِالَّذِي قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ لَهَا مَا نُرَاکِ أَغْنَيْتِ عَنَّا مِنْ شَيْئٍ فَارْجِعِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولِي لَهُ إِنَّ أَزْوَاجَکَ يَنْشُدْنَکَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ وَاللَّهِ لَا أُکَلِّمُهُ فِيهَا أَبَدًا قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ الَّتِي کَانَتْ تُسَامِينِي مِنْهُنَّ فِي الْمَنْزِلَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَرَ امْرَأَةً قَطُّ خَيْرًا فِي الدِّينِ مِنْ زَيْنَبَ وَأَتْقَی لِلَّهِ وَأَصْدَقَ حَدِيثًا وَأَوْصَلَ لِلرَّحِمِ وَأَعْظَمَ صَدَقَةً وَأَشَدَّ ابْتِذَالًا لِنَفْسِهَا فِي الْعَمَلِ الَّذِي تَصَدَّقُ بِهِ وَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی مَا عَدَا سَوْرَةً مِنْ حِدَّةٍ کَانَتْ فِيهَا تُسْرِعُ مِنْهَا الْفَيْئَةَ قَالَتْ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَائِشَةَ فِي مِرْطِهَا عَلَی الْحَالَةِ الَّتِي دَخَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا وَهُوَ بِهَا فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَکَ أَرْسَلْنَنِي إِلَيْکَ يَسْأَلْنَکَ الْعَدْلَ فِي ابْنَةِ أَبِي قُحَافَةَ قَالَتْ ثُمَّ وَقَعَتْ بِي فَاسْتَطَالَتْ عَلَيَّ وَأَنَا أَرْقُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْقُبُ طَرْفَهُ هَلْ يَأْذَنُ لِي فِيهَا قَالَتْ فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ حَتَّی عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَکْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ قَالَتْ فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا حَتَّی أَنْحَيْتُ عَلَيْهَا قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَبَسَّمَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَبِي بَکْرٍ
حسن بن علی حلوانی ابوبکر بن نضر عبد بن حمید عبد یعقوب بن ابراہیم، بن سعد ابوصالح ابن شہاب محمد بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام، نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے رسول اللہ کی بیٹی حضرت فاطمہ کو رسول اللہ کی طرف بھیجا تو حضرت فاطمہ نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی اس حال میں کہ آپ ﷺ میرے ساتھ میری چادر میں لپٹے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو اجازت عطا فرما دی۔ حضرت فاطمہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ کی طرف اس لئے بھیجا ہے کہ آپ ﷺ حضرت ابوبکر کی بیٹی (حضرت عائشہ (رض) کے بارے میں (محبت وغیرہ) میں ہم سے انصاف کریں اور میں خاموش تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ سے فرمایا اے بیٹی ! کیا تو اس سے محبت نہیں کرتی جس سے میں محبت کرتا ہوں۔ حضرت فاطمہ نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو ان سے (حضرت عائشہ (رض) محبت رکھ۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جس وقت حضرت فاطمہ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی تو وہ کھڑی ہوگئیں اور نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کی طرف آئیں اور انہیں اس بات کی خبر دی جو انہوں نے کہا اور اس بات کی بھی جو ان سے آپ ﷺ نے فرمایا تو وہ ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ تم ہمارے کسی کام نہ آئیں اس لئے رسول اللہ کی طرف پھر جاؤ اور آپ ﷺ سے عرض کرو کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات حضرت ابوبکر کی بیٹی (حضرت عائشہ (رض) کے بارے میں آپ ﷺ سے انصاف چاہتی ہیں۔ حضرت فاطمہ کہنے لگیں لیکن اللہ کی قسم میں تو اس بارے میں کبھی آپ ﷺ سے بات نہیں کروں گی۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پھر نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت زینب بنت جحش کو آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا اور رسول اللہ کے نزدیک مرتبہ میں میرے برابر وہی تھیں اور میں نے کوئی عورت حضرت زینب سے زیادہ دیندار اور اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والی اور سب سے زیادہ سچ بولنے والی اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی اور بہت ہی صدقہ و خیرات کرنے والی عورت نہیں دیکھی اور نہ ہی حضرت زینب سے بڑھ کر تواضع اختیار کرنے والی اور اپنے ان اعمال کو کم سمجھنے والی کوئی عورت دیکھی لیکن ایک چیز میں کہ ان میں تیزی تھی اور اس سے بھی وہ جلدی پھرجاتی تھیں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اس حال میں اجازت عطا فرما دی کہ آپ ﷺ حضرت عائشہ (رض) کے ساتھ انہی کی چادر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ ﷺ اس حال میں تھے کہ جس حال میں حضرت فاطمہ آپ ﷺ کی خدمت میں آئی تھیں۔ حضرت زینب نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کی ازواج مطہرات نے مجھے آپ ﷺ کی طرف اس لئے بھیجا ہے کہ آپ ﷺ ابوبکر کی بیٹی (حضرت عائشہ (رض) کے بارے میں ہم سے انصاف کریں (حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں) کہ حضرت زینب یہ کہہ کر میری طرف متوجہ ہوئیں اور انہوں نے مجھے بہت کچھ کہا اور میں رسول اللہ کی نگاہوں کو دیکھ رہی تھیں کہ کیا آپ ﷺ مجھے اس بارے میں حضرت زینب کو جواب دینے کی اجازت دیتے ہیں حضرت زینب کے بولنے کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ میں نے پہچان لیا کہ رسول اللہ میرے جواب دینے کو ناپسند نہیں سمجھیں گے حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر میں بھی ان پر متوجہ ہوئی اور تھوڑی ہی دیر میں ان کو چپ کرا دیا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (یہ دیکھتے ہوئے) مسکرائے اور فرمایا یہ حضرت ابوبکر کی بیٹی ہے۔
Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , said: The wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent Fatima, the daughter of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . She sought permission to get in as he had been lying with me in my mantle. He gave her permission and she said: Allahs Messenger, verily, your wives have sent me to you in order to ask you to observe equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She (Aisha) said: I kept quiet. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to her (Fatima): O daughter, dont you love whom I love? She said: Yes, (I do). Thereupon he said: I love this one. Fatima then stood up as she heard this from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and went to the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and informed them of what she had said to him and what Allahs messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said to her. Thereupon they said to her: We think that you have been of no avail to us. You may again go to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and tell him that his wives seek equity in case of the daughter of Abu Quhafa. Fatima said: By Allah, I will never talk to him about this matter. Aisha (further) reported: The wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) then sent Zainab bin jahsh, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and she was one who was somewhat equal in rank with me in the eyes of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and I have never seen a woman more advanced in religious piety than Zainab, more God-conscious, more truthful, more alive to the ties of blood, more generous and having more sense of self-sacrifice in practical life and having more charitable disposition and thus more close to God, the Exalted, than her. She, however, lost temper very soon but was soon calm. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) permitted her to enter as she (Aisha) was along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in her mantle, in the same very state when Fatima had entered. She said: Allahs Messenger, your wives have sent me to you seeking equity in case of the daughter of Abu Quhafa. She then came to me and showed harshness to me and I was seeing the eyes of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) whether he would permit me. Zainab went on until I came to know that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would not disapprove if I retorted. Then I exchanged hot words until I made her quiet. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) smiled and said: She is the daughter of Abu Bakr.
سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ فِي الْمَعْنَی غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَلَمَّا وَقَعْتُ بِهَا لَمْ أَنْشَبْهَا أَنْ أَثْخَنْتُهَا غَلَبَةً
محمد بن عبداللہ بن قہزار عبداللہ بن عثمان عبداللہ بن مبارک، یونس، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے اور اس میں کہ جب حضرت عائشہ (رض) حضرت زینب (رض) کی طرف متوجہ ہوئیں تو پھر وہ مجھ پر غالب نہ آسکیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording.