Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 313 of 379

6252Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوعبیدہ (رض) بن جراح کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ قَالَ أَنَسٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِکُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَنَا أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ خالد زہیر بن حرب، اسماعیل ابن علیہ، خالد، حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور ہمارے اس امت کے امین حضرت ابوعبیدہ بن جراح ہیں (اگرچہ اور صحابہ (رض) بھی امین تھے مگر ابوعبیدہ (رض) اوروں سے ممتاز تھے) ۔

Anas reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: For every Umma there is a man of trust and the man of trust of this Umma is Abu Ubaida bin Jarrah.

6253Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوعبیدہ (رض) بن جراح کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمْنَا السُّنَّةَ وَالْإِسْلَامَ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَقَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ

عمرو ناقد عفان حماد ابن سلمہ ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ یمن کے علاقہ کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہمارے ساتھ کوئی ایسا آدمی بھیجیں کہ جو ہمیں سنت اور اسلام کی تعلیم دے حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ (رض) کا ہاتھ پکڑا اور آپ ﷺ نے فرمایا یہ اس امت کا امین ہے۔

Anas reported that the people of Yemen came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Send with us a person who should teach us Sunnah and al-Islam, whereupon he (the Holy Prophet) caught hold of the hand of Ubaida and said: He is a man of trust of this Umma.

6254Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوعبیدہ (رض) بن جراح کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ جَائَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا فَقَالَ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْکُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ حَقَّ أَمِينٍ قَالَ فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ قَالَ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ

محمد بن مثنی، ابن بشار ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق صلہ بن زفر حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ نجران کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہماری طرف کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرف ایک ایسے امانت دار آدمی کو بھیج رہا ہوں کہ جو یقینا امانت دار ہے یقینا امانت دار ہے حضرت حذیفہ (رض) فرماتے ہیں کہ لوگوں نے اس طرف اپنی نظروں کو جما لیا راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کو بھیجا۔

Hudhaifa reported that the people of Najran came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, send along with us a man of trust; whereupon he said: I would definitely send to you a man of trust, a man of trust in the true sense of the term. Thereupon his Companions looked up eagerly and he sent Abu Ubaida bin Jarrah.

6255Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوعبیدہ (رض) بن جراح کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

اسحاق بن ابراہیم، ابوداؤد جفری سفیان، حضرت ابواسحاق سے اس سند کے ساتھ مذکورہ روایت کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been reported on the authority of Abu Ishaq with the same chain of transmitters.

6256Sahih Muslimصحیح

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِحَسَنٍ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ

احمد بن حنبل سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن ابی برید نافع بن جبیر حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت حسن کے لئے فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور تو اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying to Hasan: O Allah, behold, I love him. Thou too love him and love one who loves him.

6257Sahih Muslimصحیح

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ النَّهَارِ لَا يُکَلِّمُنِي وَلَا أُکَلِّمُهُ حَتَّی جَائَ سُوقَ بَنِي قَيْنُقَاعَ ثُمَّ انْصَرَفَ حَتَّی أَتَی خِبَائَ فَاطِمَةَ فَقَالَ أَثَمَّ لُکَعُ أَثَمَّ لُکَعُ يَعْنِي حَسَنًا فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا تَحْبِسُهُ أُمُّهُ لِأَنْ تُغَسِّلَهُ وَتُلْبِسَهُ سِخَابًا فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَائَ يَسْعَی حَتَّی اعْتَنَقَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحْبِبْ مَنْ يُحِبُّهُ

ابن ابی عمر سفیان، عبداللہ بن ابی یزید نافع بن جبیر بن مطعم حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ دن کے کسی وقت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلا نہ تو آپ ﷺ مجھ سے کوئی بات کرتے تھے اور نہ ہی میں نے آپ سے کوئی بات کی یہاں تک کہ ہم بنی قینقاع کے بازار میں آگئے پھر آپ ﷺ واپس ہوئے اور حضرت فاطمہ (رض) کے ہاں تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا کیا بچہ ہے ؟ کیا بچہ ہے ؟ یعنی حضرت حسن۔ تو ہم نے خیال کیا کہ ان کی ماں نے ان کو غسل کروانے کے لئے اور ان کو خوشبوں کا ہار پہنانے کے لئے روک رکھا ہے لیکن تھوڑی سی دیر کے بعد وہ دوڑتے ہوئے آئے یہاں تک کہ وہ دونوں یعنی آپ ﷺ اور حضرت حسن ایک دوسرے سے گلے ملے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور تو اس سے محبت کر جو اس سے محبت کرے۔

Abu Hurairah (RA) reported: I went along with Allalhs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at a time during the day but he did not talk to me and I did not talk to him until he reached Bazar of Bani Qainuqa. He came back to the tent of Fatima and said: Is the little chap (meaning Hasan) there? We were under the impression that his mother had detained him in order to bathe him and dress him and garland him with a sweet garland. Not much time had passed that he (Hasan) came running until both of them embraced each other, thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O Allah, I love him; love him Thou and love one who loves him (Hasan).

6258Sahih Muslimصحیح

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا الْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ قَالَ رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَی عَاتِقِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ

عبیداللہ بن معاذ ابی شیعبہ عدی ابن ثابت حضرت براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن علی (رض) کو نبی ﷺ کے کندھے پر دیکھا اور آپ ﷺ فرما رہے تھے اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔

Al-Bara bin Azib (RA) reported: I saw Hasan bin Ali upon the shoulders of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he was saying: O Allah, I love him, and love him Thou.

6259Sahih Muslimصحیح

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَی عَاتِقِهِ وَهُوَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ

محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع ابن نافع غندر شعبہ، عدی ابن ثابت، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حضرت حسن بن علی (رض) کو اپنے کندھوں پر بٹھایا ہوا ہے اور آپ ﷺ فرما رہے ہیں اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر۔

Al-Bara b. Azib reported: I saw the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) with Al-Hasan b. Ali placed upon his shoulders and he was saying: O Allah, I love him, and love him Thou.

6260Sahih Muslimصحیح

حضرت حسن اور حسین (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيُّ الْيَمَامِيُّ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِيَاسٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَقَدْ قُدْتُ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ بَغْلَتَهُ الشَّهْبَائَ حَتَّی أَدْخَلْتُهُمْ حُجْرَةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا قُدَّامَهُ وَهَذَا خَلْفَهُ

عبداللہ بن رومی یمامی عباس بن عبدالعظیم عنبری نضر بن محمد عکرمہ ابن عمار حضرت ایاس (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے اس سفید گدھے کو کھینچا کہ جس پر اللہ کے نبی ﷺ اور حضرت حسن اور حضرت حسین سوار ہیں یہاں تک کہ میں اسے کھینچ کر نبی ﷺ کے حجرہ تک لے گیا ان میں سے ایک آپ ﷺ کے آگے ایک پیچھے تھا۔

Iyas reported on the authority of his father: I (had the honour of) leading the white mule on which rode Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and with him were Hasan and Husain, till it reached the apartment of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The one amongst them was seated before him and the other one was seated behind him.

6261Sahih Muslimصحیح

اہل بیت عظام (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ فَجَائَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ جَائَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ ثُمَّ جَائَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا ثُمَّ جَائَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَکُمْ تَطْهِيرًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوبکر محمد بن بشر زکریا، مصعب بن شیبہ صفیہ بنت شیبہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ صبح کے وقت اس حال میں نکلے کہ آپ ﷺ اپنے اوپر ایک ایسی چادر اوڑھے ہوئے تھے کہ جس پر کجاو وں یا ہانڈیوں کے نقش سیاہ بالوں سے بنے ہوئے تھے اسی دوران میں حضرت حسن (رض) آگئے تو آپ ﷺ نے ان کو اپنی اس چادر کے اندر کرلیا پھر حضرت حسین (رض) بھی آگئے تو آپ ﷺ نے ان کو بھی اپنی چادر کے اندر کرلیا پھر حضرت فاطمہ (رض) آئیں تو آپ ﷺ نے ان کو بھی اپنی چادر میں کرلیا پھر حضرت علی (رض) آئے تو آپ ﷺ نے ان کو بھی اپنی چادر میں کرلیا پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33) 33 ۔ الاحزاب : 33)

Aisha reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went out one norning wearing a striped cloak of the black camels hair that there came Hasan bin Ali. He wrapped hitn under it, then came Husain and he wrapped him under it along with the other one (Hasan). Then came Fatima and he took her under it, then came Ali and he also took him under it and then said: Allah only desires to take away any uncleanliness from you, O people of the household, and purify you (thorough purifying)

6262Sahih Muslimصحیح

حضرت زید بن حارثہ (رض) اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ مَا کُنَّا نَدْعُو زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّی نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الدُّوَيْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری موسیٰ بن مقبہ حضرت سالم بن عبداللہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم حضرت زید بن حارثہ (رض) کو زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے (کیونکہ زید (رض) آپ ﷺ کے متبنیٰ تھے) یہاں تک کہ قرآن مجید نازل ہوا کہ تم لوگ ان کو ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے پکارو تو یہ اللہ کے ہاں زیادہ بہتر ہے۔

Salim bin Abdullah reported on the authority of his father: We were in the habit of calling Zaid bin Harith as Zaid bin Muhammad until it was revealed in the Quran:" Call them by the names of their fathers. This is more equitable with Allah" (This hadith has been transmitted on the authority of Qutaiba bin Sad)

6263Sahih Muslimصحیح

حضرت زید بن حارثہ (رض) اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ

احمد بن سعید دارمی حبان وہیب موسیٰ بن عقبہ سالم حضرت عبداللہ (رض) سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority Abdullah through another chain of transmitters.

6264Sahih Muslimصحیح

حضرت زید بن حارثہ (رض) اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمْرَتِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمْرَتِهِ فَقَدْ کُنْتُمْ تَطْعَنُونَ فِي إِمْرَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمْرَةِ وَإِنْ کَانَ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ

یحییٰ بن یحیی، و یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر یحییٰ بن یحیی، اسماعیل یعنی ابن جعفر عبداللہ بن دینار حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس لشکر پر حضرت اسامہ بن زید کو سردار مقرر فرمایا تو لوگوں نے حضرت اسامہ کی سرداری کے بارے میں نکتہ چینی کی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اگر تم حضرت اسامہ (رض) کی سرداری پر طعن کرتے ہو تو تم لوگ اس سے پہلے حضرت اسامہ کے باپ کی سرداری میں بھی نکتہ چینی کرچکے ہو اور اللہ کی قسم ! اسامہ کا باپ بھی سرداری کے لائق تھا اور وہ سب لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب تھا اور اب ان کے بعد یہ اسامہ بھی مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے۔

Ibn Umar reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent an expedition and appointed Usama bin Zaid as its chief. The people objected to his command, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood up and said: You object to his command and before this you objected to the command of his father (Zaid). By Allah, he was fit as the commander and he was one of the dearest of persons to me and after him, behold! this one (Usama) is one of the dearest of persons to me.

6265Sahih Muslimصحیح

حضرت زید بن حارثہ (رض) اور حضرت اسامہ بن زید (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُمَرَ يَعْنِي ابْنَ حَمْزَةَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَخَلِيقًا لَهَا وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيَّ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ هَذَا لَهَا لَخَلِيقٌ يُرِيدُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کَانَ لَأَحَبَّهُمْ إِلَيَّ مِنْ بَعْدِهِ فَأُوصِيکُمْ بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ صَالِحِيکُمْ

ابوکریب محمد بن علا ابواسامہ عمر ابن حمزہ حضرت سالم (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس حال میں کہ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ اگر تم لوگ اسامہ کی سرداری پر نکتہ چینی کرتے ہو تو تم لوگ اس سے پہلے ان کے باپ کی سرداری پر بھی نکتہ چینی کرچکے ہو اور اللہ کی قسم ! وہ سرداری کے لائق تھے اور اللہ کی قسم وہ میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھے اللہ کی قسم اسامہ بن زید بھی سرداری کے لائق ہے اور حضرت زید کے بعد مجھے یہ سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے اسی وجہ سے میں تم لوگوں کو حضرت اسامہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہارے نیک لوگوں میں سے ہیں۔

Salim reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said on the pulpit: You object to the command of Usima bin Zaid as you had objected before to the command of his father (Zaid). By Allah, he was most competent for it and, by Allah, he was dearest to me amongst people and, by Allah, the same is the case with Usama bin Zaid. He is most dear to me after him and I advise you to treat him well for he is pious amongst you.

6266Sahih Muslimصحیح

حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَتَذْکُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ نَعَمْ فَحَمَلَنَا وَتَرَکَکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ حبیب ابن شہید حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) نے حضرت ابن زیبیر (رض) سے فرمایا کیا آپ کو یاد ہے کہ جب میں نے اور آپ نے اور حضرت ابن عباس (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی تھی انہوں نے فرمایا جی ہاں تو آپ ﷺ نے ہمیں سوار کرلیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا۔

Abdullah bin Abu Mulaikah reported thatAbdullah bin Jafar said to Ibn Zubair: Do you remember (the occasion) when we three (i. e. I, you and ibn Abbas) met Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he mounted us (on his camel) but left you? He said: Yes.

6267Sahih Muslimصحیح

حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَإِسْنَادِهِ

اسحاق بن ابراہیم، ابواسامہ حضرت حبیب بن شہید سے ابن علیہ کی حدیث اور ان کی سند کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Habib bin Ash-Shahid.

6268Sahih Muslimصحیح

حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا و قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِصِبْيَانِ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ وَإِنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ جِيئَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ قَالَ فَأُدْخِلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَی دَابَّةٍ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ ابوبکر یحییٰ ابومعاویہ عاصم، احول مورق عجلی حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تھے تو گھر کے بچے آپ ﷺ سے جا کر ملتے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ سفر سے واپس تشریف لائے تو میں آپ ﷺ سے ملنے کے لئے آ گے بڑھا تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا پھر حضرت فاطمہ (رض) کے لخت جگر آئے تو آپ ﷺ نے ان کو اپنے پیچھے بٹھا لیا راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم تینوں ایک ہی سواری پر بیٹھے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔

Abdullah bin Jafar reported that when Allahs Messenger (may peace be, upon him) came back from a journey, the children of his family used to accord him welcome. It was in this way that once he came back from a journey and I went to him first of all. He mounted me before him. Then there came one of the two sons of Fatima and he mounted him behind him and this is how we three entered Madinah riding on a beast.

6269Sahih Muslimصحیح

حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ حَدَّثَنِي مُوَرِّقٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا قَالَ فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ أَوْ بِالْحُسَيْنِ قَالَ فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْآخَرَ خَلْفَهُ حَتَّی دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان عاصم، مورق عجلی حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ ﷺ ہم سے ملتے راوی کہتے ہیں مجھ سے اور حضرت حسن (رض) سے یا حضرت حسین (رض) سے ملے تو آپ ﷺ نے ہم میں سے ایک کو اپنے سامنے بٹھایا اور ایک کو اپنے پیچھے بٹھا لیا یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔

Abdullah bin Jaafar reported that when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came back from a journey he met us. Once he met me, Hasan or Husain, and he mounted one of us before him and the other one behind him until we entered Madinah.

6270Sahih Muslimصحیح

حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنْ النَّاسِ

شیبان بن فروخ مہدی بن میمون محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب حسن بن سعد مولیٰ حسن بن علی حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور خاموشی سے مجھے ایک بات ارشاد فرمائی جس کو میں لوگوں میں سے کسی سے بیان نہیں کروں گا۔

Abdullah bin Jafar reported that one day Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) mounted me behind him and narrated to me something in secret which I would narrate to none amongst people.

6271Sahih Muslimصحیح

ام المومنین سیدہ خدیجہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَوَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَاللَّفْظُ حَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا بِالْکُوفَةِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ وَأَشَارَ وَکِيعٌ إِلَی السَّمَائِ وَالْأَرْضِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر ابوسامہ ابوکریب ابواسامہ بن نمیر وکیع، ابومعاویہ اسحاق بن ابراہیم، عبدہ بن سلیمان ہشام بن عروہ ابواسامہ، ابوکریب اسامہ ہشام حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی (رض) سے کوفہ میں سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ تمام عورتوں میں سب سے افضل عورت مریم بنت عمران ہے اور سب عورتوں سے افضل عورت حضرت خدیجہ (رض) بنت خویلد ہیں ابوکریب کہتے ہیں کہ حضرت وکیع نے آسمان و زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔

Abdullah bin Jafar reported that he heard All say in Kulfa that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The best of the women of her time was Mary, daughter of Imran, and the best of the women of her time was Khadija, daughter of khuwailid. Abu Kuraib said that Wakil pointed towards the sky and the earth