حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب یحییٰ بن سعید عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک رات جاگے سلیمان بن بلال کی حدیث کی طرح ذکر فرمایا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Rumh with a slight variation of wording.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُا مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ فَإِنَّهُ جَعَلَ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ ارْمِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي
منصور بن ابر مزاحم ابراہیم، ابن سعد عبداللہ بن شداد حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ماں باپ کے لئے کسی کو جمع نہیں فرمایا سوائے حضرت سعد بن مالک (رض) یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص کے لئے آپ ﷺ نے احد کے دن حضرت سعد سے فرمایا اے سعد تیر پھینک میرے ماں باپ تجھ پر قربان۔ (سبحان اللہ ! کیا شان ہے حضرت سعد کی کہ جن پر اللہ کے نبی ﷺ اپنے ماں باپ کو قربان کر رہے ہیں، مترجم) ۔
Abdullah bin Shaddad reported that he heard Allahs saying: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not gather his parents except in case of Sad bin Malik that he said to him on the Day of Uhud: Shoot an arrow, may my father and mother be taken as ransom for you.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ الْحَنْظَلِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مِسْعَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابوکریب اسحاق حنظلی محمد بن بشر مسعر ابن ابی عمر سفیان، مسعر سعد بن ابراہیم، عبداللہ بن حضرت علی (رض) نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Ali through another chain of transmitters.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ
عبداللہ بن مسلمہ قعنب سلیمان ابن بلال ابن سعید حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا۔
Sad b Abi Waqqas said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gathered his parents for me on the Day of Uhud.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
قتیبہ بن سعید، ابن رمح لیث، سعد ابن مثنی عبدالوہاب حضرت یحییٰ بن سعید اس سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Yabyl bin Said with the same chain of transmitters.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ قَالَ کَانَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْمِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ فَنَزَعْتُ لَهُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ فَأَصَبْتُ جَنْبَهُ فَسَقَطَ فَانْکَشَفَتْ عَوْرَتُهُ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی نَوَاجِذِهِ
محمد بن عباد حاتم ابن اسماعیل بکیر بن مسمار حضرت عامر بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کے لئے احد کے دن اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا حضرت سعد فرماتے ہیں کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی تھا کہ جس نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی ﷺ نے حضرت سعد سے فرمایا اے سعد (ارْمِ فِدَاکَ أَبِي وَأُمِّي) تیر پھینک میرے ماں باپ تجھ پر قربان حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں نے بغیر پرکھے تیر کھینچ کر اس کے پہلو پر مارا جس سے وہ گرپڑا اور اس کی شرمگاہ کھل گئی تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک دیکھیں۔
Amir bin Sad reported on the authority of his father that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gathered for him on the Day of Uhud his parents when a polytheist had set fire to (i. e. attacked fiercely) the Muslims. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: (Sad), shoot an arrow, (Sad), may my mother and father be taken as ransom for you. I drew an arrow and I shot a featherless arrow at him aiming his side that lie fell down and his private parts were exposed. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) laughed that I saw his front teeth.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُکَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّی يَکْفُرَ بِدِينِهِ وَلَا تَأْکُلَ وَلَا تَشْرَبَ قَالَتْ زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ وَصَّاکَ بِوَالِدَيْکَ وَأَنَا أُمُّکَ وَأَنَا آمُرُکَ بِهَذَا قَالَ مَکَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّی غُشِيَ عَلَيْهَا مِنْ الْجَهْدِ فَقَامَ ابْنٌ لَهَا يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَی سَعْدٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاکَ عَلَی أَنْ تُشْرِکَ بِي وَفِيهَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا قَالَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنِيمَةً عَظِيمَةً فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ فَقَالَ رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّی إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لَامَتْنِي نَفْسِي فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ أَعْطِنِيهِ قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ قَالَ وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي فَقُلْتُ دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ قَالَ فَأَبَی قُلْتُ فَالنِّصْفَ قَالَ فَأَبَی قُلْتُ فَالثُّلُثَ قَالَ فَسَکَتَ فَکَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا قَالَ وَأَتَيْتُ عَلَی نَفَرٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرِينَ فَقَالُوا تَعَالَ نُطْعِمْکَ وَنَسْقِکَ خَمْرًا وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ قَالَ فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ قَالَ فَأَکَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ قَالَ فَذَکَرْتُ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرِينَ عِنْدَهُمْ فَقُلْتُ الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَيْ الرَّأْسِ فَضَرَبَنِي بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ يَعْنِي نَفْسَهُ شَأْنَ الْخَمْرِ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، موسیٰ زہیر سماک بن حرب، حضرت مصعب بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ ان کے بارے میں قرآن مجید میں سے کچھ آیات کریمہ نازل ہوئیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس سے کبھی بات نہیں کرے گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین کا انکار کریں اور وہ نہ کھائے گی اور نہ پئے گی وہ کہنے لگی اللہ نے تجھے اپنے والدین کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے اور میں تیری والدہ ہوں اور میں تجھے اس بات کا حکم دیتی ہوں راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ تین دن تک اسی طرح رہی یہاں تک کہ اس پر غشی طاری ہوگئی تو اس کا ایک بیٹا کھڑا ہوا جسے عمارہ کہا جاتا ہے اس نے اپنی والدہ کو پانی پلایا تو حضرت سعد کو بد دعا دینے لگی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر وہ تجھ سے اس بات پر جھگڑا کریں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بہت سا غنیمت کا مال آیا جس میں ایک تلوار بھی تھی تو میں نے وہ تلوار پکڑی اور اسے رسول اللہ کی خدمت میں لے کر آیا اور میں نے عرض کیا یہ تلوار مجھے انعام کے طور پر عنایت فرما دیں اور میں کون ہوں اس کا آپ ﷺ کو علم ہی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جہاں سے تو نے لیا ہے وہیں لوٹا دے تو میں چلا یہاں تک کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں اس تلوار کو گودام میں رکھ دوں لیکن میرے دل نے مجھے ملامت کی اور پھر میں آپ ﷺ کی طرف لوٹا اور میں نے عرض کیا یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں آپ نے مجھے اپنی آواز کی سختی سے فرمایا جہاں سے تو نے یہ تلوار لی ہے اس کو وہیں لوٹا دے تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ نال فرمائی آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں مال غنیمت کے حکم کے بارے میں حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہوگیا تو میں نے نبی ﷺ کی طرف پیغام بھیجا تو آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا مجھے اجازت عطا فرمائیں کہ میں اپنے مال جس طرح چاہوں تقسیم کروں حضرت سعد کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے انکار کردیا میں نے عرض کیا آدھا مال تقسیم کر دوں آپ ﷺ نے اس سے بھی انکار فرما دیا میں نے عرض کیا تہائی مال تقسیم کر دوں حضرت سعد کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ خاموش ہوگئے پھر اس کے بعد یہی حکم ہوا کہ تہائی مال تقسیم کرنے کی اجازت ہے حضرت سعد فرماتے ہیں کہ میں مہاجرین اور انصار کے کچھ لوگوں کے پاس آیا تو انہوں نے کہا آئیں ہم آپ کو کھانا کھلاتے ہیں اور ہم آپ کو شراب پلاتے ہیں اور یہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ پھر میں ان کے پاس ایک باغ میں گیا تو میں نے دیکھ کہ ان کے پاس اونٹ کے سر کا گوشت بھنا ہوا پڑا ہے اور شراب کی ایک مشک بھی رکھی ہوئی ہے حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ان کے ساتھ گوشت بھی کھایا اور شراب بھی پی حضرت سعد کہتے ہیں کہ پھر ان کے ہاں مہاجرین اور انصار کا ذکر ہوا تو میں نے کہا مہاجر لوگ انصار سے بہتر ہیں حضرت سعد کہتے ہیں کہ پھر ایک آدمی نے سری کا ایک ٹکڑا لیا اور اس سے مجھے مارا تو میری ناک زخمی ہوگئی پھر میں رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ ﷺ کا اس سارے واقعہ کی خبر دی تو اللہ عزوجل نے میری وجہ سے شراب کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ( اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ ) 5 ۔ المائدہ : 90) شراب، جُوا، بت اور تیر یہ سب گندے اور شیطان کے کام ہیں۔
Musab bin Sad reported on the authority of his father that many verses of the Quran had been revealed in connection with him. His mother Umm Sad had taken oath that she would never talk with him until he abandoned his faith and she neither ate nor drank and said: Allah has commanded you to treat well your parents and I am your mother and I command you to do this. She passed three days in this state until she fainted because of extreme hunger and at that time her son whose name was Umara stood up and served her drink and she began to curse Sad that Allah, the Exalted and Glorions, revealed these verses of the Holy Quran:" And We have enjoined upon a person goodness to his parents but if they contend with thee to associate (others) with Me of which you have no knowledge, then obey them not" (xxix. 8) ; Treat thein with customary good in this world" (xxxi. 15). He also reported that there fell to the lot of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) huge spoils of war and there was one sword in them. I picked that up and came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Bestow this sword upon me (as my share in the spoils of war) and you know my state. Thereupon he said: Return it to the place from where you picked it up. I went back until I decided to throw it in a store but my soul repulsed me so I came back and asked him to give that sword to me. He said in a loud voice to return it to the place from where I had picked it up. It was on this occasion that this verse was revealed:" They asked about the spoils of war" (viii. 1). He further said: I once fell ill and sent a message to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He visited me and I said to him: Permit me to distribute (in charity) my property as much as I like. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) half of it. He did not agree. I said: (Permit me to distribute) the third part, whereupon he kept quiet and it was after this (that the distribution of ones property in charity) to the extent of one-third was held valid. He further said: I came to a group of persons of the Ansir and Muhajirin and they said: Come, so that we may serve you wine, and it was before the use of wine had been prohibited. I went to them in a garden and there had been with them the roasted head of a camel and a small water-skin containing wine. I ate and drank along with them and there came under discussion the Ansr (Helpers) and Muhajirin (immigrants). I said: The immigrants are better than the Ansar, that a person picked up a portion of the head (of the camel and struck me with it that my nose was injured. I came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and informed him of the situation that Aliah, the Exalted and Glorious, revealed verses pertaining to wine:" Intoxicants and the games of chance and (sacrificing to) stones set up and (divining by) arrows are only an uncleanliness, the devils work" (v. 90).
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ سِمَاکٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَالَ فَکَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوهَا وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ وَکَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، بن سماک بن حرب، حضرت مصعب بن سعد (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا میرے بارے میں چار آیات کریمہ نازل کی گئیں ہی زہیر عن سماک کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور شعبہ کی روایت میں یہ الفاظ زائدہ ہیں کہ حضرت سعد نے فرمایا لوگ جب چاہتے ہیں وہ میری والدہ کو کھانا کھلائیں تو اس کا منہ لکڑی سے کھولتے پھر اس کے منہ میں کچھ ڈالتے اور اس روایت میں ہے کہ حضرت سعد کے ناک پر انہوں نے مارا جس سے ان کی ناک چر گئی اور پھر چری ہی رہی۔
This hadith has been transmitted on the authority of Simak and the hadith transmitted on the authority of Shubah (the words are): When they intended to feed her (Sad. s mother), they opened her mouth with the help of a stick and then put the feed in her mouth, and in the same hadith the words are: He struck the nose of Sad and it was injured and Sad had (the mark) of wound on his nose.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ فِيَّ نَزَلَتْ وَلَا تَطْرُدْ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ قَالَ نَزَلَتْ فِي سِتَّةٍ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ مِنْهُمْ وَکَانَ الْمُشْرِکُونَ قَالُوا لَهُ تُدْنِي هَؤُلَائِ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن سفیان، مقدام بن شریح حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ اور نہ دور کرو ان لوگوں کو جو اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں چھ آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے میں اور حضرت ابن مسعود (رض) انہی میں سے تھے اور مشرک کہتے تھے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو اپنے قریب رکھتے ہیں۔
Sad reported: This verse was revealed in relation to six persons and I and Ibn Masud were amongst them. The polytheists said to him (the Holy Prophet): Do not keep such persons near you. It was upon this that (this verse was revealed):" Drive not away those who call upon their Lord morning and evening desiring only His pleasure" (vi. 52).
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَعْدٍ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطْرُدْ هَؤُلَائِ لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا قَالَ وَکُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ وَبِلَالٌ وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَطْرُدْ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ اسدی اسرائیل مقدام بن شریح حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ ہم چھ آدمی نبی ﷺ کے ساتھ تھے تو مشرک لوگوں نے نبی ﷺ سے کہا آپ ﷺ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیں تو یہ ہم پر جرات نہیں کرسکیں گے حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت ابن مسعود (رض) اور ہذیل کا ایک آدمی اور حضرت بلال اور دو آدمی جن کا نام نہیں جانتا تھا تو رسول اللہ کے دل میں جو اللہ نے چاہا واقع ہوا اور آپ ﷺ نے اپنے دل ہی میں باتیں کیں تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ان لوگوں کو دور نہ کرو جو اپنے رب کو صبح شام پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔
Sad reported: We were six men in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that the polytheists said to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Drive them away so that they may not be overbold upon us. He said: I, Ibn Masud and a person from the tribe of Hudhail, Bilal (RA) and two other persons, whose names I do not know (were amongst such persons). And there occurred to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) what Allah wished and he talked with himself that Allah, the Exalted and Glorious, revealed:" Do not drive away those who call their Lord morning and evening desiring to seek His pleasure."
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالُوا حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ لَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْکَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ وَسَعْدٍ عَنْ حَدِيثِهِمَا
محمد بن ابی بکر مقدمی حامد بن عمر بکراوی محمد بن عبدالاعلی معتمر ابن سلیمان حضرت ابوعثمان (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان دنوں میں کہ جن دنوں میں رسول اللہ ﷺ قتال (جہاد) کر رہے تھے سوائے حضرت طلحہ (رض) اور حضرت سعد (رض) کے کوئی بھی نہیں رہا۔
Abu Uthman reported on one of the days when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was fighting and none remained with him save Talha and Sad.
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ
عمرو ناقد سفیان بن عیینہ، محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے دن لوگوں کو جہاد کی ترغیب فرمائی حضرت زبیر (رض) نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں آپ ﷺ نے پھر جہاد کی ترغیب فرمائی پھر حضرت زبیر (رض) ہی نے عرض کیا کہ میں حاضر ہوں آپ نے پھر ترغیب فرمائی تو پھر حضرت زبیر (رض) ہی نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں پھر نبی ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے کچھ خصوصی معاون ہوتے ہیں اور میرے خصوصی معاون زبیر ہے۔
Jabir binAbdullah (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) exhorting people on the Day of the Battle of the Ditch to fight. Zubair said: I am ready (to participate). He then again exhorted and he again said: I am ready to participate. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Behold. for every Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) there is a helper and my helper is Zubair.
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
ابوکریب ابواسامہ ہشام عروہ ابوکریب اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، محمد بن منکدر حضرت جابر (رض) نے نبی ﷺ سے ابن عیینہ کی حدیث کی طرح حدیث نقل کی ہے۔
Jabir reported this hadith through another chain of transmitters.
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ مُسْهِرٍ قَالَ إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ کُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ مَعَ النِّسْوَةِ فِي أُطُمِ حَسَّانَ فَکَانَ يُطَأْطِئُ لِي مَرَّةً فَأَنْظُرُ وَأُطَأْطِئُ لَهُ مَرَّةً فَيَنْظُرُ فَکُنْتُ أَعْرِفُ أَبِي إِذَا مَرَّ عَلَی فَرَسِهِ فِي السِّلَاحِ إِلَی بَنِي قُرَيْظَةَ قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِأَبِي فَقَالَ وَرَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَبَوَيْهِ فَقَالَ فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي
اسمعیل بن خلیل سوید بن سعدی ابن مسہر اسماعیل علی بن مسہر، ہشام بن عروہ حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے اور حضرت عمرو بن ابی سلمہ غزوہ خندق کے دن عورتوں کے ساتھ حضرت حسان کے قلعہ ہی میں تھے تو کبھی وہ میرے لئے جھک جاتا تو وہ مجھے دیکھ لیتا اور کبھی میں اپنے باپ کو پہچان جاتا جب وہ مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہو کر بنی قریظہ کی طرف جاتے راوی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عبداللہ بن عروہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے حوالہ سے خبر دی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر اپنے باپ سے کیا تو انہوں نے فرمایا اے میرے بیٹے کیا تو نے مجھے دیکھا تھا میں نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم اس دن رسول اللہ ﷺ نے میر لئے اپنے ماں باپ کو جمع فرمایا اور آپ ﷺ نے فرمایا (فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي) میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔
Abdullah bin Zubair reported on the Day of the Battle of the Trench: I and Umar bin Abu Salama were with women folk in the fort of Hassan (b. Thabit). He at one time leaned for me and I cast a glance and at anothertime I leaned for him and he would see and I recognised my father as he rode on his horse with his arms towards the tribe of Quraizah. Abdullah bin Urwa reported fromAbdullah bin Zubair: I made a mention of that to my father, whereupon he said: My son, did you see me (on that occasion)? He said: Yes. Thereupon he said: By Allah, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) addressed me saying: I would sacrifice for thee my father and my mother.
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ کُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ النِّسْوَةُ يَعْنِي نِسْوَةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُرْوَةَ فِي الْحَدِيثِ وَلَکِنْ أَدْرَجَ الْقِصَّةَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ
ابوکریب ابواسامہ ہشام حضرت عبداللہ بن زیبر (رض) سے روایت ہے کہ جب خندق ہوا تو میں اور حضرت عمرو بن ابی سلمہ اس قلعہ میں تھے کہ جس میں عورتیں تھیں یعنی نبی ﷺ کی ازواج مطہرات تھیں مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی لیکن اس میں حضرت عبداللہ بن عروہ کا ذکر نہیں ہے لیکن اس واقعہ کو ہشام عن ابیہ عن ابن الزیبر کی حدیث میں ملا دیا ہے۔
Abdullah bin Zubair reported: When it was the Day of the Battle of the Ditch I and Umar bin Salama were in the fort in which there were women, i. e. the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ; the rest of the hadith is the same.
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَلَی حِرَائٍ هُوَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ فَتَحَرَّکَتْ الصَّخْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اهْدَأْ فَمَا عَلَيْکَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ حرا پر تھے حضرت ابوبکر (رض) عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زیبر (رض) بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے تو وہ پتھر حرکت کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ٹھہر جا کیونکہ تیرے اوپر سوائے نبی یا صدیق یا شہید کے اور کوئی نہیں ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was upon the mountain of Hira, and there were along with him Abu Bakr, Umar, Uthman. Ali, Talha, Zubair, that the mountain stirred; thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Be calm, there is none upon you but a Prophet, a Fiddle (the testifier of truth) and a Martyr.
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَلَی جَبَلِ حِرَائٍ فَتَحَرَّکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْکُنْ حِرَائُ فَمَا عَلَيْکَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ وَعَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
عبیداللہ بن محمد بن یزید بن خنیس احمد بن یوسف ازدی اسماعیل بن ابی اویس سلیمان بن بلال یحییٰ بن سعید سہیل بن ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حرا پہاڑ پر تھے تو وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے حرا ٹھہر جا کیونکہ تیرے اوپر سوائے نبی یا صدیق یا شہید کے اور کوئی نہیں ہے اور اس پہاڑ پر نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was on the mountain of Hira that it stirred; thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Hira! be calm, for there is none upon you but a Prophet, a Siddiq, a Shahid, and there were upon it Allahs Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , Abu Bakr, Umar, Uthman, Ali, Talha, Zubair, Sad bin Abi Waqqas (Allah be pleased witli them).
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَعَبْدَةُ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ أَبَوَاکَ وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمْ الْقَرْحُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، عبدہ حضرت ہشام (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے مجھ سے فرمایا اللہ کی قسم تیرے دونوں باپ (یعنی زبیر اور ابوبکر (رض) ان لوگوں میں سے تھے جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہے جن لوگوں نے حکم مانا اللہ کا اور اس کے رسول کا بعد اس کے کہ پہنچ چکے تھے ان کو زخم (ابوبکر عروہ کے باپ نہیں تھے بلک نانا تھے۔ نانا کو باپ بھی کہتے ہیں) ۔
Hisham reported on the authority of his father (Urwa bin Zubair) that Aisha said: BY Allah, both fathers of yours are amongst those who have been mentioned in this verse:" Those who responded to the call of Allah and the Messenger after the misfortune had fallen upon them"
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ تَعْنِي أَبَا بَکْرٍ وَالزُّبَيْرَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ ابوبکر زبیر حضرت ہشام (رض) اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں صرف یہ الفاظ زائد ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت زبیر ہیں
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through the same chain of transmitters but with this addition (that by both fathers of yours) he meant Abu Bakr (RA) and Zubair.
حضرت طلحہ اور حضرت زبیر (رض) کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ الْبَهِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ کَانَ أَبَوَاکَ مِنَ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمْ الْقَرْحُ
ابوکریب محمد بن علاء، وکیع، اسماعیل حضرت عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ (رض) صدیقہ نے مجھ سے فرمایا تیرے دونوں باپ ان لوگوں میں سے تھے کہ جنہوں نے زخمی ہوجانے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی۔
Urwa reported: Aisha said to me: Your fathers (Zubair and Abu Bakr) were amongst those about whom (it has been revealed):" Those who responded to the call of Allah and His Messenger after the misfortune had fallen upon them."