حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّکِئٌ يَرْکُزُ بِعُودٍ مَعَهُ بَيْنَ الْمَائِ وَالطِّينِ إِذَا اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ فَقَالَ افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَإِذَا أَبُو بَکْرٍ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ قَالَ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَی بَلْوَی تَکُونُ قَالَ فَذَهَبْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَالَ فَفَتَحْتُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ وَقُلْتُ الَّذِي قَالَ فَقَالَ اللَّهُمَّ صَبْرًا أَوْ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ
محمد بن مثنی، عنزی ابن ابی عدی، عثمان ابن غیاث ابی عثمان نہدی حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک دن) مدینہ منورہ کے کسی باغ میں تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما تھے اور ایک لکڑی کو کیچڑ میں ڈالے کھرچ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی نے دروازہ کھلوایا تو آپ ﷺ نے فرمایا دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری سنا دو ، روای کہتے ہیں کہ وہ ابوبکر (رض) تھے، میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری دی، راوی کہتے ہیں کہ پھر ایک دوسرے آدمی نے دروازہ کھلوایا تو آپ نے فرمایا دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو ، راوی کہتے ہیں کہ میں گیا، دیکھا تو وہ حضرت عمر (رض) تھے، میں نے ان کے لئے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری سنا دی، پھر ایک تیسرے آدمی نے دروازہ کھلوایا، راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ بیٹھ گئے اور آپ نے فرمایا دروازہ کھول دو اور ان کو جنت کی خوشخبری اس بلویٰ کے ساتھ دے دو کہ جو ان کو پیش آئے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں گیا تو دیکھا تو وہ حضرت عثمان (رض) تھے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے دروازہ کھولا اور ان کو جنت کی خوشخبری سنائی، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان (رض) سے وہ کہا کہ جو آپ نے فرمایا تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا اے اللہ ! صبر عطا فرما اور اللہ ہی مددگار ہے۔
Abu Musa al-Ashari reported that while Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was in one of the gardens of Madinah, reclining against a pillow and fixing a stick in a mud, that a person came asking for the gate to be opened, whereupon he said: Open it for him and give him glad tidings of Paradise and, lo, it was Abu Bakr. I opened (the gate) for him and gave him the glad tidings of Paradise. Then another person asked for the door to be opened, whereupon he said: Open it and give him the glad tidings of Piradise. He said: I went away and, lo, it was Umar. I opened it for him and gave him the glad tidings of Paradise. Then still another man asked for the door to be opened, and thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Open it and give him the glad tidings of Paradise after a trial would afflict him. I went and, lo, it was Uthman bin Affan. 1 opened the door and gave him the glad tidings of Paradise and informed him (what the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said). Thereupon he said: O Allah, grant me steadfastness. Allah is one Whose help is to be sought.
حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفَظَ الْبَابَ بِمَعْنَی حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ
ابوربیع عتکی حماد ایوب ابی عثمان نہدی حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں تشریف لائے اور آپ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ اس دروازہ پر پہرہ دوں، پھر مذکورہ حدیث کی طرح روایت ذکر کی۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Musa al-Ashari with a slight variation of wording.
حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْکِينٍ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ شَرِيکِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَنِي أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ لَأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَکُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هَذَا قَالَ فَجَائَ الْمَسْجِدَ فَسَأَلَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا خَرَجَ وَجَّهَ هَاهُنَا قَالَ فَخَرَجْتُ عَلَی أَثَرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّی دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ قَالَ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّی قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ جَلَسَ عَلَی بِئْرِ أَرِيسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا وَکَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ فَقُلْتُ لَأَکُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَدَفَعَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ فَقُلْتُ عَلَی رِسْلِکَ قَالَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أَبُو بَکْرٍ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَأَقْبَلْتُ حَتَّی قُلْتُ لِأَبِي بَکْرٍ ادْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُکَ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِّ وَدَلَّی رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ کَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَکْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي فَقُلْتُ إِنْ يُرِدْ اللَّهُ بِفُلَانٍ يُرِيدُ أَخَاهُ خَيْرًا يَأْتِ بِهِ فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّکُ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ عَلَی رِسْلِکَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَجِئْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ أَذِنَ وَيُبَشِّرُکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ قَالَ فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ وَدَلَّی رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ إِنْ يُرِدْ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يَعْنِي أَخَاهُ يَأْتِ بِهِ فَجَائَ إِنْسَانٌ فَحَرَّکَ الْبَابَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ عَلَی رِسْلِکَ قَالَ وَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَی تُصِيبُهُ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ ادْخُلْ وَيُبَشِّرُکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَی تُصِيبُکَ قَالَ فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُمْ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ قَالَ شَرِيکٌ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ
محمد بن مسکین یمامی یحییٰ بن حسان، سلیمان ابن بلال شریک بن ابی نمر سعید بن مسیب حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا پھر وہ باہر نکلے اور کہنے لگے کہ آج میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہوں گا اور سارا دن آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، پھر حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) مسجد میں آئے اور نبی کریم ﷺ کے بارے میں پوچھا تو صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) نے کہا کہ آپ ﷺ اس طرف نکلے ہیں، حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں اس دروازے پر بیٹھ گیا اور وہ دروازہ لکڑی کا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے اور آپ نے وضو فرمایا تو میں آپ کی طرف گیا، دیکھا کہ آپ بئر اریس پر تشریف فرما ہیں اور اس کے کنارے پر اپنی پنڈلیاں مبارک کھول کر کنوئیں میں لٹکائی ہوئی ہیں، حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ پر سلام کیا پھر میں واپس ہو کر دروازے کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ آج میں رسول اللہ ﷺ کا دربان بنوں گا (اسی دوران) حضرت ابوبکر (رض) تشریف لائے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا کون ؟ انہوں نے فرمایا ابوبکر، میں نے کہا، ٹھہریں، حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ پھر میں گیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ ابوبکر (رض) ہیں اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دے دو ، راوی کہتے ہیں کہ پھر میں آیا اور میں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا تشریف لے آئیں اور رسول اللہ ﷺ آپ کو جنت کی خوشبخری دیتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت ابوبکر (رض) تشریف لائے اور کنوئیں کے کنارے آپ کے دائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیئے، جس طرح کے نبی ﷺ نے کیا ہوا تھا اور اپنی پنڈلیاں کھولے ہوئے تھے، پھر میں واپس لوٹا (اور دروازے پر) بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی کو وضو کرتے ہوئے چھوڑ آیا تھا اور وہ میرے پاس آنے والا تھا تو میں نے (اپنے دل میں کہا) کہ اگر اللہ تعالیٰ میرے اس بھائی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے گا تو وہ اسے بھی لے آئے گا، تو میں نے دیکھا کہ ایک انسان نے دروازہ کو ہلایا، میں نے کہا کون ؟ انہوں نے کہا عمر بن خطاب میں نے عرض کیا ٹھہریں، پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ پر سلام کیا اور میں نے عرض کیا یہ حضرت عمر (رض) آپ سے اجازت مانگتے ہیں، آپ نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری بھی دے دو ، پھر میں حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور میں نے کہا، آپ کو اجازت ہے اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کنوئیں کے کنارے پر آپ کی بائیں جانب بیٹھ گئے اور حضرت عمر (رض) نے بھی اپنے پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیئے پھر میں لوٹ گیا (اور دروازے پر) بیٹھ گیا اور میں نے کہا اگر اللہ فلاں کے ساتھ (ساتھ) میرے بھائی سے بھی بھلائی چاہے گا تو اسے بھی لے آئے گا، پھر ایک انسان آیا اور اس نے دروازے کو ہلایا تو میں نے کہا کون ؟ انہوں نے کہا عثمان بن عفان، میں نے عرض کیا ٹھہریں ! حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ کو حضرت عثمان (رض) کے آنے کی خبر دی تو آپ نے فرمایا ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری دے دو ، اس بلویٰ کے ساتھ کہ جو نا کو پہنچے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں آیا اور میں نے کہا آپ تشریف لائیں اور رسول اللہ ﷺ نے آپ کو بلویٰ کے ساتھ جنت کی خوشخبری دی ہے کہ جو آپ کو پہنچے گا، حضرت ابوموسیٰ (رض) کہتے ہیں کہ حضرت عثمان (رض) آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کنوئیں کے کنارے اس طرف جگہ نہیں ہے تو وہ آپ کے ساتھ دوسری طرف بیٹھ گئے، شریک کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں کہ میں اس سے سمجھا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح سے ہوں گی۔
Abu Musa Ashari reported that he performed ablution in his house and then came out saying: I would remain with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the whole day long. He came to the mosque, and asked about Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . They (his Companions) said: He has gone in this direction. He (Abu Musa Ashari) said: I followed his steps asking about him until I came to Bir Aris (it is a well in the suburb of Madinah). I sat by its wooden door until Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had relieved himself and then performed ablution. I went to him and he was sitting with his shanks uncovered hp to the knees and his legs dangl- ing in that well. I offered him salutations. I then came back and sat at the door as if I had been a chamberlain at the door of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that day. There came Abu Bakr (RA) and knocked the door and I said: Who is it? He said: This is Abu Bakr. I said: Wait, please. I went and said: Allahs Messenger, here is Abu Bakr (RA) seeking permission. Thereupon he said: Admit him and give him glad tidings of Paradise. I came and I said to Abu Bakr (RA) to get in (and also told him) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was giving him the glad tidings of Paradise. Abu Bakr (RA) got in and sat on the right side of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and dangled his feet in the well as Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had done, and he uncovered his shanks. I then returned and sat there and I had left my brother as he had been performing ablution and he was to meet me and I said: If Allah would intend goodness for such and such he would intend goodness for his brother and He would bring him. I was thinking this that a person stirred the door. I said: Who is it. He said: This is Umar bin , Khattab. I said: Wait. Then I came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , greeted him and said: Here is Umar seeking your. permission to get in. Thereupon he said: Let him come in and give him glad tid- ings of Paradise. I came to Umar and said: There is permission for you and glad tidings for you from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for Paradise. He got in and sat on the left side of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with his feet dangling in the well. I then returned and sat and said: If Allah would intend goodness for such and such (that is for his brother), He would bring him. And I was contemplat- ing over it that a man stirred the door and I said: Who is it? He said: This is Uthman bin Affan. I said: Wait, please. I then came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and informed him. and he said: Admit him and give him glad tidings (and inform) him of the turmoil which he shall have to face. I came and said: Get in, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gives you the glad tidings of Paradise along with the trial which you shall have to face. He got in and saw the elevated plan round the well fully occupied. He sat on the other side. Sharik said that Said bin al-Musayyib reported: I drew a conclusion from it that their groves would be (in this very state, the graves of Hadrat Abu Bakr, Umar Faruq by the tide of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) [may peace be upon him] and the grave of Hadrat Uthman away from their graves).
حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ هَاهُنَا وَأَشَارَ لِي سُلَيْمَانُ إِلَی مَجْلِسِ سَعِيدٍ نَاحِيَةَ الْمَقْصُورَةِ قَالَ أَبُو مُوسَی خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَلَکَ فِي الْأَمْوَالِ فَتَبِعْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ دَخَلَ مَالًا فَجَلَسَ فِي الْقُفِّ وَکَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ حَسَّانَ وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ سَعِيدٍ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ
ابوبکر بن اسحاق سعید بن عفید سلیمان بن بلال شریک بن عبداللہ بن ابی نمیر سعید بن مسیب حضرت ابوموسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلا تو میں نے آپ کو باغوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو میں آپ کے پیچھے چلا تو میں نے آپ کو ایک باغ میں پایا (اور میں نے دیکھا) کہ آپ ایک کنوئیں کے کنارے پر تشریف فرما ہیں اور آپ اپنی پنڈلیاں کھول کر ان کو کنوئیں پر لٹکائے ہوئے ہیں اور پھر باقی روایت یحییٰ بن حسان کی روایت کی طرح ذکر کی ہے اور سعید بن مسیب کا یہ قول ذکر نہیں کیا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح ہوں گی۔
Abu Musa. reported: I set out with the intention (of meeting) Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and came to know that he had gone to the gardens (in the suburb of Madinah). I followed him and found him in a garden sitting upon an elevated place round the well with his shanks uncovered which had been dangling in the well. The rest of the hadith is the same but with this variation that there is no mention of the words of Said: all drew a conclusion from it pertaining to their graves."
حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَرْيَمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَخْبَرَنِي شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَی حَائِطٍ بِالْمَدِينَةِ لِحَاجَتِهِ فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ وَذَکَرَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ فَتَأَوَّلْتُ ذَلِکَ قُبُورَهُمْ اجْتَمَعَتْ هَاهُنَا وَانْفَرَدَ عُثْمَانُ
حسن بن علی حلوانی ابوبکر بن اسحاق سعید بن ابر مریم محمد بن جعفر، بن ابی کثیر شریک بن عبداللہ بن ابی نمیر سعید بن مسیب حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم ایک دن اپنی کسی ضرورت کے لئے مدینہ منورہ کے کسی باغ میں تشریف لے گئے تو میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے نکلا اور پھر باقی روایت سلیمان بن بلال کی حدیث کی طرح ذکر کی اور ابن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے ان حضرات کے اس طرح بیٹھنے سے ان کی قبروں کی ترتیب کو سمجھا کہ ان تینوں حضرات کی قبریں ایک ساتھ ہیں اور حضرت عثمان (رض) کی قبر علیحدہ ہے۔
Said bin al-Musayyib reported Abu Musa Ashari having said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) set out one day to the suburbs of Madinah for reliev- ing himself. I followed his steps. The rest of the hadith is the same. Ibn Musayyib said: I concluded (from the manner of their sitting) the (order) of their graves. (The three) would be together (the graves of the Holy Prophet, Hadrat Abu Bakr (RA) and Hadrat Umar) and that of Uthman would be separate (from them).
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْمَاجِشُونِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ أَبُو سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي قَالَ سَعِيدٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَافِهَ بِهَا سَعْدًا فَلَقِيتُ سَعْدًا فَحَدَّثْتُهُ بِمَا حَدَّثَنِي عَامِرٌ فَقَالَ أَنَا سَمِعْتُهُ فَقُلْتُ آنْتَ سَمِعْتَهُ فَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَی أُذُنَيْهِ فَقَالَ نَعَمْ وَإِلَّا فَاسْتَکَّتَا
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوجعفر محمد بن صباح عبیداللہ قواریری سریج بن یونس یونس بن ماجشون ابن صابھ یوسف ابوسلمہ ماجشون محمد بن منکدر سعید بن مسیب حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت علی (رض) سے فرمایا (اے علی) تم میرے لئے اس طرح ہو کہ جس طرح ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے تھے، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، حضرت سعید کہتے ہیں کہ میں نے چاہا کہ میں خود یہ حدیث حضرت سعد (رض) سے سنوں تو میں نے حضرت سعد (رض) سے ملاقات کی میں نے ان کو وہ حدیث بیان کی کہ جو حضرت عامر (رض) نے مجھ سے بیان کی تھی تو حضرت سعد (رض) کہنے لگے کہ میں نے یہ حدیث سنی ہے، تو میں نے کہا کیا آپ نے یہ حدیث سنی ہے ؟ تو حضرت سعد (رض) نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں پر رکھیں اور کہنے لگے ہاں ! میں نے یہ حدیث سنی ہے اور اگر میں نے یہ حدیث سنی نہ ہو تو میرے یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں۔
Amir b Sad bin Abi Waqqas reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) addressing Ali said: You are in the same position with relation to me as Aaron- (Harun) was in relation to Moses (علیہ السلام) but with (this explicit difference) that there is no prophet after me. Sad said: I had an earnest desire to hear it directly from Sad, so I met him and narrated to him what (his son) Amir had narrated to me, whereupon he said: Yes, I did hear it. I said: Did you hear it yourself? Thereupon he placed his fingers upon his ears and said: Yes, and if not, let both my ears become deaf.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، حکم مسعب حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کو (مدینہ منورہ پر) حاکم بنایا، جب آپ غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے تو حضرت علی (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ رہے ہیں تو آپ نے فرمایا (اے علی ! ) کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تیرا مقام میرے ہاں ایسے ہے کہ جسے حضرت ہارون (علیہ السلام) کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
Sad bin Abi Waqqas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) left Ali Ibn Abi Talib (RA) behind him (as he proceeded) to the expedition of Tabuk, whereupon he (Ali) said: Allahs Messenger, are you leaving me behind amongst women 4nd children? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Arent you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses (علیہ السلام) but with this exception that there would be no prophet after me.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
عبیداللہ بن معاذ شعبہ، حضرت شعبہ اس سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated. on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَکَرْتُ ثَلَاثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَنْ أَسُبَّهُ لَأَنْ تَکُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَأُتِيَ بِهِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَائَنَا وَأَبْنَائَکُمْ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَائِ أَهْلِي
قتیبہ بن سعید، محمد بن عباد حاتم ابن اسماعیل بکیر بن مسمار امر معاویہ بن ابی سفیان، سعد حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے حضرت سعد (رض) کو امیر بنایا اور ان سے فرمایا تجھے ابوالتراب (علی (رض) کو برا بھلا کہنے سے کس چیز نے منع کیا ہے، حضرت سعد (رض) نے کہا مجھے تین باتیں یاد ہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمائی ہیں جن کی وجہ سے میں ان کو برا بھلا نہیں کہتا اگر ان تین باتوں میں سے کوئی ایک بھی مجھے حاصل ہوجائے تو وہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پیاری ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور آپ نے کسی غزوہ میں جاتے ہوئے ان کو اپنے پیچھے مدینہ منورہ میں چھوڑا تو حضرت علی (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا (اے علی ! ) کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا مقام میرے ہاں اس طرح ہے جس طرح کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا مقام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور میں نے آپ سے سنا، آپ خیبر کے دن فرما رہے تھے کہ کل میں ایک ایسے آدمی کو جھنڈا عطا کروں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہو اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتا ہوگا، راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر ہم اس انتظار میں رہے کہ ایسا خوش نصیب کون ہوگا ؟ ) تو آپ نے فرمایا میرے پاس حضرت علی (رض) کو بلاؤ ان کو بلایا گیا تو ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں تو آپ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں پر لگایا اور عَلَم ان کو عطا فرما دیا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت علی (رض) کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی اور یہ آیت مبارکہ نازل ہوئیں (فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَا ءَنَا وَاَبْنَا ءَكُمْ وَنِسَا ءَنَا وَنِسَا ءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ) 3 ۔ آل عمران : 61) تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) اور حضرت حسن (رض) اور حضرت حسین (رض) کو بلایا اور فرمایا اے اللہ ! یہ سب میرے اہل بیت (گھر والے) ہیں۔
This hadith has been narrated. on the authority of Shubah with the same chain of transmitters. Amir bin Sad bin Abi Waqqas reported on the authority of his father that Muawiya bin Abi Sufyan appointed Sad as the Governor and said: What prevents you from abusing Abu Turab (Hadrat Ali), whereupon be said: It is because of three things which I remember Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said about him that I would not abuse him and even if I find one of those three things for me, it would be more dear to me than the red camelg. I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say about Ali as he left behind hrin in one of his campaigns (that was Tabuk). All said to him: Allahs Messenger, you leave me behind along with women and children. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Arent you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses (علیہ السلام) but with this exception that there is no prophethood after me. And I (also) heard him say on the Day of Khaibar: I would certainly give this standard to a person who loves Allah and his Messenger and Allah and his Messenger love him too. He (the narrator) said: We have been anxiously waiting for it, when he (the Holy Prophet) said: Call Ali. He was called and his eyes were inflamed. He applied saliva to his eyes and handed over the standard to him, and Allah gave him victory. (The third occasion is this) when the (following) verse was revealed:" Let us summon our children and your children." Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called Ali, Fitima, Hasan and Husain and said: O Allah, they are my family.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ أَمَا تَرْضَی أَنْ تَکُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، سعد بن ابراہیم، ابراہیم بن سعد حضرت سعد (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا (اے علی ! ) کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا مقام میرے ہاں ایسا ہو جیسا کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کا مقام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نزدیک تھا۔
Sad reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying to Ali (RA) : Arent you satisfied with being unto me what Aaron was unto Moses (علیہ السلام)?
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَی يَدَيْهِ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ قَالَ فَتَسَاوَرْتُ لَهَا رَجَائَ أَنْ أُدْعَی لَهَا قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا وَقَالَ امْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّی يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْکَ قَالَ فَسَارَ عَلِيٌّ شَيْئًا ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ فَصَرَخَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَی مَاذَا أُقَاتِلُ النَّاسَ قَالَ قَاتِلْهُمْ حَتَّی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِکَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنْکَ دِمَائَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَی اللَّهِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن ابراہیم، قاری، سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ خیبر کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ جھنڈا میں ایک ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوگا، اللہ اس کے ہاتھوں پر فتح عطا فرمائے گا، حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی امارت کی آرزو نہیں کی، حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ پھر میں اس امید کو لے کر آپ کے سامنے آیا کہ آپ مجھے اس کام کے لئے بلا لیں، راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی (رض) کو بلایا تو آپ نے جھنڈا حضرت علی (رض) کو عطا فرمایا اور آپ نے فرمایا جاؤ اور کسی طرف توجہ نہ کرو یہاں تک کہ اللہ تجھے (تیرے ہاتھوں) فتح عطا فرما دے، راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی (رض) کچھ چلے اور پھر ٹھہر گئے اور کسی طرف توجہ نہیں کی پھر چیخ کر بولے، اے اللہ کے رسول ! میں لوگوں سے کس بات پر قتال کروں ؟ آپ نے فرمایا تم ان لوگوں سے اس وقت تک لڑو جب تک کہ وہ لوگ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اور مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللَّهِ ﷺ کی گواہی نہ دیں تو جب وہ لوگ اس بات کی گواہی دے دیں تو انہوں نے اپنا خون اور مال تم سے محفوظ کرلیا، سوائے کسی حق کے بدلہ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔
Suhail reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said on the Day of Khaibar: I shall certainly give this standard in the hand of one who loves Allah and his Messenger and Allah will grant victory at his hand. Umar bin Khattab said: Never did I cherish for leadership but on that day. I came before him with the hope that I may be called for this, but Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called Ali bin Abu Talib and he conferred (this honour) upon him and said: Proceed on and do not look about until Allah grants you victory, and Ali went a bit and then halted and did not look about and then said in a loud voice: Allahs Messenger, on what issue should I fight with the people? Thereupon he (the Prophet) said: Fight with them until they bear testimony to the fact that there is no god but Allah and Muhammad is his Messenger, and when they do that then their blood and their riches are inviolable from your hands but what is justified by law and their reckoning is with Allah.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ هَذَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَی يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوکُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّهُمْ يَرْجُونَ أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَکِي عَيْنَيْهِ قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّی کَأَنْ لَمْ يَکُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّی يَکُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ يَکُونَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن ابی حازم سہل بن سعد قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن ابی حازم حضرت سہل بن سعد (رض) خبر دیتے ہیں کہ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے ارشاد فرمایا میں یہ جھنڈا ایک ایسے آدمی کو عطا کروں گا کہ جس کے ہاتھوں پر اللہ فتح عطا فرمائیں گے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس سے محبت کرتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ لوگ ساری رات اسی بات کا تذکرہ کرتے رہے کہ جھنڈا کس (خوش نصیب) کو عطا کیا جائے گا ؟ راوی کہتے ہیں جب صبح ہوئی اور سب لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور ان میں سے ہر ایک آدمی کی یہ آرزو تھی کہ یہ جھنڈا اسے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا علی (رض) بن ابی طالب کہاں ہیں ؟ تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا وہ ہیں، اے اللہ کے رسول ! ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی (رض) کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور ان کے لئے دعا فرمائی، حضرت علی (رض) بالکل صحیح ہوگئے گویا کہ ان کو کوئی تکلیف ہی نہیں تھی، پھر آپ نے حضرت علی (رض) کو جھنڈا عطا فرمایا تو حضرت علی (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں ان سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لوگ ہماری طرح ہوجائیں، تو آپ نے فرمایا آہستہ آہستہ چل یہاں تک کہ تو ان کے میدان میں اتر جائے پھر تو ان کو اسلام کی دعوت دے اور ان کو خبر دے کہ ان پر اللہ کا جو حق واجب ہے، اللہ کی قسم ! اگر اللہ تیری وجہ سے کسی ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تیرے سرخ اونٹوں سے زیادہ بہتر ہے۔
Sahl bin Sad reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said on the Day of Khaibar: I would certainly give this standard to a person at whose hand Allah would grant victory and who loves Allah and His Messenger and Allah and His Messenger love him also. The people spent the night thinking as to whom it would be given. When it was morning the people hastened to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) all of them hoping that that would be given to him. He (the Holy Prophet) said: Where is Ali bin Abu Talib? They said: Allahs Messenger, his eyes are sore. He then sent for him and he was brought and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) applied saliva to his eyes and invoked blessings and he was all right, as if he had no ailment at all, and coraferred upon him the standard. Ali said: Allahs Messenger, I will fight them until they are like us. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Advance cautiously until you reach their open places, thereafter invite them to Islam and inform them what is obligatory for them from the rights of Allah, for, by Allah, if Allah guides aright even one person through you that is better for you than to possess the most valuable of the camels.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ کَانَ عَلِيٌّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ وَکَانَ رَمِدًا فَقَالَ أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ مَسَائُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا اللَّهُ فِي صَبَاحِهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ لَيَأْخُذَنَّ بِالرَّايَةِ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَوْ قَالَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ وَمَا نَرْجُوهُ فَقَالُوا هَذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل برید بن ابی عبید حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) غزوہ خیبر میں نبی ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کیونکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، پھر حضرت علی (رض) فرمانے لگے کہ کیا میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہوں ؟ پھر حضرت علی (رض) نکلے اور جا کر نبی ﷺ سے مل گئے تو جب اس رات کی شام ہوئی کہ جس کی صبح کو اللہ نے فتح عطا فرمائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کل یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا یا یہ جھنڈا کل وہ آدمی لے گا کہ جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہوں یا آپ نے فرمایا وہ آدمی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہو، اللہ اس کے ہاتھوں پر فتح عطا فرمائے گا، پھر اچانک ہم نے حضرت علی (رض) کو دیکھا اور ہمیں اس کی امید نہیں تھی کہ یہ جھنڈا حضرت علی (رض) کو عطا کیا جائے گا، تو لوگوں نے عرض کیا یہ حضرت علی (رض) ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرما دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر فتح عطا فرمائی۔
Salama bin Akwa reported that it was Ali whom Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) left behind him (in the charge of his family and the Islamic State) on the occasion of the campaign of Khaibar, and his eyes were inflamed and he said: Is it for me to remain behind Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? So he went forth and rejoined Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and on the evening of that night (after which) next morning Allah granted victory. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I will certainly give this standard to a man whom Allah and His Messenger love. or he said: Who loves Allah or His Messenger and Allah will grant him victory through him, and, lo, we saw Ali whom we least expected (to be present on that occasion). They (the Companions) said: Here is Ali. Thereupon Allahs Messenger (may peace be upon hin) gave him the standard. Allah granted victory at his hand.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ إِلَی زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَلَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا کَثِيرًا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ لَقَدْ لَقِيتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا کَثِيرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا ابْنَ أَخِي وَاللَّهِ لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي کُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُکُمْ فَاقْبَلُوا وَمَا لَا فَلَا تُکَلِّفُونِيهِ ثُمَّ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِينَا خَطِيبًا بِمَائٍ يُدْعَی خُمًّا بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَکَّرَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِکُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَ وَأَنَا تَارِکٌ فِيکُمْ ثَقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا کِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَی وَالنُّورُ فَخُذُوا بِکِتَابِ اللَّهِ وَاسْتَمْسِکُوا بِهِ فَحَثَّ عَلَی کِتَابِ اللَّهِ وَرَغَّبَ فِيهِ ثُمَّ قَالَ وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَکِّرُکُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَکِّرُکُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي أُذَکِّرُکُمْ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ وَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ أَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَلَکِنْ أَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ وَمَنْ هُمْ قَالَ هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ قَالَ کُلُّ هَؤُلَائِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ قَالَ نَعَمْ
زہیر بن حرب، شجاع بن مخلد ابن علیہ، زہیر اسماعیل بن ابراہیم، ابوحیان حضرت یزید بن حیان (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلمہ (رض) ، حضرت زید بن ارقم (رض) کی طرف چلے تو جب ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے تو حضرت حصین (رض) نے حضرت زید (رض) سے کہا اے زید ! تو نے بہت بڑی نیکی حاصل کی ہے کہ تو نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور آپ سے یہ حدیث سنی ہے اور تو نے آپ کے ساتھ مل کر جہاد کیا ہے اور تو نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، اے زید ! آپ نے رسول اللہ ﷺ سے احادیث سنی ہیں، وہ ہم سے بیان کرو، حضرت زید بن ارقم (رض) نے فرمایا اے میرے بھتیجے ! اللہ کی قسم میری عمر بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے اور ایک زمانہ گزر گیا (جس کی وجہ سے) میں بعض وہ باتیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کو یاد رکھی تھیں، بھول گیا ہوں، اس وجہ سے میں تم سے بیان کروں تو تم اسے قبول کرو اور جو میں تم سے بیان نہ کروں تو تم اس کے بارے میں مجھے مجبور نہ کرنا، حضرت زید (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ایک پانی کہ جسے خم کہہ کر پکارا جاتا ہے جو کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے پر ہمیں خطبہ ارشا فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ نے فرمایا بعد حمد و صلوٰہ ! آگاہ رہو اے لوگو ! میں ایک آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا میرے پاس آئے تو میں اسے قبول کروں اور میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے، جس میں ہدایت اور نور ہے تو تم اللہ کی اس کتاب کو پکڑے رکھو اور اس کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہو اور آپ نے اللہ کی کتاب (قرآن مجید) کی خوب رغبت دلائی، پھر آپ نے فرمایا (دوسری چیز) میرے اہل بیت ہیں، میں تم لوگوں کو اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ یاد دلاتا ہوں، میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تم لوگوں کو اللہ یاد دلاتا ہوں، حضرت حصین (رض) نے حضرت زید (رض) سے عرض کیا اے زید ! آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات (رض) اہل بیت میں سے نہیں ہیں ؟ حضرت زید (رض) نے فرمایا آپ کی ازواج مطہرات (رض) آپ کے اہل بیت میں سے ہیں اور وہ سب اہل بیت میں سے ہیں کہ جن پر آپ کے بعد صدقہ (زکوٰہ، صدقہ و خیرات وغیرہ) حرام ہے، حضرت حصین (رض) نے عرض کیا وہ کون ہیں ؟ حضرت زید (رض) نے فرمایا حضرت علی (رض) کا خاندان، حضرت عقیل کا خاندان، آل جعفر، آل عباس، حضرت حصٰین نے عرض کیا ان سب پر صدقہ وغیرہ حرام ہے ؟ حضرت زید (رض) نے فرمایا ہاں ! ان سب پر صدقہ، زکوٰۃ وغیرہ حرام ہے۔
Yazid bin Hayyan reported, I went along with Husain bin Sabra and Umar bin Muslim to Zaid bin Arqam and, as we sat by his side, Husain said to him: Zaid. you have been able to acquire a great virtue that you saw Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) listened to his talk, fought by his side in (different) battles, offered prayer behind me. Zaid, you have in fact earned a great virtue. Zaid, narrate to us what you heard from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said: I have grown old and have almost spent my age and I have forgotten some of the things which I remembered in connection with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , so accept whatever I narrate to you, and which I do not narrate do not compel me to do that. He then said: One day Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood up to deliver sermon at a watering place known as Khumm situated between Makkah and Madinah. He praised Allah, extolled Him and delivered the sermon and. exhorted (us) and said: Now to our purpose. O people, I am a human being. I am about to receive a messenger (the angel of death) from my Lord and I, in response to Allahs call, (would bid good-bye to you), but I am leaving among you two weighty things: the one being the Book of Allah in which there is right guidance and light, so hold fast to the Book of Allah and adhere to it. He exhorted (us) (to hold fast) to the Book of Allah and then said: The second are the members of my household I remind you (of your duties) to the members of my family. He (Husain) said to Zaid: Who are the members of his household? Arent his wives the members of his family? Thereupon he said: His wives are the members of his family (but here) the members of his family are those for whom acceptance of Zakat is forbidden. And he said: Who are they? Thereupon he said: Ali and the offspring of Ali, Aqil and the offspring of Aqil and the offspring of Jafar and the offspring of Abbas. Husain said: These are those for whom the acceptance of Zakat is forbidden. Zaid said: Yes.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ بِمَعْنَی حَدِيثِ زُهَيْرٍ
محمد بن بکار بن ریان حسان بن ابراہیم، سعید بن مسروق، برید بن حیان حضرت زید بن ارقم (رض) نبی کریم ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Arqam through another chain of transmitters.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ کِتَابُ اللَّهِ فِيهِ الْهُدَی وَالنُّورُ مَنْ اسْتَمْسَکَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ کَانَ عَلَی الْهُدَی وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل اسحاق بن ابراہیم، جریر، حضرت ابوحیان اس سند کے ساتھ اسماعیل کی روایت کی طرح نقل کرتے ہیں اور جریر کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ کی کتاب میں ہدایت اور نور ہے، جو اسے پکڑے گا وہ ہدایت پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہوجائے گا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hayyan but with this addition:" The Book of Allah contains right guidance, the light, and whoever adheres to it and holds it fast, he is upon right guidance and whosoever deviates from it goes astray.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ حَدَّثَنَا حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ مَسْرُوقٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ لَقَدْ رَأَيْتَ خَيْرًا لَقَدْ صَاحَبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا وَإِنِّي تَارِکٌ فِيکُمْ ثَقَلَيْنِ أَحَدُهُمَا کِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنْ اتَّبَعَهُ کَانَ عَلَی الْهُدَی وَمَنْ تَرَکَهُ کَانَ عَلَی ضَلَالَةٍ وَفِيهِ فَقُلْنَا مَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ نِسَاؤُهُ قَالَ لَا وَايْمُ اللَّهِ إِنَّ الْمَرْأَةَ تَکُونُ مَعَ الرَّجُلِ الْعَصْرَ مِنْ الدَّهْرِ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا فَتَرْجِعُ إِلَی أَبِيهَا وَقَوْمِهَا أَهْلُ بَيْتِهِ أَصْلُهُ وَعَصَبَتُهُ الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ
محمد بن بکار ابن ریان حسان ابرہیم سعید ابن مسروق، حضرت یزید بن حیان (رض) حضرت زید بن ارقم (رض) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہم ان کی خدمت میں گئے اور ہم نے کہا آپ نے بہت خیر دیکھی ہے، رسول اللہ ﷺ کی صحبت حاصل کی ہے اور آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی ہے اور آگے حدیث ابوحیان کی روایت کی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ نے فرمایا آگاہ رہو ! میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ عزوجل کی کتاب ہے اور وہ اللہ کی رسی ہے، جو اس کی اتباع کرے گا، وہ ہدایت پر رہے گا اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہی پر رہے گا اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہم نے کہا اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات (رض) اہل بیت ہیں ؟ انہوں نے فرمایا اللہ کی قسم ! ایک عورت ایک زمانے تک مرد کے ساتھ رہتی ہے پھر وہ اسے طلاق دے دیتا ہے تو وہ عورت اپنے باپ اور اپنی قوم کی طرف لوٹ جاتی ہے، اہل بیت سے مراد آپ کی ذات تھی اور آپ کے وہ عصبات کے جن پر آپ کے بعد صدقہ وغیرہ لینا حرام کردیا گیا ہے۔
Yazid bin Hayyan reported: We went to him (Zaid bin Arqam) and said to him. You have found goodness (for you had the honour) to live in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and offered prayer behind him, and the rest of the hadith is the same but with this variation of wording that lie said: Behold, for I am leaving amongst you two weighty things, one of which is the Book of Allah, the Exalted and Glorious, and that is the rope of Allah. He who holds it fast would be on right guidance and he who abandons it would be in error, and in this (hadith) these words are also found: We said: Who are amongst the members of the household? Arent the wives (of the Holy Prophet) included amongst the members of his house hold? Thereupon he said: No, by Allah, a woman lives with a man (as his wife) for a certain period; he then divorces her and she goes back to her parents and to her people; the members of his household include his ownself and his kith and kin (who are related to him by blood) and for him the acceptance of Zakat is prohibited.
حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ اسْتُعْمِلَ عَلَی الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ قَالَ فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا قَالَ فَأَبَی سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ لَعَنَ اللَّهُ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ سَهْلٌ مَا کَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ وَإِنْ کَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا فَقَالَ لَهُ أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ قَالَ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ أَيْنَ ابْنُ عَمِّکِ فَقَالَتْ کَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْئٌ فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ انْظُرْ أَيْنَ هُوَ فَجَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ فَجَائَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ فَأَصَابَهُ تُرَابٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ قُمْ أَبَا التُّرَابِ قُمْ أَبَا التُّرَابِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن ابی حازم حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ مروان کے خاندان میں سے ایک آدمی مدینہ منورہ پر حاکم مقرر ہوا، اس حاکم نے حضرت سہل بن سعد (رض) کو بلایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت علی (رض) کو برا کہیں، تو حضرت سہل بن سعد (رض) نے (اس طرح کرنے سے) انکار کردیا تو اس حاکم نے حضرت سہل (رض) سے کہا اگر تو حضرت علی (رض) کو (اَلعَیَاذُ بِاللہِ ) برا کہنے سے انکار کرتا ہے تو تُو اس طرح کہہ (اَلعَیَاذُ بِاللہِ ) ابوالتراب (رض) پر اللہ کی لعنت ہو۔ حضرت سہل (رض) فرمانے لگے حضرت علی (رض) کو تو ابوالتراب سے زیادہ کوئی نام محبوب نہیں تھا اور جب حضرت علی (رض) کو اس نام سے پکارا جاتا تھا تو وہ خوش ہوتے تھے، وہ حاکم حضرت سہل (رض) سے کہنے لگا ہمیں اس واقعہ کے بارے میں باخبر کرو کہ حضرت علی (رض) کا نام ابوالتراب کیوں رکھا گیا ؟ حضرت سہل (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ (ایک مرتبہ) حضرت فاطمہ (رض) کے گھر تشریف لائے تو آپ نے گھر میں حضرت علی (رض) کو موجود نہ پایا، آپ نے فرمایا (اے فاطمہ ! ) تیرے چچا کا بیٹا کہاں ہے ؟ تو حضرت فاطمہ (رض) نے عرض کیا میرے اور حضرت علی (رض) کے درمیان کچھ بات ہوگئی ہے جس کی وجہ سے وہ غصہ میں آ کر باہر نکل گئے ہیں اور وہ میرے یہاں نہیں سوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا علی کو دیکھو کہ وہ کہاں ہیں ؟ تو وہ آدمی (دیکھ) کر آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! حضرت علی (رض) مسجد میں سو رہے ہیں، رسول اللہ ﷺ (مسجد میں) حضرت علی (رض) کے پاس تشریف لائے اور حضرت علی (رض) لیٹے ہوئے تھے اور ان کی چادر ان کے پہلو سے دور ہوگئی تھی اور ان کے جسم کو مٹی لگی ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی (رض) کے جسم سے مٹی صاف کرنا شروع کردی اور آپ فرمانے لگے ابوتراب ! اٹھ جاؤ، ابوتراب اٹھ جاؤ۔
Sahl bin Sad reported that a person from the offspring of Marwan was appointed as the governor of Madinah. He called Sahl bin Sad and ordered him to abuse All Sahl refused to do that. He (the governor) said to him: If you do not agree to it (at least) say: May Allah curse Abu Turab. Sahl said: There was no name dearer to All than Abu Turab (for it was given to him by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself) and he felt delighted when he was called by this name. He (the governor) said to him: Narrate to us the story of his being nanied as Abu Turab. He said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to the house of Fatima and he did not find Ali in the house; whereupon he said: Where is your uncles son? She said: (There cropped up something) between me and him which had annoyed him with me. He went out and did not rest here. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to a person to find out where he was. He came and said: Allahs Messenger, he is sleeping in the mosque. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to him and found him lying in the mosque and saw that his mantle had slipped from his back and his back was covered with dust and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) began to wipe it away from him (from the body of Hadrat Ali) saying: Get up, covered with dust; get up, covered with dust.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ قَالَتْ وَسَمِعْنَا صَوْتَ السِّلَاحِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَحْرُسُکَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی سَمِعْتُ غَطِيطَهُ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب سلیمان بن بلال یحییٰ بن سعید عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ کی ایک رات آنکھ کھل گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کاش کہ میرے صحابہ میں سے کوئی ایسا نیک آدمی ہو جو رات بھر میری حفاظت کرے سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نے اسلحہ کی آواز سنی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے عرض کیا سعد بن ابی وقاص اے اللہ کے رسول میں آپ ﷺ کی خدمت میں پہرہ دینے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) lay on bed during one night and said: Were there a pious person from amongst my companions who should keep a watch for me during the nightt? She said: We heard the noise of arms, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who is it? And Sad bin Abi Waqqas said: Allahs MesseDger. I have come to serve as your sentinel. Aisha said: Allah s Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) slept (such a sound sleep) that I heard the noise of his snoring.
حضرت سعد بن ابی وقاص کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً فَقَالَ لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ کَذَلِکَ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ سِلَاحٍ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَائَ بِکَ قَالَ وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ فَقُلْنَا مَنْ هَذَا
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث، یحییٰ بن سعید عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ کے مدینہ منورہ میں تشریف لانے کے زمانے میں ایک رات آپ ﷺ جاگتے رہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کاش کہ میرے صحابہ (رضی اللہ عنہم) میں سے کوئی ایسا نیک آدمی ہوتا جو رات بھر میری حفاظت کرتا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم اسی حالت میں تھے کہ ہم نے اسلحہ کی کچھ جھنجھناہٹ سنی تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے ؟ عرض کیا سعد بن ابی وقاص رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد سے فرمایا تو کس وجہ سے آیا ہے حضرت سعد نے عرض کیا کہ میرے دل میں رسول اللہ کی ذات اقدس کے بارے میں کچھ خوف سا محسوس ہوا اس لئے میں پہرہ دینے کے لئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد کو دعا دی پھر آپ ﷺ سو گئے اور ابن رمح کی روایت میں ہے کہ ہم نے کہا یہ کون ہے ؟
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) laid down on bed during one night on his arrival at Madinah and said: Were there a pious person from amongst my Companions who should keep a watch for me durin. the night? She (Aisha) reported: We were in this state that we heard the clanging noise of arms. lie (the Holy Prophet) said: Who is it? He said: This is Sad bin Abi Waqqas. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: What brings you here? Thereupon he said: I harboured fear (lest any harm should come to) Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , so I came to serve as your sentinel. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) invoked blessings upon him. He then slept.