Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 310 of 379

6192Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَی قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَائَ اللَّهُ ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنْ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّی ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ

حرملہ بن یحییٰ بن وہب یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں سو رہا تھا میں نے اپنے آپ کو ایک کنوئیں پر دیکھا کہ جس پر ڈول پڑا ہوا ہے تو میں نے اس ڈول کے ذریعے کنوئیں میں سے جتنا اللہ نے چاہا پانی کھینچا، پھر اسے ابوقحافہ کے بیٹے حضرت ابوبکر (رض) نے پکڑا اور اس سے ایک یا دو ڈول کھینچے اور ان کے کھینچنے میں اللہ ان کی مغفرت فرمائے کمزوری تھی، پھر وہ ڈول بڑا ہوگیا اور اسے ابن خطاب (یعنی حضرت عمر (رض) نے پکڑا تو میں نے لوگوں میں سے ایسا بہادر نہیں دیکھا کہ جو حضرت عمر (رض) کی طرح پانی کھینچتا ہو، (حضرت عمر (رض) نے اس قدر پانی نکالا) یہاں تک کہ لوگ اپنے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے اپنی آرام کی جگہ پر چلے گئے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: While I was asleep I saw myself on a well with a leathern bucket on a pulley. I drew (water) out of that as Allah wished me (to draw). Then the son of Abu Quhafa (Abu Bakr) drew from it one bucketful or two and there was some weakness in drawing that (may Allah forgive him). Then that bucket (changed into a large bucket) and Ibn Khattab drew it. I did not see any strongest man drawing it like Umar bin Khattab. He brought out so much water that the camels of the people had enough to drink and then laid down (for rest).

6193Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی عقیل بن خالد عمرو ناقد حلوانی عبد بن حمید یعقوب بن ابراہیم، بن سعد حضرت ابوصالح (رض) سے یونس کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Yunus through another chain of transmitters.

6194Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ قَالَ الْأَعْرَجُ وَغَيْرُهُ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ يَنْزِعُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ

حلوانی عبد بن حمید یعقوب ابوصالح اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ابوقحافہ کے بیٹے (حضرت ابوبکر (رض) کو دیکھا کہ وہ (ڈول) کھینچ رہے ہیں اور باقی حدیث زہری کی حدیث کی طرح نقل کی گئی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I saw Ibn Abu Quhafa drawing (water) ; the rest of the hadith is the same.

6195Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَی أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُرِيتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَی حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ فَجَائَنِي أَبُو بَکْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرَوِّحَنِي فَنَزَعَ دَلْوَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ فَجَائَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ مِنْهُ فَلَمْ أَرَ نَزْعَ رَجُلٍ قَطُّ أَقْوَی مِنْهُ حَتَّی تَوَلَّی النَّاسُ وَالْحَوْضُ مَلْآنُ يَتَفَجَّرُ

احمد بن عبدالرحمن بن وہب عمی عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، ابویونس مولیٰ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے سونے کی حالت میں دکھایا گیا کہ میں اپنے حوض میں سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، اسی دوران میرے پاس حضرت ابوبکر (رض) آئے اور انہوں نے مجھ سے ڈول پکڑ لیا تاکہ وہ مجھے آرام پہنچائیں، تو حضرت ابوبکر (رض) نے دو ڈول پانی کھینچا اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، پھر (اس کے بعد) خطاب کے بیٹے (حضرت عمر (رض) آئے اور انہوں نے حضرت ابوبکر (رض) کے ہاتھ سے ڈول پکڑا تو میں نے حضرت عمر (رض) سے زیادہ قوت سے پانی کھینچنا اور کسی آدمی کا نہیں دیکھا یہاں تک کہ لوگ (پانی سے سیراب ہو کر) واپس چلے گئے اور حوض کا پانی بھر کر بہہ رہا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: While I was asleep I saw myself drawing water from my tank in order to quench the thirst of the people that there came to me Abu Bakr. He took hold of the leathern bucket from my hand so that he should serve water to the people. He drew two bucketfuls and there was some weakness in his drawing (Allah may forgive him). Then there came Ibn Khattab and he took hold of that, and I did not see a person stronger than he (drawing water) until the people went away with their thirst quenched and the tank filled with water.

6196Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ سَالِمٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ کَأَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَکْرَةٍ عَلَی قَلِيبٍ فَجَائَ أَبُو بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا وَاللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَائَ عُمَرُ فَاسْتَقَی فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنْ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّی رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا الْعَطَنَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی بکر، محمد بن بشر، حضرت عبیداللہ بن عمر (رض) ، ابوبکر بن سالم، سالم بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے (خواب) میں دکھایا گیا کہ میں ایک ڈول کے ساتھ ایک کنوئیں میں سے صبح کے وقت پانی کھینچ رہا ہوں تو اسی دوران حضرت ابوبکر (رض) آگئے تو انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی کے کھینچے اور اللہ ان کی مغفرت فرمائے کہ ان کے ڈول کھینچنے میں کمزوری تھی پھر حضرت عمر (رض) آئے اور انہوں نے ڈول کے ذریعے پانی نکالا تو میں نے لوگوں میں سے ایسی زبردست بہادری کے ساتھ پانی نکالنے والا حضرت عمر (رض) کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگ (پانی پی کر سیراب ہوگئے) اور انہوں نے اپنے اونٹوں کو پانی پلا کر آرام کی جگہ بٹھا دیا۔

Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I saw (in a dream) as if I was drawing water with a leathern bucket on a wooden pulley. There came Abu Bakr (RA) and he drew out a bucketful or two and as he drew out, some weakness (was perceived in it) (may Allah, the Exalted and Glorious, forgive him). Then Umar came in order to serve water -and the bucket was changed into a large leather bucket and I did not see such a wonderful man amongst persons (drawing water) and he went on serving water to the people until they were fully satisfied and then went to their resting places.

6197Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ

احمد بن عبداللہ بن یونس زہیر موسیٰ بن عقبہ حضرت سالم بن عبداللہ (رض) نے اپنے باپ سے رسول اللہ ﷺ کا حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے بارے میں خواب مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح نقل کیا ہے۔

Salim bin Abdullah reported on the authority of his father some of the dreams of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) pertaining to Abu Bakr (RA) and Umar bin Khattab (RA) and a hadith like this.

6198Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَا جَابِرًا يُخْبِرُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ وَعَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا دَارًا أَوْ قَصْرًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَ فَذَکَرْتُ غَيْرَتَکَ فَبَکَی عُمَرُ وَقَالَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَوَ عَلَيْکَ يُغَارُ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان، عمرو بن منکدر جابر، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابن منکدر عمرو، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے جنت میں ایک گھر یا ایک محل دیکھا، میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ (وہاں موجود حاضرین) نے کہاں یہ محل حضرت عمر (رض) کا ہے، میں نے چاہا کہ میں اس میں داخل ہوجائیں، مگر (اے عمر (رض) ! ) مجھے تیری غیرت کا خیال آگیا، حضرت عمر (رض) (یہ سن کر) رو پڑے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ کیا میں آپ کے داخل ہونے پر غیرت کرتا ؟

Jabir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I entered Paradise and saw in it a house or a palace. I said: For whom is it resersred? They (the Angels) said: It is for Umar bin Khattab. (The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to Umar bin Khattab): I intenied to get into it but I thought of your feelings. Thereupon Umar wept and said: Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , could I feel any jealousy in your case?

6199Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَابْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرًا ح و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعْتُ جَابِرًا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرٍ

اسحاق بن ابراہیم، سفیان، عمرو بن منکدر جابر، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو جابر، عمرو ناقد سفیان، ابن منکدر حضرت جابر (رض) سے نبی ﷺ کی ابن نمیر اور زہیر کی کسی روایت کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters.

6200Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِلَی جَانِبِ قَصْرٍ فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَذَکَرْتُ غَيْرَةَ عُمَرَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَکَی عُمَرُ وَنَحْنُ جَمِيعًا فِي ذَلِکَ الْمَجْلِسِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَيْکَ أَغَارُ

حرملہ بن یحییٰ بن وہب یونس ابن شہاب سعید بن مسیب، ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت ایک محل کے کونے میں وضو کر رہی تھی، میں نے کہا یہ محل کس کا ہے ؟ (وہاں موجود لوگوں) نے کہا یہ محل حضرت عمر بن خطاب (رض) کا ہے (آپ نے فرمایا کہ یہ سن کر) مجھے حضرت عمر (رض) کی غیرت یاد آگئی تو میں پشت پھیر کر چل پڑا، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) یہ سن کر رو پڑے اور ہم سب اس مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، پھر حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ پر میرے ماں باپ قربان، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Whilel was asleep I saw myself in Paradise and a woman performing ablution by the side of a palace. I said: For whom is it meant? They said: It is meant for Umar bin Khattab. (The Holy Prophet) said: There came across my mind the feeling of Umar and so I turned back and went away. Abu Hurairah (RA) said: Umar wept as we were present in that meeting with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) amongst us and Umar said: Allahs Messenger, may my father and mother be taken as ransom for you. Could I at all feel any jealousy about you?

6201Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

عمرو ناقد حسن حلوانی عبد بن حمید یعقوب ابن ابراہیم، ابوصالح حضرت ابن شہاب (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters.

6202Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ سَعْدًا قَالَ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسَائٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُکَلِّمْنَهُ وَيَسْتَکْثِرْنَهُ عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ فَقَالَ عُمَرُ أَضْحَکَ اللَّهُ سِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَائِ اللَّاتِي کُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَکَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ قَالَ عُمَرُ فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يَهَبْنَ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَ نَعَمْ أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا لَقِيَکَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِکًا فَجًّا إِلَّا سَلَکَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّکَ

منصور بن ابی مزاحم ابراہیم، ابن سعد حسن حلوانی عبد بن حمید عبد حسن یعقوب ابن ابراہیم، بن سعد ابی صالح ابن شہاب عبدالحمید ابن عبدالرحمن بن زید محمد بن سعد بن ابی وقاص حضرت سعد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے (اندر داخل ہونے کی) اجازت مانگی اور آپ ﷺ کے پاس قریش کی کچھ عورتیں موجود تھیں اور وہ عورتیں آپ سے بہت ہی زیادہ باتیں کر رہی تھیں اور ان کی آوازیں بھی بلند تھیں تو جب حضرت عمر (رض) نے اجازت مانگی تو وہ عورتیں پردے میں دوڑ پڑیں، رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر (رض) کو اجازت عطا فرما دی اور رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے تو حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہنستا رکھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا کہ جو میرے پاس بیٹھی تھیں (اے عمر ! ) جب انہوں نے تیری آواز سنی تو وہ پردے میں دوڑ پڑیں، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ وہ عورتیں آپ سے ڈریں پھر حضرت عمر (رض) نے ان عورتوں سے فرمایا اے اپنی جان کی دشمنو ! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے نہیں ڈرتی ہو ؟ وہ عورتیں کہنے لگیں جی ہاں ! آپ سخت ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے زیادہ غصہ والے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، شیطان جب تجھے کسی راستے پر چلتا ہوا ملتا ہے تو شیطان وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرلیتا ہے، کہ جس راستے پر (اے عمر ! ) تو چلتا ہے۔

Sad bin Waqqas reported that Umar sought permission from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to visit him when some women of the Quraish were busy in talking with him and raising their voices above his Voiee. WhenUmar sought permission they stood up and went hurriedly behind the curtain. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave him permission smilingly. Thereupon Umar said: Allahs Messenger, may Allah keep you happy all your life. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I wonder at these women who were with me and no sooner did they hear your voice, they immediately went behind the curtain. Thereupon Umar said: Allahs Messenger, you have more right that they should fear you. Then Umar (addressing the women) said: O ye enemies of yourselves, do you fear me and fear not the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? They said: Yes, you are harsh and strict as compared to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Thereupon, Allahs Messenger (maypeace be upon him) said: By Him in Whose Hand is my life, if satan would encounter you in the way he would certainly take a different way from that of yours.

6203Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا بِهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ قَدْ رَفَعْنَ أَصْوَاتَهُنَّ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ

ہارون بن معروف، عبدالعزیز بن محمد سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ عورتیں بیٹھیں تھیں، جو رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی آوازوں کو بلند کر رہی تھی تو جب حضرت عمر (رض) نے (اندر آنے کی) اجازت مانگی تو وہ سب عورتیں پردے میں دوڑ پڑیں، پھر آگے زہری کی روایت کی طرح روایت نقل منقول ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Umar bin Khattab came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while there were some women with him and they were raising their voices above the voice of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and when Umar sought permission to get into the house they went behind the curtain hurriedly. The rest of the hadith is the same.

6204Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ قَدْ کَانَ يَکُونُ فِي الْأُمَمِ قَبْلَکُمْ مُحَدَّثُونَ فَإِنْ يَکُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهُمْ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ تَفْسِيرُ مُحَدَّثُونَ مُلْهَمُونَ

ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح عبداللہ بن وہب، ابراہیم بن سعد سعد بن ابراہیم، سیدہ عائشہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تم سے پہلے امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے (یعنی بغیر ارادہ کے ان کی زبانوں پر بات جاری ہوجاتی تھی) تو اگر میری امت میں ان میں سے کوئی محدث ہے تو وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ہیں۔ ابن وہب محدثین کی تفسیر میں مُلْهَمُونَ فرماتے ہیں، یعنی جن پر الہام کیا جاتا ہے

Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There had been among the people before you inspired persons and if there were any such among my Umma Umar bin Khattab would be one of them. Ibn Wahb explained the word Muhaddathun as those who receive hint from the High (Mulhamun).

6205Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

قتیبہ بن سعید، لیث، عمرو ناقد زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابن عجلان سعد بن ابراہیم (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نکل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Sad bin Ibrahim with the same chain of transmitters.

6206Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَائَ أَخْبَرَنَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي أُسَارَی بَدْرٍ

عقبہ بن مکرم، سعید بن عامر، جویریہ ابن اسماء، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی (1) مقام ابرہیم میں نماز پڑھنے کی (2) عورتوں کے پردے میں جانے کی (3) بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔

Ibn Umar (RA) reported Umar as saying: My lord concorded with (my judgments) on three occasions. In case of the Station of Ibrahim, in case of the observance of veil and in case of the prisoners of Badr.

6207Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ جَائَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ قَمِيصَهُ أَنْ يُکَفِّنَ فِيهِ أَبَاهُ فَأَعْطَاهُ ثُمَّ سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاکَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللَّهُ فَقَالَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَسَأَزِيدُ عَلَی سَبْعِينَ قَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ فَصَلَّی عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ عبیداللہ بن نافع حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی بن سلول فوت ہوگیا تو اس کا بیٹا حضرت عبداللہ بن عبداللہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ ﷺ کا کرتہ مانگا کہ جس میں اس کے باپ کو کفن دیا جائے تو آپ نے اپنا کرتہ اسے دے دیا۔ پھر اس نے عرض کیا کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں، تو رسول اللہ ﷺ اس پر نماز جنازہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر (رض) کھڑے ہوگئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا آپ اس پر نماز پڑھتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کو اس پر نماز پڑھنے سے منع فرما دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً ) 9 ۔ التوبہ : 80) آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تو ستر مرتبہ سے بھی زیادہ مرتبہ دعائے مغفرت کروں گا، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ یہ تو منافق ہے، بالآخر رسول اللہ ﷺ نے اس پر نماز پڑھی لی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (وَلَا تُصَلِّ عَلَی أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَی قَبْرِهِ ) میں سے کوئی مرجائے تو ان پر کبھی نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کی قبر پر کھڑے ہوں۔

Ibn Umar (RA) reported that when Abdullah bin Ubayy bin Salul (the hypocrite) died, his sonAbdullah binAbdullah came to Allahs Messenger (may peace be upon -him) and asked him to give his shirt which should be used for the coffin of his father. He gave that to him. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood up to say prayer over him Thereupon I Umar caught hold of the clothe of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, are you going to offer prayer, whereas Allah has forbidden to offer prayer for him, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Allah has given me a choice saying: Ask forgiveness for them or you may not ask for them; even if you ask for them seventy times, I will make an addition to the seventy. He was a hypocrite and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said prayer over him that Allah, the Exalted and Glorious, revealed the verse:" And never pray over any one of them that has died and never should you stand by his grave" (ix. 84).

6208Sahih Muslimصحیح

حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَی حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ وَزَادَ قَالَ فَتَرَکَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ

محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید یحییٰ قطان حضرت عبیداللہ (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے ان منافقوں کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دی۔

This hadith has been narrated on the authority of Ubaidullah with the same chain of transmitter but with the addition of the words:" He abandoned saying prayer over the hypocrites who had died."

6209Sahih Muslimصحیح

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ عَطَائٍ وَسُلَيْمَانَ ابْنَيْ يَسَارٍ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي کَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَکْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ کَذَلِکَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّی ثِيَابَهُ قَالَ مُحَمَّدٌ وَلَا أَقُولُ ذَلِکَ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ أَبُو بَکْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَکَ فَقَالَ أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِکَةُ

یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر یحییٰ بن یحیی، اسماعیل یعنی ابن جعفر محمد بن ابی حرملہ عطاء، سلیمان ابنی یسار ابوسلمہ بن عبدالرحمن سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اس حال میں کہ آپ کی رانیں یا پنڈلیاں مبارک کھلی ہوئی تھیں (اسی دوران) حضرت ابوبکر (رض) نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت میں لیٹے باتیں کررہے تھے، پھر حضرت عمر (رض) نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو بھی اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت میں باتیں کرتے رہے، پھر حضرت عثمان (رض) نے اجازت مانگی تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو سیدھا کرلیا، روای محمد کہتے ہیں کہ میں نہیں کہتا کہ یہ ایک دن کی بات ہے، پھر حضرت عثمان (رض) اندر داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے تو جب وہ سب حضرات نکل گئے تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا حضرت ابوبکر (رض) آئے تو آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ کوئی پرواہ کی، پھر حضرت عمر (رض) تشریف لائے تو بھی آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ ہی کوئی پرواہ کی، پھر حضرت عثمان (رض) آئے تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ نے اپنے کپڑو وں کو درست کیا تو آپ نے فرمایا (اے عائشہ ! ) کیا میں اس آدمی سے حیاء نہ کروں کہ جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔

Aisha reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was lying in the bed in my apartment with his thigh or his shank uncovered that Abu Bakr (RA) sought permission to get in. It was given to him and he conversed in the same very state (the Prophets thigh or shank uncovered). Then Umar sought permission for getting in and it was given to him and he conversed in that very state. Then Uthman sought permission for getting in; Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sat down and he set right his clothes. Mubammad (one of the narrators) said: I do not say that it happened on the same day. He (Uthman) then entered and conversed and as he went out, Aisha said: Abu Bakr (RA) entered aind you did not stir and did not observe much care (in arranging your clothes), then Umar entered and you did not stir and did not arrange your clothes, then Uthman entered and you got up and set your clothes right, thereupon he said: Should I not show modesty to one whom even the Angels show modesty.

6210Sahih Muslimصحیح

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَی فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأَذِنَ لِأَبِي بَکْرٍ وَهُوَ کَذَلِکَ فَقَضَی إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ فَقَضَی إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ اجْمَعِي عَلَيْکِ ثِيَابَکِ فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي لَمْ أَرَکَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ

عبدالملک بن شعیب بن لیث، بن سعد ابی جدی عقیل بن خالد ابن شہاب یحییٰ بن سعید بن عاص حضرت سعید بن عاص (رض) خبر دیتے ہیں کہ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ اور حضرت عثمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی اس حال میں کہ آپ اپنے بستر پر حضرت عائشہ (رض) کی چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے، آپ نے حضرت ابوبکر (رض) کو اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت پر رہے اور انہوں نے اپنی ضرورت پوری کی اور پھر چلے گئے، پھر حضرت عمر (رض) نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو بھی اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت پر رہے اور انہوں نے بھی اپنی ضرورت پوری کی اور پھر وہ چلے گئے، حضرت عثمان (رض) فرماتے ہیں کہ پھر میں نے آپ سے اجازت مانگی تو آپ بیٹھ گئے اور آپ نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا اپنے کپڑے درست کرلو اور میں نے بھی اپنی ضرورت بیان کی اور پھر میں بھی چلا گیا، تو حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہوا ؟ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے آنے پر میں نے آپ کو اس قدر گھبراتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا کہ آپ حضرت عثمان (رض) کے آنے پر گھبرائے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان (رض) کے بارے میں فرمایا کہ عثمان ایک باحیاء آدمی ہے اور مجھے خدشہ ہوا کہ اگر میں نے ان کو اسی حالت پر اجازت دے دی تو ہوسکتا ہے کہ وہ مجھ سے اپنی ضرورت پوری نہ کروا سکیں۔

Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (mav peace be upon him), and Uthman both reported that Abu Bakr (RA) sought permission from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for entrance (in his apartment) as he had been lying on his bed covered with the bed-sheet of Aisha, and he gave permission to Abu Bakr (RA) in that very state and he, having his need fulfilled, went back. Then Umar sought permission and it was given to him in that very state and, after having his need fulfilled, he went back. And Uthman reported: Then I sought permission from him and he got up and raid to Aisha: Wrap yourself well with your cloth, then I got my need fulfilled and came back. And Aisha said: Allahs Messenger, why is it that I did not see you feeling any anxiety in case of dressing properly in the presence of Abu Bakr (RA) and Umar (RA) as you showed in case of Uthman. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Verily Uthman is a person who is very modest and I was afraid that if I permitted him to enter in this very state he would not inform me of his need.

6211Sahih Muslimصحیح

حضرت عثمان بن عفان (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّيقَ اسْتَأْذَنَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ

عمرو ناقد حسن بن علی حلوانی عبد بن حمید یعقوب بن ابراہیم، بن سعد ابوصالح بن کیسان ابن شہاب یحییٰ بن سعید بن عاص سعید بن عاص عثمان حضرت عثمان (رض) اور سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی اور پھر آگے عقیل عن الزہری کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

This hadith has been transmitted on the authority of Uthman and Aisha with the same wording.