خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ رَجَائٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِيلًا وَلَکِنَّهُ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَدْ اتَّخَذَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ صَاحِبَکُمْ خَلِيلًا
محمد بن بشار، عبدی محمد بن جعفر، شعبہ، اسماعیل بن رجاء عبداللہ بن ابی ہذیل ابوالاحوص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر میں (اللہ کے سوا) کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر (رض) کو بناتا لیکن حضرت ابوبکر (رض) تو میرے بھائی اور میرے صحابی (ساتھی) ہیں اور تمہارے صاحب کو تو اللہ عزوجل نے خلیل بنا لیا ہے۔
Abdullah bin Masud reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If I were to choose a bosom friend I would have definitely chosen Abu Bakr (RA) as my bosom friend, but he is my brother and my companion and Allah, the Exalted and Gliorious. has taken your brother and companion (meaning Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself) as a friend.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي أَحَدًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ
محمد بن مثنی، ابن بشار ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، ابوالاحوص حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو (اللہ کے سوا) خلیل بناتا تو ابوبکر (رض) کو بناتا۔
Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If I were to choose from my Umma anyone as my bosom friend, I would have chosen Abu Bakr.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا
محمد بن مثنی، ابن بشار عبدالرحمن سفیان، ابواسحاق احوص عبداللہ عبد بن حمید جعفر بن عون ابوعمیس ابن ابی ملیکہ حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں (اللہ عزوجل کے علاوہ) کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوقحافہ کے بیٹے (حضرت ابوبکر (رض) کو اپنا خلیل بناتا۔
Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If I were to choose as my bosom friend I would have chosen the son of Abu Quhafa (Abu Bakr) as my bosom friend.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا وَلَکِنْ صَاحِبُکُمْ خَلِيلُ اللَّهِ
عثمان بن ابی شیبہ زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق جریر، مغیرہ واصل بن حیان عبداللہ بن ابی ہذیل ابوالاحوص حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میں زمین والوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوقحافہ کے بیٹے (حضرت ابوبکر (رض) کو خلیل بناتا لیکن تمہارے صاحب (نبی کریم ﷺ تو (بس) اللہ عزوجل کے خلیل ہیں
Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If I were to choose amongst the people of earth someone as my bosom friend, I would have chosen the son of Abu Quhafa as my friends but God has taken your companion as a friend.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَی کُلِّ خِلٍّ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ خَلِيلًا إِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِيلُ اللَّهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ وکیع، اسحاق بن ابراہیم، جریر، ابن ابی عمر سفیان، اعمش، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آگاہ ہوجاؤ کہ میں ہر ایک دوست کی دوستی سے (سوائے اللہ تعالیٰ کے) برأت کا اعلان کرتا ہوں اور اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر (رض) کو خلیل بناتا لیکن تمہارے صاحب (نبی ﷺ تو اللہ کے خلیل ہیں .
This hadith has been narrated through another chain of transmitters and the one narrated on the authority ofAbdullah (the words are):" Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: Behold I am free from the dependence of all bosom friends and if I were to choose anyone as bosom friend I would have taken Abu Bakr (RA) as my bosom friend. Allah has taken your companion as a friend.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَی جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْکَ قَالَ عَائِشَةُ قُلْتُ مِنْ الرِّجَالِ قَالَ أَبُوهَا قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ عُمَرُ فَعَدَّ رِجَالًا
یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ خالد بی عثمان عمرو بن عاص حضرت عمرو بن العاص (رض) خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ذات السلام کے لشکر کے ساتھ بھیجا تو جب میں واپس آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبت آپ کو کس سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ (رض) سے۔ میں نے عرض کیا مردوں میں سے کس سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا عائشہ (رض) کے باپ (حضرت ابوبکر (رض) سے، میں نے عرض کیا پھر کس سے ؟ آپ نے فرمایا حضرت عمر (رض) سے، پھر آپ نے بہت سے آدمیوں کا نام شمار کیا۔
Amr bin al-As reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent him in command of the army despatched to Dhat-as-Salasil. When Amr bin al-As came back to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) he said: Who amongst people are dearest to you? He said: Aisha. He then said: Who amongst men? He said: Her father, and I said: And who next? He said: Umar. He then enumerated some other men.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَسُئِلَتْ مَنْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْلِفًا لَوْ اسْتَخْلَفَهُ قَالَتْ أَبُو بَکْرٍ فَقِيلَ لَهَا ثُمَّ مَنْ بَعْدَ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ عُمَرُ ثُمَّ قِيلَ لَهَا مَنْ بَعْدَ عُمَرَ قَالَتْ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ثُمَّ انْتَهَتْ إِلَی هَذَا
حسن بن علی حلوانی جعفر بن عون حضرت ابن ابی ملیکہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے سنا اور ان سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ (اگر اپنی حیات طیبہ) میں کسی کو خلیفہ بناتے تو کس کو بناتے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا حضرت ابوبکر (رض) کو پھر حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد کس کو ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا حضرت عمر (رض) کو، پھر حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا گیا کہ حضرت عمر (رض) کے بعد کس کو بناتے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رض) کو، پھر اس کے بعد حضرت عائشہ (رض) خاموش ہوگئیں۔
Ibn Abu Mulaikah reported: I heard Aisha as saying and she was asked as to whom Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would have nominated his successor if he had to nominate one at all. She said: Abu Bakr. It was said to her: Then whom after Abu Bakr? She said: Umar. It was said to her. Then whom after Umar? She said: Abu Ubaida bin Jarrab, and then she kept quiet at this.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ فَلَمْ أَجِدْکَ قَالَ أَبِي کَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَکْرٍ
عباد بن موسیٰ ابراہیم، بن سعد حضرت محمد بن جبیر بن مطعم (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے کسی چیز کا سوال کیا تو آپ نے اس عورت کو دوبارہ آنے کے لئے فرمایا : اس عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں پھر آؤں اور آپ کو (موجود) نہ پاؤں ؟ (یعنی آپ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں تو ؟ ) آپ نے فرمایا اگر تو مجھے نہ پائے تو (حضرت) ابوبکر ( (رض) کے پاس آجانا (اس حدیث سے حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت بلا فصل واضح ہے)
Muhammad bin Jubair bin Mutim reported on the authority of his father that a woman asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about something but lit, told her to come to him on some other occasion, whereupon she said: What in your opinion (should I do) if I come to you but do not find you, and it seemed as if she meant that he might die. Thereupon he said: If you do not find me, then come to Abu Bakr.
This hadith has been narrated on the authority of Jubair bin Mutim through another chain of transmitters (and the words are) that a woman came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and discussed with him something and he gave a command as we find in the above-mentioned narration.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّ أَبَاهُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمَتْهُ فِي شَيْئٍ فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مُوسَی
حجاج بن شاعر، یعقوب بن ابراہیم، حضرت محمد بن جبیر بن مطعم (رض) خبر دیتے ہیں کہ ان کے باپ حضرت جبیر بن مطعم (رض) نے خبر دی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے آپ ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں بات کی تو آپ نے اس عورت کو حکم فرمایا پھر آگے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in his (last) illness asked me to call Abu Bakr, her father, and her brother too, so that he might write a document, for he feared that someone else might be desirous (of succeeding him) and that some claimant may say: I have better claim to it, whereas Allah and the Faithful do not substantiate the claim of anyone but that of Abu Bakr.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ادْعِي لِي أَبَا بَکْرٍ أَبَاکِ وَأَخَاکِ حَتَّی أَکْتُبَ کِتَابًا فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّی مُتَمَنٍّ وَيَقُولُ قَائِلٌ أَنَا أَوْلَی وَيَأْبَی اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَکْرٍ
عبیداللہ بن سعید یزید بن ہارون، ابراہیم، سعد صالح بن کیسان زہری، عروہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے مرض الوفات میں فرمایا کہ اپنے باپ حضرت ابوبکر (رض) اور اپنے بھائی کو بلاؤ تاکہ میں ایک ایسی کتاب لکھوا دوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں کوئی خلافت کی تمنا نہ کرنے لگ جائے اور کوئی کہنے والا یہ بھی نہ کہے کہ میں خلافت کا زیادہ حقدار ہوں اور اللہ اور مؤمنین (رضی اللہ عنھم) سوائے حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت کے اور کسی کی خلافت سے انکار کرتے ہیں۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in his (last) illness asked me to call Abu Bakr, her father, and her brother too, so that he might write a document, for he feared that someone else might be desirous (of succeeding him) and that some claimant may say: I have better claim to it, whereas Allah and the Faithful do not substantiate the claim of anyone but that of Abu Bakr.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ صَائِمًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ تَبِعَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ مِسْکِينًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا قَالَ فَمَنْ عَادَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ مَرِيضًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
محمد بن ابی عمر مکی، مروان ابن معاویہ یزید ابن کیسان ابی حازم اشجعی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے روزہ کی حالت میں صبح کی (یعنی روزہ رکھا ؟ ) حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا میں نے روزہ رکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا آج کے دن تم میں سے کون کسی جنازے کے ساتھ گیا ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا کہ میں گیا ہوں، آپ نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا میں نے، آپ نے فرمایا آج تم میں سے کسی نے کسی بیمار کی تیمار داری کی ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا میں نے، آپ نے فرمایا جس میں یہ ساری چیزیں جمع ہوگئیں وہ جنت میں داخل ہوگیا۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who amongst you is observing fastthis day? Abu Bake said: It is I. He (again) said: Who amongst you has followed the bier today? Abu Bakr (RA) said: It is I. He (the Holy Prophet) again said: Who amongst you has served food to the needy? Abu Bakr (RA) said: It is I. He (again) said: Who amongst you has today visited the sick? Abu Bakr (RA) said: It is I. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He must get into Paradise who combines in himself (all these noble qualities and virtues).
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً لَهُ قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ الْبَقَرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا وَلَکِنِّي إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ تَعَجُّبًا وَفَزَعًا أَبَقَرَةٌ تَکَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّی اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ فَقَالَ لَهُ مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِکَ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ
ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی بیل پر بوجھ ڈالے ہوئے اسے ہانک رہا تھا کہ اس بیل نے اس آدمی کی طرف دیکھ کر کہا کہ میں اس کام کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہوں بلکہ مجھے تو کھیتی باڑی کے لئے پیدا کیا گیا ہے، لوگوں نے حیرانگی اور گھبراہٹ میں سُبْحَانَ اللَّهِ کہا اور کہا کیا بیل بھی بولتا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تو اس بات پر یقین کرتا ہوں اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) بھی یقین کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک چرواہا اپنی بکریوں میں تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور اس نے ایک بکری پکڑی اور لے گیا تو اس چرواہے نے اس بھیڑیے کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس بھیڑیے سے بکری کو چھڑا لیا تو بھیڑیے نے اس چرواہے کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس دن بکری کو کون بچائے گا جس دن میرے علاوہ کوئی چرواہا نہیں ہوگا ؟ لوگوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تو اس پر بھی یقین رکھتا ہوں اور ابوبکر (رض) اور عمر (رض) بھی اس پر یقین رکھتے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A person had been driving an ox loaded with luggage. The ox looked towards him and said: I have not been created for this but for lands (i. e. for ploughing the land and for drawing out water from the wells for the purpose of irrigating the lands). The people said with surprise and awe: Hallowed be Allah, does the ox speak? Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I believe it and so do Abu Bakr (RA) and Umar. Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A shepherd was tendirig the flock when a wolf came there and took away one goat. Tile shepherd pursued it (the wolf) and rescued it (the goat) from that (wolf). The wolf looked towards him and said: Who would save it on the day when there will be no shepherd except me? Thereupon people said: Hallowed be Allah I Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I believe in it and so do Abu Bakr (RA) and Umar believe.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قِصَّةَ الشَّاةِ وَالذِّئْبِ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْبَقَرَةِ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جعی عقیل بن خالد حضرت ابن شہاب (رض) سے ان سندوں کے ساتھ بکری اور بھیڑیے کا واقعہ نقل کیا گیا ہے لیکن اس میں بیل کے واقعہ کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters, but there is no mention of the story pertaining to the ox.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَفِي حَدِيثِهِمَا ذِکْرُ الْبَقَرَةِ وَالشَّاةِ مَعًا وَقَالَا فِي حَدِيثِهِمَا فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ
محمد بن عباد سفیان بن عیینہ، محمد بن رافع ابوداؤد حفری سفیان، ابوزناد اعرج ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی کریم ﷺ سے یونس عن الزہری کی روایت کی طرح روایت نقل کی ہے اور اس میں بیل اور بکری دونوں کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں تو اس پر یقین رکھتا ہوں اور (حضرت) ابوبکر (رض) اور (حضرت) عمر ( (رض) بھی اور (اس وقت) یہ دونوں حضرات وہاں موجود نہیں تھے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri, and there is a clear mention of the stories of ox and goat (and the words are): I believe in it and so do Abu Bakr (RA) and Umar, but they were not at that time present there.
خلیفہ اول بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مِسْعَرٍ كِلَاهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن عباد سفیان بن عیینہ، مسعر سعد بن ابراہیم، ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transrritters.
حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَی سَرِيرِهِ فَتَکَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُثْنُونَ وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ قَالَ فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَخَذَ بِمَنْکِبِي مِنْ وَرَائِي فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَتَرَحَّمَ عَلَی عُمَرَ وَقَالَ مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَی اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْکَ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ کُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَکَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْکَ وَذَاکَ أَنِّي کُنْتُ أُکَثِّرُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فَإِنْ کُنْتُ لَأَرْجُو أَوْ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَکَ اللَّهُ مَعَهُمَا
سعید بن عمرو اشعثی ابوربیع عتکی ابوکریب محمد بن علاء، ابی کریب ابوربیع ابن مبارک عمر بن سعید ابی حسین ابن ابی ملیکہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو جب تخت پر رکھا گیا تو لوگ ان کے اردگرد جمع ہوگئے اور ان کے لئے دعا کی اور ان کی تعریف کرنے لگے اور ان کا جنازہ اٹھانے سے پہلے ان کی نماز جنازہ پڑھ رہے تھے اور میں بھی انہی لوگوں میں تھا، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نہیں گھبرایا سوائے ایک آدمی سے کہ جس نے میرے پیچھے سے آ کر میرا کندھا پکڑا، میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ حضرت علی (رض) تھے، تو حضرت علی (رض) نے حضرت عمر (رض) کے لئے رحم کی دعا فرمائی اور پھر فرمایا (اے عمر ! ) آپ نے اپنے پیچھے کوئی ایسا آدمی نہیں چھوڑا جس کے اعمال ایسے ہوں کہ ان اعمال پر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا پسند ہو، آپ سے زیادہ اور اللہ کی قسم ! مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کا ساتھ فرمائے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں زیادہ تر رسول اللہ ﷺ سے سنا کرتا تھا کہ آپ فرماتے تھے کہ میں آیا اور ابوبکر (رض) اور عمر (رض) آئے اور میں اندر داخل ہوا اور حضرت ابوبکر و عمر (رض) اندر داخل ہوئے، میں نکلا اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر (رض) بھی نکلے اور میں امید کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان دونوں کے ساتھ (یعنی نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ کر دے گا۔
Ibn Abu Mulaikah reported: I heard Ibn Abbas as saying: When Umar bin Khatab was placed in the coffin the people gathered around him. They praised him and supplicated for him before the bier was lifted up, and I was one amongst them. Nothing attracted my attention but a person who gripped my shoulder from behind. I saw towards him and found that he was Ali. He invoked Allahs mercy upon Umar and said: You have left none behind you (whose) deeds (are so enviable) that I love to meet Allah with them. By Allah, I hoped that Allah would keep you and your two associates together. I had often heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I came and there came too Abu Bakr (RA) and Umar; I entered and there entered too Abu Bakr (RA) and Umar; I went out and there went out too Abu Bakr (RA) and Umar, and I hope and think that Allah will keep you along with them.
حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، حضرت عمر بن سعید (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Umar bin Said with the same chain of transmitters.
حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لَهُمْ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِکَ وَمَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ قَالُوا مَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينَ
منصور بن ابی مزاحم، ابراہیم، بن سعد صالح بن کیسان زہیر بن حرب، حسن بن علی حلوانی عبد بن حمید یعقوب بن ابرہیم صالح ابن شہاب ابوامامہ بن سہل حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں سو رہا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ پیش کئے جاتے ہیں اور ان کے (بدنوں پر) کُرتے ہیں، ان میں سے کچھ کے کرتے چھاتی تک ہیں اور کچھ کے کرتے اس سے نیچے تک ہیں اور پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) گزرے اور وہ اتنا لمبا کرتا پہنے ہوئے ہیں کہ وہ زمین پر گھسیٹتا چلا جا رہا ہے، صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! اس کی تعبیر کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : دین۔
Abu Said Khudri reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as say ing: While I was asleep I saw people being presented to me (in a dream) and they wore shirts and some of these reached up to the breasts and some even beyond them. Then there happened to pass Umar bin Khattab and his shirt had been trailing. They said: Allahs Messeneer, how do you interpret the dream? He said: (As strength of) faith.
حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّی إِنِّي لَأَرَی الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْعِلْمَ
حرملہ بن یحییٰ بن وہب یونس ابن شہاب حضرت حمزہ بن عبداللہ بن عمر خطاب (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا میں نے ایک پیالہ دیکھا جو میری طرف لایا گیا، اس پیالے میں دودھ تھا، میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ تازگی اور سیرابی میرے ناخنوں میں سے نکلنے گلی، پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دے دیا، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! اس خواب کی تعبیر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا علم۔
Hamza binAbdullah bin Umar bin Khattab reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: While I was asleep I saw (in a dream) a cup containing milk bein. presented to me. I took out of that until I perceived freshness being reflected through my nails. Then I presented the leftover to Umar bin Khattab. They said: Allahs Messenger: Fow do you interpret it? He said: This implies knowledge.
حضرت عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کِلَاهُمَا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ
قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل حلوانی عبد بن حمید یعقوب بن ابراہیم، ابن سعد حضرت صالح (رض) سے یونس کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has beer. narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters.