Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 30 of 379

582Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی وَاللَّفْظُ لِوَاصِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرِدُ عَلَيَّ أُمَّتِي الْحَوْضَ وَأَنَا أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ کَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ إِبِلَ الرَّجُلِ عَنْ إِبِلِهِ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا قَالَ نَعَمْ لَکُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِکُمْ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوئِ وَلَيُصَدَّنَّ عَنِّي طَائِفَةٌ مِنْکُمْ فَلَا يَصِلُونَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ هَؤُلَائِ مِنْ أَصْحَابِي فَيُجِيبُنِي مَلَکٌ فَيَقُولُ وَهَلْ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَکَ

ابوکریب، واصل بن عبدالاعلی، واصل، ابن فضیل، ابومالک اشجعی، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے لوگ میرے پاس حوض پر آئیں گے اور میں اس سے لوگوں کو اس طرح دور کروں گے جس طرح کوئی آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو دور کرتا ہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کی اے اللہ کے نبی آپ ﷺ ہم کو پہچان لیں گے فرمایا ہاں تمہارے لئے ایک ایسی علامت و نشانی ہوگی جو تمہارے علاوہ کسی کے لئے نہ ہوگی تم جس وقت میرے پاس آؤ گے تو وضو کے آثار کی وجہ سے تمہارے چہرے ہاتھ اور پاؤں چمکدار اور روشن ہوں گے اور تم میں سے ایک جماعت کو میرے پاس آنے سے روکا جائے گا وہ میرے تک نہ پہنچ سکیں گے تو میں کہوں گا اے میرے رب یہ میری امت میں سے ہیں ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا کہ آپ ﷺ کو معلوم بھی ہے کہ آپ ﷺ کے بعد انہوں نے دین میں کیا کیا نئی باتیں (بدعات) نکال لی تھیں۔

Abu Hurairah (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ said: My people would come to me on the Cistern and I would drive away persons (from it) just as a person drives away other peoples camels from his camels. They (the hearers) said: Apostle of Allah ﷺ , would you recognize us? He replied: Yea, you would have a mark which other people will not have. You would come to me with a white blaze on your foreheads and white marks on your feet because of the traces of ablution. A group among you would be prevented from coming to me, and they would not meet me, and I would say: O my Lord, they are my companions. Upon this an angel would reply to me saying: Do you know what these people did after you.

583Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ رِبْعِیِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ کَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَعْرِفُنَا قَالَ نَعَمْ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوئِ لَيْسَتْ لِأَحَدٍ غَيْرِکُمْ

عثمان بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، سعد بن طارق، ربعی بن خراش، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرا حوض مقام عدن سے لے کر ایلہ کے فاصلہ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں اس حوض سے لوگوں کو اس طرح دور کروں گا جس طرح کوئی آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے دور کرتا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ ہم کو پہچان لیں گے فرمایا ہاں تم میرے پاس چمک دار روشن چہرے اور ہاتھ پاؤں والے ہو کر آؤ گے وضو کے آثار کی وجہ سے اور یہ علامت تمہارے علاوہ کسی میں نہ ہوگی۔

Hudhaifa reported: The Messenger of Allah ﷺ said: My Cistern is bigger than the space between Aila and Aden. By Him in Whose Hand is my life, I will drive away persons (from it) just as a person drives away unknown camels from his cistern. They (the companions) said: Messenger of Allah, would you recognise us? He said: Yes, you would come to me with white faces, and white hands and feet on account of the traces of ablution. None but you would have (this mark).

584Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی الْمَقْبُرَةَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالُوا أَوَلَسْنَا إِخْوَانَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ فَقَالُوا کَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ الْوُضُوئِ وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَی الْحَوْضِ أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي کَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ فَيُقَالُ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَکَ فَأَقُولُ سُحْقًا سُحْقًا

یحییٰ بن ایوب، سریج بن یونس، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان تشریف لائے اور فرمایا سلامتی ہو تم پر مومنوں کے گھر، ہم بھی انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں میں پسند کرتا ہوں کہ ہم اپنے دینی بھائیوں کو دیکھیں، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم آپ ﷺ کے بھائی نہیں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم تو میرے صحابہ ہو اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے صحابہ ؓ نے عرض کیا آپ ﷺ اپنی امت کے ان لوگوں کو اے اللہ کے رسول! کیسے پہچانیں گے جو ابھی تک نہیں آئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا بھلا تم دیکھو اگر کسی شخص کی سفید پیشانی والے سفید پاؤں والے گھوڑے سیاہ گھوڑوں میں مل جائیں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو ان میں سے پہچان نہ لے گا صحابہ کرام نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ لوگ جب آئیں گے تو وضو کے اثر کی وجہ سے ان کے چہرے ہاتھ اور پاؤں چمکدار اور روشن ہوں گے اور میں ان سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا اور سنو بعض لوگ میرے حوض سے اس طرح دور کئے جائیں گے جس طرح بھٹکا ہوا اونٹ دور کردیا جاتا ہے میں ان کو پکاروں گا ادھر آؤ تو حکم ہوگا کہ انہوں نے آپ ﷺ کے وصال کے بعد دین کو بدل دیا تھا تب میں کہوں گا دور ہوجاؤ دور ہوجاؤ۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ came to the graveyard and said: Peace be upon you! the abode of the believing people and we, if God so wills, are about to join you. I love to see my brothers. They (the hearers) said: Arent we your brothers- Messenger of Allah? ﷺ He said: You are my companions, and our brothers are those who have, so far, not come into the world. They said: Messenger of Allah, how would you recognise those persons of your Ummah who have not yet been born? He said: Supposing a man had horses with white blazes on fore-heads and legs among horses which were all black, tell me, would he not recognise his own horses? They said: Certainly, Messenger of Allah. He said: They would come with white faces and arms and legs owing to ablution, and I would arrive at the Cistern before them. Some people would be driven away from my Cistern as the stray camel is driven away. I would call out. Come. come. Then it would be said (to me): These people changed themselves after you, and I would say: Be off, be off.

585Sahih Muslim

اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ جَمِيعًا عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الْمَقْبُرَةِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ مَالِکٍ فَلَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز درارودی، اسحاق بن موسیٰ انصاری، معن مالک، علاء بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف نکلے اور ارشاد فرمایا (السَّلَامُ عَلَيْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِکُمْ لَاحِقُونَ ) باقی حدیث مبارکہ پہلی حدیث کی طرح ہے اور آدمیوں کے روکے جانے کا اس میں ذکر نہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace The upon him) went out to the graveyard and said: Peace be upon you, the abode of the believing people. and If Allah so wills we shall join you.... (and so on and so forth) like the hadith narrated by Ismail bin Jafar except the words of Malik: Then some persons would be driven away from my Cistern.

586Sahih Muslim

وضو میں پانی کے پہنچے کی جگہ تک زیور ڈالے جانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ کُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ فَکَانَ يَمُدُّ يَدَهُ حَتَّی تَبْلُغَ إِبْطَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الْوُضُوئُ فَقَالَ يَا بَنِي فَرُّوخَ أَنْتُمْ هَاهُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوئَ سَمِعْتُ خَلِيلِي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنْ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ يَبْلُغُ الْوَضُوئُ

قتیبہ بن سعید، خلف بن خلیفہ، ابی مالک اشجعی، حضرت ابوحازم سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لئے وضو کر رہے تھے وہ اپنے ہاتھ دھونے کو بڑھاتے تھے یہاں تک کہ بغل تک دھویا میں نے عرض کیا اے ابوہریرہ یہ کیسا وضو ہے حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا اے بنی فروخ یعنی اے عجمی تم یہاں ہو اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم یہاں ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا میں نے اپنے خلیل ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے قیامت کے دن مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو کا اثر پہنچے گا۔

Abu Hazim reported: I was (standing) behind Abu Hurairah (RA) and he was performing the ablution for prayer. He extended the (washing) of his hand that it went up to his armpit. I said to him: O Abu Hurairah (RA) , what is this ablution? He said: O of the tribe of Faruukh, you are here; if I knew that you were here, I would have never performed ablution like this; I have heard my Friend ﷺ say: In a believer, adornment would reach the places where ablution reaches.

587Sahih Muslim

حالت تکلیف میں پورا وضو کرنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ قَالُوا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوئِ عَلَی الْمَکَارِهِ وَکَثْرَةُ الْخُطَا إِلَی الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، اسماعیل، علاء، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتلاؤں جس سے گناہ مٹ جاتے ہیں اور اس سے درجات بلند ہوتے ہیں صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا سختی اور تکلیف میں وضو کامل طور پر کرنا اور مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانا اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا پس تمہارے لئے یہی رباط ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Should I not suggest to you that by which Allah obliterates the sins and elevates the ranks (of a man). They (the hearers) said: Yes, Messenger of Allah. He said: Performing the ablution thoroughly despite odds, tranverside of more paces towards the mosque, and waiting for the next prayer after observing a prayer, and that is mindfulness.

588Sahih Muslim

حالت تکلیف میں پورا وضو کرنے کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ذِکْرُ الرِّبَاطِ وَفِي حَدِيثِ مَالِکٍ ثِنْتَيْنِ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ

اسحاق بن موسیٰ انصاری، معن، مالک، محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ سے یہی روایت مروی ہے لیکن اس میں رباط کا لفظ نہیں ہے اور مالک کی روایت میں (فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمْ الرِّبَاطُ ) دو مرتبہ ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ali bin Abdul Rahman with the same chain of transmitters and there is no mention of the word of al-Ribat in the hadith transmitted by Shubah and in the hadith narrated by Malik "Ribat" has been mentioned twice. This is the "Ribat" for you, this is the "Ribat" for you.

589Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَلَی أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاةٍ

قتیبہ بن سعید و عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر مومنین پر دشوار نہ ہوتا اور زہیر کی حدیث میں ہے اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ معلوم ہوتا تو ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Apostle ﷺ said: Were it not that I might over-burden the believers -and in the hadith transmitted by Zuhair "people"- I would have ordered them to use toothstick at every time of prayer.

590Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ قُلْتُ بِأَيِّ شَيْئٍ کَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ قَالَتْ بِالسِّوَاکِ

ابوکریب، محمد بن علاء، ابن بشر، مسعر، مقدام بن شریح، حضرت شریح سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے سوال کیا جب نبی کریم ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو کون سے کام سے ابتداء فرماتے تو انہوں نے فرمایا مسواک سے۔

Miqdam bin Shuraih narrated it from his father who said: I asked Aisha what Allahs Apostle ﷺ did first when he entered his house, and she replied: He used tooth-stick (first of all).

591Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ بَدَأَ بِالسِّوَاکِ

ابوبکر بن نافع عبدی، عبدالرحمن، سفیان، مقدام بن شریح، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے۔

Aisha reported: Whenever Allahs Messenger ﷺ entered his house, he used tooth-stick first of all.

592Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ غَيْلَانَ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ الْمَعْوَلِيُّ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَفُ السِّوَاکِ عَلَی لِسَانِهِ

یحییٰ بن حبیب حارثی، حماد بن زید، غیلان، ابن جریر معولی، بردہ، حضرت ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کی زبان مبارک پر مسواک کا ایک سرا تھا۔

Abu Musa reported: I went to the Apostle ﷺ and found one end of the tooth-stick upon his tongue (i. e. he was rinsing his mouth).

593Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِيَتَهَجَّدَ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاکِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ہشیم، حصین، وائل، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تہجد کے لئے اٹھتے تو منہ مبارک کو مسواک سے صاف کرتے تھے۔

Huddaifa reported: Whenever the Messenger of Allah ﷺ got up for Tahajjud prayer, he cleansed his mouth with the tooth-stick.

594Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُولُوا لِيَتَهَجَّدَ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے اور اس میں تہجد کی نماز کا ذکر نہیں کیا۔

This hadith is reported from Hudaifa by another chain of transmitters. Whenever he (the Holy Prophet) got up in the night, they (the transmitters) have not mentioned the words: for offering Tahajjud prayer.

595Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَحُصَيْنٌ وَالْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاکِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، عبدالرحمن، سفیان، منصور، حصین، اعمش، ابو وائل، حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے۔

Hudaifa reported: Whenever he (the Holy Prophet) got up for prayer during the night, he cleansed his mouth with the tooth-stick.

596Sahih Muslim

مسواک کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَکِّلِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَائِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ حَتَّی بَلَغَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الْبَيْتِ فَتَسَوَّکَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَنَظَرَ إِلَی السَّمَائِ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّکَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی

عبد بن حمید، ابونعیم، اسماعیل بن مسلم، ابومتوکل، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کے پاس گزاری پس نبی کریم ﷺ رات کے آخری حصہ میں اٹھے باہر نکلے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر سورت آل عمران کی یہ آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ) 3۔ آل عمران: 190) سے (فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ) تک تلاوت فرمائی پھر گھر تشریف لائے پس مسواک کی اور وضو فرمایا پھر کھڑے ہوئے اور نماز ادا فرمائی پھر آپ ﷺ لیٹ گئے پھر اٹھے اور باہر نکلے آسمان کی طرف دیکھا اور یہی آیت تلاوت فرمائی پھر واپس آئے مسواک کی اور وضو فرمایا پھر کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی۔

Ibn Abbas reported that he spent a night at the house of the Apostle of Allah ﷺ . The Apostle of Allah ﷺ got up for prayer in the latter part of the night. He went out and looked towards the sky and then recited this verse (190th) of AI-i-Imran: "Verily in the creation of the heavens and the earth and the alternation of night and day." up to the (words) "save us from the torment of Hell." He then returned to his house, used the tooth-stick, performed the ablution, and then got up and offered the prayer. He than lay down on the bed. and again got up and went out and looked towards the sky and recited this verse (mentioned above), then returned, used the tooth-stick, performed ablution and again offered the prayer.

597Sahih Muslim

فطرتی خصلتوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ وَقَصُّ الشَّارِبِ

ابوبکر بن ابی شیبہ و عمرو ناقد و زہیر بن حرب، سفیان، ابوبکر، ابن عیینہ، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں ختنہ کرنا، زیر ناف بال صاف کرنا، ناخن کاٹنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا اور مونچھیں کتروانا۔

Abu Hurairah (RA) reported: Five are the acts quite akin to the Fitra, or five are the acts of Fitra: circumcision, shaving the pubes, cutting the nails, plucking the hair under the armpits and clipping the moustache.

598Sahih Muslim

فطرتی خصلتوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْفِطْرَةُ خَمْسٌ الِاخْتِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبِطِ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں ختنہ کرانا، زیر ناف بال صاف کرنا، مونچھیں کتروانا، ناخنوں کو کاٹنا اور بغلوں کے بالوں کو اکھیڑنا۔

Abu Hurairah (RA) reported: Five are the acts of fitra: circumcision, removing the pubes, clipping the moustache, cutting the nails, plucking the hair under the armpits.

599Sahih Muslim

فطرتی خصلتوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ جَعْفَرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَنَتْفِ الْإِبِطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لَا نَتْرُکَ أَکْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً

یحییٰ بن یحییٰ، قتیبہ بن سعید، جعفر، یحییٰ، جعفر بن سلیمان، ابوعمران جونی، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ ہمارے لئے مونچھیں کتروانے، ناخن کاٹنے، بغلوں کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے میں مدت مقرر کی گئی ہے کہ ہم چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑیں یعنی یہ زیادہ سے زیادہ مدت ہے وگر نہ بہتر اس عرصہ سے پہلے ہی ہے۔

Anas reported: A time limit has been prescribed for us for clipping the moustache, cutting the nails, plucking hair under the armpits, shaving the pubes, that it should not be neglected for more than forty nights.

600Sahih Muslim

فطرتی خصلتوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَی

محمد بن مثنی، یحییٰ ابن سعید، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمیں حکم دیا گیا ہے مونچھوں کو جڑ سے کانٹے اور داڑھی کو بڑھانے کا۔

Ibn Umar (RA) said: The Apostle of Allah ﷺ said: Trim closely the moustache, and let the beard grow.

601Sahih Muslim

فطرتی خصلتوں کے بیان میں

حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ بِإِحْفَائِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَائِ اللِّحْيَةِ

قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابوبکر بن نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمیں حکم دیا گیا ہے مونچھوں کو جڑ سے کاٹنے اور داڑھی کو بڑھانے کا۔

Ibn Umar (RA) said: The Apostle of Allah ﷺ ordered us to trim the moustache closely and spare the beard.