ناک میں پانی ڈالنا اور استنجاء میں ڈھیلوں کا طاق مرتبہ استعمال کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، ابوادریس خولانی، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص وضو کرے تو ناک صاف کرے اور جو استنجاء کرے تو وہ طاق مرتبہ کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) said: When anyone performs ablution he must clean his nose and when anyone wipes himself with pebbles (after answering the call of nature) he must do that odd number of times.
ناک میں پانی ڈالنا اور استنجاء میں ڈھیلوں کا طاق مرتبہ استعمال کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
سعید بن منصور، حسان بن ابراہیم، یونس بن یزید، حرملہ بن یحییم ابن وہب، یونس ابن شہاب، ابوادریس خولانی، حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابوسعید خدری ؓ دونوں نبی کریم ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کرتے ہیں۔
It has been transmitted by Abu Hurairah (RA) and Abu Said al-Khudri (both of them the reputed Companions of the Holy Prophet) that the Messenger of Allah ﷺ said like that.
ناک میں پانی ڈالنا اور استنجاء میں ڈھیلوں کا طاق مرتبہ استعمال کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُکُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَی خَيَاشِيمِهِ
بشر بن حکم عبدی، عبدالعزیز، ابن ہاد، محمد بن ابراہیم، عیسیٰ بن طلحہ، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو وہ تین بار ناک جھاڑے کیونکہ شیطان اس کے نتھنوں میں رات گزارتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Apostle of Allah ﷺ said. When any one of you awakes up from sleep and performs ablution, he must clean his nose three times, for the devil spends the night in the interior of his nose.
ناک میں پانی ڈالنا اور استنجاء میں ڈھیلوں کا طاق مرتبہ استعمال کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُکُمْ فَلْيُوتِرْ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن ابراہیم، محمد بن رافع، ابن رافع، عبدالرزاق، بن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی استنجاء کرے تو طاق مرتبہ کرے۔
Jabir bin Abdullah reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: When anyone wipes himself with pebbles (after answering the call of nature) he should do this odd number of times.
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالُوا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ بُکَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَالِمٍ مَوْلَی شَدَّادٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ فَتَوَضَّأَ عِنْدَهَا فَقَالَتْ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغْ الْوُضُوئَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
ہارون بن سعید ایلی، ابوطاہر، احمد بن عیسی، عبداللہ بن وہب، مخرمہ بن بکیر، سالم مولیٰ شداد، حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس ان کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر آئے اور ان کے ہاں وضو کیا تو سیدہ ؓ نے فرمایا اے عبدالرحمن وضو پورا اور مکمل طور پر کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے (خشک) ایڑیوں کے لئے آگ سے ویل یعنی عذاب ہے۔
Salim, the freed slave of Shaddad, said: I came to Aisha, the wife of the Holy Prophet ﷺ , on the day when Sad bin Abi Waqqas died. Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) also came there and he performed ablution in her presence. She (Hadrat Aisha) said: Abdul Rahman, complete the ablution as I heard the Allahs Messenger ﷺ say: Woe to the heels because of hell-fire.
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَی شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی عَائِشَةَ فَذَکَرَ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، حیوہ، محمد بن عبدالرحمن، ابوعبداللہ شداد بن ہاد، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے اسی طرح کی حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Abdullah, the freed slave of Shahddad, came to Aisha and transmitted from her a hadith like this (which she narrated) from the Holy Prophet ﷺ .
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَوْ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي سَالِمٌ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ فِي جَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فَمَرَرْنَا عَلَی بَابِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَذَکَرَ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
محمد بن حاتم، ابی معن رقاشی، عمر بن یونس، عکرمہ ابن عمار، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن سالم مولیٰ مہری سے روایت ہے کہ میں اور عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ سعد بن ابی وقاص کے جنازے میں جا رہے تھے ہم حجرہ عائشہ ؓ کے دروازے کے پاس سے گزرے تو حضرت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کی اسی طرح کی حدیث روایت کی۔
Salim, the freed slave of Mahri, reported: I and Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) went out in order to join the funeral procession of Sad bin Abi Waqqas and passed by the door of the residence of Aisha, and then he transmitted a hadith like this from her who (narrated it) from the Holy Prophet ﷺ .
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَالِمٍ مَوْلَی شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ کُنْتُ أَنَا مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَکَرَ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
سلمہ بن شبیب، حسن بن محمد بن اعین، فلیح، نعیم بن عبداللہ، سالم مولیٰ شداد بن ہاد، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نبی کریم ﷺ سے ایسی حدیث دوسری سند سے بھی منقول ہے۔
Salim, the freed slave of Shaddad bin al-Had said: I was in the presence of Aisha, and then narrated on her authority a hadith like this from the Holy Prophet ﷺ .
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ أَبِي يَحْيَی عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِينَةِ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِمَائٍ بِالطَّرِيقِ تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ فَتَوَضَّئُوا وَهُمْ عِجَالٌ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ لَمْ يَمَسَّهَا الْمَائُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ
زہیر بن حرب، جریر، اسحاق، منصور، ہلال بن یساف، ابویحیی عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے جب ہم راستہ میں موجود ایک پانی پر پہنچے تو لوگوں نے عصر کی نماز کے وقت جلدی وضو کیا اور وہ جلد باز تھے ہم جب پہنچے تو ان کی ایڑیاں چمک رہی تھیں ان کو پانی نے چھوا تک نہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایڑیوں کے لئے آگ سے خرابی اور عذاب ہے اچھی طرح پورا وضو کیا کرو۔
Abdullah bin Amr reported: We returned from Makkah to Madinah with the Messenger of Allah ﷺ , and when we came to some water on the way, some of the people were in a hurry at the time of the afternoon prayer and performed ablution hurriedly; and when we reached them, their heels were dry, no water had touched them. The Prophet ﷺ said: Woe to (dry) heels, because of Hell-fire. Make your ablution thorough.
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ وَفِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِی يَحْيَی الْأَعْرَجِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور یہ حدیث ایک دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے لیکن اس میں وضو مکمل کرو جملہ منقول نہیں ہے۔
In the hadith transmitted by Shubah these words are not there: "Complete the Wudu," and there is the name of Abu Yahya al-Araj (a narrator).
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَکَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ فَأَدْرَکَنَا وَقَدْ حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَی أَرْجُلِنَا فَنَادَی وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
شیبان بن فروخ، ابوکامل جحدری، ابوعوانہ، ابوکامل، ابوبشر، یوسف بن ماہک، عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے پس آپ ﷺ نے جب ہم کو پایا اور عصر کی نماز کا وقت آگیا تھا ہم اپنے اپنے پاؤں پر مسح کرنے لگے تو آپ ﷺ نے با آواز بلند ارشاد فرمایا (خشک) ایڑیوں کے لئے آگ سے ویل عذاب ہے۔
Abdullah bin Amr (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ lagged behind us on a journey. We travelled (back) and he took him; and then came the time of the afternoon prayer, and as we were going to wipe our feet he (the Holy Prophet) called out: Woe to the heels because of Hell-fire.
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی رَجُلًا لَمْ يَغْسِلْ عَقِبَيْهِ فَقَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
عبدالرحمن بن سلام جمحی، ربیع ابن مسلم، محمد، ابن زیاد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ ایک آدمی نے اپنی ایڑی کو نہیں دھویا تو آپ ﷺ نے فرمایا ایڑیوں کے لئے جہنم سے عذاب ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Apostle ﷺ saw a man who did not wash his heel and he remarked: Woe to the heels because of hell-fire.
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ رَأَی قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ مِنْ الْمَطْهَرَةِ فَقَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوئَ فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنْ النَّارِ
قتیبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، شعبہ، محمد بن زیاد، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ انہوں نے بعض لوگوں کو دیکھا جو برتن سے وضو کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ وضو پورا کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے (خشک) ایڑیوں کے لئے جہنم سے عذاب ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: He saw people perform ablution with the help of a water jar and he said: Complete the Wudu for i heard Abu al-Qasim ﷺ say: Woe to the hamstrings because of hell-fire.
وضو میں دونوں پاؤں کو کامل طور پر دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
زہیر بن حرب، جریر، سہیل، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایڑیوں کے لئے جہنم سے ویل یعنی عذاب ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ said: Woe to the heels because of hell-fire.
اعضاء کے تمام اجزا کو پورا دھونے کے وجوب کے بیان میں
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّ رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَکَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَی قَدَمِهِ فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَکَ فَرَجَعَ ثُمَّ صَلَّی
سلمہ بن شبیب، حسن بن محمد بن اعین، معقل، ابوزبیر، جابر، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے وضو کیا اور اس کے پاؤں پر ایک ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی نبی کریم ﷺ نے اس کو دیکھا تو ارشاد فرمایا کہ واپس جاؤ پس اپنا وضو اچھی طرح کرو پس وہ لوٹ گیا پھر نماز پڑھی۔
Jabir reported: Umar bin Khattab said that a person performed ablution and left a small part equal to the space of a nail (unwashed). The Apostle of Allah ﷺ saw that and said: Go back and perform ablution well. He then went back (performed ablution well) and offered the prayer.
وضو کے پانی کے ساتھ گناہوں کے نکلنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوْ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ کُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ کُلُّ خَطِيئَةٍ کَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ کُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَائِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَائِ حَتَّی يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنْ الذُّنُوبِ
سوید بن سعید، مالک بن انس، ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، سہیل بن ابی صالح، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ مسلمان یا مومن وضو کرتا ہے اور اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں جو اس نے آنکھوں سے کئے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ جو انہوں نے کسی چیز کو پکڑ کر کئے جھڑ جاتے ہیں پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، جب وہ اپنے پاؤں کو دھوتا ہے تو پاؤں جن گناہوں کی طرف چل کر گئے وہ تمام گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک وصاف ہو کر نکلتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ said: When a bondsman-a Muslim or a believer-washes his face (in course of ablution), every sin he contemplated with his eyes, will be washed away from his face along with water, or with the last drop of water; when he washes his hands, every sin they wrought will be effaced from his hands with the water, or with the last drop of water; and when he washes his feet, every sin towards which his feet have walked will be washed away with the water or with the last drop of water with the result that he comes out pure from all sins.
وضو کے پانی کے ساتھ گناہوں کے نکلنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ حُمْرَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ
محمد بن معمر بن ربعی قیسی، ابوہشام مخزومی، عبدالواحد، ابن زیاد، عثمان بن حکیم، محمد بن منکدر، حمران، عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اچھی طرح پورا پورا وضو کیا تو اس کے تمام بدن کے گناہ جھڑ جاتے ہیں یہاں تک کہ ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔
Uthman bin Affan reported: The Messenger of Allah ﷺ said: He who performed ablution well, his sins would come out from his body, even coming out from under his nails.
اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ بْنِ دِينَارٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَی حَتَّی أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ يَدَهُ الْيُسْرَی حَتَّی أَشْرَعَ فِي الْعَضُدِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَی حَتَّی أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَی حَتَّی أَشْرَعَ فِي السَّاقِ ثُمَّ قَالَ هَکَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْتُمْ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ إِسْبَاغِ الْوُضُوئِ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ فَلْيُطِلْ غُرَّتَهُ وَتَحْجِيلَهُ
ابوکریب، محمد بن علاء، قاسم بن زکریا بن دینار، عبد بن حمید، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال عمارہ بن غزیہ انصاری نعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو وضو فرماتے ہوئے دیکھا پس انہوں نے اپنا چہرہ دھویا تو اس کو پورا پورا دھویا پھر انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ دھویا یہاں تک کہ بازو کا ایک حصہ دھو ڈالا پھر بایاں ہاتھ بھی بازو تک دھویا پھر اپنے سر کا مسح کیا پھر دایاں پاؤں پنڈلی تک دھویا پھر بایاں پاؤں پنڈلی تک دھویا پھر فرمایا میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پورا اور کامل وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ قیامت کے دن روشن پیشانی اور ہاتھ پاؤں والے ہو کر اٹھو گے پس تم میں سے جو طاقت رکھتا ہے تو وہ اپنی پیشانی اور ہاتھ پاؤں کی نورانیت کو لمبا اور زیادہ کرے۔
Nuaim bin Abdullah al-Mujmir reported: I saw Abu Hurairah (RA) perform ablution. He washed his face and washed it well. He then washed his right hand including a portion of his arm. He then washed his left hand including a portion of his arm. He then wiped his head. He then washed his right foot including his shank, and then washed his left foot including shank, and then said: This is how I saw Allahs Messenger ﷺ perform his ablution. And ( Abu Hurairah (RA) ) added that the Messenger of Allah ﷺ had observed: You shall have your faces hands and feet bright on the Day of Resurrection because of your perfect ablution. He who can afford among you, let him increase the brightness of his forehead and that of hands and legs.
اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَأَی أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَوَضَّأُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ حَتَّی کَادَ يَبْلُغُ الْمَنْکِبَيْنِ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّی رَفَعَ إِلَی السَّاقَيْنِ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوئِ فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، نعیم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے اپنے چہرہ اور ہاتھوں کو دھویا یہاں تک قریب تھا کہ وہ اپنے کندھوں کو بھی دھو ڈالیں گے پھر انہوں نے اپنے پاؤں کو دھویا یہاں تک کہ پنڈلیوں تک پہنچ گئے پھر کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کے لوگ قیامت کے دن چمکدار چہرہ اور روشن ہاتھ پاؤں والے ہو کر آئیں گے وضو کے اثر کی وجہ سے لہذا تم میں سے جو اس چمک اور روشنی کو لمبا کرسکتا ہو تو اس کو زیادہ لمبا کرے۔
Nuaim bin Abdallah reported: He saw Abu Hurairah (RA) perform ablution. He washed his face and washed his hands up to the arms. He then washed his feet and reached up to the shanks and then said: I heard Allahs Messenger ﷺ say: My people would come with bright faces and bright hands and feet on account of the marks of ablution, so he who can increase the lustre of his forehead (and that of his hands and legs) should do so.
اعضاء وضو کے چمکانے کا لمبا کرنا اور وضو میں مقررہ حد سے زیادہ دھونے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ أَبِي مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ حَوْضِي أَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ مِنْ عَدَنٍ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ الثَّلْجِ وَأَحْلَی مِنْ الْعَسَلِ بِاللَّبَنِ وَلَآنِيَتُهُ أَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ وَإِنِّي لَأَصُدُّ النَّاسَ عَنْهُ کَمَا يَصُدُّ الرَّجُلُ إِبِلَ النَّاسِ عَنْ حَوْضِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنَا يَوْمَئِذٍ قَالَ نَعَمْ لَکُمْ سِيمَا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ مِنْ الْأُمَمِ تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوئِ
سوید بن سعید، ابن ابی عمر، مروان، ابن ابی عمر، ابومالک اشجعی، سعد بن طارق، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا حوض مقام عدن سے لے کر ایلہ تک کے فاصلہ سے بھی زیادہ بڑا ہوگا اور اس کا پانی برف سے زیادہ سفید، شہد ملے دودھ سے زیادہ میٹھا ہوگا اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں سے زیادہ ہوگی اور میں اس حوض سے دوسری امت کے لوگوں کو اس طرح روکوں گا جس طرح کوئی آدمی اپنے حوض سے دوسرے کے اونٹوں کو پانی پینے سے روکتا ہے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ اس دن ہمیں پہچان لیں گے فرمایا ہاں تمہارے لئے ایسا نشان ہوگا جو باقی امتوں میں سے کسی کے لئے نہ ہوگا تم میرے سامنے آؤ گے اس حال میں کہ وضو کے اثر کی وجہ سے (تمہارے چہرے، ہاتھ اور پاؤں) روشن اور چمکدار ہوں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported: Verily Allahs Messenger ﷺ said: My Cistern has its dimensions wider than the distance between Aila and Aden, and its water is whiter than ice and sweeter than the honey diluted with milk, and its cups are more numerous than the numbers of the stars. Verily I shall prevent the (faithless) people therefrom just as a man prevents the camels of the people from his fountain. They said: Messenger of Allah, will you recognise us on that day? He said: Yes, you will have distinctive marks which nobody among the peoples (except you) will have; you would come to me with blazing forehead and bright hands and feet on account of the traces of ablution.